کسی لائحہ عمل کی تلاش

اشعر رحمٰنAsha’ar Rehman

لانگ مارچ تھکا رہا ہے۔ مارچ کرنے والوں کے بظاہر حواس باختہ اور پرجو ش مقصدکو حتیٰ کہ خود راغب کرنے والوں کیلئے مزید توانائی کُش ہونا چاہئے، جیسا کہ یہ اب دیکھنے والوں کیلئے تکلیف دہ ہے۔اور اگر تعاقب کرنے والی حکومت ہو تو اسے شایدکسی دکھے ہوئے جسم سے بھی بڑھ کر اس کی تکالیف کا احساس کرنا چاہئے۔
کیا یہ سب کچھ ہے ہی بہت معمولی یایہ مارچ کرنے والوں کے سامنے ن لیگ کی حکومت کی مستقل پسپائی کا کوئی طریقہ ہے؟اور یہ پسپائی کس حد تک قدرتی یعنی مارچ کرنے والوں کے دھکے کا نتیجہ تھی؟اورکس حد تک یہ پر تشفی تاثر دینے کیلئے تخلیق کی گئی کہ حکومت چیلنج کرنے والوں کو رعایتیں دے رہی تھی؟
لانگ مارچ سے پہلے یہ تاثر دینے کی کوشش بھی کی گئی کہ جو کچھ ہو رہا تھا،مارچ اس کا ایک منطقی نتیجہ تھا۔مختلف نظریات کے حامل لوگوں میں سے ہر ایک کے پاس اس ’’ناگزیر‘‘ صورتحال کی اپنی اپنی توجیہات ہیں۔ابھی تک ان توجیہات میں سب سے زیادہ قابل یقین یہ ہے کہ خفیہ طاقتور بادشاہ گران، اپنے کیس کو اسلام آباد لے جانے پر بضد لوگوں کی ڈوریاں ہلا رہے ہیں۔
حکومت کو اس مثال کو بھی مدنظر رکھنا چاہئے تھا، خواہ وہ چھوٹی ہی تھی اور خواہ موجودہ صورتحال پر پوری طرح فٹ بھی نہیں بیٹھتی تھی۔ دو سال سے کم عرصہ پہلے، پی پی پی کی حکومت ڈاکٹرطاہرالقادری کے لانگ مارچ کے ساتھ پیار سے پیش آئی۔ یہی طاہرالقادری اب دارالحکومت جانے والے دو میں سے ایک مارچ کی قیادت کر رہے ہیں۔یوں ن لیگ کو اس کے حقیقی مخالف کے طور پر دعوت مقابلہ دینے کے بعد، پی پی پی اب ن لیگ کو پریشان کرنے کے لئے واپس آچکی ہے۔۔۔ماضی کے اچھے تجربے کے باوجود۔۔۔ حیران کن۔۔۔
پی پی پی اور ن لیگ کی مسئلے سے نمٹنے کی صلاحیت کا موازنہ بہت سے نقائص سامنے لاتا ہے۔ طاہر القادری کے پہلے مارچ کے وقت پی پی پی نے اپنا ردعمل کسی اور چیز کی بجائے اپنی طاقت اور کمزوریوں کو دیکھ کر مرتب کیا۔گزشتہ کئی عشروں کی بدترین گردانی جانے والی پی پی پی حکومت نے کسی بھی معاملے میں ردعمل ظاہر کرنے کیلئے طاقت کو کبھی استعمال نہ کیا۔مگر ن لیگ نے ایسا کیا۔قمر زمان کائرہ کو ایک قرارداد کے ساتھ بھیجنے سے قبل ، کچھ دیر کے لئے قادری اور ان کے ساتھیوں کو برفانی راتوں میں ٹھٹھرتے ہوئے انتظار کرنے کے لئے چھوڑ دیا گیا۔
نواز شریف کی موجودہ حکومت کا اس کمزور حکومت سے کوئی موازنہ نہیں کیا جا سکتا جسے ذہین آصف زرداری نے یکجا رکھا۔نواز حکومت کے پاس بھاری مینڈیٹ ہے۔ اس سے زیادہ بھاری مینڈیٹ ماضی میں صرف ایک حکومت کو نصیب ہوا اور وہ بھی 1997ء میں پنجاب میں کلین سویپ کے نتیجے میں قائم ہونے والی نواز شریف کی اپنی حکومت تھی۔ اب نواز کی قوت ہی ان کی کمزوری بن گئی ہے کیونکہ احتجاجی مارچ کرنے والوں نے نواز سے بڑے بڑے مطالبے کئے ہیں۔ ان کی صورتحال اس حقیقت کے سبب اور بھی پیچیدہ ہو گئی ہے کہ مارچوں کا حالیہ چیلنج ان کے دور حکومت کے نہایت ابتدائی دور میں آگیا ہے اورملٹری اسٹیبلشمنٹ اور رکاوٹیں ڈالنے والوں کے معیاری نظریے کے مطابق، یہ چیلنج ان کی گردن کے گردگرفت مضبوط کر چکا ہے۔
پنجاب میں شہبازشریف کی حکومت معمول کے قانونی معاملات سے نمٹنے میں بہت حواس باختہ دکھائی دی اور اسے اس کی نااہلی کے لئے اسے بجا طور پر الزام بھی دیا جا رہا ہے۔ لیکن کیا یہ محض قسمت اور حادثہ ہے کہ مذاکرات کی میز پر بیٹھتے ہوئے بھی ایف آئی آر والا معاملہ ابھی تک حکومت نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔وزیراعظم اور وزیر اعلیٰ کے ناموں والی ایف آئی آرکم خطرناک تھی لیکن اسے دبا کر بیٹھ جانا اور مذاکرات کے دوران ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کرنا ، ایسی حرکت ہے کہ جس نے اسے اہمیت دی۔ اگر حکمران خود کو ایک قتل کی تفتیش کیلئے پیش کر دیتے تو یہ کسی بھی طرح کوئی چھوٹی پیشکش نہ ہوتی۔ ملک نے جمہوریت کیلئے اس سے بڑی کوئی قربانی کبھی دیکھی ہی نہ ہوتی۔
آزادی اور انقلاب مارچوں کے منتظمین کو شاید عوام کی اتنی بڑی سپورٹ نہیں ملی جس کی وہ توقع کر رہے تھے۔حکومت مسلسل ان کے پیچھے ہے۔ لیکن ظاہری حواس باختگی، جس کے ساتھ پنجاب اور اسلام آباد کی طاقتور حکومتوں نے معاملات سے نمٹنے کی کوشش کی،وہ شاید کوئی احمقانہ طریقہ نہیں تھا۔ شاید یہ اس قدر احمقانہ طریقہ نہیں تھا جتنے احمقانہ طریقے نواز شریف کی پہلی طاقتور حکومت میں اپنائے جاتے تھے البتہ زرداری کی کمزور مخلوط حکومت کے اختیار کردہ طریقے کی نسبت یہ زیادہ احمقانہ طریقہ تھا۔نواز شریف نے وہ سب کچھ کیا جو وہ کر سکتے تھے جبکہ زرداری وہ کچھ نہیں کرتے تھے، جو وہ کر سکتے ہوتے تھے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *