ایک بہت پرانا کالم!

Photo Attaul Haq qasmi sb

میں نے گھر سے باہر نکل کر اِدھر اُدھر نظر دوڑائی کہ شاید کوئی رکشہ کھڑا مل جائے اور وہ پہلی نظر ہی میں مل گیا۔ رکشہ ڈرائیور سڑک کے کنارے بیٹھا موچی سے اپنے جوتے میں کیل ٹھکوا کر اپنے ایک روپے کا میلا کچیلا نوٹ اسے دے رہا تھا۔
میں نے پوچھا ’’ایم اے او کالج کے کتنے پیسے لوگے؟‘‘
اس نے اپنی خمار آلود آنکھیں جن میں اس نے کھینچ کر سرمہ لگایا ہوا تھا، اوپر اٹھانے کی کوشش کرتے ہوئے کہا ’’چالیس روپے‘‘۔
جہانزیب بلاک علامہ اقبال ٹائون سے ایم اے او کالج صرف پانچ کلو میٹر ہے۔ اس لحاظ سے وہ زیادہ پیسے مانگ رہا تھا۔ مگر میں نے کہا ’’ٹھیک ہے بس ایک احتیاط یہ کرنا کہ میری کمر کو جھٹکا نہ لگے مجھے کمر کی دیرینہ تکلیف ہے۔ ‘‘
بولا ’’آپ فکر نہ کریں‘‘ اور دو قدم چلنے کے بعد ہی اس نے پوری بے دردی سے رکشہ ایک ٹوئے پر سے گزارا جس سے میرا انجر پنجر ہل کر رہ گیا۔ اس دوران رکشہ ڈرائیور کی آواز میرے کانوں میں آئی ’’بائو جی جھٹکا تو نہیں لگا؟‘‘ میں نے کراہتے ہوئے کہا ’’نہیں‘‘ اور اس کے ساتھ ہی دوسرا جھٹکا لگا اور رکشہ ڈرائیور کی پرسش احوال بھی سنائی دی ’’جھٹکا تو نہیں لگا بائو جی!‘‘ اب اسے میں کیا کہتا؟
میرا ایک گنجا ہمسایہ سڑک کراس کر رہا تھا۔ رکشہ ڈرائیور نے چلتے چلتے اس کے سر پر ایک ٹھاپ مار دی اور پھر ہنستے ہوئے داد طلب نظروں سے میری طرف دیکھا۔ میں نے کہا ’’بری بات ہے، یہ میرا ہمسایہ ہے، اگر وہ مجھے دیکھ لیتا تو تمہارا تو کچھ نہیں جانا تھا میرے ساتھ اس کی مستقل دشمنی پیدا ہو جاتی‘‘ رکشہ ڈرائیور کی حرکات سے مجھے اندازہ ہو چلا تھا کہ اس نے ’’سوٹا‘‘ لگایا ہوا ہے اور یہ بھی کہ یہ شخص کوئی گل کھلائے گا۔ مگر میری مجبوری تھی کہ مجھے ’’معاصر‘‘ کے دفتر پہنچنا تھا جہاں میں نے ایک صاحب کو وقت دیا ہوا تھا۔
اقبال ٹائون سے نکل کر ملتان روڈ پر آتے ہی رکشہ ڈرائیور کی ’’پھرتیوں‘‘ میں اضافہ ہو گیا۔ یتیم خانے کے ٹریفک سنگل پر اسے رکنا پڑا مگر اس نے کمال یہ دکھایا کہ دو بسوں کے درمیان بچی ہوئی تھوڑی سی جگہ میں اپنا رکشہ گھسیڑ دیا۔ رکشے کے اگلے پہیے سے ذرا آگے ایک ریڑھا کھڑا تھا جس پر سریا لدا ہوا تھا اور رکشے کی ا سکرین اور سریے کی نوک کے درمیان بمشکل دو تین انچ کا فاصلہ تھا۔ رکشے کے پیچھے ایک 76ماڈل کی کھٹارا کرولا آ کر کھڑی ہوئی تھی، اس کا بمپر رکشے کو بس چھونے کے قریب ہی تھا اور یوں ہم چاروں طرف سے گھیرے میں آ گئے تھے۔ اگر گھوڑا بدک کر پیچھے کو ہٹتا تو ہم سریے میں پروئے جاتے۔ اگر پیچھے ہٹتے تو کرولا میں لگتے، دائیں بائیں بسیں کھڑی تھیں اور ان کے دھوئیں سے میرا دم گھٹ رہا تھا۔ میں نے اپنا دھیان ہٹانے کیلئے رکشہ ڈرائیور کو مخاطب کیا اور پوچھا ’’تمہارا نام کیا ہے؟‘‘
’’بادشاہ‘‘ اس نے جواب دیا۔
’’یہ کیا نام ہوا؟‘‘ میں نے بادشاہ سلامت کی ہیئت کذائی کو دیکھتے ہوئے کہا۔
’’میرا محلے میں بڑا ٹہکا ہے۔ سب مجھے بادشاہ بادشاہ کہتے ہیں‘‘
’’تو کیا محلے کا نظم و نسق آپ ہی کے ذمے ہے، بادشاہ سلامت‘‘ میں نے ترنگ میں آئے ہوئے اس نشئی کی باتوں کا مزہ لینے کیلئے کہا۔
’’اور کیا، محلے میں کسی کی مجال نہیں کہ کسی کی ماں بہن کی طرف آنکھ اٹھا کر دیکھ سکے۔ میں نے محلے والوں کو کہا ہوا ہے کہ دروازے کھلے رکھ کر سویا کریں۔ محلے کے ایک دکاندار کو دھکے مار کر نکال دیا تھا وہ لوگوں سے چیزوں کے زیادہ پیسے وصول کرتا تھا اور ملاوٹ بھی کرتاتھا!‘‘
’’تم عظیم ہو بادشاہ!‘‘ میں نے اس کے کندھوں پر تھپکی دیتے ہوئے کہا۔
اس دوران اشارہ کھل گیا تھا اور ایک بار پھر زگ زیگ بناتا کھڈوں اور ٹویوں میں رکشے کو گزارتا اور میرے کڑھنے کو نظر انداز کرتا ہوا منزل کی طرف رواں دواں تھا۔ اچانک اس نے رکشہ ایک پٹرول پمپ کے سامنے کھڑا کر دیا۔ رکشہ کی سیٹ اٹھا کر اس میں سے موبل آئل کا ڈبہ نکالا، ٹینکی کا ڈھکنا کھول کر موبل آئل کی کچھ مقدار اس میں ڈالی اور موبل آئل کا ڈبہ واپس رکشہ کی سیٹ کے نیچے رکھتے ہوئے سیلز مین سے کہا ’’پٹرول ڈالو‘‘ سیلز مین رکشہ ڈرائیور کی سیٹ پر تھوڑی سی بچی ہوئی جگہ پر بیٹھ گیا اور ٹینکی میں پٹرول ڈالنے لگا۔
’’پورے ایک سو روپے کا کر دو‘‘ بادشاہ نے اسے ہدایت کی۔ سیلز مین نے پٹرول ڈال کر ٹینکی کا ڈھکن بند کیا تو بادشاہ نے اس کی ہتھیلی پر دو روپے رکھ دیئے۔
’’باقی سو روپے؟‘‘
’’وہ تو میں تمہیں پہلے دے چکا ہوں‘‘
پھر کچھ دیر دونوں کے درمیان جھگڑا ہوا، سیلز مین نے کہا ’’تم قرآن اٹھا لو کہ تم مجھے سو روپے دے چکے ہو تو میں تم سے بحث نہیں کروں گا‘‘
بادشاہ نے اس کے جواب میں قرآن کی قسم کھانے کے علاوہ کلمے کی قسم بھی کھائی کہ وہ سو روپے پہلے دے چکا ہے اور پھر رکشہ اسٹارٹ کر دیا۔ ’’کس قدر اندھیر ہے بائو جی، معاشرہ تو بہت ہی کرپٹ ہو گیا ہے‘‘ اس نے مجھے مخاطب کر کے میری ہمدردیاں حاصل کرنے کی کوشش کی مگر میں خاموش رہا۔ اس بے ایمان شخص سے الجھنا فضول تھا…چوبرجی کے قریب پہنچ کر میں نے اسے کہا ’’رکشہ ایم اے او کالج کی بجائے جین مندر کی طرف موڑ لینا‘‘
جین مندر کے ساتھ پرانی انارکلی کو جانے والی سڑک پر چند گز جانے کے بعد میں نے کپورتھلہ ہائوس میں اپنے دفتر کے پاس رکشہ رکوایا اور مسلسل جھٹکوں سے ادھ موئے اپنے جسم کو سمیٹ کر رکشے سے نکلا اور چالیس روپے بادشاہ کی ہتھیلی پر رکھ دیئے۔
’’دس روپے اور دیں‘‘
’’وہ کیوں؟‘‘
’’آپ نے ایم اے او کالج کہا تھا مگر آپ یہاں لے آئے ہیں‘‘۔ ’’ایم اے او کالج اس لئے کہا تھا کہ وہ مشہور جگہ ہے ورنہ تمہیں سمجھانا پڑتا کہ کپور تھلہ ہائوس کہاں ہے۔ فاصلہ تو دونوں جگہوں کا ایک ہی ہے۔ ‘‘
بحث نہ کریں ! دس روپے نکالیں، میں نے بے ایمانی کبھی برداشت کی ہے اور نہ کبھی کروں گا!‘‘
اس نے یہ بات اتنے سفاک لہجے میں کہی کہ میں نے چپکے سے دس روپے جیب میں سے نکالے اور اسے تھما کر اپنے دفتر میں داخل ہو گیا…’’بادشاہ‘‘ کے سامنے اس کے ’’عوام‘‘ کی کیا مجال کہ اس کے دعوے کو جھٹلا سکیں۔ بادشاہ جو کہتا ہے سچ کہتا ہے سچ کے علاوہ کچھ نہیں کہتا ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *