آخری رسومات کی تیاری

ایاز امیرAyaz Amir

اب تک صورت ِحال کافی حد تک واضح ہوچکی ہے۔ ہم مارچ نہیں کررہے ہیں بلکہ برق رفتاری سے انجام کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ حکومت پہلے ہی نااہلی کی آخری حد عبور کرتے ہوئے برائے نام باقی رہ گئی ہے۔ اس کی سوچ بچار اور فعالیت واقعات کے رحم وکرم پرہے۔ اب صرف آخری رسومات کی انجام دہی باقی ہے .... اس کالم کی اشاعت تک ہو سکتا ہے کہ ایسا ہوچکا ہو۔ حالات اتنی تیزی سے تبدیل ہورہے ہیں کہ جو کچھ صبح لکھا گیا ہو، وہ شام تک بے معنی ہوجاتا ہے۔ یقینا صبح کا وقت اسلام آباد کے مقامی تحریر چوک پر قلم زد ہوتی ہوئی صورت ِحال پر تبصرے کے لئے موزوں نہیں ہوتا۔ یہاں سہ پہر کو علامہ طاہرالقادری اور عمران خان کی جوشیلی تقاریر کے بعد سیاسی دن کا آغاز ہوتا ہے۔ ہر سہ پہر کو کوئی نئی پیش رفت ہماری منتظر ہوتی ہے۔
یہ کالم منگل کی صبح کو تحریر کررہاہوں۔آج کچھ اہم واقعات پیش آنے والے ہیں۔ علامہ طاہر القادری نے اپنے پیروکاروں اور تمام سامعین سے کہا ہے کہ وہ سہ پہر پانچ بجے تک اسلام آباد میں جمع ہوجائیں۔ عمران خان نے ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے بے باکی سے اعلان کیا ہے کہ وہ ریڈ زون میں داخل ہوںگے۔وہ اپنے کارکنوں کو لیڈکررہے ہوںگے۔ علامہ قادری اور عمران خان کا کارروائی کا وقت کم وبیش ایک ہی ہے۔ تحریک ِ انصاف کے اراکین ِ قومی اسمبلی نے پہلے ہی اپنے استعفے دینے کا اعلان کرتے ہوئے حکومت پر دبائو بڑھادیا ہے۔ اس سے بحران کے سائے مزید گہرے ہوگئے ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ فیصلے کی گھڑی آن پہنچی ہے۔ فرض کریں اس دھمکی کو عملی جامہ پہنا دیا جاتاہے اور ہجوم کنٹینروں اور حفاظی باڑ کو ہٹاتے ہوئے ریڈ زون میں داخل ہوجاتا ہے تو وہ شاہر اہ ِ دستور پر پارلیمنٹ اور سپریم کورٹ کے سامنے ہوںگے۔ جب وہ وہاں پہنچ جائیںگے تو کوئی احمق ہی یہ توقع کرسکتا ہے کہ وہ وہاں سے پرامن طور پر اپنا احتجاج ریکارڈ کرا کے ناچتے گاتے ہوئے واپسی کی راہ لیںگے۔ اس وقت حکومت کے تھیلے میںکوئی بلی نہیں کہ وہ شیر ہوجائیں ۔ان پر سکتے کی سی کیفیت طاری ہے۔ پہلے جو حکومتی اہل ِ کار اور وزراء صاحبان بڑھکیں مار رہے تھے، اُن کو بھی احساس ہوتا جارہا ہے کہ معاملہ گڑبڑ ہے۔ اُنہیں حالات کی سنگینی کا پہلے ادراک نہیں تھا ۔ اب جبکہ تمام معاملہ ہاتھ سے نکل گیا ہے تو بقول بیدم...’’اب پانی لے کے آئے ہیں جب پیاس مرگئی۔‘‘
کیا اسلام آباد پولیس اور انتظامیہ میدان ِ جنگ سجائے گی؟ فورسز کی تعداد تو بہت ہے لیکن اس کے لئے حوصلے کی ضرورت ہے۔ ایک اور بات، فورس اُس وقت استقامت دکھاتی ہے جب اس کو مضبوط حکومتی پشت پناہی کا اعتماد ہو، لیکن ڈگمگاتی ہوئی حکومت کے لئے کون جان ہتھیلی پر رکھے گا؟حالات بے رحم ہوتے جارہے ہیں، ایسی کڑی دھوپ میں تو اپنا سایہ بھی ساتھ چھوڑ جاتا ہے۔ دراصل حکومت کے ساتھ مسئلہ یہ ہوا کہ وہ حالات کی تفہیم سے قاصر رہی اور ، خاص طو ر پر ماڈل ٹائون سانحے کے بعد، معاملات پر اس کی گرفت ڈھیلی پڑتی گئی۔ اگر آج بھی رانا ثنا اﷲ سے بات کریں تو لگتا ہے کہ اُنہیں ابھی تک احساس نہیں ہوا کہ اُس دن پیش آنے والا سانحہ اپنے اندر کس قدر سنگینی لئے ہوئے تھا۔ وہ اور ان کے دیگر ساتھی ابھی تک کمزورا ور بے بنیاد دلائل کا سہارا لے رہے ہیں حالانکہ پانی سر سے گزرنے ہی والا ہے۔ نقارے بج رہے ہیں، میدان سج چکا ہے اور وہی معرکہ ہونے جارہا ہے جس کی عبارت سے پاکستان کی تاریخ بھری پڑی ہے۔ فی الحال جنرل صاحبان سکوت کے مظہر ہیں ۔ عسکری اداروںکی طرف سے اس معاملے پر ایک لفظ بھی سننے میں نہیں آیا، لیکن کیا وہ اس ساری صورت ِحال سے الگ تھلگ ہیں ؟کوئی بہت ہی سادہ لوح انسان ہی یہ سمجھ رہا ہوگا کہ کچھ بھی ہوجائے، وہ اس معاملے میں مداخلت نہیں کریںگے۔ ہمارے ہاں کا موسم تبدیل ہوتے ہوئے دیر نہیں لگتی۔یہاں بدلتی رت کے شواہد ہوائوں کی سرسراہٹ میں سنائی دے جاتے ہیں۔ مرزا غالب نے کہا تھا۔...’’ہیں کواکب کچھ ، نظر آتے ہیں کچھ.... دیتے ہیں دھوکہ یہ بازی گر کھلا۔‘‘ تاہم ہمارے ہاںبازی گر دھوکہ نہیں دیتے، موقع پاتے ہی کھلے عام بازی گری دکھاجاتے ہیں۔
جب میاں صاحب تیسری بار وزیر ِ اعظم بنے تو گمان غالب تھا کہ وہ ماضی سے بہت کچھ سیکھ کر مسند ِ اقتدار پر براجمان ہوںگے ، لیکن اُنھوںنے یہ ثابت کرنے میں مطلق دیر نہ لگائی کہ ان پر کچھ سیکھنے کی تہمت لگانا زیادتی ہوگی۔ ان کے دل میں جوتعصب ’’کل بھی تھا، وہ آج بھی ہے‘‘۔ کون کہتا ہے کہ انسان بدل جاتے ہیں؟ کچھ لوگ تبدیلی کا اس طرح منہ چڑاتے ہیں کہ وقت اُنہیں دیکھتا ہی رہ جاتا ہے اور وہ نہایت خندہ پیشانی سے اُسی سوراخ میں انگلی ڈال دیتے ہیں جہاںسے اُنہیں کچھ عرصہ پہلے ڈسا جاچکا ہوتا ہے۔ چنانچہ انہوں نے وقت ضائع کئے بغیر فوج سے تعلقات خراب کرلئے۔ جب خرابی کا احساس ہوگیا تو معاملات کو سلجھانے کی بجائے انہیں مزید الجھاتے گئے۔ رہی سہی کسر ماڈل ٹائون واقعے نے پوری کردی، یہاں تک کہ اُنہیں یہ دن دیکھنا پڑا ہے جب ان کے دوحریف اپنے ہزاروں جوشیلے کارکنوں کے ساتھ اسلام آباد میں کچھ بھی کرنے کے لئے براجمان ہیں۔ اب یہ توقع لگا لینا کہ وقت گزارنے سے یہ معاملہ حل ہوجائے گا یا کچھ نہیں ہوگا، مزید حماقت ہوگی۔
اس ملک کی قسمت پر ماتم کرنے کو جی چاہتا ہے۔ منیر نیازی نے سچ کہا تھا...’’ منیراس ملک پہ آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے...کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ۔‘‘اب حالات اس نہج پر پہنچ چکے ہیں کہ آج نہیں تو کل فیصلے کی گھڑی آجائے گی۔ موجودہ جمود ہمیشہ کے لئے نہیں رہ سکتا ۔اب معجزوں کا وقت گزرچکا، لیکن طلسمات کا نہیں۔ ہم بہت سفر طے کرکے اسی سرزمین تک آن پہنچے ہیں جہاں سے ہربار بچ نکلنے کی کوشش کرتے رہے ہیں۔ جب امیدہوتی ہے کہ ہم اس صحراسے دور ایک ہری بھری وادی میں آچکے ہیں تو اچانک کوئی واقعہ ہمیں اس سراب سے نکال کر لق ودق صحرا میں کھڑا کردیتا ہے۔
علامہ صاحب اور عمران خان ان حالات کے مہرے ہیں، موجد نہیں(مہرے کہنا زیادتی ہے لیکن یہاں کسر کس نے چھوڑی ہے)۔ ابھی ہم راہ گزرمیں ہیں اورا سلام آباد دھرنا قیدِ مقام کی ایک تصویر ہے لیکن جب تبدیلی آئے گی تو پھر صورت ِحال واضح ہوگی کہ ان تمام واقعات کے پیچھے کس کا ذہن رساکارفرما تھا۔ عمران خان بہت سے معاملات میں جلد بازی کا شکار ہوجاتے ہیں، مثلاً ان کی طرف سے سول نافرمانی کا اعلان سوچ سمجھ کر نہیں کیا گیا تھا۔گزشتہ شام ایسا لگتا تھا کہ وہ کریز سے باہر نکلنے کی کوشش میں اسٹمپ آئوٹ ہوگئے ہیں لیکن پھر اُنھوںنے خود کو سنبھالا اور ایک اور شاٹ کھیل دیا... ریڈ زون میں داخل ہونے کا اعلان۔ دوسری طرف طاہر القادری سوچ سمجھ کر بات آگے بڑھا رہے ہیں۔ وہ جس ’’قومی حکومت برائے جمہوری اصلاحات‘‘ کا خاکہ پیش کررہے ہیں ، وہ مقتدر حلقوں کے تصورات کے قریب تر ہے۔ اب حالات ایسا رخ اختیار کرتے جارہے ہیں کہ بے اختیار زبان پر آتا ہے کہ اﷲ خیر کرے، کیا ہماری ریاست ایک تجربہ گاہ ہی بنی رہے گی؟کیا کبھی ہمارے سفر کی سمت درست ہوگی؟چلیں طالع آزمائوں پر تو تنقید کی جاتی ہے لیکن جو ووٹ کی طاقت سے اقتدار میں آتے ہیں ، کیا وہ بھی ہمیشہ بصیر ت سے محروم رہنے کی قسم اٹھا کرآتے ہیں؟ابھی ان کی حکومت کے پائوں جمتے نہیں اور طاقتور حلقوںسے محاذآرائی میں الجھ جاتے ہیں۔ تالاب میں تیرنا بھی نہیں آتا مگر قلزم میں کودنے پر کمر بستہ... پھر شکایت کے قسمت نے غرقاب کردیا۔ اس تیراکی کی سزا قوم کو ملتی ہے۔ جس دوران میں یہ الفاظ لکھ رہاہوں، مجھے ایک ’’سینئر‘‘ کی اسلام آباد سے کال آتی ہے ۔ اس کی آوازمیں فکرمندی کی جھلک نمایا ں تھی۔ اس کا کہنا تھا کہ اسلام آباد میں پنجاب پولیس بھاری تعداد میں تعینات کی گئی ہے اور پنجاب پولیس کو دیکھ کر طاہر القادری اور ان کے پیروکاروں مشتعل ہوجائیںگے۔اس کا کہنا تھا کہ تھا کہ اسلام آباد میں بھی سانحہ ِ ماڈل ٹائون کا اعادہ ہونے کا خدشہ موجود ہے۔
اس وقت حکومت مفلوج ہے اور اس کی طرف سے معاملات کو سلجھانے کے لئے کوئی بھی قدم نہیں اٹھایاجارہا۔ اس جمود کو کون توڑے گا۔ اگر مارچ کرنے والے ریڈ زون میں داخل ہوگئے تو کیا ہوگا؟قوم اس بحران سے کیسے نکلے گی... اس کا انجام کیسے بھگتے گی؟میرا خیال ہے کہ آج فیصلہ کن دن ہے۔ کالم کی اشاعت تک صورت حال کوئی نیا رخ اختیار کرچکی ہوگی۔ آیئے دعا کریں کہ کوئی بہتری کی صورت نکل آئے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *