اہل تبلیغ اب عام آدمی کے مسائل کے حل کی طرف بھی آئیں

syed arif mustafa

مجھے یہ کہنے میں کوئی تکلف نہیں کہ پاکستان میں جس طرح انقلاب کے نعرے لگا لگا کر فریب کاریاں کی گئی ہیں اسنے عام آدمی کو اس لفظ سے ہی بیزار کردیا ہے اور اس معاملے میں سب سیاسی و دینی جماعتیں قصور وار ہیں ۔۔۔ نون لیگ اور پیپلز پارٹی تو درحقیقت خاندانی راجوڑے اور پبلک لیمیٹیڈ کمپنیاں ہیں اور ان سے فلاح عامہ کی توقع رکھنا بیل سے دودھ ملنے کی امد جیسی بات ہے ۔۔۔ ایک تحریک انصاف تبدیلی کے نعرے لگاتی ابھری تھی لیکن پھر اسے پرانے موقع پرستوں ، مشرف کے پیاروں اور برگر کلچر کے ماروں نے گھیرلیا اور جہانتک بات ہے جمیعت العلمائے اسلام کی تو مولانا فضل الرحمان نے اسکے نام پہ دین اور کشمیر کی تجارت کے سوا کچھ نہیں کیا ،،، انکا گھناؤنا طرزعمل منافقت کی بدترین مثال ہے ۔۔ رہی اے این پی تو وہ نہ تین میں ہے نہ تیرا میں اور اسکے قائد اسفند یار ولی نے بھی سیاست کو اپنی بزنس ایمپائر کھڑی کرلینے کا ذریعہ سمجھا ہوا ہے اسکی مضبوطی کے لیئے نئے مواقع تلاش کرنے موصوف کبھی کبھی پاکستان کے دورے پہ بھی آیا کرتےہیں ۔۔۔ اور جماعت اسلامی کا معاملہ یہ ہے کہ سب سے بہتر اور منظم جماعت ہونے کے باوجود بے سمتی میں رواں دواں ہے اور خدا مست درویشوں کا یہ قافلہ اب موقع پرست دنیاداروں و جعلی درویشوں کی کمان میں ہے کہ کبھی ایک چور کے ساتھ ہاتھ ملاتے دکھتےہیں تو کبھی کسی دوسرے راہزن کی اتحادی دم پکڑ کے چلنے لگتے ہیں ۔۔۔ لے دے کے نمائشی اقدامات پہ انحصار کررکھا ہے جیسے کہ کرپشن کے خلاف ٹرین مارچ ۔۔۔ اگر جماعت کے اکابرین اس پہ کثیر رقم خرچ کرنے کے بجائے کرپٹ سیاستدانوں اور بیورو کریٹس کی املاک کی تفصیل جاننے اور مشتہر کرنے ہی میں ذرا محنت کرلیتے تو کرپشن میں کمی لانے کی سمت کچھ تو مثبت اور کسی حد تک نتیجہ خیز قدم اٹھ سکتا تھا ۔۔۔

ایسے میں لے دے کے میری نظر ملک میں مخلص اور نیک لوگوں کے سب بڑے گروہ یعنی اہل تبلیغ کی طرف کیوں نہ جائے کہ جب چار سو اندھیرا ہو تو امید کی کسی ایک کرن کی طرف بھی توجہ کیوں نہ کی جائے پھر جبکہ اس جماعت کا نیٹ ورک سارے ملک بلکہ ہر قصبے اور گاؤں تک پھیلا ہوا ہے۔۔۔ من کی باتیں کرنے سے کپہلے یہ عرض کردوں کہ میں دل کی گہرائیوں سےان اصحاب کی بہت قدر کرتا ہوں کہ جواس الوہی تبلیغی رستے کے رہرو ہیں۔۔۔ خواہ کسی رنگ کے عمامے میں ہوں کیونکہ اللہ کے راستے میں نکلنا سراسر پیغمبری سنت ہےاور ہرکسی کے بس کی بات نہیں،،، میں خود بھی کچھ عرصے سے اورنگی ٹاؤن والے سالانہ اجتماع میں جایا کرتا ہوں،، تاہم مجھے اس ضمن میں کئی امور میں کچھ تحفظات بھی ہیں۔۔۔! اور یہاں اس حوالے سے چند گزارشات لیکر حاضر ہوں۔۔۔ پہلی۔۔۔ بات تو یہ ہے کہ میری دانست میں دعوت تبلیغ کے اس مضبوط ترین نیٹ ورک کو اسکی حقیقی افادیت سےکی بہت کم پہ برتا جارہا ہے اور عملاً اسکو قال اللہ و قال الرسول کی نظریاتی تک ہی محدود کردیا گیا ہے اور عملی پہلو پہ کوئی توجہ نہیں ۔۔۔۔ جبکہ سچ تو یہ ہے کہ جبتک یہ تحریک عام آدمی کے بڑے روزمرہ مسائل کے حل کی جانب توجہ نہیں کرے گی، اسے عام طبقات کا وہ التفات میسر آ ہی نہیں سکے گا کہ جسکی یہ متقاضی ہے۔۔۔ اور نہ ہی اسکی آواز اسقدر توانا ہوسکے گی کہ یہ کوئی بڑی نظریاتی تبدیلی لاسکے۔۔۔ عام آدمی کا اس وقت سب سے بڑا مسئلہ بڑھتی ہوئی مہنگائی ہے، زیادہ تر لوگ اب پیٹ سے سوچتے ہیں اور ہردم یہ راگ الاپتے ہیں کہ "پہلے پرماتما، پھر دھرماتما ۔۔۔" باقی سارے جذبے اور ولولے اب اسی کے تابع ہوچلے ہیں۔۔۔ اس لیئے مہنگائی اور سماجی بیماریوں کے جن کو قابو میں لانے کے لائے بغیر کوئی حقیقی فلاحی تبدیلی نہیں لائی جاسکتی نہ تو دنیا کی اور نہ ہی دین کی ۔۔۔

یہاں یہ بات عرض کرنا ضروری سمجھتا ہوں کہ یہ بات کہی تو بڑے شدومد سے جاتی ہے کہ ہمارا دین زندگی کے سبھی شعبوں اور سارے تقاضوں پہ محیط ہے۔۔۔ لیکن اس میں موجود پیغام کو سمجھنے کی زحمت بہت کم لوگ کیا کرتے ہیں۔۔۔ دین صرف عبادات یعنی نماز روزہ و دیگر ارکان کی پابندی کا ہی نام نہیں ہے بلکہ اسکا اہم ترین جزو "معاملات" کا پہلو ہے جس کا براہ راست تعلق دوسرے افراد سے ہے، اور اس کی کوتاہی میں تو خدا کی طرف سے بھی معافی کی گنجائش مطلق نہیں،،،ایک سچا مسلمان اپنے ارد گرد کے مسائل سے صرف نظر کر ہی نہیں سکتا اورمسلمان محض کسی خانقاہ کا پابند قیدی نہیں بن سکتا۔۔۔ یہ تاریخی حقیقت بھی ہرگز نہیں بھولنا چاہیئے کہخداکا عذاب جن بستیوں پہ آیا ہے وہاں ایسے عابد و زاہد حضرات کی شامت زیادہ آئی کہ جو ارد گرد کی خرابیوں کے تدارک کی طرف سے پیٹھ موڑ کر صرف دن رات عبادت کرنے ہی میں لگے رہتے تھے۔۔۔ میں اسی سبب حاجی شریعت اللہ، تیتو میر، دودھو میاں سید احمد شہید ، شاہ اسماعیل شہید اور شاہ ولی اللہ کو اپنا فکری رہنما تصور کرتا ہوں کہ جنہوں نے اگر ایک طرف تو دعوت وتبلیغ کا بیڑہ اٹھایا تو دوسری طرف معاشرے کے انحطاط کو دیگر علمی و جہادی طریقوں‌ سے بھی روکنے کی کوششیں کی اور خود کو اس دور کے سنگین مسائل کا حل نکالنے کیلیئے وقف کردیا تھا۔۔۔ مجھے یہ کہتے ہو ئے بڑا افسوس ہو رہا ہے آج بھی مجھے کئی تبلیغی دوست ایسے ٹکراتے ہیں کہ جنکی فہم دین نہایت محدود ہے اور وہ سوائےاسکے کہ لوگوں کو گھیر گھار تک مسجد تک لے آئیں‌اور نمازیں پڑھوائیں یا ساتھ میں گشت پہ لے جائیں، اسے سے ہٹ کر انہیں دین کی اشاعت کا کوئی اور پہلو سمجھ ہی نہیں آتا۔۔۔ یوں لگتا ہے کہ جیسے انکا عام آدمی کے مسائل اور معاشرتی برائیوں کے خاتمے سے کوئی لینا دینا ہی نہیں ۔۔۔ یہ تو سراسر رہبانیت کا انداز ہے جو کہ دین کا مقصود نہیں-

ایک اور پہلو جس کی طرف میں متعلقہ لوگوں کی توجہ مبذول کرانا چاہتا ہوں وہ یہ ہے کہ اب وقت آگیا ہے کہ اس سہ روزہ سالانہ اجتماع کے نظام کو اور زیادہ موثر اور بامقصد بنایا جائے،، نہ کہ یہ محض روحانی پکنک میں بدل کر رہ جائے، یا بس اس اجتماع کا حاصل محض یہ ہو کہ حاضرین یہ دیکھ دیکھ کر ہی خوش ہوتے رہیں کہ کیسے کیسے امیر لوگ یہاں پر چٹائی نشین بنے ہوئے ہیں۔۔۔۔۔ میں بڑے دکھ کے ساتھ اپنا یہ مشاہدہ بھی یہاں شیئر کررہا ہوں کہ وہاں اجتماع میں بہت اچھی تقاریر ہوتی ہیں لیکن ایک بڑی تعداد انکو سننےکی طرف مائل نہیں ہوتی اور محض وہاں پہنچ جانے کو ہی سب سے بڑا حاصل اور اصلی مقصد ٹہرا لیا جاتا ہے۔۔۔ ہروقت ہر طرف آنیاں جانیاں لگی رہتی ہیں، خاصی بڑی تعداد میں لوگ محض ذاتی گفتگو ہی میں لگے رہتے ہیں اور لگتا ہےکہ اپنے سارے ذاتی و کاروباری پلان یہیں سے بنا کے نکلیں گے۔۔۔ بیچارہ مقرراپنی بات کہنے میں لگا رہتا ہے اور چند ایسے بے نیازلوگوں کا رویہ کان دھرنے کا نہیں بلکہ محض یہ ہوتا ہے "ہاں آپ کہتے رہو، ٹھیک ہی کہ رہے ہوگے، ہمیں آپ پہ پورا اعتبار ہے"۔۔۔۔ ! اس ناقدری کو دیکھتے ہوئےمیری تجویز یہ ہے کہ انتظامیہ کی جانب سے وہاں کی جانے والی تقاریر کا پہلےسے خلاصہ اور شیڈول تیار کرلیا جائے اور اس خلاصےکی فوٹو کاپیاں شرکاء میں بوقت داخلہ تقسیم کردی جائیں۔۔ تاکہ وہ اس تقریر کے متن کو زیادہ دلچسپی سے سنیں اور سمجھیں، اور بعد میں گھر جاکر یہ فوٹو کاپیاں انکے آموختے کا کام دیں اور وہ انکی مدد سے اپنے اہل خانہ کو بھی کسی حد تک یہ سب کچھ کسی حد تک سمجھا سکیں،،، ایسے حضرات کو ڈھونڈھ کے لایا جائے اور کہ جنکی تقاریر بہتر علمی معیار ہی نہیں، دلنشیں الفاط کی چاشنی کی حامل ہونے کی بھی شہرت رکھتی ہوں۔۔۔ تاکہ کی جانے والی تقاریر کوسننے میں زیادہ سے زیادہ لوگ دلچسپی لیں اور یوں اس اجتماع کے اصل مقصد یعنی تربیت کے ہدف کو بطریق احسن حاصل کیا جاسکے۔۔۔ یہی نہیں میں اس سےدو قدم آگے بڑھکر یہ بھی سوچتا ہوں کہ اس اجتماع کو ایکدوسرے کی سماجی ضروریات پوری کرنے کے موثر نیٹ ورک کے طور پہ بھی برتا جاسکتا ہے اور پورے پنڈال میں کئی جگہ ایسے اطلاعاتی بورڈز بھی آویزاں کیئے جاسکتے ہیں کہ جن پہ ملازمت، رشتے اور دیگر روزگار کے مواقع وغیرہ کی بابت اطلاعات کے پرچے چسپاں کیئے جاسکیں اور اہل ایمان آپس میں باہمی یگانگت کو فروغ دے سکیں۔۔۔ گویا اس سارے دعوتی کام کو سماجی فلاح اور عام آدمی کے مسائل کی بیخ کنی کے ہدف سے جوڑنا بھی انتہائی ضروری ہے - اسی طرح مسجدوں میں کیئے جانے والے دعوتی کام بھی اب بہتر نصاب اور بہتر طریقے متعارف کرانے کا تقاضا کرتے ہیں ،،، لیکن یہاں تو قرآن شریف کے بجائے محض فضائل اعمال سے ہی درس دینے پہ ہی سارا انحصار کرلیا گیا ہے اور ہربار بیس تیس کا لگا بندھا اجتماع عام طور پہ وہی روایتی سا بیان سن رہا ہوتا ہے کہ جس میں نئے سننے والے بہت ہی کم ہوتے ہیں اور زیادہ تر محض تبرکاً و تکلفاً ہی شریک محفل ہوتے ہیں-

اس مضمون میں زرا اوپر یہ سخن گسترانہ بات تو میں نےعرض کردی ہے کہ اہل دعوت وتبلیغ کی عوامی مسائل سےبے نیازی اچھی نہیں،، مگر یہ نہیں کہ اس ضمن میں میری لن ترانیاں صرف زبانی کلامی ہی ہیں اور دل کی بھڑاس نکالنے پر ہی موقوف ہیں، بلکہ کچھ عرصہ قبل جب ملک میں چینی کا مصنوعی بحران آیا تھا، تب میں نے ایک تبلیغی وفد سے بڑی دلسوزی سے یہ عرض کی تھی کہ اگرپہلے مرحلے میں علماء اورمعاشرے کے چند دیگر طبقات کو دینی طلبا کی مناسب تعداد کے ساتھ ہمراہ لیکر چند بڑے شوگر مل مالکان سے ملا جائے اور انکو اس ناجائز منافع خوری اور ذخیرہ اندوزی کی بابت اسلام کی تعلیمات کے حوالے شرم دلائی جائے تو بڑا فرق پڑ سکتا ہے، بصورت دیگر ان ملوں کے باہر چند روزہ دھرنا دیکر سب کا دماغ درست کیا جاسکتا ہے کیونکہ اس معاملے میں تو عوام کی کثیر تعداد ساتھ دینے کیلیئے سڑکوں پہ نکل پڑے گی،،،میں نے یہ بھی عرض کی کہ تھی کہ آپ خود مجھے بھی اپنےاس قافلے کے ہراول دستےمیں موجود پائیں گے،،،اول تو ایسے اجتماعی دھرنوں سے بہت مثبت نتائج نکلنے کی امید ہے ورنہ کم ازکم قیمتوں میں مسلسل اضافے کے رجحان کی روک تھام تو ہو ہی جائیگی۔۔۔ اگر اہل تبلیغ کچھ نہ بھی کرسکے تو عوام کو یہ احساس دلانے میں تو کامیاب ہی رہینگے کہ وہ کسی الگ سیارے کی مخلوق نہیں اور انکے دل بھی اپنے دینی بھائیوں کے مصائب پہ یکساں طور پہ دھڑکتے ہیں۔۔۔ لیکن میری معروضات کو قطعی طورپہ سنجیدگی سے نہیں لیا اسی طرح میں نے دودھ کی قیمتوں میں اضافے کو روکنے کی مہم بھی چلائی تھی اور اپنے تبلیغی دوستوں سے مدد چاہی تھی لیکن مجھے انکے عدم تعاون نے بیحد رنجیدہ و ملول کردیا

اک مہنگائی ہی نہیں، اہل تبلیغ کی بے پناہ رابطہ کاری کی قوت کو بہت سی مکروہ رسومات سےجان چھڑالینے کیلیئے بھی بخوبی استعمال کیا جاسکتا ہے، مثلاً ونی، قرآن سے شادی ، وٹہ سٹہ، کاروکاری، اور شادی کے نام پہ بیٹیوں کی فروخت ۔۔۔وغیرہ، وغیرہ۔۔ چونکہ تحصیل ہی نہیں یونین کونسلوں اور گاؤں کی سطح پہ بھی دعوت و تبلیغ کا کام جاری وساری ہے اسلیئے تیزرفتار کمیونیکشن یا مستعد اطلاعاتی نظام کی وساطت سے اس قسم کے گھناؤنے واقعات کےرونما ہونے سے بہت پہلے ہی انکے انسداد یا سمجھانے بجھانے کا کام بخوبی کیا جاسکتا ہے،،، الحمدللھ ابھی تک ہمارے گاؤں دیہات میں مولوی ایک خاص تکریم کے قابل سمجھے جاتے ہیں، اسلیئے گراؤنڈ ورک میں مددگاری کے لیئے کئی ایسے لوگ بھی کمر کس کر سامنے آسکتے ہیں کہ جو انفرادی طور پہ یہ بکھیڑا مول نہیں لے سکتے،،، جہاں اور جس گاؤں میں بھی ایسےظلم کی تیاری کی خبر ملے، بھرا مار کر معقول تعداد میں وہاں پہنچاجائے،،، پھر دیکھیئے، وڈیرے کی فرعونیت کس طرح منمناتی ہے کیونکہ یہ مسلمہ حقیقت ہے کہ ظالم کبھی بہادر نہیں ہوتا،،، ایسے دوچار کارنامے کردکھائے گئے تو یہ معاشرہ آپکو سر آنکھوں پہ بٹھالے گا اور پھر آپ اس سے دین کی نشرواشاعت کا کام بیحد آسان ہوتا چلاجائےگا،،،اور آپ عوام سے دین کا جو بھی مطالبہ منوانا چاہینگے باآسانی منوالینگے

آخر میں یہ کہتا چلوں کہ میری ان معروضات کو خدارا تنقید برائے تنقید کے زمرے میں نہ رکھا جائے،،، نہ ھی یہ کوئی انگشت نمائی ہے ،،، یہ اس دردمندی سے جڑی ہوئی ایک اپنی سی مخلصانہ کوشش ہے کہ جو اس سوچ سے ابھرتی ہے کہ آخر کیا وجہ ہے کہ گزشتہ کئی برس سے جب ہرسال اتنے اتنے بڑے دینی اجتماعات منعقد ہوتے ہیں، اس قدر فراوانی سے قال اللہ و قال الرسول کی محافل برپا ہوتی ہیں کہ جن میں ہر طبقہ عمر اور ہر کلاس کے لوگ دور سے آکر شریک ہوتے ہیں کہ جو پہلے اتنی کثرت سے نہیں ہواکرتی تھیں ، تو تبدیلی کیوں نہیں آپارہی،،، اب تو نہایت گڑگڑا کر رقت آمیز اجتماعی دعاؤں کا اہتمام کیا جاتا ہے، بے پردگی بھی روبہ زوال ہے، نمازیں بھی زیادہ پڑھی جارہی ہیں، اور اب عبادات میں نوجوان طبقے کا تناسب بھی قابل رشک حد تک بڑھ چکا ہے ۔۔ تو پھر ان سب اچھے کاموں کے باوجود آخر برائیوں کا فیصد تناسب پہلے سے زیادہ کیوں بڑھتا جارہا ہے،،، دودھ والا پہلے توصرف پانی ملاتا تھا اب کیمیکل بھی ملا رہا ہے،،،، قصائی پہلے تھوڑی ہڈی زیادہ ڈالدیا تھا ، اب تو ذبح ہوتی گائے میں ہی پانی کا پائپ ٹھونس کر آپکو آدھاگوشت آدھا پانی بیچ رہا ہے۔۔۔ مذبح خانے میں تو کھلے عام مردہ جانور کاٹے اور بیچے جارہے ہیں،،، دوسرے کی خون پسینے کی کمائی کے پلاٹوں کو قبضہ کرکے چائنا کٹنگ اور کئی دیگر ناموں سےحق پرستی اور غریب پروری کےدعویدار دھڑلے سے فروخت کرتے جارہے ہیں،،، تو یہ لازم ٹہرا کہ ہم اک بار ذرا غور تو کرلیں کہ خرابی کی جڑ اصل میں ہے کہاں،،، اور یہ کہ کہیں دیگر اور وجوہات کے ساتھ ساتھ اسکی ایک وجہ یہ بھی تو نہیں کہ ہمارے اہل دعوت و تبلیغ کے کاموں میں بھی اب مزید بہتری لانے کی اشد ضرورت ہے۔۔۔۔! جب تک حق کا پیغام عام آدمی کے مسائل کے حل کی کوششوں کے ساتھ نہیں جڑے گا، معاشرے میں کسی ہمہ گیر اور بڑی تبدیلی کی توقع رکھنا عبث ہےاور محض خیال خام ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *