Site icon DUNYA PAKISTAN

امریکی صدارتی انتخاب 2020: ڈونلڈ ٹرمپ آگے ہیں یا جو بائیڈن؟

Share

تین نومبر کو امریکی ووٹرز اس بات کا فیصلہ کریں گے کہ کیا ڈونلڈ ٹرمپ کو مزید چار سال کے لیے وائٹ ہاؤس میں رہنا چاہیے یا نہیں۔

رِپبلیکن پارٹی سے تعلق رکھنے والے صدر ٹرمپ کو ڈیموکریٹک پارٹی کے امیدوار جو بائیڈن کی جانب سے چیلنج ہے۔ جو بائیڈن اگرچہ 1970 کی دہائی سے امریکی سیاست کا حصہ ہیں مگر ان کی بڑی وجۂ شہرت براک اوباما کا نائب صدر ہونا ہے۔

جیسے جیسے الیکشن کا دن قریب آ رہا ہے انتخابی سرگرمیوں میں تیزی آتی جا رہی ہے۔ ٹی وی پر صدارتی امیدواروں کے درمیان مباحثوں کا آغاز ہو چکا ہے اور رائے شماری کی کمپنیاں امریکہ عوام سے پوچھ رہی ہیں کہ وہ کس امیدوار کی حمایت کرتے ہیں۔

ہم ان رائے شماری کے جائزوں پر نظر رکھیں گے اور یہ پتا کرنے کی کوشش کریں گے کہ یہ آئندہ انتخابات کے بارے میں ہمیں کیا بتا سکیں گے اور کیا نہیں۔

صدارتی امیدوار قومی سطح پر کیا کر رہے ہیں؟

قومی رائے شماری ایک اچھا پیمانہ ہے کہ دیکھا جائے کہ کون سا امیدوار ملک بھر میں مقبول ہے۔ مگر قومی رائے شماری اس کام کے لیے زیادہ اچھا پیمانہ نہیں کہ دیکھا جائے کہ کون الیکشن جیتے گا۔

مثال کے طور پر 2016 میں ہیلری کلنٹن رائے شماری میں ٹرمپ سے آگے تھیں اور انھوں نے ٹرمپ سے تقریباً 30 لاکھ زیادہ ووٹ حاصل کیے مگر وہ پھر بھی ہار گئیں کیونکہ امریکہ میں الیکٹورل کالج کا نظام استعمال کیا جاتا ہے تو زیادہ ووٹوں کا یہ مطلب نہیں کہ آپ الیکشن جیت جائیں گے۔

اس بات سے آگے چلیں تو جو بائیڈن قومی رائے شماری میں ڈونلڈ ٹرمپ سے آگے ہیں اور اس سال کے بیشتر حصے میں ان کی مقبولیت 50 فیصد تک رہی ہے۔ کچھ مواقع پر تو انھیں صدر ٹرمپ پر دس پوائنٹ کی برتری بھی حاصل تھی تاہم گذشتہ چند دنوں میں ڈونلڈ ٹرمپ کی مقبولیت بھی بڑھی ہے۔

بی بی سی کا پول آف پولز گذشتہ چودہ دن کی انفرادی قومی رائے شماری کی بنیاد پر اوسط شرح کو استعمال کرتے ہوئے ٹرینڈ لائنز بناتا ہے

اس کے مقابلے میں 2016 میں رائے شماری کے جائزے کافی مبہم تھے اور ٹرمپ اور ہیلری کے درمیان چند پوائنٹس کا ہی فرق تھا۔

کون سی ریاستیں الیکشن کا فیصلہ کریں گی؟

جیسا کہ سنہ 2016 میں ہیلری کلنٹن کو سمجھ آیا، ووٹوں کی تعداد سے زیادہ اہم یہ ہے کہ آپ ووٹ کہاں پر جیتے ہیں۔

زیادہ تر ریاستیں کسی ایک پارٹی کا گڑھ ہوتی ہیں جس کا مطلب یہ ہے کہ کچھ ہی ریاستیں ہیں جہاں دونوں امیدواروں کے جیتنے کا امکان ہوتا ہے۔ یہی وہ ریاستیں ہیں جہاں الیکشن جیتا یا ہارا جاتا ہے۔

امریکہ میں الیکٹورل کالج کا جو نظام صدارتی انتخاب کے لیے استعمال کیا جاتا ہے، اس میں ہر ریاست کو آبادی کے لحاظ سے کچھ ووٹ دیے جاتے ہیں۔

کل 580 الیکٹورل کالج ووٹ ہوتے ہیں، اسی لیے فاتح امیدوار کو 270 ووٹ حاصل کرنا ہوتے ہیں۔ جیسا کہ مندرجہ بالا نقشے میں دیکھا جا سکتا ہے، کڑے مقابلے والی ریاستوں میں کافی زیادہ الیکٹورل کالج ووٹ ہوتے ہیں اسی لیے امیدوار اکثر ان میں بہت زیادہ وقت گزارتے ہیں۔

کڑے مقابلے والی یا بیٹل گراؤنڈ ریاستوں میں اس وقت کون مقبول ہے؟

اس وقت بیٹل گراؤنڈ ریاستوں کی رائے شماری میں جو بائیڈن کی پوزیشن اچھی معلوم ہوتی ہے مگر ابھی صدارتی انتخاب میں کافی وقت ہے اور جہاں ٹرمپ ہوں وہاں چیزیں بڑی تیزی سے بدل سکتی ہیں۔

رائے شماری کے مطابق جو بائیڈن اس وقت مشیگن، پینسلوینیا، اور وسکونسن میں کافی برتری رکھتے ہیں۔ یہ تینوں صنعتی ریاستیں 2016 میں ٹرمپ نے ایک فیصد کی برتری سے جیتی تھیں۔

کڑے مقابلے والی ریاستوں میں تازہ ترین اوسط

ریاستبائیڈنٹرمپ2016 میں کون ان ریاستوں میں فاتح رہا؟
آئیووا%47.5%46.3ٹرمپ + %9.5
اوہایو%46.8%46.2ٹرمپ + %8.2
ایریزونا%48.2%45.5ٹرمپ + %3.6
پینسلوینیا%50.8%43.8ٹرمپ + %0.7
ٹیکساس%44.8%49.2ٹرمپ + %9.1
جورجیا%46.7%47.1ٹرمپ + %5.2
شمالی کیرولائنا%49.2%46.3ٹرمپ + %3.7
فلوریڈا%48.8%45.1ٹرمپ + %1.2
مشیگن%50.0%43.0ٹرمپ + %0.2
منیسوٹا%49.8%40.8کلنٹن + %1.5
نیو ہیمپشائر%54.0%42.8کلنٹن + %0.4
نیوادا%49.0%43.8کلنٹن + %2.4
ورجینیا%51.3%40.3کلنٹن + %5.4
وسکونسن%49.9%43.6ٹرمپ + %0.8

مگر وہ ریاستیں جہاں ٹرمپ نے 2016 میں بڑی برتری کے ساتھ کامیابی حاصل کی تھی، وہی وہ ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ کی انتخابی مہم چلانے والوں کو فکر ہے۔ آئیووا، اوہایو اور ٹیکساس تین ایسی ریاستیں ہیں جہاں ٹرمپ نے 8 سے 10 فیصد کی برتری حاصل کی تھی مگر اب تینوں میں رائے شماری کے مطابق دونوں امیدواروں میں کانٹے کا مقابلہ ہے۔

یہ اعداد و شمار ہی شاید اس کی وجہ بنے کہ ٹرمپ اکثر ان رائے شماری کو فیک پولز کہتے ہیں اور جولائی میں انھوں نے اپنی انتخابی مہم کے مینیجر کو تبدیل کر دیا تھا۔

مگر ایک پیمانہ اور بھی ہے اور وہ ہے جوئے کی مارکیٹ۔ تازہ ترین اطلاعات کے مطابق ٹرمپ کے جیتنے کے لیے جوئے کی مارکیٹ میں ایک کے مقابلے میں تین کا ریٹ دیا جا رہا ہے۔

کورونا وائرس کی وجہ سے ٹرمپ کی مقبولیت پر کیا فرق پڑا ہے؟

اس سال کے آغاز سے ہی کورونا وائرس دنیا بھر میں شہ سرخیوں میں رہا ہے اور توقعات کے مطابق صدر ٹرمپ کے اس حوالے سے اقدامات کی مقبولیت پارٹی لائنز کے تحت بٹی ہوئی ہے۔

ان کے اقدامات کی مقبولیت مارچ کے وسط میں عروج پر تھی جب انھوں نے قومی ایمرجنسی کا اعلان کیا اور 50 ارب ڈالر ریاستوں کو اس وبا کا مقابلہ کرنے کے لیے دیے۔

ایپسوس نامی ایک بڑی رائے شماری کی کمپنی کے مطابق اس وقت 55 فیصد امریکی شہری ان کے کورونا وائرس کے حوالے سے اقدامات کے حامی تھے مگر اس کے بعد اگر ڈیموکریٹک افراد میں ان کی کوئی مقبولیت تھی تو وہ ختم ہونے لگی جبکہ رپبلکن پارٹی کے حامی اب بھی ان کے ساتھ ہیں۔

تاہم تازہ ترین ڈیٹا یہ کہتا ہے کہ ان کے اپنے حامی بھی اب اس حوالے سے سوال اٹھانے لگے ہیں۔ ملک میں جنوبی اور مغربی ریاستوں میں وائرس کی دوسری لہر سامنے آ رہی ہے۔ ان کی ریپبلکن پارٹی میں مقبولیت 78 فیصد پر آ گئی ہے۔

شاید یہی وجہ ہے کہ صدر ٹرمپ نے کورونا وائرس کے حوالے اپنا بیانیہ تبدیل کر لیا ہے۔ پہلے وہ کہتے تھے کہ وائرس بس چلا جائے گا مگر اب وہ کہنے لگے ہیں کہ حالات بہتر ہونے سے پہلے زیادہ خراب ہوں گے۔ انھوں نے حال ہی میں پہلی مرتبہ فیس ماسک پہنا اور عوام سے کہا کہ اپنی حب الوطنی دکھانے کے لیے وہ اسے پہنیں۔

ایک یونیورسٹی کے اندازے کے مطابق ملک میں یکم نومبر یعنی الیکشن سے دو روز قبل دو لاکھ 30 ہزار ہلاکتیں ہو چکی ہوں گی۔

کیا ہم رائے شماری پر اعتبار کر سکتے ہیں؟

یہ کہنا آسان ہے کہ رائے شماری 2016 میں غلط تھی اور صدر ٹرمپ اکثر یہی کرتے ہیں مگر یہ بات مکمل طور پر درست نہیں ہے۔ زیادہ تر رائے شماری میں ہیلری کلنٹن کچھ فیصد برتری میں تھیں مگر اس کا یہ مطلب نہیں کہ رائے شماری غلط تھی کیونکہ انھوں نے 30 لاکھ زیادہ ووٹ تو لیے تھے۔

رائے شماری کرنے والوں نے 2016 میں کچھ غلطیاں تو کیں جیسے کہ انھوں نے ایسے افراد جن کے پاس کالج ڈگری نہیں ہے، انھیں درست طور پر ابتدائی طور پر نہیں ناپا یعنی ٹرمپ کو جہاں برتری حالص تھی وہ آخری مراحل تک واضح نہیں ہوا۔ مگر اب بیشتر کمپنیوں نے اس بات کو درست کر لیا ہے۔

مگر اس دفعہ کورونا وائرس کی وجہ سے بےیقینی اور بھی زیادہ ہے اور اس کا اثر ملکی معیشت اور لوگوں کے ووٹ ڈالنے پر پڑے گا۔

Exit mobile version