امریکہ سے تین سوال

یاسر پیر زادہYasir Pirzada

وجے جوشی کا تعلق بھارت سے ہے ،ذات کا برہمن ہے مگر ذات پات میں یقین نہیں رکھتا ،عمر اور شکل ایسی کہ ہر خاتون اسے فوراً اپنا بھائی مان لیتی ہے ،شریف آدمی ہے برا نہیں مناتا، جلد دوست بن جاتا ہے ،آج کل بنکاک میں مقیم ہے ۔خلدون کا تعلق فلسطین سے ہے ، لمبا تڑنگا یہ نوجوان فوٹوگرافی کا شوقین ہے، جملے باز اور ہنس مکھ ہے ، اسرائیل کا شدید ناقد ہے ،انگریزی حرف ’’ٹی ‘‘کو ’’ت‘‘ بولتا ہے اور لہجہ اس قدر دھیما کہ لگتا ہے ہونٹوں پر سائلنسر لگا رکھاہو ۔سعیدہ گلشن جاناں بنگلہ دیشی خاتو ن ہے ، محترمہ کا اپنے بارے میں خیال ہے کہ وہ بہت سندرہیں ،ان کے دو شوق ہیں اپنی تعریفیں کروانا اور جب دل بھر جائے تو اپنی بیٹی کی تعریفیں کرنا، بقول ان کے بنگلہ دیش میں سوشل میڈیا شروع کرنے کا سہرا ان کے سرہے ، ان کے نیٹ ورک پر رجسٹرڈ بلاگرز کی تعداد 78 ہزار ہے جو اگلے روز انہوں نے ایک لاکھ اٹھتّر ہزار کر دی۔کیون ‘ ایک ہم جنس پرست امریکی ہے جو اپنے ’’شوہر‘ ‘ کے ساتھ واشنگٹن میں رہتا ہے ، اس کے دو جڑواں بچے ہیں ،وہ کیسے پیدا ہوئے یہ ایک عجیب کہانی ہے جسے یہاں بیان کرنا ممکن نہیں۔ ایمالے سنگاپور کی لڑکی ہے، کم گو ہے ،حجاب لیتی ہے، کھانے پینے کی شوقین ہے مگر دیکھ کر لگتا ہے جیسے برسوں سے پیٹ بھر کر کھانا نہ کھایا ہو۔گائے ٹیلر امریکی ہے ‘اونچا لمبا ‘شیو کرتا ہے نہ داڑھی رکھتا ہے بیچ میں ہی اٹکا ہے ،اپنا تعارف کروانے کا اس کا الگ انداز ہے ، رُک رُک کر بولتا ہے اور جب لوگ سمجھتے ہیں کہ اس کی بات ختم ہوگئی تو وہ پھر بول پڑتا ہے ۔ایمیلی بھی امریکن ہے ، عمر تیس سے اوپر ہوگی مگر لگتی چالیس کی ہے ، سنجیدہ اور مدبر ، حس مزاح کی کمی کا شکار ہے ، مگر شدید محنتی اور بیماری کی حد تک کام کی شوقین اور ذمہ دار۔ہیرن کا تعلق انڈونیشیا سے ہے ،ایمالے کی طرح یہ بھی کم گو ہے ، ہر وقت سگریٹ پینے کے لئے جگہ تلاش کرتا رہتا ہے ۔جاوید ،دھان پان پاکستانی نژاد امریکی نوجوان ہے ، نیویارک میں مقیم ہے ، ذہین ہے، اپنے کام سے کام رکھتا ہے، خالص امریکی لہجے میں انگریزی بولتا ہے ۔سعید کا تعلق ایران سے ہے مگر گزشتہ پانچ برس سے برطانیہ میں مقیم ہے ، اپنا تعارف کرواتے وقت وہ خود کو ایرانی بتانے میں کچھ زیادہ فخر محسوس نہیں کرتا، موصوف ہم جنس پرست ہیں اور ہم جنس پرستوں کے حقوق کے بارے میں بے حد فکر مند رہتے ہیں ۔ڈارشینی ، بوائے کٹ ہیئر سٹائل کی پستہ قدملائیشین خاتون ہے ،بازو پر بڑا سا ٹیٹو اور آنکھوں پر سیاہ فریم کا چشمہ، چہرے پر اکثر مسکراہٹ رہتی ہے ،ہندو ہے مگر لگتی نہیں ۔اور یہ خاکسار جس کا تعلق مملکت خداد پاکستان سے ہے ،ہر وقت سویا سویا سا رہتا ہے ،دوسروں کی ذات میں خرابی تلاش کرنا اس کا محبوب مشغلہ ہے ، خود کو پرفیکٹ سمجھتا ہے جبکہ حقیقت میں پرفیکشن کے ہجے بھی ٹھیک سے نہیں بتا سکتا۔ یہ ہیں وہ لوگ جو گزشتہ آٹھ دن سے امریکہ میں اکٹھے ہیں اور جنہیں یہاں چند سوالوں کے جوابات حاصل کرنے ہیں۔
پہلا ضروری سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ امریکہ میں گستاخانہ فلم اور قرآن پاک کی بے حرمتی کے واقعات رونما ہوتے ہیں جن کی وجہ سے پوری مسلم دنیا میں شدید ردعمل بھی پیدا ہوتا ہے مگر ان کے خلاف کبھی کوئی قانون حرکت میں نہیں آتا؟ اس سوال کا جوا ب آزادی اظہار کی شکل میں سامنے آیا،امریکہ میں بولنے کی آزادی کی کوئی حد نہیں تاوقتیکہ کسی کو تشدد پر نہ اکسایا جائے ،امریکیوں کے مطابق اگر کہیں بھی کوئی ایسا مذہبی مواد شائع ہوتا ہے یا کوئی گستاخانہ فلم بنتی ہے جس سے مسلمانوں کے مذہبی جذبات مجروح ہوتے ہیں تو مسلمانوں کو مکمل آزادی ہے کہ وہ اس مواد یا فلم کو نہ دیکھیں ۔تاہم میرے لئے یہ جواب قطعاً تسلی بخش نہیں تھا کیونکہ جب امریکیوں کی توجہ اس جانب مبذول کروائی گئی کہ جناب والا اس قسم کا مواد نفرت پھیلانے یا hate speechکے زمرے میں آتا ہے تو جواب آیا کہ اس بات کا فیصلہ کیسے ہوگا کہ hate speechکیا ہے! میرا کہنا تھا کہ اس بات کا فیصلہ ویسے ہی ہوگا جیسے کسی فلم کی ریٹنگ کا فیصلہ ہوتا ہے کہ فلاں فلم کس عمر کے افراد کے دیکھنے کے قابل ہے! اس طرح جب کوئی نسلی امتیاز برتتا ہے تو قطع نظر اس بات سے کہ اس کے نتیجے میں تشدد ہوا یا نہیں فوراً قانون حرکت میں آجاتا ہے ‘تو کیا ویسا ہی قانون اس وقت حرکت میں نہیں آ سکتا جب گستاخانہ مواد شائع کیا جاتا ہے ! جواب وہی ،رٹا رٹایا، نہیں، ہم آزادی اظہار پر قدغن نہیں لگا سکتے جبکہ دوسری طرف یہ دو غلی پالیسی کہ جو شخص اسرائیل کے خلاف بات کرے اسے یہودیوں کے خلاف hate speechکے کھاتے میں ڈال کر جینا حرام کردو!
امریکیوں سے دوسرا سوال یہ تھا کہ کیا وجہ ہے کہ امریکہ اسرائیل کی جارحیت کے باوجود اس کی حمایت سے باز نہیں آتا؟ اس سوال کا جواب چند سرویز کی شکل میں ملا جو ایک معتبر امریکی ادارے نے حال میں جاری کیا ہے، سروے کے مطابق چالیس فیصد امریکی عوام حماس کو جبکہ انیس فیصد اسرائیل کوخوں ریزی کا ذمہ دار سمجھتے ہیں ‘پچّیس فیصد کا خیال ہے کہ اسرائیل کا رد عمل ضرورت سے زیادہ ہے ‘پینتیس فیصد سمجھتے ہیں کہ اسرائیلی رد عمل مناسب ہے جبکہ پندرہ فیصد کا ماننا ہے کہ ردعمل ضرورت سے کم ہے۔ دراصل امریکی عوام کا یہ تاثر مختلف وجوہات کی بنا پر ہے جن میں میڈیا ، طاقتور اسرائیلی لابی اور یہودیوں کے خلاف نفرت پھیلانے کو ناقابل معافی جرم سمجھا جاتا ہے۔ AIPACیعنی امریکن اسرائیل پبلک افیئرز کمیٹی ایک ایسا لابنگ گروپ ہے جو کانگریس میں اسرائیل نواز پالیسیاں بنانے کے لئے کام کرتا ہے ،اس گروپ کا طریقہ کار بہت دلچسپ ہے، جونہی امریکی کانگریس میں کوئی شخص رکن منتخب ہوتا ہے یہ ادارہ اس کی مدد کے لئے اسسٹنٹ بھیجتا ہے جو اس کے لئے مفت کام کرتے ہیں ،یوں پہلے ہی دن وہ نو منتخب رکن اس رائے کے زیر اثر آ جاتا ہے جواسے AIPACکی جانب سے فیڈ کی جاتی ہے ،باقی کام میڈیا سنبھال لیتا ہے ،اور اس کے بعد بھی اگر کوئی کسررہ جائے تو anti semiticکا لیبل لگا کر دور کر دی جاتی ہے ۔اس کی بد ترین مثال ہیلن تھامس نامی رپورٹر کی ہے ‘اس خاتو ن نے ستاون برس تک رپورٹنگ کی اور آئزن ہاور سے بارک اوبامہ تک قریباً گیارہ امریکی صدور کو کور کیا ‘مگر اسرائیل کے خلاف صرف ایک جملے نے اس خاتون کا پورا کیریئر ختم کردیا ‘حتیٰ کہ سوسائٹی فار پروفیشنل جرنلسٹس نے ا س کا لائف ٹائم اچیومنٹ ایوارڈ بھی واپس لے لیا۔امریکیوں سے جب اس قسم کے رویے کا جواز دریافت کیا جاتا ہے تو جواباً فقط آئیں بائیں شائیں !
امریکیوں سے تیسرا سوال ان کے پاکستان میں امیج سے متعلق تھا کہ پاکستان میںامریکہ کے لئے اس قدر نفرت کیوں ہے اورلوگ امریکہ مخالف سازشی نظریات میں کیوں یقین کرتے ہیں ؟ اس سوال کا بھی ٹھوس جواب امریکیوں کے پاس نہیں تھا ،یہاں میں نے ان کی مدد کی ’’سی آئی اے کا ایجنٹ پاکستان میں دو لوگوں کو گولی مار کر ہلاک کر دیتا ہے ،آپ اسے چھڑا کر لے جاتے ہیں ،سلالہ چیک پوسٹ پر حملے میں پاکستانی فوجی مارے جاتے ہیں اور آپ معافی مانگنا گوارا نہیں کرتے ‘ڈرون حملے میں دہشت گردوں کو مارنے کا دعویٰ کرتے ہیں مگر مرنے والوں کی کبھی فہرست جار ی نہیں کرتے اور عافیہ صدیقی......اس پر آپ نے جو مقدمہ بنایا وہ یوں تھا کہ ایک کمرے میں تین مسلح اور ایک غیر مسلح شخص تھے، ان میں سے ایک نے گولی چلائی، غیر مسلح شخص زخمی ہو گیا، عدالت نے اسی کو چھیاسی برس قید سنا دی ،اس کا نا م عافیہ صدیقی ہے۔ اگر آپ کے انصاف کا یہی معیار ہے تو پھر تیار رہئے ،پاکستان میں آپ کا امیج بہتر ہونے کی کوئی امید نہیں!‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *