لہو گرم رکھنے کے بہانے!

Photo Attaul Haq qasmi sb

ایک مرد دانا سے کسی نے پوچھا تھا کہ مرد کے دل میں دوسری شادی کی خواہش کب تک رہتی ہے! اس نے جواب دیا ’’کم از کم اپنے قلوں تک تو اس کے دل میں یہ خواہش برقرار رہتی ہے۔‘‘ میں تو ایک ایسے بزرگ کو بھی جانتا ہوں جن کی عمر اس وقت ماشاء اللہ نوے کے لگ بھگ ہے مگر وہ اخبار میں سب سے پہلے ضرورت رشتہ کے اشتہارات دیکھتے ہیں۔ میں نے ایک دن ان سے عرض کی کہ جناب اب تو آپ کی عمر شادی کی نہیں ہے، مگر انہوں نے مجھے یہیں ٹوک دیا اور بولے ’’یہ اطلاع آپ کو کس نے دی!‘‘ میں نے کہا ’’جناب ! خدانخواستہ میرا مطلب وہ نہیں تھا جو آپ سمجھے، میں تو یہ کہنا چاہ رہا تھا کہ پوتوں اور پوتیوں اور پڑپوتوں اور پڑپوتیوں کے ایک لشکر کی موجودگی میں انسان اپنی شادی کی نہیں سوچتا‘‘ یہ سن کر فرمایا ’’آپ یہ کہنا چاہتے ہیں کہ انسان کو اس عمر میں قبروں کے ڈیزائن پسند کرنا چاہئیں؟‘‘ میں نے عرض کی ’’میرے دل میں تو یہ بات نہیں تھی تاہم اگر آپ چاہیں تو میرے ساتھ بہاولپور روڈ چلیں یا میں آپ کو کیٹلاگ لا دوں گا اس میں سے ڈیزائن آپ خود پسند کر لیں۔ ‘‘
خیال تھا میری اس بات پر وہ مشتعل ہو جائیں گے مگر مشتعل ہونے کی بجائے وہ افسردہ ہو گئے، ان کے کانوں میں شاید ’’کلمۂ شہادت ‘‘ کی صدائیں گونجنے لگی تھیں چنانچہ میں نے انہیں واپس خوشگوار موڈ میں لانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’میں آپ کی حس ظرافت کا ہمیشہ سے قائل ہوں اور آج قبروں کے ڈیزائن دیکھنے کی بات کر کے آپ نے مجھے مزید قائل کر دیا، چنانچہ میں نے بھی آپ کی ظرافت کا ساتھ دینے کے لئے وہ بات کی تھی‘‘ یہ سن کر ان کے چہرے پر مسکراہٹ آئی اور فرمایا ’’شادی وادی کس نے کرنی ہے وہ تو .....‘‘ میں نے ایک بار پھر ان کی قطع کلامی کی ’’اگر آپ کا شادی کا کوئی ارادہ نہیں تو پھر شادی کے اشتہارات کیوں پڑھتے ہیں؟‘‘ بولے ’’میاں میرا ارادہ تو کرکٹر بننے کا بھی نہیں ہے مگر میں کرکٹ میچ باقاعدگی سے دیکھتا ہوں یہ سب کچھ تو لہو گرم رکھنے کا ایک بہانہ ہے!‘‘
ایک صاحب ہیں جن کی عمر اس وقت پچاس برس ہے مگر تاحال ان کی شادی نہیں ہو سکی، انہیں شاید نزلہ زکام کی شکایت رہتی ہے چنانچہ اکثر حکیموں کے مطب میں دیکھے جاتے ہیں۔ وہ اس ٹوہ میں رہتے ہیں کہ کس کی شادی کب اور کہاں ہونے جا رہی ہے چنانچہ وہ ہونے والے دولہا اور دلہن کے بارے میں معلومات حاصل کرتے ہیں اور پھر ان دونوں کے والدین کو علیحدہ علیحدہ خط لکھتے ہیں جس میں دعا کی گئی ہوتی ہے کہ اللہ آپ کے بیٹے یا بیٹی کے نصیب اچھے کرے اور آخر میں یہ جملہ ہوتا ہے ’’بہتر ہو گا کہ آپ دولہا، دلہن کے بارے میں ان کے اہل محلہ کی رائے معلوم کر لیں۔ ‘‘ یہ جملہ رشتہ توڑنے کے لئے کافی ہوتا ہے اور یوں اب تک بیشتر صورتوں میں وہ مطلوبہ نتائج حاصل کرنے میں کامیاب رہے ہیں تاہم اگر انہیں کہیں کامیابی نصیب نہ ہو تو وہ باراتی بن کر بارات کے ہجوم میں شامل ہو جاتے ہیں اور بظاہر اظہار مسرت کے لئے سکوں کا ’’چھٹا‘‘ گھوڑے پر سوار دولہا اور اس کے باراتیوں کو دے مارتے ہیں، اگر یہ سکے ’’سوئے اتفاق‘‘ سے کسی باراتی یا دولہا کی آنکھ میں نہ لگیں اور وہ کانے ہونے سے بچ جائیں تو پھر وہ گھوڑے کے پائوں کے قریب بم نما پٹاخہ چلاتے ہیں جس سے گھوڑا بدک جاتا ہے، اوپر سے گھوڑے کے ارمان کون سے پورے ہوئے ہوتے ہیں کہ وہ اس سنہری موقع سے فائدہ نہ اٹھاتے ہوئے دولہا کو منہ کے بل زمین پر نہ گرائے اور باراتیوں کو چن چن کر دولتیاں نہ مارے؟ اس کامیاب آپریشن اور اپنا لہو گرم کرنے کے بعد یہ صاحب وہاں سے کھسک جاتے ہیں اور سیدھا حکیم صاحب کے مطب کا رخ کرتے ہیں جنہوں نے انہیں یقین دلایا ہوا ہے کہ ان کا نزلہ زکام ناقابل علاج نہیں ہے چنانچہ ان کی شادی کا امکان باقی ہے۔
گزشتہ روز میں ایک شادی میں شریک تھا جس میں بھولا ڈنگر بھی مدعو تھا، جیسا کہ آپ جانتے ہیں بھولا ڈنگر میرا بچپن کا دوست ہے اور وہ جملہ کسنے کی بجائے سر میں سیدھی ڈانگ دے مارتا ہے، میں نے بھولے سے کہا ’’تم بھی یہاں لہو گرم کرنے کے لئے آئے ہو؟‘‘ اس نے کہا ’’میں اکیلا نہیں ہم سب یہی کام کرتے ہیں‘‘ پھر اس نے ٹی وی ٹاک شو میں شریک چند مخصوص اینکرز کے نام لئے اور پوچھا ’’تمہارے خیال میں اس قماش کے لوگ جو باتیں کرتے نظر آتے ہیں وہ اپنے درد دل کی وجہ سے کرتے ہیں؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’میرا تو یہی خیال ہے!‘‘ اس پر بھولے نے ایک بھرپور قہقہہ لگایا اور بولا ’’درد دل کے واسطے پیدا کیا انسان کو۔ مگر اس میں تو ’’انسان‘‘ ہونے کی شرط عائد کی گئی ہے‘‘ پھر بھولے ڈنگر نے مجھے مخاطب کیا اور کہا ’’اور یہ جو تم دنیا جہاں پر تنقید کرتے رہتے ہو کبھی اپنے کرتوتوں پر غور کیا ہے؟‘‘ میں نے جواب دیا ’’کیا ہے‘‘ بولا ’’تو پھر یہ انٹ شنٹ کیوں لکھتے رہتے ہو؟‘‘ میں نے کہا ’’میں شریف آدمی ہوں، شادیوں میں شریک ہوتا ہوں مگر وہاں بھگدڑ مچانے کی مجھ میں ہمت نہیں ہے، چنانچہ میں نے کالم کو اپنا لہو گرم رکھنے کا وسیلہ بنایا ہوا ہے، اب آگے کچھ نہ بولنا کیونکہ ’’لہو گرم رکھنے‘‘ والے شعر کا پہلا مصرعہ جھپٹنا، پلٹنا، پلٹ کر جھپٹنا بھی ہے اور اب مجھ میں اتنی سکت نہیں ہے۔ ‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *