دیوانے کی دھمکی

زاہد حسین

عمران خان کے منہ سے روزانہ خارج ہونے والے نئے بلبلے اوربراہ راست کارکردگی دکھانے والے طاہرالقادری کے مظاہرے، اس بدقسمت قوم کے اعصاب کو چکنا چور کر چکے ہیں۔نصف شب اختتام پذیر ہونے والے اجلاس ایک فوری ’انقلاب‘ اور ’آزادی‘ اور مطالبات کے ایک اور مجموعے کی ایک اور ڈیڈ لائن کے ساتھ تقریباً ہمیشہ ختم ہو جاتے ہیں۔
گزشتہ ہفتے کے اختتام پر ایک ہنوز نہ مل سکنے والے تھرڈ امپائر کے نمودار ہونے اور انگلی اٹھاکر انقلاب کرنے شروع کا مفروضہ قائم کیا گیالیکن یہ تاحال نہیں آ سکا۔ شاید کھیل کا منصوبہ بدل چکا ہے، کنٹینر وں میں مقیم انقلابیوں کیلئے انتظار کو مزید غصہ دلانے والا عنصر بنایا جا رہا ہے۔بہادر کپتان اب کنٹینر میں کئی ماہ گزارنے کا ارادہ رکھتے ہیں اور شیخ الاسلام کفن پہننے کی تیاری کر رہے ہیں۔ یہ صورتحال ا ب دیوانے کی دھمکی میں تبدیل ہو چکی ہے۔
اب یہ محض اعصاب کا کھیل اور مارچوں کی جنگ ہے۔ جیسا کہ وزیر اعظم کے حامی بھی سیاسی قوت کے مظاہرے کیلئے گلیوں میں نکل آئے ہیں۔ اس عالم تعطل میں کوئی جانب ایک قدم پیچھے نہیں ہٹ رہی۔ گزشتہ ہفتے پارلیمان کے دونوں ایوانوں نے وزیر اعظم کے استعفیٰ کے مطالبے کو مسترد کرتے ہوئے مشترکہ قراردادیں منظور کی ہیں۔ تاہم، شایدکسی بھی وقت یہی پارلیمان کھیل کو بدل دینے والا ثابت ہو جائے۔
پاکستان تحریک انصاف پارلیمان کے خلاف بہت سخت مؤقف رکھتی ہے تاہم، عمران خان اس جنگ کو ایک تلخ اختتام کی طرف لے جانے کے معاملے میں خاصے ضدی نظر آرہے ہیں۔ وہ نواز شریف کے سر سے کم کسی چیز پر آمادہ نہیں ہیں۔ چاہے انہیں اس کے لئے ایک ماہ ہی کیوں نہ بیٹھنا پڑے، وہ بیٹھیں گے۔ وہ اس مسئلے پر سمجھوتا نہیں کریں گے جو ان کی مہم کا مرکزی نکتہ رہا ہے۔ عین ممکن ہے کہ ان کا بے لچک رویہ ان کیلئے کسی تباہی کا پیش خیمہ ثابت ہو۔ موجودہ نظام کوپٹڑی سے اتارے بغیر وہ کسی اور طرح اپنے مطالبات کی فہرست کو مکمل طورحقیقت کا روپ نہیں دے سکتے۔
ہرچند کہ زیادہ تر سیاسی جماعتیں انتخابی بے ایمانیوں سے متعلق تفتیش کے پاکستان تحریک انصاف کے مؤقف اور انتخابی اصلاحات کے اس کے مطالبے کی حمایت کرتی ہیں تاہم ایسا کوئی بھی نہیں ہے جو کسی بیرونی قوت کی مداخلت یا جمہوری سیاسی عمل کی معطلی کی خواہش کرے۔شاید یہی وجہ ہے کہ امپائر کپتان کی مدد کیلئے نہیں آ رہے۔ لہٰذا ابھی کپتان کو امپائر کو میدان میں لانے کیلئے کچھ مزید محنت کرنا ہوگی لیکن ایسے بھاری بھر کم مخالفین کے خلاف کام کرتے ہوئے یہ کچھ اس قدر آسان نہ ہوگا۔
عمران خان کی مایوسی ان کی شہری نافرمانی کی مضحکہ خیز کال سے آشکار ہوتی تھی۔ بالکل حال ہی میں، انہوں نے لوگوں کو نصیحت کی ہے کہ وہ سرکاری بینکوں میں موجود اپنے اکاؤنٹ بند کر دیں اور بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو نصیحت کی کہ وہ ہنڈی کے ذریعے اپنے پیسے پاکستان بھیجیں۔
اس وقت تو یوں لگتا تھا کہ وہ اپنے حواس ہی کھو بیٹھے ہیں کہ جب انہوں نے عالمی بنک اور آئی ایم ایف کو خبردار کیاکہ وہ حکومت پاکستان کے ساتھ کاروبار نہ کریں۔ اس طرح کے غیرذمہ دارانہ بیانات کے بعد کیا کوئی شخص واقعی انہیں رہنما تسلیم کر سکتا ہے؟اب ان کی ساری سیاست نواز شریف کے گرد گھوم رہی ہے اور ہر قسم کی تعمیراتی سوچ سے محروم ہے؟
کیا ان تمام بیانات کے ذریعے عمران خان نے کسی دانائی اور سیاسی تدبر کا مظاہرہ کیا ؟وہ مذاکرات کے دوران حکومت کی جانب سے پی ٹی آئی کے چھ میں سے پانچ مطالبات ماننے کی پیشکش قبول کرکے آسانی سے اس صورتحال سے نکل سکتے تھے۔بلا شبہ انہوں نے حکومت کو دھاندلی کے الزامات کی تفتیش کیلئے اعلیٰ اختیارات کا حامل تحقیقاتی کمیشن بنانے اور انتخابی اصلاحات شروع کرنے پر راضی کرکے ایک اخلاقی برتری حاصل کر لی تھی۔ مگر اب اپنے ضدی پن اور بے عقلی کے سبب، انہوں نے تصادم کا راستہ اختیار کر لیا ہے۔
اس وقت تک تو یہ بہت مشکل ہے کہ اس تعطل کے کسی نتیجے کی نشاندہی کی جائے۔وزیراعظم شاید جیت جائیں لیکن وہ بھی بے ضرر نہیں رہیں گے۔ یہ تنازعہ پہلے ہی انہیں ان کے شاہی زعم سے جھنجھوڑ کر باہر نکال چکا ہے۔اب پنجاب پر ان کی مضبوط گرفت کو شدید خطرہ لاحق ہے۔
ماڈل ٹاؤن میں ہونے والے قتل عام پر آنے والی رپورٹ کے مطابق اس معاملے میں شامل ہونے کے الزام کے بعد شہباز شریف کیلئے یہ بہت مشکل ہے کہ وہ پنجاب کے تخت پر بدستور براجمان رہیں۔
یہ جزوقتی قیادت کا وقت نہیں ہے، جو میاں صاحب اب تک ہمیں فراہم کر رہے ہیں۔ یہ دوسری تمام سیاسی جماعتوں کیلئے بھی ایک اہم لمحہ ہے کہ وہ سچائی کو بھانپ لیں۔ سیاسی جمود کا زمانہ اب گزرتا جا رہا ہے۔ ان کے طریقہ ہائے کار سے اختلاف کرنے کے باوجود، یہاں یہ تذکرہ ضروری ہے کہ عمران اور قادری عوام کی بے چینی کو دشمن کے سامنے لے آئے ہیں۔ اگر حکمران سننے کی پروا کریں توان کو عوام کی جانب سے ملنے والا پیغام بہرحال بہت واضح ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *