پاکستان میں تمہارا ہوں، تم سے ہوں اور میں کبھی بھی تم سے جدا نہیں ہوں۔ خسرو طارق

khusroمصنف ایک پاکستانی امریکن طبیبِ نفسی ہیں جو فی الحال Jungian psychoanalysisمیں ٹریننگ لے رہے ہیں۔
میں تب چھ سال کا تھا جب میں مزنگ میں اپنی نانی کے گھر سے مزنگ بازار گھومنے نکلا اور گم ہو گیا۔ جب مجھے کچھ سمجھ نا آیا تو میں نے رونا شروع کر دیا ور تب ایک سبزی والے نے کچھ دوکانداروں کی مدد سے مجھے میرے گھر پہنچایا جہاں میری ماں ، خالہ اور نانی مجھے دیوانہ وار ڈھونڈ رہے تھے۔ آج بھی جب اُن لوگوں کے بارے میں سوچتا ہو جنہوں نے میری مدد کی تو دل سے شکریہ کے الفاظ نکلتے ہیں۔ اپنے کلینیکل پیریڈ میں ایک دفعہ میرے سامنے ایک کیس آیا جس میں وزیرستان سے آنے والے ایک آدمی کو اپنی بیوی کا علاج کرانا تھا۔ اُس کی بیوی ہیپاٹائٹس کی مریضہ تھی اور وہ آدمی کسی بڑے ہسپتال کا بل نہیں دے سکتا تھا اور وزیرستان میں سڑکیں توڑنے کا کام کرتا تھا۔ ہمارا ایک چھوٹا سا ٹیچنگ ہسپتال تھا اور انتہائی نگہداشت کے وارڈ میں ایک مریض کی بھی جگہ نہیں تھی۔ لیکن پھر یہ ہوا کہ ہسپتال کی انتظامیہ نے بستروں کو ایک بڑے کمرے میں شفٹ کر کے بمشکل ایک بیڈ کی جگہ بنائی۔ وہ عورت اُسی رات وفات پا گئی مگر اُس کو بچانے کے لیے کی جانے والی محنت کا ایک ایک لمحہ میرے دماغ میں آج بھی موجود ہے۔
امریکہ جانے سے دو سال پہلے میں نے ایک فری مینٹل کلینک میں کام کیا۔ اس کلینک میں دماغی طور پر معذور لوگوں کا علاج کیا جاتا تھا اور مجھے آج تک یاد ہے کہ کیسے وہاں کام کرنے والے تمام افراد اپنی سکت سے زیادہ وہاں موجود مریضوں کا خیال رکھتے تھے۔ جب بھی اُس کلینک میں کھانے کا وقت ہوتا تھا ہم سب لوگ وہاں مل کے کھانا کھاتے تھے۔ ہمارے سٹاف میں ہندو اور عیسائی دونوں شامل تھے مگر کھانا کھانے کے اوقات میں ہم مذہب اور مسلک کی تمیز بھول جاتے اور سب مل کر کھانا کھاتے تھے۔ تب وہاں کو ئی ہندو، مسلمان، عیسائی، پنجابی سندھی، پختون نہیں ہوتا تھا بلکہ سب پاکستانی ہوتے تھے۔
میں پاکستان کی حکومت اور معاشی پہلوؤں پر ہمیشہ تنقید بھری نظر رکھتا ہوں مگر یہ بھی مانتا ہوں کہ تنقید ہمیشہ کسی چیز کا حل نہیں ہوتی۔ یہ جو معاشرے کو شرمندہ کرنے کا نیا طریقہ ہمارے لکھاریوں نے اپنایا ہوا ہے اس سے مجھے اختلاف ہے۔ پاکستان میں عوا م کو شرمندہ کرنے والے بہت سے عوامل پہلے سے موجود ہیں۔ اس طریقے سے لوگوں میں موجود غم و غصّے میں اضافہ ہو گا۔ بلکہ پچھلے کچھ دنوں میں تو ایسے بلاگز کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے جن میں پاکستان کے وجود کو چیلنج کیا گیا ہے اور پاک بھارت اتحاد یعنی ’’ یونایٹد انڈیا ‘‘ کی بات کی گئی ہے۔ میں ایسا لکھنے والوں کی عزت کرتا ہوں مگر بتا دینا چاہتا ہوں کی یونائٹد انڈیا نام کی کوئی چیز پاکستان کی تاریخ میں موجود نہیں ہے۔
مجھے پاکستان میں موجود بے بہا اچھی چیزوں کے بارے میں کوئی شک نہیں ہے۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان کیا کیا کرسکتا ہے۔ میں جانتا ہوں کہ پاکستان مذہب اور مسلک کی تفریق سے اوپر اُٹھ کے بات کر سکتا ہے۔ میں نے ایسا دیکھا ہے بلکہ میں چیز کا آنکھوں دیکھا گواہ ہوں۔ ایک قوم میں اپنی برائیوں کو سمجھنے اور اچھائیوں کی عزت کرنے کی طاقت ہونی چاہیے اور اگر ایسا نا ہو تو ہی دہشت گردی اور انتہا پسندی پروان چڑھتی ہے۔
پاکستان کوکچھ ایسا چاہیے جو پاکستان کو متحد کر سکے، کچھ ایسا جس پر سب راضی ہوں۔ ایسے میں دو چیزیں ہماری ضرورت کے مطابق ہیں، ایک پاکستان اور دوسرے پاکستانی۔ ہمیں اپنے اوپر لگے باقی تمام لیبل اُتار کر اپنے آپ کو صرف پاکستانی سمجھنا چاہیے۔ عقائد کو لوگوں کو جوڑنے کے لیے استعمال کرنا ہو گا ناکہ توڑنے کے لیے۔ ہمیں ایک دوسرے کی آراء کی عزت کرنی چاہیے۔ ایک بات یاد رکھیے۔۔۔ ہم پاکستان کے ہیں۔ پاکستان سے ہیں اور ہمیں پاکستان سے کوئی جدا نہیں کر سکتا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *