میڈیاہاؤسز پر حملے کونسی ’’حب الوطنی ‘‘ہے۔۔۔ ؟

’’مودی بیکار‘‘ کی’’ بیکار‘‘ باتوں کا منہ توڑ جواب دینے اور وطن عزیز پاکستان کے خلاف ناپاک سازشوں کو بے نقاب کرنے کیلئے ملک کاہرشہری افواج پاکستان کے ساتھ کاندھے سے کاندھا ملائے کھڑا ہے مقبوضہ کشمیر میں جاری ظلم و ستم نے پوری اقوام عالم کو ’’بیدار‘‘کردیا ہے اور انسانیت کی بدترین تذلیل کو ’’لگام ‘‘ڈالنے کیلئے عالمی امن کے ’’علمبردار‘‘سرجوڑ کر بیٹھنے پر مجبور ہو گئے ہیں اور اس بین الااقوامی دہشت گردکو بے گناہ اور نہتے کشمیریوں پر ظلم و ستم کے پہاڑ توڑنے سے باز رکھنے کیلئے عالمی منصوبے طے پارہے ہیں ، اس کے ساتھ پاکستان میں ہونیوالی دہشت گردی میں ہر طرح سے ملوث ہونے کے ثبوت ملنے پر ’’مودی بیکار‘‘ شاید اپنا ذہنی توازن برقرار نہیں رکھ پایا، کبھی بلوچستان کے متعلق بیان بازیاں تو کبھی کچھ۔۔۔خیر وطن عزیز پاکستان کی موجودہ حکومت کی جانب سے کشمیریوں کی آزادی کیلئے اپنائے جانے والے ’’دوٹوک ‘‘موقف اور اقتصادی راہداری منصوبے سے پریشان حال بھارت کا مکار چہرہ اور دہشت گرد کاروائیوں میں رنگے ہاتھ سب کے سامنے عیاں ہوگئے ہیں۔یقیناًاب بھارت اپنی مکاری اور فریبی کی روایات کو برقرار رکھتے ہوئے ’’راہ فرار ‘‘اختیار کرنے کے درپے ہے اسکی ہر صورت یہ کوشش ہے اور وہ ہمیشہ ہی ایسے ’’حربے‘‘استعمال کرتا رہاہے ،حالیہ ’’مودی بیکار‘‘کی بلوچستان کے متعلق بدزبانی کا ہر پاکستانی نے بڑی سختی سے نوٹس لیا گیا اور لاکھوں لوگوں نے ’’پاکستان زندہ باد ‘‘ریلیوں کی صورت میں ’’مودی بیکار‘‘کی بیکار باتوں کا منہ توڑ جواب بھی دے دیا اور ثابت کردیا کہ پنجاب، سندھ ، سرحد ، بلوچستان ، خبیر پختونخواہ سمیت کشمیراور مقبوضہ کشمیر میں ہزاروں افراد ’’پاکستان زندہ باد‘‘کے حق میں ہیں اور سب کے سب ’’مودی بیکار‘‘ اس زبان درازی کو ’’لگام ‘‘ڈالنے کیلئے سراپا احتجاج ہیں ،’’پاکستان زندہ باد ‘‘کے ان فلک شگاف نعروں نے پوری دنیا کو ’’مودی بیکار‘‘ کا سازشی چہرہ بھی بے نقاب کردیا ، بلوچستان کی غیور عوام نے ملک دشمن کو پریشان تو کیا ہی مگر اس کے ساتھ ساتھ اس سازشی ٹولے کی ناپاک سازش کو ہمیشہ کیلئے ’’دفن‘‘کردیا۔وطن عزیز پاکستان کی افواج پوری قوم کے عظیم اور ہردلعزیز’’سپہ سالار‘‘جنرل راحیل شریف صاحب کی فقیدالمثال قیادت میں ہر طرف ملک دشمن عناصر کو جہنم واصل کرتے ہوئے ہمیں اور ہماری آنیوالی نسلوں کو حقیقی اور عملی طور ایک پرُامن ’’پاکستان‘‘دینے کیلئے جہاں بے مثال اور لازوال ’’قربانیاں ‘‘پیش کررہی ہے وہیں پر ملک دشمن قوتیں مختلف حربے استعمال کرکے ملک میں انتشار پھیلانے کی ناپاک جسارت میں مصروف عمل ہے،بلاشبہ ہماری افواج نے بہت کم عرصہ میں ارض پاک سے ناپاک دشمنوں کو نکال باہرپھینکنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے جس پر پاکستانی قوم افواج پاکستان اور عظیم سپہ سالار جنرل راحیل شریف صاحب کی صدق دل سے ممنون و مشکورہے اور میں اگر یوں لکھوں کہ پوری قوم وطن عزیز پاکستان کو حقیقی امن کا گہوارہ بنانے کے خواب کو شرمندہ تعبیر ہوتے دیکھ اللہ رب العزت اور اس کے پیارے حبیب ؐ کے حضور اس عظیم ’’سپہ سالار‘‘کی زندگی و تندرستی اور ملک وقوم کی خاطر مزید کامیابیوں کیلئے ہرلمحے دعا گو ہے اور انشاء اللہ بہت جلد پاکستان ایک حقیقی پرُامن پاکستان بن کر دنیا کے نقشے پر ابھرے گا (انشاء اللہ)
محترم قارئین!بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ اور دیگر تحریک پاکستان کے کارکنوں کے شانہ بشانہ خدمات سرانجام دینے والے اور ایک علیحدہ مملکت خداداد کے خواب کوشرمندہ تعبیر کرنے میں اپنا کلیدی کردار اداکرنے والوں کے ناموں اور تحریک پاکستان میں اپنا کردار ادا کرنے کے نام نہاد دعوے کرنیوالوں نے ہمیشہ پاکستانی قوم ’’کو بے وقوف‘‘ اور ’’وراثتی غلام‘‘بناکر بہت مفاد حاصل کئے ہیں، ایسی ہی ایک جماعت جس کو ہم خاصے عرصہ سے برداشت کرتے آرہے ہیں کہ شاید اس جماعت کے ’’ٹن‘‘اور نام نہاد قائد کو کبھی ہوش کے ناخن بھی آہی جائیں۔۔۔ لیکن شاید ہوش میں آنا ان کے ’’شایان شان‘‘بھی نہیں اور اسکی ’’قسمت ‘‘میں بھی نہیں، جو کبھی عوام کا اور میڈیا کا قیمتی وقت ضائع کرتے ہوئے گھنٹوں ٹی وی سیکرینوں پر بیٹھ کر قوم کو’’انڈین آئیڈل‘‘کے’’ گانے‘‘ سنانے اور’’ ایکٹنگ ‘‘کرکے بہلاتا نظر آتاتھا تو کبھی ’’چُنری‘‘اوڑھ کرڈانس کرتا ،ایک ایسی جماعت جس نے نہ توکبھی’’ استحکام پاکستان‘‘ کی بات کی اور نہ ملک وقوم کے مفاد میں کوئی نمایاں کردار ادا کیاہواہو۔۔۔ افسوس کی بات یہ ہے کہ خوف کی فضا میں گھری عوام اپنے بنیادی حق ’’ووٹ ‘‘سے ایسے لوگوں کو اپنے سروں پر سوار کرکے ایوان اقتدار کی سڑھیوں تک لے جاتی ہے اور پھر بعد میں سوائے خاموش تماشائی بنے رہنے کے کوئی چارہ نہیں رہتاان کے پاس، جبکہ اسی جماعت کے سرکردہ انہی عوام کے ووٹوں پر ایوان اقتدار میں بیٹھ کر حکومتوں کو ناراضگی تو کبھی رضا مندی کے ڈرامے کرکے عوام کیلئے آج تک کوئی خاص مثبت خدمات انجام نہیں کرپائی،کبھی ٹارگٹ کلنگ تو کبھی بھتہ خوری کے الزامات سے بھری پڑی یہ جماعت جو بہت بڑی سیاسی جماعت ہونے کی دعویدار بھی ہے ۔۔۔کیا یہ جماعت تحریک پاکستان کی کسی بھی طرح حصے رہیگی ہو۔۔۔۔؟کیا اس جماعت کے کسی سرکردہ نے قیام پاکستان کی حمایت بھی کی ہوگی۔۔۔؟ کیا ایسی جماعتیں ’’سیاسی‘‘جماعتیں ہوتی ہیں جو پاکستان میں رہ کر ہی پاکستان کے خلاف ’’پراپوگنڈے کریں، جو خدانخواستہ پاکستان ، افواج پاکستان سمیت دیگر سیکورٹی اداروں کے متعلق زبان درازی کریں۔۔۔پھر اسی مادر وطن کے متعلق کہ جس نے ان ’’عوامی ‘‘خدمت گزاروں کو پہچان دی جب وہی ’’دھرتی ماں ‘‘ کے متعلق زبان درازیاں کہیں کی ’’حب الوطنی‘‘ ہے۔۔۔؟ پیر کے روز کراچی میں ایم کیوایم کے بھوک ہڑتالی کیمپ کے شرکاء سے اپنے’’ روائتی خطاب‘‘ میں ایم کیو ایم کے قائدالطاف حسین نے من چاہی اور پاکستان ، افواج پاکستان سمیت دیگر اداروں کے متعلق زبان درازی استعمال کرتے ہوئے اسی ’’جماعت‘‘کے کارکنوں کو میڈیا ہاوسز پر حملے کرکے مزید ’’حب الوطنی ‘‘کا ثبوت دینے کا عندیہ دیا ، جہاں پاکستان ، افواج پاکستان ، رینجرز اور دیگر سیکورٹی اداروں کے خلاف نعرے بازی بھی کی اور اسی قائدکے حکم پر۔۔۔بسم اللہ ۔۔۔بسم اللہ کروائی گئی ، جس پر کارکنوں کی بڑی تعداد تمام میڈیا ہاؤسز کی طرف بڑھی اور توڑ پھوڑ کی دلی تسلی پوری کی اور جیسے دل نے چاہا ویسا سلوک نہ وہاں خواتین کی عزت کو مدنظر رکھا گیا اور نہ یہ سوچا گیا کہ یہ ’’مقبوضہ کشمیر‘‘نہیں بلکہ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح ؒ کا پاکستان ہے ، جن کا سہانا خواب حکیم الامت علامہ محمد اقبال ؒ نے دیکھا تھا ۔۔۔بعدازاں اسی ’’جماعت ‘‘نے میڈیا کارکنوں کو شدید تشد د کا نشانہ بنایا، جس پر سند ھ رینجرز نے سختی سے نوٹس لیتے ہوئے اپنے ’’محبوب قائد‘‘کے دفاع میں کراچی پریس کلب میں پریس کانفرنس کے خواہاں ڈاکٹر فاروق ستار کو ’’سرکاری مہمان ‘‘بنالیا گیا بعدازاں دیگر کارکنوں کو سرکاری مہمان خانے کی زینت بننا پڑا ۔۔۔۔ یقیناًاس ساری صورتحال کے ذمہ دار’’الطاف حسین‘‘ ہیں انہی الطاف حسین نے پہلے بھی بے حد بے زبان درازی کی اور بعد میں ہاتھ جوڑکر ’’معافی ‘‘مانگ لی اور ’’معاف کربھی دیا جاتا رہا مگر جو اب صورتحال پیش آئی وہ کسی بھی پاکستانی کے برداشت میں نہیں اور اب ہر پاکستانی افواج پاکستان کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور ایسے افراد جو ملک وقوم کے خلاف زبان درازی کریں ان کیلئے پاکستان میں کوئی جگہ نہیں اور نہ ہی ایسے لوگوں اب ’’چھٹی‘‘ ملنی چاہیے کہ وہ اس دھرتی ماں اور ہمارے قابل احترام اداروں کے خلاف زبان درازی کرسکیں ،وہ کہتے ہیں نا کہ ’’لاتوں کے بھوت باتوں سے نہیں مانتے‘‘، مستحکم ، مضبوط اور پرُامن پاکستان ہر پاکستانی کا خواب ہے جس کو شرمندہ تعبیر بنانے کیلئے ’’مودی بیکار‘‘کے تمام’’یاروں‘‘کی اب اس ارض پاک پر رہنے کا کوئی حق نہیں، ایسے ملک دشمن عناصر کو اب سبق سیکھانے کا وقت آچکا ہے ، پاکستانی قوم کی دل آزاری خاصی مہنگی پڑے گی ایسے ’’مودی‘‘کے تلوے چاٹنے والوں کو ۔۔۔جبکہ گرفتار فاروق ستار سمیت دیگر کارکنوں کو اب خود کو بچانے اور اس ملک دشمن نام نہاد لیڈر سے جان چھڑانے کیلئے سنہرے موقع سے فائدہ اٹھانا چاہیئے اور فوری طور ’’اعلان لاتعلقی ‘‘کرکے خود کو حقیقی’’محب وطن ‘‘ثابت کرنا چاہیئے کیونکہ اب پاکستان میں جماعت وہی رہے گی جو عملی و حقیقی ’’محب وطن ‘‘جماعت ہے ، اب ’’مودی بیکار ‘‘کے یاروں کیلئے ’’پاکستان ‘‘نہیں ہندوستان ہی ٹھکانہ ہے ۔۔۔اللہ رب العزت وطن عزیز کو شاد و آباد کرتے ہوئے ملک دشمن عناصر سے محفوظ رکھے (آمین)

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *