فیلڈ مارشل راحیل شریف؟

ایک افواہ آجکل زبان زد عام ہے کہ جنرل راحیل شریف کو آرمی چیف سے فیلڈ مارشل بنانے کی تجاویز پر غور کیا جا رہا ہے۔ کچھ میڈیا رپورٹس کے مطابق فیصلہ پہلے سے کیا جا چکا ہے۔ حکومت یا ملٹری کی طرف سے کوئی تردید تا توثیق نہیں کی گئی ہے جس کی وجہ سے ان کہانیوں پر یقین نہیں کیا جا سکتا۔ کچھ ذرائع کے مطابق یہ آفر اس لیے کی گئی ہے کہ راحیل شریف اپنے عہدے میں توسیع کے خواہشمند ہیں لیکن نواز شریف انہیں توسیع نہیں دینا چاہتے۔ یہ افواہ بلکل غیر حقیقی معلوم ہوتی ہے کیونکہ کچھ عرصہ قبل جنرل راحیل شریف نے کہا تھا کہ وہ توسیع کے خواہشمند نہیں ہیں اور وقت پر ریٹائرمنٹ لینے کو ترجیح دیں گے۔ اگر وہ اب توسیع کا مطالبہ کرتے ہیں یا اس کے بدلے فیلڈ مارشل کا عہدہ مانگتے ہیں تو یہ ایک اچھے جنرل کی بدنامی کا باعث ہو گا۔ قوم کی خدمت کے لیے انہیں کسی عہدے یا ایوارڈ کی ضرورت نہیں ہے۔ در اصل دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پیش پیش رہنے والے جنرل راحیل کو اس جنگ میں کامیابی کا پورا کریڈٹ ملنا چاہیے۔ لیکن ہمیں دوسرے کمانڈرز کی خدمات کو بھی نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ سب سے زیادہ اچنبھے کی بات یہ ہے کہ اس طرح کی تجاویز کی افواہیں کیسے میڈیا پر لائی اور پولیٹیسائز کی جاتی ہیں۔ یہ ایک دھوکہ نہیں ہے؟ پہلی بات تو یہ ہے کہ فیلڈ مارشل کا عہدہ بنانے کے لیے آئین میں ترمیم کرنی پڑے گی۔ کمانڈ سٹرکچر کو تبدیل بھی تبدیل کرنا ہو گا تا کہ اس عہدے کو فائدہ مند قرار دیا جا سکے۔ ایسا کچھ بھی ابھی دیکھنے کو نہیں ملا ہے۔ تو پھر نئے چیف کی بھرتی سے متعلق بھی افواہوں کا جائزہ لے لیا جائے۔ ان افواہوں نے آرمی لیڈر شپ کے نارمل تبدیلی کے عمل کو بہت متنازعہ بنا دیا ہے۔ عام طور پر فیلڈ مارشل آرمی کے سب سے اعلٰی عہدے کو کہا جاتا ہے۔ یہ ایسے جنرل کو دیا جاتا ہے جس نے اپنی اعلٰی کارکردگی کی بنا پر کوئی جنگ جیتی ہو۔ تیسری دنیا کے بہت سے ملٹری حکمرانوں نے یہ عہدہ اپنے لیے مختص رکھا ہے۔ ایوب خان جو پاکستان کے پہلے ملٹری ڈکٹیٹر تھے نے 1960 کی دہائی میں فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالا جب کہ انہوں نے کوئی جنگ نہیں لڑی۔ انہوں نے یہ عہدہ طاقت حاصل کرنے کے لیے لیا تھا۔ ان کا مقصد اپنے آپ کوفوج کا حصہ بنائے رکھنا تھا تا کہ وہ طاقت میں رہ سکیں۔ لیکن یہ عہدہ انہیں مشکل وقت میں کام نہیں آیا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ مصر جو تاریخ کے زیادہ تر حصے میں ملٹری حکومت کے تحت تھا میں آٹھ فیلڈ مارشل تعینات کیے گئے اس بات کے باوجود کہ مصر کو اسرائیل کے ہاتھوں عبرت ناک شکست ہوئی۔ حال ہی میں عبد الفتح السیسی نے فیلڈ مارشل کا عہدہ سنبھالا ہے اور انہیں ایسا کرنے کے لیے سخت مزاحمت کا سامنا کرنا پڑا ہے۔ افغانستان میں بھی فیلڈ مارشل تعینات کیے جاتے رہے ہیں۔ آخری فیلڈ مارشل محمد قاسم فہیم تھے جو نائب صدر بھی رہے۔ انہیں شمالی اتحاد کی فوج کی کمانڈ کی بدولت یہ رتبہ دیا گیا۔ انہوں نے 2001 میں امریکی فوج کے ساتھ مل کر طالبان کو شکست دی تھی۔ یہ عہدہ انہیں سیاسی طور پر دیا گیا نہ کہ ملٹری خدمات کے عوض۔ دوسرے ممالک میں بھی ڈکٹیٹرز اپنے مقاصد کے لیے یہ عہدہ لیتے رہے ہیں۔

مجھے نہیں لگتا یہ راحیل شریف ایسے بدنام لوگوں کی لسٹ میں اپنا نام لکھوانا پسند کریں گے۔ اس طرح کا برائے نام عہدہ ان کو مزید عزت اور رتبہ دلانے میں کسی کام نہیں آ سکتا۔ تین سال کی سروس کے دوران جو ابھی ختم ہونے کو ہےجنرل راحیل نے زیادہ تر قبائلی علاقوں میں سے دہشت گردی کا صفایا کروا دیا ہے جن میں شمالی وزیرستان کا علاقہ قابل ذکر ہے۔ اس کامیابی کی وجہ سے وہاں حکومتی رٹ بحال ہوئی ہے۔ اس کے ساتھ انہوں نے حکومت پر زور دیا ہے کہ ملک کے بڑے شہروں میں بھی امن قائم کیا جائے اگرچہ انہیں اس مقصد میں مکمل کامیابی نہیں ملی۔ ان کے دل میں سیاسی عزائم بھلے نہ ہوں لیکن ملٹری میں آتے ہی انہوں نے کچھ دلیرانہ فیصلے اور پالیسیاں بنائی ہیں۔ انہوں نے ملٹری کو ملک کی اصل طاقت ثابت کیا ہے۔ جنرل شریف نے دہشت گردی کا بیانیہ تبدیل کرنے کی کوشش بھی کی۔ دونوں معاملات میں ان کا نقطہ نظر کافی سخت تھا۔ اسی وجہ سے انہیں عوام میں بھی بہت پذیرائی ملی۔ لیکن انہیں ملٹری اور باہر سے تنقید کا بھی نشانہ بننا پڑا جس کی وجہ آئی ایس پی آر کی ان کے بارے میں ہر موقع پر خبر دینا تھا۔ ان کے دوسرے ممالک کے دوروں نے بھی کچھ لوگوں کو بہت حیران کیا۔ ان دوروں کی افادیت پر کوئی سوال نہیں اٹھاتا لیکن کچھ دورے ایسے تھے جو انہیں نہیں کرنے چاہیے تھے۔ ایک لیڈر کی حیثیت سے جنرل شریف کے کردار پر شک نہیں کیا جا سکتا لیکن ان سب کامیابیوں کی اصل ذمہ دار ملٹری ہے۔ ہمیں دوسرے لیڈران جنہوں نے سوات، وزیرستان اور قبائلی علاقوں میں آپریشن کو کمانڈ کیا کو بھی ان کی محنت کا کریڈٹ دینا ہو گا۔ اگر دوسرے قبائلی علاقے پہلے سے خالی نہ کروائے گئے ہوتے تو وزیرستان سے دہشت گردی کا خاتمہ اتنا آسان نہ تھا۔  قبائلی علاقوں میں صورتحال کو مکمل بحال کرنے کے لیے ابھی بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ لیکن یہ ایک شخص کے بس کی بات نہیں ہے۔ 

پچھلے جنرلز نے جو توسیع لی اس سے سبق حاصل کیا جا سکتا ہے۔ جنرل کیانی کی توسیع کا مسئلہ آج بھی زیر بحث رہتا ہے۔ چاہے کوئی کتنا ہی اچھا کیوں نہ ہو وہ ہمیشہ کے لیے ایک سیٹ پر براجمان نہیں رکھا جا سکتا۔

ہمیں امید ہے کہ ایک اچھے پروفیشنل اور باوقار فوجی کی حیثیت سے جنرل راحیل اپنا وعدہ پورا کریں گے اور با عزت طریقے سے کمان دوسرے چیف کو سونپ دیں گے۔ اس کے ساتھ حکومت کو چاہیے کہ فیلڈ مارشل کے معاملے میں جو افواہ پھیلی ہے اس کی وضاحت کرے۔ ایسے متنازعہ افواہیں فوج اور دوسرے اداروں کی بدنامی کا باعث بنتی ہیں۔ جن حالات کا ہماری فوج سامنا کر رہی ہے اس کے باوجود اگر بدنامی بھی ہو جائے تو یہ اس ادارے کی ساکھ کے لیے بلکل ٹھیک نہیں ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *