جنگ ستمبر 1965 کے شہداء کی وجہ سے آج ہم ایک آزاد اور باوقار ملک میں رہ رہے ہیں، آرمی چیف

download (3)

راولپنڈی ۔ آرمی چیف جنرل راحیل شریف کا یوم دفاع کی مرکزی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ دہشتگردی کیخلاف آپریشن ضرب عضب نے اپنے طے شدہ عسکری مقاصد حاصل کر لئے ہیں۔ ضرب عضب کی کامیابی تینوں مسلح افواج کی بے پناہ کامیابیوں کا نتیجہ ہے۔ ضرب عضب شاید دنیا کیلئے صرف ایک جنگ ہو لیکن یہ ہمارے بقاء کی جنگ ہے۔ اپنے شہداء کی قربانیوں کو ضائع نہیں ہونے دیں گے۔ قومی سلامتی کی خاطر کسی بھی تک حد تک جانے سے گریز نہیں کریں گے۔ آرمی چیف نے کہا کہ پاکستان میں مکمل امن کیلئے نیشنل ایکشن پلان کی روح کے مطابق عمل کرنا ہوگا۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوئے جنرل راحیل شریف کا کہنا تھا کہ ہم دوستی نبھانا بھی جانتے ہیں اور دشمنی کا قرض بھی، ملک کے دشمنوں کو واضح کرتا ہوں کہ پاکستان کا دفاع پہلے مضبوط تھا، اب ناقابل تسخیر بن چکا ہے۔ اگر ہم جیت سکتے ہیں تو اپنی جیت کی حفاظت بھی کر سکتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ دہشتگردی کے ناسور سے کئی ملک انتشار کا شکار ہوئے تاہم اللہ تعالیٰ کے کرم سے پاک فوج اور قوم نے دہشتگردی کا ڈٹ کر سامنا کیا۔ پولیس اور لیویز نے بھی بے پناہ قربانیاں پیش کیں۔ آج وطن عزیز کا کوئی بھی علاقہ آج سبز ہلالہ پرچم سے محروم نہیں ہے۔ آرمی چیف کا کہنا تھا کہ افغانستان ہمارا ہمسایہ اور برادر اسلامی ملک ہے جہاں کا امن بھی پاکستان کیلئے ناگزیر ہے۔ خلوص کے ساتھ افغانستان میں امن کیلئے کردار ادا کر رہے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ مسئلہ کشمیر کا حل اقوام متحدہ کی قراردادوں پر عمل کرنے میں ہے۔ مقبوضہ کشمیر کے عوام بدترین ریاستی دہشتگردی سے گزر رہے ہیں۔ کشمیر ہماری شہ رگ کی طرح ہے۔ کشمیریوں کی سفارتی، سیاسی اور اخلاقی مدد جاری رکھیں گے۔ پاک چین دوستی کے حوالے سے بات کرتے ہوئے آرمی چیف نے کہا کہ سی پیک منصوبے کی حفاظت ہمارا قومی فریضہ ہے۔ اس منصوبے کیخلاف ہر کوشش سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا۔ سی پیک کا عظیم منصوبہ پورے خطے کی خوشحالی کیلئے مددگار ثابت ہوگا:۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *