آہ، وادی ِ سوات!

Masood

مسعود حسن

پیارے بھائی عدنان رشید، میں آپ کواور آپ کے مسکراتے ہوئے ساتھی اور دو مسلح محافظوں، جو سر سے پاﺅں تک ہتھیاروں سے لیس ہیں تاکہ ،جیسا کہ آپ کا کہنا ہے، جی بھر کر ’امن‘ کا پرچار کر سکیں، کو سلام عرض کرتا ہوں۔ یقینا آپ سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ناقدری کا زمانہ ہے ، اس لیے افسوس، آپ ابھی زیادہ مشہور نہیںہوئے ہیں، چناچہ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کا تعارف کرا سکوں ۔ آپ تحریک ِ طالبان پاکستان کے کسی یونٹ کے انچارج ہیں اور میں یہ بات قدرے محتاط لہجے میں کہتا ہوں کہ دنیا کے جس خطے سے آپ کا تعلق ہے ،سرقلم کرنا وہاں کی محبوب تفریح ہے۔ کج فہمی دیکھیںکہ لوگ آپ کو ہر قسم کے مذاق ِ لطیف سے عاری سمجھتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ کو پبلک رلیشن قائم کرنے کے لیے کسی اشتہاری فرم کی ضرورت ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں خود بھی ان جہلا میں شامل ہوں جو آپ کی تنظیم کے اغراض و مقاصد، جو یقینا بہت اعلیٰ و ارفع ہوں گے، سے نابلد ہیں۔ اس اعتراف کی وجہ آپ کا ہی ایک بیان ہے جس میں آپ نے کہا ہے کہ دنیا آپ کی انسان دوستی کا فہم نہیں رکھتی ہے ورنہ آپ تو حیوانوں پر بھی کمال شفقت فرماتے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی، جس کی وجہ سے تحریک ِ طالبان کی راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے، بھی شاید آپ کے ہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن لگتا ہے کہ خون ہی سفید ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں وہ آ پ کے پندو نصائح پر کان کیوں دھرتی نظر نہیں آتی؟کہا جاتا ہے کہ 2003 میں آ پ نے ملک کے صدر پر قاتلانہ حملہ کیا مگر وہ بال بال بچ نکلے۔ اس سے پہلے آ پ کی پی اے ایف میں شمولیت بھی قابل ِ غور معاملہ ہے۔ پتہ نہیں ہمارے شاہینوں کا بھرتی کا کیا معیار یا طریق ِ کار ہے۔ تاہم ہمیں آپ کے مسکراتے ہوئے چہرے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ آپ جن خوفناک ہتھیاروں کے درمیان مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں دیکھ کر ہی عام انسان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ بہرحال اس وقت میں ملالہ کے مسئلے پر آپ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیںہے کہ وہ مغربی ایجنٹ ہے اور آپ کو سیلوٹ(معاف کیجیے) سلام ہے کہ آپ نے اس دھوکے باز کو بے نقاب کیا۔ اس کی تقریر کا ملکہ تو شاید آپ کے کانوں کو بھی بھایا ہوگا، لیکن اس میں جو جدت تھی وہ آپ کی نظروں میں کھٹکتی ہے۔ چھوٹی بچی ہے لیکن آپ نے یقینا ایرانی پہلوان رستم کے باپ زال کی نصیحت بھی سن رکھی ہے کہ ”دشمن کو حقیر اور کمزور مت جانو“۔

اب میں چند الفاظ آپ کی وادی سوات ،جس کے بارے میں اُسی بچی نے گمراہ کن تصویر دنیا کو دکھائی ہے، کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ساٹھ کی دھائی تک جب یہ وادی قدرتی حسن اور امن کا گہوارہ تھی۔ اس کی سرسبز وادیوںمیں سے بل کھاتی ، جھاگ اُڑاتی ہوئی صاف پانی کی ندیاں بہتی تھیں جبکہ ان میں رنگ برنگی ٹراﺅٹ مچھلیاں سور ج کی روشنی میں پانی کی سطح سے اچھلتی دکھائی دیتی تھیں۔اس وادی میں سیاحت کرنے والے (آفرین ہے ان کی ہمت پر) بتاتے ہیں کہ اب ان ندیوں میں ٹراﺅٹ کی بجائے کچھ اور چیزیں بہتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب ٹراﺅٹ کہیں اور جاچکی ہیں تاہم ہو سکتا ہے کہ یہ مچھلیاںبھی غیر ملکی پراپیگنڈے کا شکار ہو کر یہاں سے متنفر ہوگئی ہوں۔ گزشتہ چند ایک سالوں سے،جب سے آپ کاحکم چلنا شروع ہوا ہے، یہاں سیاحت کو خاصا ”فروغ “ حاصل ہوا ہے۔ اب تو یہاں مقامی باشندوںسے زیادہ غیر ملکی دکھائی دیتے ہیں اور وہ بے خطر وادیوںمیں گھومتے رہتے ہیں۔ رش اتنا ہے کہ ہوٹلوں میں کمرہ بک کرانے کا مسلہ¿ درپیش ہے۔ چونکہ کمرے میں بند ہوکر بیٹھنا انسان کو زیب نہیں دیتا، چناچہ آپ نے سیاحوں کے وسیع تر مفاد میں یہاں موجود زیادہ تر ہوٹل نہایت سلیقے سے بمباری کرا کے زمیں بوس کر دیے ہیں۔ درست کہا، حرکت میں ہی برکت ہوتی ہے۔ آپ کے دم قدم سے اس وادی میں اب اتنی سیاحت ہے کہ ٹی ڈی سی پی کئی ارب روپے خرچ کرکے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ ایک صاحب، جن کی ریش ِ دراز انسان پر رعب طاری کر دیتی تھی، نے بھی اس وادی کو سیاحوںکی جنت (اور وہ بھی فی الفور) بنانے میں اہم کردار اداکیا۔

جہاں تک والی ِ سوات کے وقت یہاں کی تعلیمی سہولیات کا تعلق ہے تو اُنھوںنے یہاںبلامقصد بہت سے سکول تعمیر کرا رکھے تھے ۔ قہر یہ کہ ہر سکول پر اس کی تعمیر کی تاریخ بھی رقم تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تعمیر مختلف سالوںمیں کی گئی۔ یہ کیا بات ہوئی؟ یقینا اس سے مساوات کے اعلیٰ اصول پر زد پڑتی ہے، چناچہ آپ کے مجاہدین نے جدید مشین گنوں اور بمبوں کی مدد سے ان سب کو ”برابر “ کر دیا اور فرمایا ”یہی چراغ جلیں گے تو“۔ ان سکولوں کے ملبے سے مدرسے تعمیر کرنے کی جدت بھی آپ کے ذہن ِ رسا کا ایک ادنیٰ سے ثبوت ہے۔ یہ مدرسے انسانوںکو آپ اور آپ جیسی عظیم ہستیوںکے کارناموںسے روشناس کراتے ہوئے ان کو بھی دنیاوی آلائشوں، تعلیم، محنت اور رزق ِ حلال وغیرہ، سے بچاکر آپ کی روشن مثال اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔چناچہ آپ کی بات بالکل درست ہے جب آپ بھلائی کے جذبے کے تحت ملالہ کو ان مدرسوںمیں داخلے کی دعوت دیتے ہیںتاکہ وہ یہاں سے اکتساب ِفیض کرتے ہوئے زندگی میں نام پیدا کرے۔ خود پر تنقید کرنے والی مغربی ایجنٹ کو بھی دعوتِ علم دیتے ہوئے آپ نے جس فراخدلی کا ثبوت دیا ہے، اس نے بھی میری آنکھیں بھی اشکبارکردی ہیں۔

جہاں دیگر معاملات، جیسا کہ سڑکوںکی تعمیر، ریاستی محصولات، امن و امان وغیرہ کا تعلق ہے تو آپ کا کہنا بجا ہے کہ یہ گزرے وقتوںکی باقیات ہیں، نئے زمانے میں ان کا کیا کام؟موٹر گاڑیوں پر ٹیکس تو تب لگے گا جب ان کا کوئی نمبر ہوگا۔ یہاں نمبر لگانے کی رسم دورِ جہالیت کی یاد دلاتی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے ، دنیا کے اس حصے میں گاڑی کی رجسٹریشن کرانا گناہ کے زمرے میں آتاہے۔ بس فرنگی کی ان باقیات سے نجات حاصل کرلیں(اور اس میں اب دیر معلوم نہیں ہوتی)تو فلاح کی منزل دوقدم پر ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ سوات کا مشہور زمرد کا پہاڑ اب صرف پہاڑ ہی ہے۔ اس کو زمرد سے نجات دلا کر آپ نے بہت اچھا کیا کیونکہ ہیرے جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر تو شیطان کی راہ پر لے جاتے ہیں، جبکہ سادگی میں ہی اصل حسن ہے۔ چناچہ یہ سادہ ساپہاڑ سرجھکائے کھڑا ہے۔ دکھ ہوتا ہے جب سکول کی ایک معمولی سی طالبہ کو زخمی کردینے پر آپ کو دنیا بھر میں اتنی تنقید کر سامنا کرنا پڑا۔ یقینا زمانے کی بے قدری ہے۔ آپس کی بات ہے، اس نابکار نشانے باز ، جس کا نشانہ چوک گیا، کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر نشانہ خطا نہ ہوتا تو کوئی مسلہ¿ ہی کھڑا نہ ہوتا ہے۔ ویسے لوگ بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس جنگجو کو کیا سزا ملی کیونکہ آپ کے ہاں احتساب کے قوانین بہت سخت ہیں۔ آپ کے سامنے ایک اور تحقیق طلب مسلہ ہے کہ ایک لڑکی جو سوات میں رہتی تھی، اتنی روانی سے فرنگیوںکی زبان کیسے بول رہی ہے؟ اس کے ٹیچر کون تھے؟ میں کافی دیر سے سوات نہیں آیا لیکن سنا ہے یہاں کا ”ملاریڈیو“ بمعہ اپنے پروڈیوسر کے، روپوش ہے۔ آپ کے جی دار لڑکوں نے مالم جبا کو آگ لگا کر قیمتی درختوںکو خاکستر کردیا۔ یقینا وہ درخت بھی ایجنٹ ہوںگے۔ ان کے دھوئیںسے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ میڈیا کے کچھ لوگ جو سوات کی نام نہاد فتح پر بہت خوش تھے، کو اصل حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ اس سے میرے ذہن میں ایک بات آتی ہے کئی سال پہلے ایک دوست گلگت سے ہزاروں چیری کے درخت لایا اور سوات میں کاشت کیے۔ ان درختوں پر ٹنوںکے حساب سے چیری کا پھل لگنے لگا۔ ہم نے وہ پھل ایک سال کھایا لیکن اگلے سال آپ کے دوست طالبان نے وہاں قبضہ کرلیا۔ یقینا اُنھوںنے بھی وہ پھل چکھا ہوگا۔ کیا وہ درخت اب بھی موجود ہیں اور کیا اُن کو اب بھی سرخ پھل لگتا ہے؟ان کی سرخی اب قدرتی ہے یا؟آہ وادی ِ سوات!  ٭

  آہ، وادی ِ سوات!

 پیارے بھائی عدنان رشید، میں آپ کواور آپ کے مسکراتے ہوئے ساتھی اور دو مسلح محافظوں، جو سر سے پاﺅں تک ہتھیاروں سے لیس ہیں تاکہ ،جیسا کہ آپ کا کہنا ہے، جی بھر کر ’امن‘ کا پرچار کر سکیں، کو سلام عرض کرتا ہوں۔ یقینا آپ سے بہت کچھ سیکھا جا سکتا ہے۔ تاہم ناقدری کا زمانہ ہے ، اس لیے افسوس، آپ ابھی زیادہ مشہور نہیںہوئے ہیں، چناچہ مجھے اجازت دیں کہ میں آپ کا تعارف کرا سکوں ۔ آپ تحریک ِ طالبان پاکستان کے کسی یونٹ کے انچارج ہیں اور میں یہ بات قدرے محتاط لہجے میں کہتا ہوں کہ دنیا کے جس خطے سے آپ کا تعلق ہے ،سرقلم کرنا وہاں کی محبوب تفریح ہے۔ کج فہمی دیکھیںکہ لوگ آپ کو ہر قسم کے مذاق ِ لطیف سے عاری سمجھتے ہیں، اس لیے میرا خیال ہے کہ آپ کو پبلک رلیشن قائم کرنے کے لیے کسی اشتہاری فرم کی ضرورت ہے۔ مجھے افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ میں خود بھی ان جہلا میں شامل ہوں جو آپ کی تنظیم کے اغراض و مقاصد، جو یقینا بہت اعلیٰ و ارفع ہوں گے، سے نابلد ہیں۔ اس اعتراف کی وجہ آپ کا ہی ایک بیان ہے جس میں آپ نے کہا ہے کہ دنیا آپ کی انسان دوستی کا فہم نہیں رکھتی ہے ورنہ آپ تو حیوانوں پر بھی کمال شفقت فرماتے ہیں۔

ملالہ یوسفزئی، جس کی وجہ سے تحریک ِ طالبان کی راتوں کی نیند حرام ہو چکی ہے، بھی شاید آپ کے ہی قبیلے سے تعلق رکھتی ہے، لیکن لگتا ہے کہ خون ہی سفید ہو گیا ہے۔ پتہ نہیں وہ آ پ کے پندو نصائح پر کان کیوں دھرتی نظر نہیں آتی؟کہا جاتا ہے کہ 2003 میں آ پ نے ملک کے صدر پر قاتلانہ حملہ کیا مگر وہ بال بال بچ نکلے۔ اس سے پہلے آ پ کی پی اے ایف میں شمولیت بھی قابل ِ غور معاملہ ہے۔ پتہ نہیں ہمارے شاہینوں کا بھرتی کا کیا معیار یا طریق ِ کار ہے۔ تاہم ہمیں آپ کے مسکراتے ہوئے چہرے سے دھوکا نہیں کھانا چاہیے کیونکہ آپ جن خوفناک ہتھیاروں کے درمیان مسکراتے ہوئے نظر آتے ہیں انہیں دیکھ کر ہی عام انسان پر لرزہ طاری ہو جاتا ہے۔ بہرحال اس وقت میں ملالہ کے مسئلے پر آپ سے کچھ عرض کرنا چاہتا ہوں۔ اس میں کوئی شک نہیںہے کہ وہ مغربی ایجنٹ ہے اور آپ کو سیلوٹ(معاف کیجیے) سلام ہے کہ آپ نے اس دھوکے باز کو بے نقاب کیا۔ اس کی تقریر کا ملکہ تو شاید آپ کے کانوں کو بھی بھایا ہوگا، لیکن اس میں جو جدت تھی وہ آپ کی نظروں میں کھٹکتی ہے۔ چھوٹی بچی ہے لیکن آپ نے یقینا ایرانی پہلوان رستم کے باپ زال کی نصیحت بھی سن رکھی ہے کہ ”دشمن کو حقیر اور کمزور مت جانو“۔

اب میں چند الفاظ آپ کی وادی سوات ،جس کے بارے میں اُسی بچی نے گمراہ کن تصویر دنیا کو دکھائی ہے، کے حوالے سے عرض کرنا چاہتا ہوں ۔ساٹھ کی دھائی تک جب یہ وادی قدرتی حسن اور امن کا گہوارہ تھی۔ اس کی سرسبز وادیوںمیں سے بل کھاتی ، جھاگ اُڑاتی ہوئی صاف پانی کی ندیاں بہتی تھیں جبکہ ان میں رنگ برنگی ٹراﺅٹ مچھلیاں سور ج کی روشنی میں پانی کی سطح سے اچھلتی دکھائی دیتی تھیں۔اس وادی میں سیاحت کرنے والے (آفرین ہے ان کی ہمت پر) بتاتے ہیں کہ اب ان ندیوں میں ٹراﺅٹ کی بجائے کچھ اور چیزیں بہتی دکھائی دیتی ہیں۔ اب ٹراﺅٹ کہیں اور جاچکی ہیں تاہم ہو سکتا ہے کہ یہ مچھلیاںبھی غیر ملکی پراپیگنڈے کا شکار ہو کر یہاں سے متنفر ہوگئی ہوں۔ گزشتہ چند ایک سالوں سے،جب سے آپ کاحکم چلنا شروع ہوا ہے، یہاں سیاحت کو خاصا ”فروغ “ حاصل ہوا ہے۔ اب تو یہاں مقامی باشندوںسے زیادہ غیر ملکی دکھائی دیتے ہیں اور وہ بے خطر وادیوںمیں گھومتے رہتے ہیں۔ رش اتنا ہے کہ ہوٹلوں میں کمرہ بک کرانے کا مسلہ¿ درپیش ہے۔ چونکہ کمرے میں بند ہوکر بیٹھنا انسان کو زیب نہیں دیتا، چناچہ آپ نے سیاحوں کے وسیع تر مفاد میں یہاں موجود زیادہ تر ہوٹل نہایت سلیقے سے بمباری کرا کے زمیں بوس کر دیے ہیں۔ درست کہا، حرکت میں ہی برکت ہوتی ہے۔ آپ کے دم قدم سے اس وادی میں اب اتنی سیاحت ہے کہ ٹی ڈی سی پی کئی ارب روپے خرچ کرکے بھی یہ مقصد حاصل نہیں کر سکتی تھی۔ ایک صاحب، جن کی ریش ِ دراز انسان پر رعب طاری کر دیتی تھی، نے بھی اس وادی کو سیاحوںکی جنت (اور وہ بھی فی الفور) بنانے میں اہم کردار اداکیا۔

جہاں تک والی ِ سوات کے وقت یہاں کی تعلیمی سہولیات کا تعلق ہے تو اُنھوںنے یہاںبلامقصد بہت سے سکول تعمیر کرا رکھے تھے ۔ قہر یہ کہ ہر سکول پر اس کی تعمیر کی تاریخ بھی رقم تھی۔ اس سے اندازہ ہوتا ہے کہ ان کی تعمیر مختلف سالوںمیں کی گئی۔ یہ کیا بات ہوئی؟ یقینا اس سے مساوات کے اعلیٰ اصول پر زد پڑتی ہے، چناچہ آپ کے مجاہدین نے جدید مشین گنوں اور بمبوں کی مدد سے ان سب کو ”برابر “ کر دیا اور فرمایا ”یہی چراغ جلیں گے تو“۔ ان سکولوں کے ملبے سے مدرسے تعمیر کرنے کی جدت بھی آپ کے ذہن ِ رسا کا ایک ادنیٰ سے ثبوت ہے۔ یہ مدرسے انسانوںکو آپ اور آپ جیسی عظیم ہستیوںکے کارناموںسے روشناس کراتے ہوئے ان کو بھی دنیاوی آلائشوں، تعلیم، محنت اور رزق ِ حلال وغیرہ، سے بچاکر آپ کی روشن مثال اپنانے کی تلقین کرتے ہیں۔چناچہ آپ کی بات بالکل درست ہے جب آپ بھلائی کے جذبے کے تحت ملالہ کو ان مدرسوںمیں داخلے کی دعوت دیتے ہیںتاکہ وہ یہاں سے اکتساب ِفیض کرتے ہوئے زندگی میں نام پیدا کرے۔ خود پر تنقید کرنے والی مغربی ایجنٹ کو بھی دعوتِ علم دیتے ہوئے آپ نے جس فراخدلی کا ثبوت دیا ہے، اس نے بھی میری آنکھیں بھی اشکبارکردی ہیں۔

جہاں دیگر معاملات، جیسا کہ سڑکوںکی تعمیر، ریاستی محصولات، امن و امان وغیرہ کا تعلق ہے تو آپ کا کہنا بجا ہے کہ یہ گزرے وقتوںکی باقیات ہیں، نئے زمانے میں ان کا کیا کام؟موٹر گاڑیوں پر ٹیکس تو تب لگے گا جب ان کا کوئی نمبر ہوگا۔ یہاں نمبر لگانے کی رسم دورِ جہالیت کی یاد دلاتی ہے۔ جہاں تک میرا خیال ہے ، دنیا کے اس حصے میں گاڑی کی رجسٹریشن کرانا گناہ کے زمرے میں آتاہے۔ بس فرنگی کی ان باقیات سے نجات حاصل کرلیں(اور اس میں اب دیر معلوم نہیں ہوتی)تو فلاح کی منزل دوقدم پر ہے۔ ہمیں پتہ چلا ہے کہ سوات کا مشہور زمرد کا پہاڑ اب صرف پہاڑ ہی ہے۔ اس کو زمرد سے نجات دلا کر آپ نے بہت اچھا کیا کیونکہ ہیرے جواہرات اور دیگر قیمتی پتھر تو شیطان کی راہ پر لے جاتے ہیں، جبکہ سادگی میں ہی اصل حسن ہے۔ چناچہ یہ سادہ ساپہاڑ سرجھکائے کھڑا ہے۔ دکھ ہوتا ہے جب سکول کی ایک معمولی سی طالبہ کو زخمی کردینے پر آپ کو دنیا بھر میں اتنی تنقید کر سامنا کرنا پڑا۔ یقینا زمانے کی بے قدری ہے۔ آپس کی بات ہے، اس نابکار نشانے باز ، جس کا نشانہ چوک گیا، کو سبق سکھانے کی ضرورت ہے کیونکہ اگر نشانہ خطا نہ ہوتا تو کوئی مسلہ¿ ہی کھڑا نہ ہوتا ہے۔ ویسے لوگ بھی یہ جاننا چاہتے ہیں کہ اس جنگجو کو کیا سزا ملی کیونکہ آپ کے ہاں احتساب کے قوانین بہت سخت ہیں۔ آپ کے سامنے ایک اور تحقیق طلب مسلہ ہے کہ ایک لڑکی جو سوات میں رہتی تھی، اتنی روانی سے فرنگیوںکی زبان کیسے بول رہی ہے؟ اس کے ٹیچر کون تھے؟ میں کافی دیر سے سوات نہیں آیا لیکن سنا ہے یہاں کا ”ملاریڈیو“ بمعہ اپنے پروڈیوسر کے، روپوش ہے۔ آپ کے جی دار لڑکوں نے مالم جبا کو آگ لگا کر قیمتی درختوںکو خاکستر کردیا۔ یقینا وہ درخت بھی ایجنٹ ہوںگے۔ ان کے دھوئیںسے ایک بات تو ظاہر ہوتی ہے کہ میڈیا کے کچھ لوگ جو سوات کی نام نہاد فتح پر بہت خوش تھے، کو اصل حقیقت کا علم ہوجائے گا۔ اس سے میرے ذہن میں ایک بات آتی ہے کئی سال پہلے ایک دوست گلگت سے ہزاروں چیری کے درخت لایا اور سوات میں کاشت کیے۔ ان درختوں پر ٹنوںکے حساب سے چیری کا پھل لگنے لگا۔ ہم نے وہ پھل ایک سال کھایا لیکن اگلے سال آپ کے دوست طالبان نے وہاں قبضہ کرلیا۔ یقینا اُنھوںنے بھی وہ پھل چکھا ہوگا۔ کیا وہ درخت اب بھی موجود ہیں اور کیا اُن کو اب بھی سرخ پھل لگتا ہے؟ان کی سرخی اب قدرتی ہے یا؟آہ وادی ِ سوات!

آہ، وادی ِ سوات!” پر ایک تبصرہ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *