پاکستان زندہ باد

column kahani.noshi gillani

کشمیر سے توجہ ہٹ چکی ہے۔۔ پاکستان کے تمام ذرایٔع ابلاغ اب ایم کیو ایم اور الطاف حسین سے متعلق خبروں کی زَد میں ہیں۔ اور یہی بھارتی ایجنسیاں اور اُن کے ساتھ کھڑی دیگر استحصالی قوتوں کا ایجنڈا بھی ہے۔ کہ یہ اقوامِ متحدہ کے ساۓ میں وادیٔ کشمیر میں جو ظلم کی داستانیں لکھی جا رہی ہے انہیں پڑھنے والی باضمیر آنکھیں مختلف سمت میں بھٹک جایٔیں اور اس وقت کا اہم ترین موضوع قدرے اندھیرے میں دھکیل دیا جاۓ اور ایسا ہو بھی رہا ہے ۔۔ یوں بھی ظلم فطرتا" تاریکی پسند ہوتا ہے کہ غیر واضح منظر خواہ وہ فکری سطح پر ہوں یا معاشرتی و جغرافیائی سطح پر، اُس کے ناپاک عزائم کے لیٔے معاون ثابت ہوتے ہیں۔ مردہ ضمیر شخص ہو ، گروہ ہو یا قوم اسے روشنی سے گریز ہی ہوا کرتا ہے چاہے وہ باطن کی ہو یا خارج کی ۔۔۔۔۔ !

سو آج کل حقائق پر پردہ ڈالنے کے لیٔے ہر طرح کا سیاسی ڈرامہ رچایا جا رہا ہے ۔۔ کشمیر، پاناما لیکس، کلبھوشن یادیو، چھوٹو گینگ ، عورتوں کو زندہ جلانے، تیزاب پھینکنے، پینے کے پانی کی قلّت، حتّیٰ کہ امجد صابری جیسی شخصیت کے قتل اور پاکستان میں میں بچوں کے اغوا جیسے اہم اور ہولناک واقعات بھی پس منظر میں چلے گیٔے ہیں۔ کیونکہ سیاسی حلقوں کی منصوبہ بندی اسی طرح سے کی جاتی ہے کہ ہر آنے والے دن کے ساتھ انتہائی روح فرسا واقعات بھی کرب کی شدّت کم ہوتے ہی دھیرے دھیرے منظر سے غائب ہو جاتے ہیں ۔۔ اور پھر پیپر میڈیا، الیکٹرونک میڈیا اور سوشل میڈیا نت نئے راگ رنگ میں مگن ہو جاتے ہیں۔

صاحبِ اختیار و اقتدار طبقے میں کس کو فرصت ہے جو دیکھے کہ پاکستانی والدین اپنے ہی گھر میں شب بھر ہی نہیں، دن میں بھی جب اپنے سوۓ ہوۓ یا کھیلتے بچوں کو دیکھتے ہیں تو کیسے ڈوبتے دلوں کے ساتھ درودیوار کو بھی خوف سے دیکھتے ہیں۔۔ بار بار اُٹھ کر دروازے اور کھڑکیوں کی چٹخنیاں اور تالے چیک کرتے ہیں ۔ ان میں اکثریت تو اُن والدین کی ہے جو دن بھر کی دُھول اور ببُول اَٹی مشقت کے عذاب سے گزرتے ہوۓ ہڈیوں کے گُودے تک تھک چکے ہوتے ہیں ۔۔ یہاں تو عالم یہ ہے کہ معصوم بچوں کے اغوا جیسی واداتوں کے حوالے سے پاکستان کی قومی اسمبلی سپیکر ایاز صادق فرماتے ہیں کہ ’’بچوں کے اغوامعمول کے مطابق ہو رہے ہیں‘‘۔۔ گویا موصوف اطلاع دے رہے ہوں کہ ، اخبارمعمول کے مطابق شایٔع ہورہے ، کپڑا معمول کے مطابق بِک رہا ہے، آلو معمول کے مطابق کاشت ہو رہے ہیں، برتن معمول کے مطابق دُھل رہے ہیں ۔۔ بس اتنی چُٹکی برابر اہمیت ہے ہمارے بچوں کی ان حکمرانوں کے نزدیک ۔ یہ وہی ایاز صادق ہیں نا ! کہ جن کے پوتے کے ایچی سن کالج میں ایڈمشن نہ ہونے کی وجہ سے انتہایٔ معزز پرنسپل آغا غضنفر صاحب کو شدید ذہنی اذیت سے دوچار کرنے کے بعد برخواست کر دیا گیا تھا۔ وجہ صرف اتنی تھی کہ ان کے پوتا جی ایڈمشن ایگزام میں بیس فیصد سے بھی کم نمبر لے سکے تھے سو پرنسپل نے غیر اصولی داخلہ کرنے سے انکار کر دیا تھا ۔ یہ وہ عوامی نمایٔندے ہیں جو صرف اپنی اولاد کو ہی  اولاد سمجھتے ہیں اور جنہوں نے ان کو منتخب کیا ہو اُن کی اولادیں تو کیڑے مکوڑوں جتنی حیثیت بھی نہیں رکھتیں ۔ یہ بچے اغوا ہو جایٔیں ، اُن کے اعضا توڑ کر جلا کر انہیں بھیک مانگنے پر مجبور کر دیا جاۓ یا جنسی تشّدد کے بعد انہیں سفّاکی سے مار دیا جایٔے ، یہ تمام بربریت ایاز صادق اور ان جیسے خود ساختہ شرفا کے نزدیک یہ معمول کی بات ہے۔۔ الامان الحفیظ !!!

یہ غیر ذمہ دار اور بے رحم لوگ کیا جانیں کہ وہ والدین جن کے بچے ان سے یوں جدا کردیٔے جاتے ہیں وہ نہ جی سکتے ہیں نہ مر سکتے ہیں۔ اگر بچہ فطری موت سے آغوشِ مادر سے جدا ہو تو بھی غم سے سینہ پھٹ جاتا ہے پھر بھی قادرِ مطلق کی رضا سمجھ کر ہلکا سا دلاسہ مل ہی جاتا ہے ۔۔ مگر نامعلوم افراد کے ہاتھوں غایٔب ہو جانے والے وجود پر صبر کیسے آۓ ۔۔ ممکن ہی نہیں ہو سکتا

بھلا اُس کے دُکھوں کی رات کا کیسے مداوا ہو

وہ ماں جس کو کبھی کھویا ہوا بچہ نہیں ملتا

اور اس نیٔ صورتحال کی بھی کسے پرواہ ہو کہ بچوں کے اغوا کی آڑ میں بے شمار لوگ اپنے ذاتی انتقام اور حیوانی جبّلت کی تسکین کررہے ہیں اور مسلسل بے گناہ مرد و خواتین کو نشانہ بنا رہے ہیں۔۔ یہی سب ہوتا ہے جب قانون کی باگیں لاقانونیت کے ہاتھوں میں ہوں۔

پاکستان زندہ باد !

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *