بارش ۔۔۔رحمت یا زحمت!

jamshaid ali

گرجتے بادل، کڑکتی بجلی ،کالی گھٹائیں ،ٹھنڈی ہوائیں اور برستی مینہ یہ سب بارش کی اثرات ہیں۔بارش اللہ کی طرف سے لوگوں پر ابر رحمت بنا کر بھیجی گئی ہے۔کیونکہ یہ اللہ تعالی کی طرف سے انسانوں پر خاص تحفہ ہے اور اس کی انسانی زندگی میں بہت سی افادیت ہے ا۔س لیے بارش کو بارش نہیں ابر رحمت کہا جاتا ہے۔ وہ اس لیے کیونکہ اس کے بہت سے فوائد ہیں جیسا کہ بارش کی وجہ سے ٹمپریچریعنی کہ گرمی کی شدت میں کمی آ جاتی ہے اور جو لوگ گرمی کے وجہ سے چڑچڑے پن کا شکار ہوئے ہوتے ہیں وہ دور ہو جاتا ہے اور وہی چہرہ خوشی سے نمودار ہوجاتاہے۔بارش کی وجہ سے کھیت ہرے بھرے ہو جاتے ہیں۔ پھولوں کا کھل جانا اور پھلوں کا پکنایہ سب بارش کی مرہون منت ہے۔جو پانی کھیتوں میں کسان بھرنا چاہتاہے تا کہ اس کے کھیت ہرے بھرے ہو وہی پانی بارش کی صورت میں اس کے کھیتوں کو میسر آجاتا ہے جس سے اس کی لاگت میں کمی آجاتی ہے اور وہ خوشی سے جھومنے لگتاہے یہ سب بارش کی وجہ سے ممکن ہے۔
اس لیے ابر رحمت یعنی کے بارش کی بہت سی افادیت ہے اور اس بات سے بھی انکار نہیں کیا جہاں اس کے بہت سے فوائد ہیں وہاں اس جیسے ملک میں اس کے بہت سے نقصانات بھی ہیں۔اس لیے اس ملک میں زیادہ تر لوگ اس کو زحمت کا نام بھی دیتے ہیں۔وہ اس لیے کے اس کی وجہ سے لوگوں کو بہت سے نقصانات کو اٹھانا پڑتاہے۔
بارش کی وجہ سے سب سے پہلا مسئلہ نکاسی آب کا ہے۔ یہ مسئلہ پاکستان میں انتہائی سنگین شکل اختیار کر گیاہے۔ ابھی بارش ہوئی نہیں کہ چار فٹ پانی سڑکوں پر جمعہ ہونا شروع ہوجاتاہے ۔ گلیاں اور سڑکیں تالاب کا منظر پیش کر رہی ہوتی ہے۔اور لوگ اور لوگوں کا سامان اس پانی میں تیر رہا ہوتا ہے۔ اگر بارش کا پانی کھڑا ہو بھی گیا ہے تو گٹروں کو وہ پانی اپنے اندر جذب کرنا چاہیے مگر گٹر اس کے برعکس کام کرتے ہیں وہ پانی کو اندر جذب کرنے کی بجائے گٹر کے گندے پانی کو باہر نکال رہے ہوتے ہیں جس سے صاف پانی بھی گندا ہو جاتا ہے اور جو بہت سی مضر صحت بیماریوں کو جنم دیتا ہے۔شاید گٹروں کو صاف نہیں کیا جاتا اسی وجہ سے وہ خود ہی صفائی کا کام سرانجام دیں رہیں ہواس لیے وہ گندا پانی باہر اور صاف پانی کو اندر جذب کر لیتے ہیں۔وہ سوچتے ہوں گے کہ حکومت نہیں تم ہم ہی سہی اور سہی بھی ہے اپنا کام خود کرنا چاہیے اور یہ گٹروں نے ثابت کیا ہے۔
دوسرا مسئلہ بارش ابھی شروع نہیں ہوئی کہ بجلی کانظام درہم برہم ہوجاتاہے۔ بہت سے فیڈرز بتائے بغیر ٹرپ کر جاتے ہیں شاید ان کو بارش کی پیشگوئی محسوس ہو جاتی ہے ۔ پھر بارش کی ننگی تاریں پانی میں گر جاتی ہیں اور جو انسانوں کی زندگی سے کھیلتی ہیں۔ وہ یہ سوچتی ہوں گی کہ اگر واپڈا والے نہ کھیلیں ہم سے تم ہی لوگ سے کیھلتے ہیں۔ اس لیے اگر واپڈا والے ان تاروں سے صیح طریقے سے کھیلیں اور اپنا کام صیح طریقے سے سرانجام دیں تو وہ کھبی لوگوں سے نہیں کھیلیں گی۔
بارش کی وجہ سے ندی نالاں میں طغیانی آجاتی ہے جو سیلاب کی صورت اختیار کر لیتی ہیں۔ جس سے بہت سے لوگوں کو نقصان اٹھانا پڑتا ہے۔ایکڑوں کی تعداد میں اراضی ، سینکڑوں کی تعدادمیں مویشی اور کھیتوں سے لوگوں کو ہاتھ دھونا پڑتاہے۔ لوگ اپنے ہاتھوں سے بنائے ہوئے مکانات کو اپنی آنکھوں کے سامنے دوبتے دیکھ رہے ہوتے ہیں اور چاہ کر بھی کچھ نہیں کرسکتے۔جو لوگ مکان کے سائے میں بیٹھ کر زندگی بسر کر رہے تھے وہی آج دھوپ کی گرمی میں اور بھوک اور پیاس میں ڈوب کر اپنی زندگی کو دیکھ رہے ہوتے ہیں کہ کوئی آ کر ان کی مدد کرے اور ان کے غم میں ان کا ساتھ دیں۔ مگر کوئی نہیں آتا کوئی نہیں ۔ سوائے دعوں کے اور مذمتی بیانات کے ۔۔۔
سیلاب کی شدت کو کم کیا جا سکتا ہے اگر متعلقہ ادارے اپنا کام اپنی ایمانداری سے کریں ۔ مہکمہ انہار ، ڈی سی او اور ٹاؤن کمیٹی والے اگر اپنا کام اپنی ایمانداری سے کریں تو بہت سے لوگو ں کی جانوں کو بچایا جاسکتاہے۔
جب لوگ مر جاتے ہیں اور وہ سب کچھ ہار جاتے ہیں تو آخر میں حکومت ان کے لیے امداد کا اعلان کر دیتی ہیے۔ برائے مہربانی اگر یہی امداد والی رقم لوگوں کے مرنے سے پہلے امدادی کاموں پر لگا دی جائے تو یہ نوبت ہی نہ آئے۔ مہکمہ انہار بروقت ندی نالوں کی صفائی کرے تونہروں میں پانی کو جذب کرنے کی مقدار زیادہ ہو جائے گی اور انسانوں کو جذب کرنے کی مقدار میں کمی آجائے گی۔
اس لیے بارش ابر رحمت ہے اور یہ اگر زحمت ہے تو حکومت کی بے حسی کی وجہ سے ہے اور اگر حکومت بروقت کاموں پر دھیان دیں تو یہ آج بھی لوگو ں کے لیے ابر رحمت ہے اور ہمیشہ ہی ابررحمت رے گی اور براہ مہربانی اسے ابر رحمت بنانے کی کوش کریں نہ کہ زحمت۔۔۔۔
تحریر ! جمشید علی

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *