کیا سابق وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون کے پاس بھوک مٹانے کے پیسے بھی نہیں؟

David Cameron

طاقت انسانی زندگی کی ایک نمایاں علامت سمجھی جاتی ہے۔ برطانیہ کے سابق مرد آہن ڈیوڈ کیمرون بھی کسی دور میں اپنے ملک کی طاقت ور ترین شخصیت تھے مگرآج ان کی مفلوک الحالی پر رونا آتا ہے۔ ایک وہ وقت تھا جب ڈیوڈ کیمرون ٹین ڈاؤننگ اسٹریٹ میں نکلتے تو ان کے آگے پیچھے ان کے حاشیہ برداروں کا جلوس ہٹو بچو کے نعرے لگا رہا ہوتا۔ پولیس اہلکار چاروں اطراف سے انہیں گھیرے میں لیے رکھتے اور صحافیوں کا انبوہ کثیر ان کی ایک ایک بات نوٹ کرنے کے لیے اس تاک میں رہتا کہ کب وزیراعظم زبان سے کوئی بات کریں اور وہ اسے اپنے رپورٹ کرسکیں۔ مگراقتدار کے دن رخصت ہوتے ہی ڈیوڈ کیمرون سے جیسے زندگی ہی روٹھ گئی ہے۔

اخبار ’ڈیلی میل‘ نے ڈیوڈ کیمرون نے ایک تازہ تصویر شائع کی ہے جس میں موصوف کو ساحل سمندر کے قریب کسی پلیٹ فارم پر  بیٹھے دکھایا گیا ہے۔ ان کے گرد چند مسافر مردو خواتین بھی موجود ہیں مگر ان کے بیچ بیٹھے ڈیوڈ کیمرون نہیں لگتا کہ برطانیہ کے سابق وزیراعظم رہ چکے ہیں۔ ان کی وضع قطع، لباس اور چہرے کے تاثرات بتاتے ہیں کہ وہ بہت تھکے ہارے اور پریشان ہیں۔ ہاتھ میں اٹھائی ایک رکابی میں سے کچھ اٹھا کر کھا رہے ہیں۔ کھانے میں مچھلی اور ٹماٹر کے چند ٹکڑوں کے سوا کچھ نہیں۔ محسوس ہوتا ہے کہ بھوک نے بھی خوب نڈھال کر رکھا ہے۔ ننگے پاؤں، چہرے پر مایوسی کےگہرے بادل ان کی پریشانی کا واضح ثبوت ہیں۔

Polzeath Beach Cornwall Tuesday Evening around 8.00pm 23/08/16 Ex PM David Cameron and wife Samantha enjoy a fish supper after a day on the beach in Cornwall - Picture taken by a friend no by-line taken on i-phone

ان کے قریب ایک خاتون جس کا چہرہ دوسری خاتون کے سامنے آنے کے باعث پہچانا نہیں جا سکتا سابق خاتون اول سامنھتا بتائی جاتی ہیں۔ ان کی حالت بھی اپنے شوہر سے کسی بھی طور پر کم پریشان نہیں۔

ان کے قرب جوار میں بیٹھے شہری اپنے حال میں گم ہیں۔ وہ نہیں جانتے کہ ان کے پہلو میں کسی دور کے تاج برطانیہ کے سابق وزیراعظم بیٹھے ہوئے ہیں۔

یاد رہے کہ ڈیوڈ کیمرون نے 13 جولائی کو اس وقت وزارت عظمیٰ کے عہدے سے استعفیٰ دے دیا تھا جب برطانیہ میں ہونے والے عوامی ریفرنڈم میں عوام نے برطانیہ کی یورپی یونین سے علاحدگی کے حق میں فیصلہ دیا تھا۔ کیمرون ذاتی طورپر یورپی یونین سے علاحدگی کے حامی نہیں تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *