مودی حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی مخالفت میں 15 کروڑ مزدورسڑکوں پر آگئے

59

ممبئی ۔ بھارت کی 10 مختلف ٹریڈ یونینز کے 15 کروڑ مزدور اور سرکاری ملازمین ہڑتال پرہونے کے باعث ملک کی بندرگاہیں اور بینکنگ سمیت دیگر شعبے شدید متاثر ہیں۔ بھارتی میڈیا کے مطابق مساوی حقوق کی دعویدار مودی حکومت کی نامناسب پالیسیوں کی مخالفت میں 15 کروڑ مزدورسڑکوں پر آگئے ہیں ۔ سینٹر فارٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری  نے برطانوی نشریاتی ادارے سے بات کرتے ہوئے بتایا کہ ہڑتال کے لئے ملک کی 10 مختلف ٹریڈ یونینز نے کال دی جس میں سرکاری ملازمین بھی شامل ہیں اورلگ بھگ 15 کروڑ مزدور پورے ملک میں اپنا احتجاج ریکارڈ کرا رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مظاہرین نے حکومت کے سامنے 12 نکاتی مطالبات رکھے ہیں جو طویل عرصے سے پورے نہیں ہوئے اور مودی سرکار نے ان مطالبات کی مخالفت کرتے ہوئے ہڑتال کو روکنے کی بھی کوشش لیکن اب احتجاجی مظاہرین مطالبات پورے نہ ہونے پر بغاوت پر بھی اترسکتے ہیں۔ سینٹر فارٹریڈ یونین کے جنرل سیکرٹری کے مطابق ٹریڈ یونینز حکومت معاشی اصلاحات کی پالیسیوں کی بھی مخالفت کر رہی ہیں کیونکہ بھارتی حکومت معاشی اصلاحات کی آڑ میں کوئلے کی صنعت ، دوا سازی اور ہوا بازی  سمیت دیگر اہم شعبوں میں بڑے پیمانے پر غیر ملکی سرمایہ کاری کی تیاری کرچکی ہے لیکن مزدور تنظیمیں کوئی بھی شعبہ نجکاری میں دینے کے سخت خلاف ہیں اور چاہتے ہیں کہ صنعتوں کے سرکاری شعبے کو برقرار رکھا جائے کیوں کہ مزدوروں کو اس بات کا خوف ہے کہ ان شعبوں کی نجکاری کے بعد بڑی تعداد میں ملازمین کو نوکریوں سے نکال دیا جائے گا ۔ مطالبات میں مزدوروں کی کی اجرت میں اضافہ اور لیبر قوانین کا مکمل طورپر نفاذ بھی شامل ہیں:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *