صحابہ کرام رضی اللہ تعالی کی دو نئی قبریں

mufti waqas rafi

آج سے تقریباً ساڑھے چودہ سوسال پہلے جب عالم انسانیت کفر و ضلالت اور وحشت و جہالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں گھرا ہوا تھا ، عفت و عصمت اور ستم و درندگی کا عفریت ننگا ناچ رہا تھا ، حضرت عیسیٰ علیہ السلام کو گزرے ہوئے پانچ سو سال سے کچھ اوپر کا عرصہ بیت چکا تھا ، اڑھائی سوسال قبل عیسائیت اپنا مذہبی اور سماوی دین کھوچکی تھی ، نوزائدہ بچیوں کو زندہ درگور کیا جاتا تھا ، کعبہ شریف کا مرد و عورت مخلوط ہوکر الف ننگا طواف کیا کرتے تھے ، کہ ایکا ایکی پورے عالم انسانیت کی رشدد و ہدایت اور انہیں سیدھے راستے پر دوبارہ گامزن کرنے کے لئے اللہ تعالیٰ نے جس عظیم ترین ہستی کا انتخاب فرمایاوہ ہستی ہے حضرت محمد مصطفی اکی ، اللہ تعالیٰ نے آپ کو کفر و ضلالت کے گھٹا ٹوپ اندھیروں میں چہار سو بھٹکنے والے انسانوں کی ہدایت کا ذریعہ اور انہیں صراطِ مستقیم پر چلانے کا سبب بنایا۔
انسانیت کا یہ وہ گرا پڑا ہوا معاشرہ تھا جس میں حضور اقدس ا نے اپنی آنکھیں کھولیں ، لاجواب لڑکپن گزارا، بے داغ جوانی گزاری ، صدق و امانت ، جود و سخا ، شجاعت و بہادری اور عفت و عصمت میں اپنا نام پیدا کیا ،تب کہیں جاکراس وقت کے جانوروں سے بدتر زندگی گزارنے والے لوگوں کے دلوں پر محنت کرنے کا موقع ہاتھ آیا ، اپنی محنت کا میدان ان لوگوں کے دلوں کو سمجھا او ر ان کے دلوں پر شب و روز ایسی انتھک محنت و کوشش اور ایسا صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا کہ ابھی کچھ ہی عرصہ گزرا کہ لوگ دھڑا دھڑ اسلام میں داخل ہونے لگے اورمسلمانوں کی ایک اچھی خاصی کھیپ تیار ہوگئی ۔اورکل کو وہ لوگ جو آنحضرت ا کو چیلنچ کرتے ہوئے یہ کہتے تھے کہ : ’’ہمارے گدھے تو مسلمان ہوجائیں گے مگر ہم کبھی مسلمان نہیں ہوسکتے۔‘‘ آخر کار انہی لوگوں نے مذہب اسلام کو اپنے سینوں سے لگایا، ان لوگوں کو صحابہ کرامث کہا جاتا ہے۔ انہوں نے دین اسلام پر اپناتن ، من ، دھن سب کچھ لگادیا اوراس کو لے کر پوری دنیا کے کونے کونے میں اس کو پھیلانے کے لئے اٹھ کھڑے ہوئے اور دنیا کے چپے چپے تک اس کو پھیلاکر اور اس کی نشرو اشاعت کرکے آخر کار اس عالم رنگ و بو کو ہمیشہ ہمیشہ کے لئے خیر آباد کہہ گئے۔
اشاعت اسلام کے سلسلے میں صحابہ کرامث کی وقیع ترین اور عظیم ترین بے مثال و باکمال قربانیوں ، انتھک محنتوں اور کاوشوں کو کسی بھی صورت نہیں بھلایا جاسکتا ۔ بلاشبہ اشاعت اسلام کے سلسلے میں انہوں نے ایسے ایسے معرکے اور ایسے ایسے کارنامے انجام دیے کہ جن کی مثال پیش کرنے سے آج بھی انسانیت کی تاریخ شرماکر عرق عرق ہوجاتی ہے۔ وہ لوگ اسلام کا چراغ لے کر پورے عالم کو اس سے روشن کرنے کے لئے نکلے ، اپنا گھر بار چھوڑا ،بیوی بچے اللہ کی راہ میں قربان کیے ، اپناوطن اور علاقہ خیر آباد کیا ، اور پوری دنیا میں پھل ، پھول اور پھیل گئے ، آج حجاز مقدس میں جاکر دیکھیں تو سہی ماسوائے چند ہزار قبروں کے صحابہ کرام ثکی قبریں ڈھونڈتے نہیں ملتیں ، کسی کی قبر شام میں ہے تو کسی کی لبنان میں ، کسی کی عراق میں ہے تو کسی کی الجزائر میں، کسی کی چین میں ہے تو کسی کی فلسطین میں ، کسی کی افغانستان میں ہے تو کسی پاکستان میں ، پھر پاکستان میں بھی مختلف علاقوں میں صحابہ کرامث کی قبریں ملتی ہیں ، چنانچہ پنج گور ، نوشہرہ ، پشاور وغیرہ پاکستان کے مشہور شہروں میں صحابہ کرام ث کی قبریں آج بھی موجود اور مرجع خلائق ہیں۔
اسی طرح اب سے کچھ سال پہلے صحابہ کرام کی دو نئی قبروں کا انکشاف ہوا ہے ۔ یہ انکشاف ہماری معلومات کی حد تک نیا ہے وگرنہ تو صحابہ کرامث کی یہ قبریں آج سے چودہ سوسال پرانی ہیں۔یہ دونوں قبریں ملک کے مشہور و معروف ضلع ٗ ضلع اٹک کے مشہور و معروف شہرمیرے آبائی علاقہ ’’ فتح جنگ‘‘ شہرکے مضافات میں ’’فتح جنگ‘‘ سے ’’پنڈی گھیب‘‘ کی طرف جاتے ہوئے کوئی 25 کلومیٹر کے فاصلے پر’’ ڈھرنال‘‘ نامی گاؤں میں آبادی سے چند قدم آگے نکل کر بر لب سڑک ایک قبرستان میں واقع ہیں ۔ ان قبروں کے صحابہ کرام ث کی قبریں ہونے کی چند توثیقی علامات ہیں:’’ اوّل یہ کہ اس قبرستان کا نام ہی لوگوں کی جدی پشتی سے (صحابہ والا قبرستان) چلتا ہوا آرہا ہے ، لیکن یہ کوئی خاص علامت نہیں ہے ۔ دوسرے یہ کہ بقول استاذ محترم قاری شکیل احمد صاحب کے ٗجولوگ جدی پشتی نسل در نسل وہاں آباد ہیں ان کا کہناہے کہ اس قبرستان میں صرف یہی دو قبریں ایسی ہیں جودو اجنبی لوگوں کی ہیں جن سے ہمارا کسی قسم کا کوئی نسبی رشتہ وابستہ نہیں ہے، باقی اس قبرستان میں مدفون سب لوگ ہمارے رشتہ دار ہیں ۔‘‘ یہ علامت بہ نسبت پہلی علامت کے قدرے توثیقی معلوم ہوتی ہے ۔ تیسرے یہ کہ استاد محترم مولانا صابر حسین شاکرؔ صاحب (حال استاذ : مدرسہ عربیہ زکریا مسجد راولپنڈی) کا فرمانا ہے کہ: ’’ صحابہ کرام کی ان دونوں قبروں کے پاؤں کی طرف مشرق کی جانب میرے والد صاحب کی قبر ہے ۔ چنانچہ ایک مرتبہ میری نانی محترمہ میرے والد صاحب کی قبر پر تشریف لائیں، وہاں سے فارغ ہوکر صحابہ کرامث کی قبروں پر حاضرہوئیں تو اسی رات میرے والد صاحب میری نانی محترمہ کو خواب میںآئے اور کہا کہ:’’ آئندہ جب بھی آنا ہو صحابہ کرامث کی ان قبروں سے ہوکر میری قبر پر آنا۔‘‘یہ تیسری علامت کافی حد تک ان قبروں کے صحابہ کرام کی قبریں ہونے کی توثیق کرتی ہے ۔ ‘‘
یہ بات اگرچہ اپنی جگہ بجا ہے کہ خواب سے کوئی شرعی مسئلہ ثابت نہیں ہوتا لیکن اس سے بھی انکار نہیں کہ خواب کو شرعی مسائل کے ساتھ کافی حد تک ایک خاص قسم کی مناسبت ضرور حاصل ہے ۔
باقی رہی یہ بات کہ یہ دونوں قبریں کن کن صحابہ کرامث کی ہیں؟تو اس کے بارے میں تاریخ خاموش ہے ۔ اور بقول استاذ محترم مولانا صابر حسین شاکر صاحب کے : ’’ اگر کوئی صاحب کشف بزرگ یہاں تشریف لائیں اور مراقبہ کریں تو وہ بتلاسکتے ہیں کہ ان میں کون کون سے صحابہ کرامث محو استراحت ہیں۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *