جیمز فولی کے بدلے عافیہ صدیقی کی رہائی کا مطالبہ کیا گیا تھا ، گلوبل پوسٹ

foleyامریکی اخبار گلوبل پوسٹ کے مطابق عراق اور شام میں سرگرم شدت پسند تنظیم دولت اسلامیہ نے امریکی صحافی جیمز فولی کی رہائی کے لیے بھاری تاوان کے علاوہ پاکستانی شہری ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی رہائی کا بھی مطالبہ کیا تھا۔
گلوبل پوسٹ نے مسٹر فولی کے ورثا کی اجازت سے اُن کے والدین کو 12 اگست کو دولت اسلامیہ کی طرف سے ملنے والی آخری ای میل شائع کی ہے جس کے مطابق دولت اسلامیہ نے امریکہ میں قید ڈاکٹر عافیہ صدیقی سمیت دوسرے ’مسلمان قیدیوں‘ کی رہائی کا مطالبہ بھی کیا تھا۔
دولتِ اسلامیہ نے جیمز فولی کے والدین کو ای میل میں لکھا تھا کہ ’آپ کو کیش کے بدلے اپنے قیدیوں کی رہائی کے کئی مواقع دیے گئے جس طرح کہ دوسری حکومتوں نے مان لیا ہے۔ ہم نے آپ کے پاس قید مسلمان قیدیوں بالخصوص ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے بدلے قیدیوں کی رہائی کی پیشکش بھی کی ہے لیکن آپ نے بہت جلد یہ ثابت کر دیا ہے کہ آپ اس میں دلچسپی نہیں رکھتے۔‘
گلوبل پوسٹ کے سربراہ نے بھی کہا ہے کہ دولتِ اسلامیہ نے ان کے لیے کام کرنے والے صحافی جیمز فولی کی رہائی کے لیے 13 کروڑ 20 لاکھ ڈالر امریکی ڈالر تاوان کا مطالبہ کیا تھا۔
صحافی جیمز فولی کو نومبر سنہ 2012 میں اغوا کیا گیا تھا اور دولتِ اسلامیہ نے اس ہفتے کے اوائل میں ان کا سر قلم کرنے کی ویڈیو جاری کی تھی۔گلوبل پوسٹ کے چیف ایگزیکٹیو فلپ بالبانی نے کہا کہ دولتِ اسلامیہ کے شدت پسندوں نے پہلی دفعہ تاوان کا مطالبہ گذشتہ سال کیا تھا۔
دریں اثنا امریکی وزیر دفاع چک ہیگل نے کہا ہے کہ آج تک امریکہ کو جتنے بھی خطروں کا سامنا کرنا پڑا ، شدت پسند گروپ دولت اسلامیہ ان میں سب سے بڑا خطرہ ہے جو لمبے عرصے کے لیے ہے اور یہ کہ اسے شام اور عراق دونوں جگہوں پر لازمی طور پر شکست دینا ہوگی۔انھوں نے کہا کہ دولت اسلامیہ ایک دہشت گرد گروپ سے بڑھ کر ایک جدید تنظیم ہے جس کے پاس بہت پیسہ ہے۔
جیمز فولی کے قتل کی ویڈیو میں شدت پسندوں نے شمالی عراق میں ان کے خلاف فضائی حملے نہ رکنے کی صورت میں ایک اور امریکی مغوی رپورٹر کو قتل کرنے کی دھمکی دی ہے۔ اس دھمکی کے باوجود موصل کے قریب امریکی فضائی حملے جاری رہے ہیں۔
اس کے بعدایک اور مغوی جنھیں امریکی صحافی سٹیون سوٹلوف کو دکھایا گیا ہے اور اس میں خبردار کیا گیا کہ ان کے مستقبل کا انحصار صدر اوباما کے اگلے قدم پر ہے۔سوٹلوف کو ایک سال قبل شمالی شام سے اغوا کیا گیا تھا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *