اب کیا ہوگا؟

نجم سیٹھیNajam Sethi

سہ طرفہ پیش رفت ظاہرکرتی ہے ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کے لانگ مارچ اور ان کے جارحانہ اور غیر لچک دار رویوں کی وجہ سے ملک میں پید اہونے والا سیاسی بحران اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہا ہے۔ اب نہ تو فوجی مداخلت کا خطرہ ہے اور نہ ہی وزیر ِ اعظم استعفیٰ دینے جارہے ہیں اور نہ ہی مسلہ ٔ حل کرنے کے لئے پارلیمنٹ کو تحلیل کرکے تازہ عام انتخابات کرائے جانے کا کوئی امکان ہے۔
اس معروضے کی پہلی وجہ فوجی قیادت کا بیان ہے جو اس ادارے کی سوچ کی عکاسی کرتا ہے۔ اس نے فریقین پر زوردیا ہے کہ وہ اپنے تنازعات کو بامقصد مذاکرات سے حل کریں۔ اس کے ساتھ ساتھ یہ بھی کہا گیا ہے کہ فوج اہم ریاستی عمارتوں، جیسا کہ پارلیمنٹ، ایوان ِ صدر، وزیر ِ اعظم ہائوس، وزیر ِ اعظم سیکرٹیریٹ، سپریم کورٹ، وغیرہ کی حفاظت کرے گی اور مظاہرین کو ان عمارتوں پر چڑھائی کرنے یا ان کا گھیرائو کرنے کیاا جازت نہیں دی جائے گی۔ یہ ’’نصیحت‘‘ سننے کے بعد ڈاکٹر طاہر القادری کی طرف سے پارلیمنٹ کا گھیرائو ختم کردیا گیا اور وہ اور عمران خان حکومت کے ساتھ مذاکرات کی میز پر بیٹھ گئے۔ اگرچہ اس وقت تک دونوں رہنما، عمران خان اور طاہرالقادری، اپنے انتہائی مطالبات پرلچک دکھاتے نظر نہیں آتے ، لیکن اُنھوںنے ایک لچک ضروردکھائی ہے کہ وہ حکومت سے با ت چیت کے تیسرے دور میں داخل ہوچکے ہیں اور ا سٹیج پر نعرے بازی اور بیان بازی کے باوجود ملاقاتیں ’خوشگوار‘‘ ماحول میں ہی ہورہی ہیں۔
دوسری بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی میں اس بات پر کم و بیش اتفاق پایا جاتا ہے کہ کسی بھی غیر آئینی یا پرتشدد طریقے سے پاکستان میںجمہوری عمل کو پٹری سے نہیں اترنا چاہئے۔ اس کا مطلب ہے کہ معاشرے میں فوجی مداخلت یا کسی ہجوم کے تشدد اور ہنگاموں کی وجہ سے حکومت کا تختہ الٹے جانے کی حمایت موجود نہیں ۔ تمام سیاسی اور مذہبی جماعتیں، سول سوسائٹی کی تنظیمیں، وکلاء ایسوسی ایشنز اور میڈیا میں اس بات پر اتفاق پایا جاتا ہے کہ جمہوری نظام کو پٹری سے نہیں اترنے دیا جائے گا۔ اس ضمن میںباہمی سیاسی اختلافات کے باوجود ، تمام دھڑے ایک ہی پیج پر ہیں۔
پارلیمنٹ نے بھی یک جہتی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اپنی خود مختاری کاتحفظ کرنے کا عزم کیا ہے۔ ان تمام حقائق نے پی ٹی آئی اور پاکستان عوامی تحریک کو سیاسی تنہائی سے دوچار کرتے ہوئے مجبور کیا ہے کہ وہ تشدد کا راستہ اختیار کرنے سے گریز کریں۔ اس سے اس بات کی وضاحت ہوجاتی ہے کہ اس وقت تک یہ مارچ اور دھرنا پرامن کیوںہے اور شرکاء نے انتہائی جوشیلے نعروں کے باوجود شاہرائے دستور کو تحریر چوک میں تبدیل کیوں نہیںکیا۔ اس وقت تک تشددکاکوئی واقعہ بھی رپورٹ نہیںہوا ہے جبکہ ماضی کے برعکس حکومت نے بھی نہایت کشادہ دلی سے احتجاجی مظاہرین کے ساتھ نرمی برتی ہے۔
تیسری بات یہ ہے کہ سول سوسائٹی میں ایک اتفاق ِ رائے پایا جاتا ہے کہ عمران خان کے الزامات بڑی حد تک بے بنیاد ہیں کیونکہ گزشتہ انتخابات کا جائزہ لینے والی تمام ملکی اور غیر ملکی تنظیموں نے انہیں1970 کے بعد ہونے والے سب سے شفاف انتخابات قرار دیا تھا۔ انتخابی نظام میں یقینا بہتری کی گنجائش موجود ہے اور اس پر بھی تمام طبقوں میں اتفاق پایا جاتا ہے کہ حکومت اور اپوزیشن کو مل کر پارلیمنٹ میں اس نظام کے نقائص کاجائزہ لے کر اس کی بہتری کے لئے اقدامات اٹھانے کی ضرورت ہے۔اس وقت بہتر ہے کہ احتجاج کرنے والے رہنمائوں کو واپسی کا محفوظ اور باعزت راستہ دیا جائے تاکہ مزید بدمزگی سے بچا جاسکے۔
چونکہ چارسو سے زائد ارکان پر مشتمل پارلیمنٹ کا پینتیس ارکان کی طرف سے ہجوم کو سڑکوں پر لاکر تختہ الٹے جانے کے عمل کو سول سوسائٹی نے مجموعی طور پر مسترد کردیا ہے، اس لئے پاکستان عوامی تحریک اور پاکستان تحریک ِ انصاف کو چاہئے کہ اپنے روئیے میں بتدریج لچک پیدا کرتے ہوئے اس صورت ِ حال سے باعزت واپسی کا خود راستہ تلاش کریں تاکہ ان کے سیاسی اسٹیک کو زیادہ نقصان نہ پہنچے۔ اس کے ساتھ ساتھ، پی ایم ایل (ن)کے لئے ضروری ہے کہ انتخابات میں دھاندلی کے الزامات کی تحقیقات کے لئے انکوائری کمیشن قائم کرے اور اس کی شفاف تحقیقات کو عوام کے سامنے لایا جائے۔ اس کام کے لئے ضروری قانون سازی کی جائے۔ طرفین کو اس بات کا پابند بنایا جائے کہ وہ کمیشن کے نتائج کو قبول کریں۔ اگر کمیشن کی تحقیق کی روشنی میں یہ بات ثابت ہوجائے کہ عمران خان کے الزامات بے بنیاد تھے، تو اُن پر لازم ہے کہ وہ پی ٹی آئی کی قیادت سے دستبردار ہوجائیں۔دوسری طرف ، اگر اُن کے الزامات میں صداقت ہوتو پھر وزیر ِ اعظم نوازشریف کے لئے لازم ہے کہ وہ اپنے منصب سے استعفیٰ دے دیں، اسمبلیاں تحلیل کردیںاور پی ایم ایل (ن) کی قیادت بھی چھوڑ دیں۔ اگر یہ بات سامنے آئے کہ مجموعی طور پر انتخابات شفاف تھے لیکن کچھ مخصوص حلقوں میں دھاندلی ہوئی تو پھر ان حلقوںپر دوبارہ انتخابات منعقد کرائے جائیں اور موجودہ حکومت کو اپنی آئینی مدت پوری کرنے کی اجازت دی جائے۔ اس دوران 33 ممبران پر مشتمل پارلیمانی کمیٹی ،جس میں پی ٹی آئی کے بھی تین رکن شامل ہیں، انتخابی ڈھانچے میں ضروری تبدیلی اور بہتری کی تجاویز سامنے لائے۔ یہ کام تیز رفتاری سے ہونا چاہئے تاکہ احتجاج کرنے والے دوست مطمئن ہوسکیں۔
جہاںپاکستان عوامی تحریک کے اٹھارہ کارکنوں کی ماڈل ٹائوں میںہلاکت کے افسوس ناک واقعے کا تعلق ہے تو اس کا بھی فوری کوئی حل نکلنا چاہئے۔ اس معاملے کو لٹکانے میںکوئی دانشمندی نہیں۔ ڈاکٹر طاہرالقادری کا غیر جانبدار کمیشن کی طرف سے اس واقعے کی تحقیقات کا مطالبہ بالکل درست ہے۔حکمران جماعت کے لئے ضروری ہے کہ وہ اس مطالبے کو تسلیم کرے۔ اگرکمیشن کی رپورٹ کے مطابق پنجاب کے وزیر ِ اعلیٰ اس واقعے کے ذمہ دار ہیں تو اُنہیں فوری طور پر اسمبلی سے مستعفی ہوجانا چاہئے۔ اگر حکومت کے دیگر عہدیدران قصوروار پائے جائیں تو اُنہیں بھی قرار ِ واقعی سزا ملنی چاہئے۔ لاشوں پر سیاست ہرگز نہیںہونی چاہئے۔ مختصر یہ کہ اس مسلے کا حل سڑکوں پر احتجاج کی بجائے تحقیقات سے ہی ممکن ہے اور اس میں فریقین کو ایک دوسرے کی بات سننا ہوگی۔
لانگ مارچ کے نتیجے میں فوجی مداخلت بھی ہوسکتی تھی لیکن ایسا لگتا ہے کہ اس کی وجہ سے پاکستان کی سیاست میں ایک مثبت تبدیلی دیکھنے میں آئی ہے۔ تمام سیاسی طاقتیں جمہوری عمل کے جاری رہنے پر کسی سمجھوتے کے لئے تیار نہیں۔ اس موقع پر پی ایم ایل (ن) کی کسی حریف سیاسی جماعت نے موقع پرستی کا مظاہرہ نہیں کیا۔ اب یہ ڈاکٹر قادری اور عمران خان پر منحصر ہے کہ وہ اس عمل کو پٹری سے اتارنے کا الزام اپنے سر لینا چاہتے ہیں یا اس کی بہتری کا کریڈٹ اپنے سینے پر سجا کر اگلے انتخابات کی تیاری کرنا چاہتے ہیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *