ترکی کا سرحدوں سے داعش کے صفایے کا اعلان

ترک وزیراعظم بن علی ریلدرم کا کہنا ہے کہ ان کی فوج کے حامی شامی باغیوں نے تمام دہشت گرد تنظیموں کو شام اور ترکی کی سرحد سے بھگا دیا ہے۔ مانیٹرز کے مطابق نام نہاد شدت پسند تنظیم داعش کا بھی شام اور ترکی کی سرحدی علاقے سے خاتمہ ہوگیا ہے۔ خیال رہے کہ ترکی کرد جنگجوؤں کو بھی دہشت گردوں میں شامل کرتا ہے۔ اس پیش رفت سے داعش تک نہ تو ہتھیار پہنچ سکیں گے اور نہ ہی جنگجو اس تک رسائی حاصل کر سکیں گے۔ ایک الگ بیان میں یہ اطلاع بھی موصول ہوئی ہے کہ شامی فوجوں نے حلب کے ان علاقوں کا کنٹرول دوبارہ حاصل کر لیا ہے جن پر گذشتہ ماہ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

ترک وزیراعظم نے انقرہ کی فوج کی کامیابی کا اعلان اتوار کو سرکاری ٹی وی پر اپنے خطاب میں کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ’ خدا کا شکر ہے، اعزاز سے جرابلس تک، ہمارا شام کے ساتھ 91 کلومیٹر طویل بارڈر مکمل طور پر محفوظ ہو گیا ہے۔‘ ان کا مزید کہنا تھا کہ ’دہشت گرد تنظیموں کو سرحد سے پیچھے دھکیل دیا گیا ہے، وہ جا چکی ہیں۔‘

خیال رہے کہ شام کے وائے پی جی نامی کرد گروہ کو ترکی پسند نہیں کرتا جبکہ اس گروہ کی پشت پناہی امریکی اتحاد کرتا ہے۔ یہ گروہ شمالی شام میں اپنے علاقے میں مزید کامیابیاں حاصل کر رہا ہے اور ترکی خبردار کر چکا ہے کہ وہ شمالی شام میں ایک مصنوعی ریاست کے قیام کی کبھی صورت اجازت نہیں دے گا۔ اتوار کو ہی شام کی حکومت کی حامی فوج نے ایک بار پھر باغیوں کے زیرِ قبضہ علاقوں جن میں حلب اور مشرقی علاقے شامل ہیں کا محاصرہ کیا ہوا ہے۔ اس سے قبل سرکاری طور پر یہ خبر سامنے آئی تھی کہ سکیورٹی فورسز نے حلب شہر میں ان علاقوں کا کنٹرول واپس لینے کے لیے کارروائی شروع کی ہے جن پر گذشتہ ماہ باغیوں نے قبضہ کر لیا تھا۔

شامی سکیورٹی فورسز کو حلب میں شروع کی جانے والی اس نئی کارروائی میں فضائی مدد بھی حاصل ہے۔ سرکاری ٹی وی کے مطابق شہر کے جنوب میں سکیورٹی فورسز نے دو فوجی تربیتی مراکز پر دوبارہ کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ سرکاری ٹی وی چینل ثنا نے کہا ہے کہ سرکاری افواج ان علاقوں میں پیش قدمی کر رہی ہیں جہاں سے شہر کا محاصرہ مکمل ہو جائے گا۔ دوسری جانب امریکی صدر براک اوباما نے کہا ہے کہ شام میں جنگ بندی کے لیے روس اور امریکہ ایک معاہدے پر پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ خیال رہے کہ شام میں جاری خانہ جنگی میں امریکہ باغیوں کی حمایت کرتاچلا آیا ہے جبکہ صدر بشارالاسد کو روس کی حمایت حاصل ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *