دینی مدارس کے متعلق نیا قانون

mufti waqas rafi

پاکستان کے مشہور صوبہ ٗصوبہ سندھ میں دینی مدارس کی از سر نو رجسٹریشن کے لئے قانونی مسودے کو منظور کرلیا گیا ہے ، جس کے تحت صوبائی حکومت کسی بھی دینی مدرسہ کی وجہ سے ملکی امن و امان یا سماج و معاشرہ کو خطرہ محسوس کرنے کی صورت میں اس مدرسہ کو بند کرسکے گی ، جب کہ اس مدرسہ کی انتظامیہ کو سماعت کا موقع بھی نہیں دیا جائے گا ۔ یہ اختیار حکومت سند ھ کا کمشنر بروئے کار لائے گا جو مدارس کی رجسٹریشن کے لئے ڈویژنل رجسٹرار بھی ہوگا ۔ حکومت کو یہ اختیار مجوزہ دینی مدارس ایکٹ سنہ 2016ء کے تحت حاصل ہوگا ۔ ہر ضلع میں ایک امن کمیٹی قائم کی جائے گی جو مذکورہ قانون پر عمل درآمد سے متعلق امور میں حکومت کی معاونت کرے گی ۔ حکومت اس ایکٹ کے نفاذ کے ایک سال کے اندر فنڈ قائم کرے گی جو ’’ دینی مدارس ایجوکیشن فنڈ ‘‘ کہلائے گا ۔ اور جب تک کوئی مدرسہ اس ایکٹ کے تحت رجسٹر نہیں ہوگا تب تک وہ وفاقی یا صوبائی حکومت سے زکوٰۃ یا کوئی مالی معاونت ، گرانٹ ، عطیات ، امداد و دیگر مراعات حاصل نہیں کرسکے گا ۔ نیا قانون نیشنل ایکشن پلاٹ کے تحت بنایا جائے گا اور سندھ کے علاوہ دیگر صوبے بھی اس پر قانون سازی کریں گے۔یہ مجوزہ مسودہ قانون ہفتہ کے روز سندھ اسمبلی میں منظوری کے لئے پیش کیا گیا تھا۔
ہمارے خیال میں دینی مدارس کے متعلقہ حکومت سندھ کو اس قدر سخت قانون سازی نہیں کرنی چاہیے تھی کہ جس کے نتیجہ میں یہ تاثر جنم لے لے کہ سندھ حکومت اور وہاں کے علماء باہم دو متحارب فریقین ہیں ،بلکہ اس کے بجائے اسے ایسے مثبت اقدامات کیے جانے چاہیے تھے جو سندھ حکومت اور وہاں کے علماء کو ایک دوسرے کا دست و بازو بننے اور ایک دوسرے کے قریب لانے کا موجب بن سکیں۔ ایسے میں حکومت سندھ کا فرض بنتا ہے کہ وہ وفاق المدارس العربیہ پاکستان کے قائدین سے ضرور رابطہ کرتی ۔
مفتی منیب الرحمن تو پہلے ہی سے کہہ چکے ہیں کہ وہ حکومت کی تمام جائز شرائط کو قبول کریں گے، لیکن دینی مدارس کو سرکاری تعلیمی اداروں کی طرح بیورو کریسی کے احکامات کا پابند بنانے کی ہر گز اجازت نہیں دیں گے ۔ جب کہ دوسری طرف جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ اور کشمیر کمیٹی کے چیئرمین مولانا فضل الرحمن نے اس قانون کی سخت مخالفت کرتے ہوئے صوبائی حکومت کو متنبہ کیا ہے کہ: ’’ اگر دینی مدارس کے متعلق علماء کی باہمی مشاورت کے بغیر قانون نافذ کرنے کی کوشش کی گئی تو ایسے قانون کو ہم اٹھا کر باہر گلی میں پھینک کر اسے تار تار کردیں گے اور اسے کسی صورت بھی تسلیم نہیں کریں گے ، ہمیں مدارس کے ضمن میں ایسا یک طرفہ قانون قابل قبول نہیں ہے ۔‘‘ بہر حال مفتی منیب الرحمن اور مولانا فضل الرحمن کے صوبائی حکومت کے قانون پر ردّ عمل سے قطع نظر اس وقت تمام دینی مدارس پر یہ ذمہ داری عائد ہوتی ہے کہ وہ اپنے اپنے تحفظات سے حکومت وقت کو آگاہ کریں تاکہ ایک خوش اسلوبی اور ایک اچھے اور مثبت انداز سے یہ معمہ حل کیا جاسکے اور علماء اور حکومت کے درمیان جو غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں ان کا بر وقت ازالہ کیا جاسکے۔
اس میں شک نہیں کہ مملکت خداد پاکستان کے وجود مسعود کی وجۂ جواز ہی ایک خالص اسلامی ریاست کا قیام اور اس میں اسلامی احکام کا نفاذ تھا ، اس میں بھی دینی مدارس انگریز کے دورِ حکومت کی طرح دفاعی پوزیشن میں اپنی بقاء کے لئے دفاعی دلائل کی جنگ لڑ رہے ہیں ، حالاں کہ معاشرہ کے لئے جن اسلامی ذمہ داریوں کا بوجھ ان مدارس نے اٹھایا وہ تمام تر ذمہ داریاں درحقیقت ایک اسلامی ریاست کے نظام تعلیم کے سنبھالنے اور نبھانے کی تھیں ۔ لیکن پاکستان بننے کے بعد یہاں حکومتوں کے انقلابات نے اس کی تأسیس کے بلند و بالا اہداف و مقاصد جو حشر نشر کیا وہ الگ ایک دردناک داستان ہے ؂
بلبل ہمہ تن خون شد و گل شد ہمہ تک چاک
اے وائے بہارے اگر ایں است بہارے
تاریخ سے معمولی شد بد رکھنے والاایک ادنیٰ طالب علم بھی یہ بات بخوبی جانتا ہے کہ بر صغیر پاک و ہند میں ان دینی مدارس کا نظام گزشتہ ڈیڑھ صدی سے اپنی مدد آپ کے رضا کارانہ اصول کے تحت چلایا جارہا ہے ۔ بر صغیر پر برطانوی استعمار کے قبضے نے صورت حال یک لخت بدل کر رکھ دی ۔ استعماری حکمرانوں نے دینی مدارس اور اس سے فارغ التحصیل ہونے والے علماء کو استعمار کا باغی قرار دیا اور سرکاری ، معاشی اور سماجی طور پر ان کا ہمہ جہت مقاطعہ کیے رکھا ، جو گزشتہ ڈیڑھ صدی سے بغیر کسی توقف کے تاہنوز مسلسل جاری ہے ۔ دینی مدارس کے اساتذہ و تلامذہ کی تحقیر اور کردار کشی کو استعماری حکمرانوں نے اپنی بنیادی حکمت عملی بنائے رکھا ۔لیکن یہ بھی اپنی جگہ ایک سچی حقیقت ہے کہ استعماری آقاؤں کا یہ مخاصمانہ اور معاندانہ رویہ دینی مدارس کے علم برداروں کے آ ہنی حوصلوں کو آج تک شکست نہ دے سکا، بلکہ ان نامساعد حالات اور حکومت کی بھر پور مخالفتوں کے باوجود بر صغیر پاک و ہند کے ان دینی مدارس کی شمعیں کونے کونے تک فروزاں کی جاتی رہیں ۔
قارئین کرام! آپ کو یہ بات سن کر حیرانگی ہوگی کہ امریکہ و برطانیہ اورمغرب برصغیر کے ان دینی مدارس سے اس قدر خائف ہیں کہ گزشتہ دنوں امریکہ سے ایک عالم آئے تو بتانے لگے کہ ا مریکہ کے ایک ٹی وی چینل پر’’دارالعلوم حقانیہ اکوڑہ خٹک‘‘کے ’’دارُ القرآن‘‘ میں قرآن کریم حفظ کرنے والے بچوں کو دکھاکر امریکی قوم کے سامنے انکشاف کیا جارہاتھا کہ یہ بچے بچپن ہی سے جھوم کراوردن بھر ہل ہل کردہشت گردی کی جسمانی مشق کررہے ہیں،بلا شبہ جب خوف کے سائے پھیلتے ہیں تواس طرح کے لطیفے وجود میں آنے لگتے ہیں۔
اسی طرح سابق برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے لیبر پارٹی پالیسی کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے محققانہ انداز میں کہا تھا کہ : ’’ دہشت گردی کی جڑیں مصنوعی نہیں ، بلکہ بہت قدرتی ہیں ، اس نظریئے کی جڑیں پاکستان کے دینی مدارس ، سعودی عرب کے وہابی نظریئے کی انتہاپسندانہ صورت ، افغانستان میں القاعدہ کے سابق کیمپوں ، چیچنیا کے پہاڑوں ، مشرق وسطیٰ اور ایشیاء کے بیشتر ممالک میں پیوستہ ہیں ۔‘‘
بہر حال اس وقت حکومت وقت اور دینی مدارس کے علماء کو چاہیے کہ وہ ایک پلیٹ فارم پر متحد ہوکر ایک دوسرے کی غلط فہمیوں کا ازالہ اور آپس کے تحفظات کا احساس کریں ۔ نیز آپس کی ان دوریوں کو ختم کرنے کی سنجیدہ سی کوششیں کریں جن کے سبب ایک دوسرے کے ذہنوں غلط فہمیاں جنم لے رہی ہیں ، تاکہ وطن عزیز ملک پاکستان کو دہشت گردی جیسی لعنت سے پاک کیا جاسکے اور مذہب اسلام کو بدنام کرنے والے عاقبت نا اندیش عناصر کا مکمل طور پر خاتمہ کیا جاسکے ۔لہٰذا اب ضرورت اس امر کی ہے کہ یہ تمام تر کار روائیاں غیر جانب دار اور شفاف قسم کی ہونی چاہئیں ، علماء کو بھی چاہیے کہ وہ اس معاملے میں حکومت کے ساتھ مل کر اس کابھرپورتعاون کریں اور حکومت کی بھی یہ ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ علماء کے تحفظات کا احساس اور ان کو پیش آمدہ تلخ مسائل کا ادراک کرے تاکہ حکومت اور علماء سب باہم متحد ہوکر دہشت گردی کے عفریت کے خلاف ایک مشترکہ پلیٹ فارم پر اٹھ کھڑے ہوں اور وطن عزیز ملک پاکستان سے اس ناسور کا ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خاتمہ کردیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *