برتھ کنٹرول سے پہلے پیدا ہونے والے ایک بزرگ کی کرامات بھری داستانِ زندگی

received_540048136185637

حضرت قدوۃالسالکین اس دور کی پیداوار تھے جب برتھ کنٹرول پہ گرفت نہیں تھی، حضرت کی پیدائش کسی طور بھی وقوع پزیر نہ ھوتی لیکن آپ کے والد صاحب کو نہانے کا بہت شوق تھا، بڑے حضرت سمجھتے تھے کہ اس شوق کو پورا کرنے کیلئے پانی ھو نہ ھو آلودگی بہت ضروری ھےیوں تو آپ سرکار اپنی والدہ محترمہ کے بطن سے ھی پیدا ھوئے اور بے رنگ دنیا سے عالم رنگ و بو تک کا سفر بائیولاجیکل راستے سے ھی طے کیا مگر ماننے کو ھرگز تیار نہیں تھے، ان کا ھمیشہ یہی خیال تھا کہ وہ کوئی آفاقی مخلوق ھیں اسی لئے نہ تو کوئی آپ کے برابر بیٹھ سکتا تھا، نہ ھی آپ کی طرف پیٹھ کر سکتا تھا اور نہ ھی ان کے سامنے اونچا بول سکتا تھا بلکہ حضرت صاحب بچپن سے ھی جلالی واقع ھوئے تھے اس بات کا اندازہ یوں لگایا جا سکتا ھے آپ کی آمد کے دوسال بعد تک والد صاحب نہانے کو ترستے رھے پھر اسی جان لیوا مرض سے جاں بحق ھوگئےقدوہ صاحب یوں تو روتے ھی پیدا ھوئے مگر خود سے زیادہ انہوں نے اپنی اماں کو رلایا کیونکہ آپ سرکار کا سر عام لحاظ سے دو سینٹی میٹر بڑا تھا اور سیزیرئین کا اسوقت رواج نہیں تھا، بڑے ھو کر اس کی وجہ بھی سامنے آگئی کہ اس بڑے پن کی وجہ وہ خصوصی اختیارات ھیں جو ان کو حاصل تھے وہ سب اس اضافی حصے میں رکھے گئے تھے

ایک بار عرض کی، حضور ھم بھی آفاقی مخلوق ھی ھیں اگر نہیں تو پھر واضع کیجئے ھم کہاں کے ھیں، ھمیں جسد خاکی میں پرونے کی واردات بھی ایک جیسی ھے اور زمین پر آکے رُلنے میں بھی ھم یکساں خوار ھیں تو پھر ھمیں نیچے کیوں بٹھاتے ھیں؟فرمایا اس گھٹیا سے سوال کے جواب میں کہ تم نچلے آفاق سے آئے ھو اس لئے رُلتے ھو جبکہ ھمارا تو امتحان ھے، بڑے کا امتحان بھی بڑا ھوتا ھے، تیسری بات کا جواب البتہ تیسرے ھفتے جا کے دیا جب ایک بندے سے دری پر پانی کا گلاس الٹ گیا، اسوقت بطور خاص مجھے مخاطب کرکے فرمایا، کیا خیال ھے؟ ان جاھلوں کیلئے چارپائیاں اور گاؤتکیے لگوا دوں؟ویسے تو تاریخ کے توڑے میں اگر مقناطیس پھیرا جائے تو لاکھوں کے حساب سے قدوے صرف ایک مقناطیس سے چمٹ کر باھر آجاویں گے مگر ھمارے حصے میں آنے والے قدوہ صاحب اپنی طرز کے علیحدہ ھی انسان تھے

آپ سرکار کا ماننا تھا کہ ھر زمانے میں کم از کم ایک مقدس ھستی ضرور موجود ھوتی ھے جسے قدوۃالسالکین کہتے ھیں، پچھلے دور میں اس منصب پر ان کے ابا جی تھے اور انگریز کے دور میں دادا جی سرکار اس منصب پر فائز تھے، آگے کا بندوست ابھی تک نہیں ھوسکا تھا اس لئے کہ اپنے روحانی مرتبے کے پیش نظر ایک لمحے کیلئے بھی "پلیت" ھونا نہیں چاھتے تھےعلاقے کے بعض سید گھرانے لوگوں کو یہ بتا کر گمراہ کرتے تھے کہ حضرت سید نہیں ھیں جبکہ ھم عقیدتمند سالکین ان سید گھرانوں کی اپنی سیادت کو مشکوک سمجھتے تھے اور حضرت کو پکا سید مانتے تھے اس لئے کہ آنکھوں دیکھی چیز کا اعتبار زیادہ ھوتا ھے، ھم سب اس بات کے چشم دید گواہ تھے کہ آپ سرکار کا گھرانہ ھمارے سامنے سید بنا تھا

حضرت نے گلے میں رنگ برنگے موٹے منکوں کی مالا اور ھاتھوں میں کل ملا کر مقدس نگینوں والی بیس کے قریب مندریاں پہنی ھوتی تھیں، یہاں تک کہ انگوٹھوں میں بھی دو دو انگوٹھیاں تھیں، ان انگوٹھیوں کی حرمت و تقدیس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ھے کہ اپنے دور کے واحد مقدس قدوۃالسالکین خود تو باتھروم جا سکتے تھے مگر ان انگوٹھیوں کو اس ناپاک ماحول میں لیجانا سخت معیوب سمجھتے تھےایک دن عرض کی حضرت شیخ سعدی جب گھر سے باھر جاتے تو دروازہ کھلا چھوڑ جاتے تھے جب واپس آتے تو اندر سے کنڈی لگا لیتے، کسی نے اس کی وجہ پوچھی تو فرمایا اس گھر میں واحد قیمتی چیز میں ھی ھوں، میرے بعد ایک گدڑی ھے چند کتابیں ھیں ان کا کوئی کیا کرے گا، انسان کو سب سے پہلے اپنی قدر خود کرنی چاھئے مگر اس بات کا حضرت پر کوئی اثر نہ ھوا اور وہ اٹھ کر پھر سے باتھروم چلے گئےاس کی وجہ دراصل حضرت یوں بیان فرماتے تھے کہ عورت اور پتھر کا سخت احترام کرنا چاھئے ورنہ ان کی تاثیر بدل جاتی ھے اسی لئے وہ نگینوں کو زوجہ محترمہ کی طرح مقدم رکھتے اور کبھی بھی کسی بھی حالات میں ان کے سامنے برھنگی اختیار نہ کرتے انہی عقائد کی بدولت بے اولاد بھی تھے

نظام شمسی کا جتنا مطالعہ مرشد کرتے تھے اتنا کسی سائنسدان نے بھی کبھی نہیں کیا ھوگا، آپ کے پاس ایک مستقل زائچہ دان تھا جو ستاروں کی ساری چالیں آشکار کیا کرتا تھا، حضرت جب عطارد اور زھرہ کی باتیں اور مقامات بیان کرتے تو یوں لگتا جیسے محلے کی لڑکی اور لڑکے کا افئیر بتلا رھے ھوں، جب ستاروں کی چال سمجھاتے تو ایسا لگتا تھا جیسے ستاروں کا کام رات کو آسمان سجانا اور روشنی دینا نہیں بلکہ "لُکن میٹی" کھیلنا ھے یا وہ شطرنج کے مہرے ھیںیہ سارا مطالعہ اس لئے ھوتا تھا کہ ستاروں کی چالوں کے مطابق اپنی چال چلی جائے اس لئے وہ ھرروز نئی صورتحال کے مطابق انگوٹھیوں کی پوزیشن تبدیل کیا کرتے تھے، زیادہ مشقت اس دن کرنی پڑتی جس دن انگوٹھے والی انگوٹھی چھوٹی انگلی میں ڈالنے کی باری آتی، اس دن وہ دو گھنٹے انگوٹھی کے رنگ پر دھاگہ باندھنے میں صرف کرتے، ان کی روز روز کی چالوں سے لگتا تھا جیسے نگینوں اور ستاروں کے درمیان شطرنج کا میچ چل رھا ھےقدوہ صاحب اس سارے نظام کو پتھروں سے کام لینے کا نام دیتے تھے حالانکہ یہ مشقت چنگی بھلی قدرتی سزا کا درجہ رکھتی تھی وہ اس طرح سے کہ دن بھر میں انہیں کوئی دس چکر باتھ روم کے لگانے پڑتے اس دوران جتنا وقت انہیں انگوٹھیاں اتارنے چڑھانے میں لگتا اتنا باتھ روم میں نہیں لگتا، اس بات کا خطرہ وہ خود بھی محسوس کرتے تھے کہ کسی دن جلدی کا کام درپیش ھوا تو وقت سر باتھ روم نہیں پہنچ سکیں گے اسی لئے ایک اضافی تہہ بند ھمیشہ وہ اپنے ساتھ رکھتے تھے

کئی بار میرا جی للچایا کہ قدوہ صاحب کے باتھ روم سے واپس آنے سے پہلے پہلے کم از دو انگوٹھیاں تو چُک لینی چاھئیں اسی مقصد کے لئے سب انگوٹھیوں کے فضائل ان سے پوچھ رکھے تھے مگر مسئلہ یہ تھا کہ وہ کسی نہ کسی کو ان پتھروں کی راکھی بٹھا کے جاتے تھے

ایک بار کسی نے پوچھا حضرت مجھے بزرگ بننے کا بہت شوق ھے اس کیلئے کونسے عملیات کیا کروں تو فرمایا عملیات سے تھوڑی بہت روحانی ترقی ضرور ھو جاتی ھے لیکن بندہ قدوے کے مرتبے کو کبھی نہیں پہنچ سکتا، قدوہ بنا بنایا پیدا ھوتا ھے جیسے میں خود ھوں اور آگے کوئی امید ھی نہیں ھے، اس بات پر امید دلانی چاھئے تھی مگر حاضرین میں سے کسی کی زبان سے "شکر ھے" نکل گیا، اس بندے کو فورا محفل سے باھر نکال دیا گیا، شروع میں لوگوں کا خیال تھا وہ بندہ خجل خوار ھوگا جسے راندہء درگاہ کر دیا گیا ھے لیکن جب وھی بندہ امریکا چلا گیا تو فرمایا میں نے یہی والا باھر جانا کہا تھا مورکھو، سالکین کی اکثریت اب اسی بات پر یقین رکھتی ھے جبکہ اس دن خارج شدہ مسمی کو جو باجماعت گالیاں دی گئی تھیں وہ سب بھول بھال چکے ھیںنام کے بارے میں استفسار پر آپ نے بتایا کہ آپ کو قدوائی صاحب کا نام بہت پسند تھا اس لئے بے پناہ القابات میں سے آپ نے قدوہ والا لقب پسند کیا یہ بھی اچھا ھوا کہ اس وقت تک انہوں نے مشتری بائی اور اس کے پیشے کا نام نہیں سنا تھا ورنہ پتا نہیں کیا بنتا کیونکہ وہ بھی قدوائی کے ھم وزن ھی تھاحضرت کے دادا حضور کو انگریزوں نے کافی زمینیں پیش کی تھیں جو اب قدوہ صاحب کی ملکیت تھیں، پہلے پہل مجھے بھی یہی خیال آتا تھا کہ ان کے دادا انگریز بہادر کے پٹھو ھونگے لیکن بعد میں قدوہ صاحب کی زبانی پتا چلا کہ آپ کے دادا انتہائی نورانی صورت بزرگ تھے جن کے رعب داب کے آگے انگریز بھی ان کا پانی بھرتے تھے

دادا صاحب جب انگریزوں کی ماھانہ میٹنگ میں جاتے تو انگریز اٹھ کر کھڑے ھو جاتے اور دادا صاحب کے جاہ و جلال سے تھر تھر کانپنے لگتے کیونکہ آپ ھمیشہ انگریزوں کو اصولی باتوں پر بالکل کھری کھری سنا دیا کرتے تھے اسی لئے انگریز بہادر ان کے سامنے منہ کھولنے کی جرآت نہیں کیا کرتے تھےاس کی دوسری وجہ وہ عطر بھی ھو سکتا ھے جو ان کے دادا جی لگاتے تھے، ان کے وقت کی بہت سی خالی شیشیاں ابھی بھی قدوہ صاحب کے پاس تبرکاً محفوظ تھیں، ان شیشیوں کا ڈھکن جس کسی نے بھی غلطی سے کھولا اس نے پھر عطر کی چبھتی ھوئی تازگی سونگھ کر پٹاخ سے حق کا نعرہ ھی لگایا ھے یا پھر کڑاکے دار چھینک ماری ھے، آگے آپ خود سوچ لیں، سوچنے والی بات یہ ھے کہ انگریزوں کے دور میں اِس عطر کی مار کہاں تک جاتی ھوگیقدوہ صاحب کے ساتھ میرے تعلقات بہت اچھے رھے اسی لئے میں نے بھی کبھی ان کی باتوں کو بودر نہیں کیا، یہ دوستانہ تعلقات خراب ھونے کی بڑی وجہ عشق کی اٹکی ھوئی ایک منزل تھی، میرا کہنا تھا کہ عشق حقیقی کی منزل عشق مجازی سے گزر کر طے کرنی چاھئےاسی لئے دو سال تک انہیں گزارشات کرتا رھا کہ زرینہ سے ٹانکہ بھروا دو، وہ چھت پر سے مجھے دیکھ کر مسکرا دیتی ھے اور بال بھی خوب ادا سے جھٹکتی ھے جو پسندیدگی کا مثبت اشارہ ھے مگر ایس ایم ایس کا جواب نہیں دیتی، اس کی پتا نہیں کیا وجہ ھے، لہذا اس سرد مہری کو گرم جوشی میں بدلنے کے لئے اپنے مجربات میں سے کوئی ایسا عمل کرو کہ میرا کام بن جائے لیکن قدوہ صاحب ھمیشہ ٹال مٹول سے کام لیتے رھے ھیں

ایکدن پتا نہیں ستارے الٹی چال چل گئے یا انہوں نے انگوٹھیاں الٹی پہنی ھوئی تھیں کہ ھماری دوستی ختم ھوگئی، میں نے فائنل فائنل پوچھ لیا کہ میرا کام کرنا ھے کہ نہیں … تو قدوہ صاحب نے صاف صاف منع کر دیا کیونکہ عشق مجازی کی منزل ان کی بھی اٹکی ھوئی تھی اور اس منزل سے نکلنے کیلئے ان کے پاس بھی واحد سہارا زرینہ ھی تھی، میں بھی یہ کہہ کر اٹھ آیا کہ … نئیں تے ناں سہی … میری آپ کی دوستی ختم … ھمارے کام نہیں آنا… تے جا فیر ماقُدوَہ …… زرینہ کی شادی امریکہ والے سے ھوگئی، اس لڑکے کی انگلی میں بھی ایک بڑا سا نگینہ نظر آرھا تھا جو قدوہ صاحب بہت عرصہ تک دھونڈتے رھے، شائد وہ کہیں رکھ کے بھول گئے تھے یا بھول کر اسی بندے کو رکھوالی کیلئے بٹھا گئے تھے

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *