دیوالیہ پن

چوہدری غلام غوث

chaudhry ghulam ghaus

زمانہ طالب علمی میں ایک معروف قوول سُنا تھا کہ والد بچے کو آسمانوں سے لانے کا موجب ہوتا ہے جبکہ ایک اُستاد بچے کو دوبارہ آسمانوں کی بلندیوں تک پہنچانے کا موجب بنتا ہے۔ دُنیا کے کسی بھی معاشرے میں اُستاد کی مسلمہ اہمیت اور احترام سے انکار یکسر نا ممکن سمجھا جاتا ہے اور اُن قوموں کو ترقی کی معراج پر دیکھا گیا ہے جن کے بچوں نے تعلیم کے ساتھ ساتھ اُستاد کا ادب بھی سیکھا اُستاد کو عموماََبچے اپنا رول ماڈل سمجھتے ہیں چونکہ ان سے سیکھتے ہیں اور سیکھنے سے گزرنے والا ہر انسان متاثر ضرور ہوتا ہے اخبارات میں یہ خبر پڑھی کہ سائنس کالج وحدت روڈ کے پرنسپل کو کرپشن ثابت ہونے پر گرفتار کر لیا گیا ہے اور موصوف پر 66 لاکھ روپے خرد برد کرنے کا الزام ہے جس پر اینٹی کرپشن نے اُسے گرفتار کیا تو یہ خبر آگ کا بگولہ بن کر گری یقین اس لئے بھی کرنا پڑا کہ اینٹی کرپشن کے جس آفیسر نے چھاپہ مارا اُن کی محکمہ میں شہرت مثالی ہے اچھے طریقے سے کیس کی تحقیق کر کے معاملے کی تہہ تک پہنچ کر حقائق کی روشنی میں مقدمہ کو یکسو کرنے کی صلاحیت رکھتے ہیں اور پھر اسے منطقی انجام تک پہنچانے کی ٹھان لیتے ہیں۔
کرپشن کے مرض میں مبتلا کینسر شدہ معاشرے میں دیگر شعبہ ہائے زندگی اور روزگار سے منسلک لوگوں کا پکڑا جانا شائد اہل درد کے لئے اتنا گراں نہ ہو جتنا ایک اُستاد کا کرپشن میں مبتلا ہو کر رنگے ہاتھوں پکڑا جانا ہے باقی شعبہ ہائے زندگی سے وابستہ لوگ کرپشن سے منفعت حاصل کر کے اپنی نسلوں کو بہتر بنانے کی سوچتے ہیں مگر اُستاد نے بحیثیت ایک معلم کے معاشرے کی نسلوں کی بہتری کافریضہ سر انجام دینا ہوتا ہے اپنی نسل کی کی ذہن سازی اور آبیاری کرنی ہوتی ہے تا کہ وہ نسل مستقبل میں ملکی ترقی میں اپنی بہترین صلاحیتوں کو بروئے کار لا کر اس کی خدمت کا فریضہ سر انجام دے سکے ان کا کام مستقبل کے معماروں کو تیار کرنا ہوتا ہے اور یہ وہ کار خیر ہے جس کو شعبہ پیغمبری قرار دیا گیا ہے۔
اگر زبوں حالی کا شکار معاشرے کا اُستاد خود کرپشن میں اپنے ہاتھ دھوئے گا تو پھر آپ اُس عبرت ناک مستقبل کا ذہن میں ذرا تصور کریں جو وہ تیار کر رہا ہے اور قوم کی نرسریاں لگانے کی بجائے ان کی جڑیں کاٹ رہا ہے یہ قوموں کا دیوالیہ پن نہیں تو اور کیا ہے؟
ہمارے حکمرانوں سمیت دیگر تمام مقتدر حلقوں کے لوگ اور ہمارے دانشور ہمیشہ ترقی کے معاملے میں یورپ اور دیگر اقوام کی مثالیں تو دیتے ہیں مگر وہاں پر رائج تعلیمی پالیسیوں پر نہ کُھل کر گفتگو کرتے ہیں اور نہ عملی طور پر ملک میں اس کا نفاذ چاہتے ہیں، یورپ کے معاشرے نے اپنے طالب علم کو اُستاد کی عزت و احترام کرنا سکھایا ہے معاشرے میں استاد کی عزت و احترام کو برقرار رکھنے کے لئے اس کو عملی طور پرسہولیات بہم پہنچائی ہیں اس کو مالی طور پر خوشحال کیا ہے اپنے دیگر محکمہ جات اور شعبہ ہائے زندگی میں استاد کے احترام اور اس کی اہمیت کا نظام وضع کیا ہے جس کے صلے میں استادوں نے بھی محنت شاقہ کر کے اپنے اپنے ملکوں کو قومیں تیار کر کے دی ہیں جن کی ہم مثالیں دیتے ہیں۔
مگر میرے وطن عزیز میں 80اور90 کی دہائیوں میں اساتذہ کا تقرر سیاسی بنیادوں اور سفارشی کلچر کے تحت ہوتا تھا جس میں پڑھے لکھے تھرڈ ڈویژن نوجوان کو کسی دوسرے شعبے میں ملازمت نہیں ملتی تھی اس کو استاد بنا دیا جاتا تھا جس استاد کا اپنا تعلیمی پس منظر واجبی اہمیت کا حامل ہو اور جس نے تعلیم کے شعبے کا انتخاب محض اپنی بے روز گاری ختم کرنے کیلئے کیا ہو وہ قوم کے بچوں کو کونسی اعلیٰ تعلیم دے گا۔
برق رفتاری سے ترقی کی منازل طے کرنے والی اس دنیا میں روشن خیالی اور جدید ترقی کا لبادہ اوڑھ کر کام کرنے والے حکمرانوں نے پرائمری سطح کی تعلیم پر کوئی خاص توجہ نہیں دی ہے جبکہ برئمری سطح کی یہ تعلیم بچوں کی وہ بنیاد ہوتی ہے جس پر اُن کی پوری شخصیت کی عمارت تیار ہونی ہوتی ہے اور 10 سال تک بچے کا حافظہ جتنا تیز ہوتا ہے اس کا اندازہ کرنا مشکل ہے مگر آسانی سے بوسیدہ اور ناکارہ نظام تعلیم بچوں کے ان قیمتی سالوں کو ضائع کرنے میں مصروف ہے اور پرائمری سکولوں میں آج بھی سہولیات کی عدم فراہمی اساتذہ کی کم دستیابی اور محکمہ تعلیم کی بے رُخی جُوں کی تُوں موجود ہے۔
آج کے اس دور میں ہم نے جدیدیت کے نام پر بچوں کو سائنس ٹیکنالوجی ، انفارمیشن ٹیکنالوجی ، معاشیات سازی کے لئے تو تیار کرنے کی ٹھان لی ہے مگر ذہن سازی ، اخلاقیات اور عملی زندگی گزارنے کے سنہری اصول ہماری ترجیحات میں شامل نہیں ہیں، بڑے افسوس سے کہنا پڑے گا کہ اگر ہم نے صرف یورپ کی نقل مارنی ہے تو کبھی ہم ترقی یافتہ قوموں کی صف میں کھڑے نہیں ہو سکتے کیونکہ دُنیا ہمیشہ ہمیں کہے گی نقالوں سے ہوشیار رہیں۔
ایک استاد نے جس بے باکی سے کرپشن کی ہے اس کے معاشرے پر کیا کیا منفی اثرات مرتب ہونگے یہ سوچ کر رونگھٹے کھڑے ہو جاتے ہیں جو فرد قوم ساز ی کر نے کا فریضہ سر انجام دے رہا ہو اور جس کو قوم کے بچے رول ماڈل تصور کرتے ہوں اور جس سے نونہال قوم انسپائر ہوتے ہوں اُس کا اپنا کردار اگر اس طرح کا گھناؤنا ہوگا تو پھر بچوں کو قصور وار نہیں ٹھہرایا جا سکے گا۔
مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ میں نے اپنی بیٹی کے ریاضی کا کام چیک کیا تو میں نے دو سوالوں میں غلطیاں نکال دیں میری بیٹی نے ان غلطیوں کو تسلیم کرنے سے انکار کر دیااور وہ مجھے بار بار کہتی پاپا ٹیچر نے سوال درست حل کیا ہے ادب و احترام کرنے والی اور استاد کو رول ماڈل سمجھنے والی چھٹی کلاس کی بچی کا یہ عالم ہے کہ وہ استاد کی غلطی ماننے سے یکسر انکاری ہے تو باقی اندازہ قارئین خود لگا لیں۔
میں اگلے روز سکول میں جا کر پرنسپل صاحبہ سے ملا اور یہ بات اُن کو بتائی تو اُنہوں نے فوراََ ریاضی کی ایک سینئیر استاد کو بلا کر سوال دکھائے تو وہ واقعی غلط حل کروائے گئے تھے تو پرنسپل صاحبہ نے بچی کو پیار سے سمجھایا کہ آپ کے پاپا نے سوال درست حل کئے ہیں تو بچی مان گئی اور بالآخر ایک استاد کی بات ہی اُس نے مانی اسطرح کے معزز شعبوں سے وابستہ افراد سے کرپشن اور بد عنوانی جیسے سرزد ہونے والے واقعات معاشرے کے زوال کا سبب بنتے ہیں قوموں کی جگ ہنسائی ہوتی ہے جس سے قوموں کا اخلاقی مورال پست ہو جاتا ہے اور قومیں انارکی اور بد امنی و افراتفری کا شکار ہو جاتے ہیں اس طرح کے واقعات معاشروں کی ٹوٹ پھوٹ کے ارتقائی مراحل ہوتے ہیں جو حکمرانوں کی توجہ چاہتے ہیں۔تاکہ اس طرح کے ناسور جڑ پکڑنے سے پہلے ہی تلف کر دئیے جائیں تو معاشرے کا پورا جسم محفوظ ہو جاتا ہے اورمعاشرے کا تحفظ ہی حقیقی معنوں میں حکمرانوں کی اصل ذمہ داری ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *