جس کھیت سے دہکاں کو میسر نہ ہو روزی!   (پہلی قسط)

ghulam mustafa mirani

جناب اسحاق ڈار نے نئے سال کا میزانہ منظر پر لانے سے پہلے، سالانہ اقتصادی سروے رپورٹ پیش کی تھی اور اپنے بیانئے میں زرعی شعبہ کی کارکردگی کو مایوس کن قرار دیا۔ سنا تو مجھے ماضی کے ممتاز سرائیکی شاعر ساحل کا کلام یاد آیا
" ساحل ! لوگ عجیب ڈٹھم ، کٹ مار کے پچھدن کیا تھئ ! "
(ساحل! لوگ کتنے ستمگر ہیں، مارنے اور مجروح کر دینے کے بعد، پوچھتے ہیں کہ کیا ھوا...!! )
زراعت کے ساتھ جلادی سلوک روا رکھنے والی حکومت کے وزیر خزانہ سے اظہار گستاخی کی اجازت چاہوں گا کہ 2018 دور نہیں ھے، آپ کے لچھن اگر یہی رھے تو ستر فیصد سے زیادہ آبادی، صم بکم عمی کی پاتال سے سلگتا ہوا لاوا بن کر نکلے گی اور فریب و فسوں کاری کی اساس پر ایستادہ، ان تمام مصنوعی فصیلوں کو بہا کر لے جائے گی جن کے حصار میں آپ طور خان بن کر " ھمچوں ما دیگرے نیست" کے خبط میں مبتلا ہیں، کاش کہ شریف برادران، اپنے نورتنوں،ثناخوانوں اور درباری قوالوں کی زباں و بیاں کے سحر سے ذرا باھر نکلیں اور دیکھیں کہ زراعت پر کیا بیت رھی ھے، کسان اپنے شب و روز کیسے گزار رہا ھے، زندگی کی بود و باش اور چال ڈھال کس حال میں ہیں !!
زراعت کو زبوں حال کر دینے کے بعد، کس منہ سے، آپ اسکی درماندگی کا درد بیان کرتے ہیں اور کب تک چرب زبانی سے حقائق چباتے اور عواقب  چھپاتے رہیں  گے. چند روز پہلے کی بات ھے جناب نزیر ناجی نے، اپنے ایک کالم میں فصلات کی ہولناک تباہی کا تذکرہ کیا اور آپکی بے حسی کا نوحہ پڑھا مگر آپ ہیں کہ ٹس سے مس نہیں ھوتے ورنہ پر مغز تحریر کا لفظ لفظ رونگٹے کھڑے کر دینے والی معاشی تباہی کی غمازی کر رہا تھا اور آپ کے خوابیدہ ضمیر کر جھنجھوڑ رہا تھا۔ محض زراعت پر ہی کیا موقوف، اونٹ رے اونٹ تیری کونسی کل سیدھی !
جس شاخ کو دیکھو وہی فریاد بلب ھے..۔
عارف نظامی صاحب کے خیرخواہانہ انتباہ " کچھ تو سیکھ لو" کے تحت ملک کو در پیش اندرونی اور بیرونی چیلینجز کی نشاندھی اور سرکار کی سست روی کو اجاگر کرنے کا مقصد کیا ھے ! احساس غیرت دلانے کی ایک مخلصانہ کاوش۔ کاھل و کسلمند قیادت اور "بھان متی کنبہ" کے کارن دیکھ کر انہوں نے صحیح نتیجہ اخذ کیا ھے کہ ھماری ناکام پالیسیوں کا منطقی ماحصل، بیک وقت "سو جوتے اور سو پیاز کھانے" کی صورت میں سامنے آ رہا ھے۔۔۔۔!!
اس بھدی بگڑی صورت حال کا ذمہ دار کون ٹھہرتا ھے ؟ کارپردازان حکومت، براجمان اقتدار اور مطلق العنان حکومت.....دولت پاکستان ؟ مگر کیا کیا جائے...!
گرگ میروسگ وزیر و موش دیواں می شوند ،
ایں چنیں ارکان دولت، ملک ویراں می کنند
بات زراعت کی ہو رہی ھے جو اھمیت، افادیت، احتیاج اور اثرات کے حوالے سے، قومی معیشت کیلئے ماں کا درجہ رکھتی ھے اس لیئے کہ اقتصادیات کے بیشتر سوتے اسی سے پھوٹتے ہیں، پیدوار اور آمدنی کے جملہ اسباب زراعت ہی کے بطن سے جنم لیتے ہیں مگر ملک و ملت کو پالنے والی "ماتا جی" نڈھال و بےحال مریض کی مانند، بستر مرگ پر موت و حیات کی کشمکس سے دوچار ھے. وقت گنوائ اور بصارت ماندگی تو ھو گی مگر معذرت کرتے ہوئے، قدرے تفصیل کے ساتھ  تلخ نوائ کی اجازت چاہوں گا.۔۔۔۔!
رکھیو غالب مجھے اس تلخ نوائ میں معاف ،
آج کچھ درد میرے دل میں سٙوا ھوتا ھے...۔۔۔!
زراعت ایک ایسا قدیم پیشہ ہے جو نوع انساں کے کرہء ارض پر قدم رکھتے ہی معرض وجود میں آگیا تھا. صدیوں پر محیط کاشتکاری کا سفر مختلف نوعیت کی تکنیکوں اور متنوع طور طریقوں سے گزرتا ہوا آج کے مشینی دور میں داخل ہو چکا ھے. نو خیز نسلیں، نصف صدی قبل کی ان کلفتوں اور دشواریوں کا تصور بھی نہیں کر سکتیں جن سے ھمارا دیہی سماج نبرد آزما تھا. لکڑی لوھے کے دستی اوزار بنانا،  بیلوں کو جوت کر زمین پر ھل چلانا، کنووں کی گہرائوں سے قطرہ قطرہ پانی نکال کر کھیت کھلیانوں تک پہنچانا ، دست و درانتی سے کٹائ کا کام لینا، سروں پر گٹھڑیاں گڈے اٹھانا، جانوروں کے سموں سے  لتاڑ لتاڑ کر گہائ اور خرمن آرائ کرنا بڑا جانگداز اور جوکھم طلب کام تھا جو فرہاد تقلید فولادی عزم کے ساتھ جوئے شیر لانے اور  مسلسل مجاھدے کے اذیتناک مراحل سے گزرنے کے مترادف تھا،  اس طرح سال بھر انگنت تکلیفوں اور گنجلک پیچیدگیوں سے گزر کر انسان روزی روٹی کمایا کرتا تھا. لگاتار محنت اور ھمہ وقتی مصروفیات کا نتیجہ تھا کہ ھوش نہ حلیہ، عقل نہ شکل، آرام نہ عافیت، گویا "ھر کہ در کان نمک رفت نمک شد" مثل مصداق حالتِ زار تھی۔ حقیقت یہ ھے کہ کسی بھی عمر رسیدہ کسان سے آپ ماضی کی مشقتوں، شب و روز کی شدتوں اور بودوماند کی مت مار کیفیتوں کی بابت بات کریں یا احوال ماضی کے بارے میں کچھ دریافت کرنا چاھیں تو ایامِ گزشتہ اور آلامِ رفتہ کے ذکر پر ہی وہ فکر کی تصویر بن جاتا ھے....
میرے ماضی کو اندھیروں میں  دبا رھنے دو ،
میرا ماضی میری ذلت کے سوا کچھ بھی نہیں
اکیسویں صدی میں، آج ہم سولھویں برس کے باسی ہیں. زراعت کے میدان میں ایجادات کی بدولت دنیا میں کہرام بپا ہے. نت نئ تحقیقات سے بیشتر ممالک ترقی کے عمودی سفر پر گامزن، کامیابیوں کے جھنڈے گاڑ رہے ہیں. ترقی یافتہ ممالک کی تو خیر بات ہی کیا، بیشتر ترقی پذیر اقوام کی زراعت بھی بڑی سبک رفتاری سے محوِ پرواز  ھے اور قابلِ رشک انداز سے ارتقائ مراحل طے کر رہی ہے.  مشنری مزاج جذبوں سے دیہات سدھار اور معیشت سنوار پروگرام چل رھے ہیں. زراعت کا شعبہ کسی بھی ملک کی معیشت کے لئے ریڑھ کی ھڈی کا کر دار ادا کرتا ھے کیونکہ خوراک پوشاک سے لے کر صنعت و حرفت تک ، بیشتر مصنوعات کی اساس زراعت ہی ہے. پاکستان ایک زرعی ملک ہے اور کسی بھی زرعی ملک میں بیروزگاری کا بڑا موثر مداوا زراعت کاری ہی ہوتا ہے. آبادی کے ایک وسیع حصہ کی پیشہ ورانہ مصروفیت اور کفالت، زراعت ہی کی مرہونِ احسان ہوتی ہے، یہی وجہ ہے کہ دنیا بھر کے ہر زرعی ملک میں، سالانہ میزانیہ اور ترجیحات متعین کرتے ہوئے زراعت کو خصوصی توجہ اور اھمیت دی جاتی ھے . آپ دنیا کی متلاطم، مچلتی اور پروان چڑھتی معیشتوں پر ایک طائرانہ نگاہ تو ڈالیں کہ کسطرح زراعت کو جدید تقاضوں سے ھم آھنگ کرنے کیلئے تمام ممکنہ اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں جن میں کاشتکاری کے روائتی طریقوں کو ترک کر کے سائنسی بنیادوں پر استوار کرنا، اصلاحِ آبپاشی کیلئے موثر اقدامات اٹھانا، نہری پانی کی عدم دستیابی کی صورت میں ٹیوب ویلوں کی تنصیبات کرنا اور اس غرض کیلئے برقی سپلائ کی فراھمی یقینی بنانا، زرعی تعلیم و تربیت اور تحقیق کے اداروں کا جال بچھانا ، کاشتکاروں کو بلا تعطل زرعی مشوروں اور رھنمائ سے نوازنا، اس مقصد کیلئے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کا کارآمد استعمال جاری رکھنا، خوب سے خوب تر کی جستجو اور تگاپو میں لگے رھنے کی مسلسل مساعی شامل ہیں.
زرعی تعلیم و تحقیق اور عملی اقدامات کے حوالہ سے دیکھا جائے تو دنیا نہایت مستعدی سے آگے بڑھ رھی ھے اور بڑی چابکدستی سے اسرارِ فطرت کی تلاش میں مگن، مکمل مساعی بروئے کار لا رھی ھے تاکہ کارخانہء قدرت میں، مالک ارض و سما کے پوشیدہ حزانوں تک رسائ اور کمائ ممکن ھو سکے جس نے اپنے کلام اقدس میں، مخلوق کو بار بار غور و فکر کی ترغیب عطا فرمائ ھے مگر بڑی بد نصیبی ھے کہ زراعت کے میدان میں جاری تگ و دو اور عالمی سطح پر کامرانیوں اور فتحمندیوں کے طلسماتی تذکروں میں، پاکستان کا نام کہیں بھی ابھرتا دکھائ نہیں دیتا، ماسوائے مصنوعی رپوتاژ اور لوٹ مار کی الف لیلائ داستانوں کے، جنھیں بس سنتا جا، شرماتا جا....... ذرا باھر جھانک کر  دیکھیں تو سہی ،
کہتی ھے تجھ کو خلقِ خدا غائبانہ کیا   !
ھمارے ادارے بدنام، ھماری بیوکریسی بدنام، ھمارے حکمران بدنام ، غرضیکہ ھمارا پورے کا پورا نظام بدنام.
بدنامیوں کا طوفان ، ویرانیوں کے انجام سے شروع ھوا اور روئے زمین پر ہمیں منہ چھپانے کے سوا کہیں کا نہ چھوڑا. ایک زمانہ تک الزامات اور بدنامیوں کے تذکرے، تاجروں اور مال تجارت کی ھیرا پھیریوں تک محدود رہا کرتے تھے مگر اب لیول بڑھ چکا ہے، سوئس بنک اور سرے محل سیکینڈلز، وکی لیکس، پانامہ پیپرز لیکس، پے در پے منی لانڈرنگ کے پر اسرار معمے، دبئ اور دیگر ممالک میں بنائے جانے والے اثاثوں کے احوال، برطانوی بزنسز کے بارے میں پھیلتی کہانیاں، نجانے کون کون سی وارداتیں اور کیا کیا واقعات، کچھ ظاھر، بہت پوشیدہ ! چند واضح، بیشتر نادیدہ !!
تن ہمہ داغ داغ شد پنبہ  کجا کجا نہم
قومی اداروں کی تباہی اور بربادی کی فہرست میں یوں تو شاید ہی کوئ ادارہ کرپشن اور کوتاہیوں کی کارستانیوں سے بچ سکا ہو تاھم زراعت کی زبوں حالی کے حقائق سب پر الم نشرح ہیں۔ ملک کی ستر فیصد آبادی کی کفالت اور اور سو فیصد آبادی کو غذا فراھم کرنے والا شعبہ زراعت ہی ہے جو شکست و ریخت سے دوچار،  نقاھت سے لڑکھڑا رہا ھے. کس قدر قلق انگیز بات ہے کہ قومی صنعت کو خام مال مہیا کرنے اور مشین کا پہیہ گھمانے کا سب سے اھم ذریعہ ڈانواڈول حالت میں ، اب سہاروں کا منتظر ھے !!
نوبت باینجا رسید کہ دیہی آبادیاں خود، اس پیشہ سے دل برداشتہ ہو رہی ہیں. شبانہ روز کی مشقت اور  عرق ریزی کا حاصل، اگر آبرومندانہ گزراوقات ہی ممکن نہ بنا سکے تو تخم ریزی سے ثمر یابی تک، انتظار اور اخراجات کے اذیتناک مراحل کا سامنا کون اور کس طرح کر سکتا ہے. مشکل اور غیر یقینی حالات کا بوجھ اٹھانے کی سکت کس میں ھے  اور پھر تا بہ کے !!!
پیپلز پارٹی اور قاف لیگیوں کے ادوار حکمرانی کو کرپشن ، نااھلی اور من مانیوں کے حوالہ سے آپ جس قدر چاھیں، مطعون کرلیں ، شاید ہی کوئ غیر جانبدار مبصر آپ سے اختلاف رائے کا اظہار کرسکے مگر تمام نقائص اور جملہ معائب کے باوجود، زراعت کے بارے میں انکی دلچسپی اور ترقی پزیر پالیسیوں کا کریڈٹ نہ دینا ناانصافی ہوگی. زراعت کو سمجھنے اور سنبھالنے، پنپنے اور پروان چڑھانے کیلئے، پی پی پی اور "ق " قبیلہ کی حکومتوں کا کردار، اگرچہ مثالی نوعیت کا نہیں تھا لیکن دیگر ادوارِ حکمرانی سے بہر طور بہتر اور پروگریسو رہا. زرعی قرضوں کی فراھمی، نہری نظام میں ندرت، کھادوں اور ادویات پر کنٹرول، کھالاجات کی تعمیرومرمت، بجلی کے اوقات کار کے تعین میں رات کے دوران بلا تعطل سپلائ تاکہ کھیت سیراب ہو سکیں، ٹیرف سبسیڈیز ، ٹریکٹرز اور زرعی اوزار کی قیمتوں پر گرفت اور رعایت... سب سےے بڑھ کر اجناس کی قیمتوں کا منصفانہ تعین اور کاشتکار سے بر وقت خرید کا اہتمام، جس کے نتیجہ میں کسان کو ریلیف اور ملک کو ریکارڈ پیدواریں ملیں. گندم ، گنا،چاول، کپاس اور دیگر پیدواروں میں زبردست اضافہ ہوا . گیہوں اور منجی کی پیدواروں میں،  ملک نہ صرف خود کفیل ہوگیا بلکہ ھردو اجناس بہت زیادہ ایکسپورٹ ھوئیں. ان ادوار میں ڈرامہ آرائ یا تماشہ بازی کے بجائے گندم کا دانہ دانہ دھقان کے در سے اٹھایا گیا اور منجی مارکیٹ، مایوسیوں سے مکمل مبرا رہی۔ دیہات سدھار دعووں کو عملی پیرھن پہنایا گیا. موجودہ حکمرانوں کیطرح نہ تو روزانہ دیہاتوں اور فوڈ سنٹرز کے اوپر وزرائے اعلی کے ھیلی کاپٹرز اڑانیں بھرتے تھے اور نہ دیگر وزراء کرام کے فوٹو سیشنز جھلکیوں کی تشہیر کا جنون نظر آتا تھا، ایک خودکار مشین کی مانند، منظم اور مضبوط نظام تھا جو خودبخود رواں دواں اور کامیاب و کامراں رھتا تھا، اس طرح دیہات دھیان اور زراعت پروان پالیسیوں میں پیپلزپارٹی اور قاف لیگ کو باقی ادوار پر تفوق حاصل رہا. اس کا شاید ایک سبب، حکومت اور پارٹیز قیادت کا زراعت کے پیشہ سے براہ راست وابستہ ہونا اور زرعی مشکلات و مسائل سے کما حقہہ آگہی رکھنا بھی ہو سکتا ہے. یہی وجہ ھے کہ آج دیہی سماج مذکورہ جماعتوں کے زمانہء اقتدار کا معترف اور شریف برادران کے انداز حکمرانی کا سنگین ناقد نظر آتا ھے. موجودہ حکمرانوں کو اپنی گرتی ھوئ ساکھ اور زوال پزیر مقبولیت کو مد نظر رکھ کر اسباب و علل کا فوری ادراک کرنا چاھیئے اور ذھن نشین کر لینا چاھیئے کہ ملک کی ستر فیصد خاموش اکثریت ان سے نالاں ھے. میاں صاحبان اور ھمنوا، بعض ضمنی انتخابات کے نتائج اور بلدیاتی الیکشن کی کوکھ سے جنم لینے والے اعداد و شمار سے دھوکہ کھا رھے ہیں اور شاید یہ ریت روایت فراموش کر بیٹھے ہیں کہ ایسے مواقع پر،اس طرح کی کامیابیوں کے در پردہ ،اصل میں برسر اقتدار حکومت کی ایک طرف خیرہ کن چمک دمک اور دوسری سمت حکومت مخالفت کا خوف و ہراس ہوتا ہے جو سارے ' ندی' 'نالوں' اور 'دریاوءں' کا رخ سمندر کیطرف کر دیتا ہے۔ مزید براں، ووٹروں اور انکے سرپرستوں کی لالچ سے لبریز توقعات، پولیس، محکمہ مال اور سودے باز دلالوں کا کلہم وزن اقتدار کے پلڑے میں جا پڑتا ھے . علاوہ ازیں، انتخابی ایام میں وزیروں، مشیروں اور متعدد منصبداروں پر مشتمل، تابڑتوڑ مہم میں مصروف 'طائفوں' کی تماشہ بازی اور کرشمہ سازی ہوتی ہے جس کے نتیجے میں مرجعء مفادات اور فتحِ مفاجات کے اس مصنوعی منظر سے بہت سوں کی آنکھیں چندھیا جاتی ہیں ۔ بصارت ہی نہیں، بصیرت بھی جاتی رھتی ہے اور بھٹکے بہکے، بے سُدھے " سلاطینِ فریب خوردہ" ایسی فنکاریوں اور مصنوعی مسخرات کو، اپنی نام نہاد "سحر انگیز" پالیسیوں کا اعجاز سمجھ بیٹھتے ہیں۔ نتیجتہ" ہر بھلا بھدا ھیولا، انہیں آنکھوں پہ چڑھی عینک کے رنگ میں لطیف و جمیل نظر آنے لگتا ھے !
ان عقل کے اندھوں کو ، الٹا نظر آتا  ھے
مجنوں نظر آتی ھے، لیلی' نظر آتا ھے
ماضی کا مشاھدہ اور حال کے حقائق گواہ ہیں کہ سوائے لارے لپے اور لیپاچوپی کے، موجودہ حکومت جانے انجانے میں، زرعی شعبہ کو ہمیشہ نظر انداز کرتی رہی ہے. ایسا سلوک اگر دانستگی کا شاخسانہ ھے تو ایک ناقابل معافی جرم ھے اور اگر یہ انجانی خطاوءں کانتیجہ ھے تو نااھلی کی بد ترین  مثال..... بہر کیف تاریخ کی تلخی یہ ھے کہ زراعت کے وجود کو زیر و زبر کرتا اور کسانوں کو قعر مذلت میں پھینکتا، نون لیگیوں کے اقتدار کا یہ پہلا دور نہیں، بد قسمتی سے "سلطانی ء جمہور" کا یہ جبر،  ہر دورِ مسند نشینی میں،  دیہات اور دھقان کیلئے اذیتناک ثابت ہوتا رہا ہے.
عمومی تاثر یہ ھے کہ حکمران خاندان کی پیشہ ورانہ سرگرمیاں،  چونکہ صنعت سے وابستہ ھیں اور صنعتکاری ہی انکے ماضی وحال کی دلچسپیوں کا مرکز و محور رہی ہے لہذا معاش کی دیگر ساری صورتیں ثانوی حیثیت رکھتی ہیں، اس پر مستزاد ایک اور نقطہ نظر کی صدائے بازگشت بھی کبھی کبھی سنائ دیتی رہتی ہے کہ مقتدر صنعتی خاندان کی نفسیات میں چونکہ کینہ پروری، حسد اور منتقم مزاجی کوٹ کوٹ کر بھری ہوئ ھے لہذا صنعت، تجارت اور زراعت کے شعبوں میں، موخرالذکر شعبہ سے منسلک مخلوق کو، سیاسی طور پر اپنا حریف خیال کیا جاتا ہے، یوں  منطقی اور لاشعوری طور پر زمینداروں کے سیاسی اثرونفوذ اور غلبہ کے خلاف نفرت کا نزلہ زراعت کے شعبہ پر گرتا رھتا ھے . اس موقع پر یہ خیال کہ کارزار سیاست میں موجود زمینداروں کی ایک نمایاں تعداد، میاں صاحبان کے اردگرد بھی تو محوِ طواف رھتی ہے، کسی حد تک درست ھے، اس لئے کہ اقتدار کی ہوس اور شہرت کی بھوک، بڑوں بڑوں کو بزدل اور بے حمیت بنا دیتی ھے ، پھر حلقہ بگوشِ اقتدار زمیندار طبقہ سے یہ توقع کہ وہ روبہ زوال زراعت اور مفلوک الحال دھقان کی نمائندگی کا فرض ادا کریں گے، سراب کو آب سمجھنا اور پھر سیراب ہونے کی آس باندھنا ھے. ان بے چاروں کا شوق نظر قومی خزانہ اور ذوق نگاہ تحصیل و تھانہ ھوتا ھے، جہاں یہ لوگ من مانیاں اور لن ترانیاں کرنے میں آزادی چاھتے ہیں جوکہ انہیں مل جاتی ھے یا یہ خود پا لیتے ہیں، ان کے اعمال و حرکات اور سیئات و سیاہ کاریاں انہیں انسانی عظمت کے اس جوھر سے محروم کر دیتی ہیں جو جراءت اظہار اور اوصافِ انسانیت کے خمیر سے تشکیل پاتا ھے. یہ توقع کہ مصاحبینِ شاہاں، دیہی سماج کا حقِ نمائندگی ادا کریں گے، محض فریب خوری اور خام خیالی ھے. ہوا و ہوس کی شعوری اور لا شعوری گرفت میں جکڑے گرگٹ طبع یہ لوگ، خود غرضیوں کے خول سے باھر نکل ہی نہیں سکتے. یہ اقتدار کے باد نما ہیں. سیاسی تغیروتبدل کا موسم ماپنا ہو تو جاگیرداروں، سرداروں، نوابوں اور چودھریوں میں سے اقتدار کے ایسے رسیا رئیسوں کی آنیاں جانیاں دیکھ لیا کریں جو بحرِ اقتدار سے باھر، ماھیء بےآب کی مانند تڑپتے ہیں. بے ضمیر گروہ کی یہ آنیاں جانیاں، ہوائے اقتدار اور رُوئے استقبال کا پتہ دیتی ہیں.
واضح رھے کہ نفسیاتی طور پر، زمینداروں کی اکثریت، طبعاً خوددار، غیور، مستقل مزاج اور بہادری کے فطری اوصاف سے متصف ہوتی ہے، ایفائے عہد اور وفائے تعلق کی تکمیل انکا شیوہ ہوتا ہے. رکھ رکھاوء، وضع داری اور احترام و تکریم انکے مزاج کے نمایاں پہلو ہیں. اس طرح میزبانی اور مہمان نوازی بھی انکے خصائل اولی'  کے درخشاں اطوار میں شامل ہیں. یہ طبقہ عادات و اطوار اور افکار و افعال میں نام نہاد زمینداروں یا رئیس زادوں کے اس گروہ سے یکسر مختلف ہوتا ہے جو ہر حال میں مالی اور منصبی مفادات کیلیئے مضطرب اور متلاشی نظر آتے ہیں، بد قسمتی سے اپنی چالاکیوں، ھنر مندیوں اور عیارانہ صلاحیتوں کے باعث یہ لوگ ہر دور میں حاوی رہے ہیں. ابن الوقت مزاج یہ گروہ، کسی مخصوص جماعت یا مخصوص زمانہ تک محدود و مشروط نہیں رہا، قیام پاکستان سے قبل، یہ قلیل قبیلہ گورا شاہی کا گرویدہ تھا، حکم کی بجاآوری اور اطاعت گزاری کیلئے اشارہء ابرو کا منتظر رھتا تھا. ان کے قلب و روح میں اعزازت، القابات اور اراضیوں کے مربع جات کی سوغاتوں پہ سوغات کا حرص بدرجہء اتم پایا جاتا تھا جو انہیں برصغیر کے مسلمانوں کی اجتماعی تحریک سے غداری کے ارتکاب پر مائل و مجبور کرتا رہا مگر خدا کا کرنا یہ ہوا کہ ان کے معمولات اور سرگرمیوں کے برعکس، ملک معر ض وجود میں آگیا.....لیکن قوم کی بد قسمتی کہ تھوڑے سے توقف کے بعد یہی طبقہ بڑی ہوشیاری اور مکاری سے ایوان اقتدار میں جا گھسا اور آج تک چمٹا ہوا ھے...... حالات بدلے، اقتدار بدلا، حکومتیں تبدیل ہوئیں اور زمانوں پہ زمانہ گزرتا گیا مگر گلشنِ اقتدار کے ان "بھنوروں" میں کوئ تبدیلی نہیں آئ...گویا
وہی ہے چال بے ڈھنگی، جو پہلے تھی، سو اب بھی ہے  !
انکا اسلوبِ حیات، سفرِ سیاست، مطمعءمطلوب، نیت و نگاہ اور مقصودِ منزل ھمیشہ اقتدار ہی رہا، یعنی
چلو تم ادھر کو، ہوا ہو جدھر کی....
ھمارے موجودہ حکمران طبعا" کم امیز اور تجرد پسند واقع  ہوئے ہیں. انسانی معاشرہ میں، ایسی عادات کے لوگ نسبتا" خودغرض، سخت گیر اور مطلق العنان ہوتے ہیں، عمومی بے تکلفی سے بے نیاز، خود کو مخصوص اور مختصر حلقہ تک محدود رکھتے ہیں، یہی تاثر جناب وزیر اعظم اور محترم وزیر اعلی صاحب کے بارے  میں پایا جاتا ھے کہ مرکز میں عملا" چار پانچ اور صوبہ میں فرد واحد کی حکمرانی کارفرما ھے ، طشت از بام تاثر یہ ہے کہ جناب وزیر اعظم فائل ورک سے کتراتے اور قانونی قال و مقال  سے ماورا رھتے ہیں. دربانوں اور عملداروں کو شاھی فرمان سننے اور تعمیل و تکمیل کیلئے ھمہ وقت گوش بر آواز رھنا پڑتا ھے اور جہاں تک فرمانروائے صوبہ کا طرزِ حکمرانی ہے انہوں نے تو سب کچھ شہادت کی انگلی کی نوک پر رکھا ہوا ہے. اس طرح  قبائے جمہوریت میں رجال آمریت کا راج ھے۔ ایسے تلخ و ترش ماحول میں، کسی کی کیا اوقات اور کیا بساط کہ دیہات بیتی، زراعت بیتی بتانے اور کچھ منوانے کے مواقع پا سکے اور وہ بھی زمینداروں کی محولہ بالا ایسی اقلیتی جماعت، جو اپنی اخلاقی کمزوریوں کے بوجھ تلے دبی اور کرتوت و کرپشن کے خوف سے ہر وقت جھکی جھکی سی رھتی ھے.
یہاں ایک اھم غلط فہمی کا ازالہ یا وضاحت کر دینا بڑا بر محل محسوس ہو رہا ہے ، ہمارا شہری معاشرہ جنکا دیہات کی آبادیوں سے اختلاط بہت کم رھتا ہے، وہ زرعی معلومات سے مکمل طور پر انجان ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمارے دانشوروں اور اخبار نویسوں کا وہ حلقہ جو زرعی علوم سے نابلد اور کاشتکاری کے پیشہ سے یکسر ناواقف رھتا ہے، محض قیاس آرائیوں اور متعصبانہ تشہیر سے متاثر ہو کر زراعت اور اسکے پیشہ وروں کو سخت تنقید اور نفرت انگیز پروپیگنڈا کا نشانہ بنائے رکھتا ہے. ان حلقوں کے نزدیک زمین، زراعت اور زمیندارانہ سرگرمیاں گویا دولت اور خزانوں کی آبشاریں ہیں جنکی لطافتوں اور حلاوتوں میں زمیندار اور جاگیردار طبقہ، جی بھر کر اشنان کرتا ہے اور موج میلے اڑاتا ہے. ایسا تاثر کچھ عرصہ پہلے گہرے اور گمبھیر انداز میں پھیلایا گیا تھا جب ہر طرف سے شور اٹھا کہ زمینوں اور زمیندارانہ سرگرمیوں کو ٹیکس نیٹ ورک میں لایا جائے، ایک ایسی ہا ہا کار مچی کہ کان پڑی آواز سنائ نہیں دیتی تھی. ستم تو یہ ہے کہ اس مہم جوئ میں پیش پیش وہ لوگ ہیں جو زرعی ضرورتوں ، تقاضوں، تکلیفوں اور مسائل و معاملات سے قطعی ناآشنا ہیں. باوجوہ، لکھاریوں کا یہ طبقہ زمینداروں اور انکی سماجی حیثیت سے نفرت کرتا ہے لہذا لاشعور کی گہرایئوں میں پایا جانے والا اُبال ، وبال بن کر قلم کی نوک پر چڑھتا اور زمینداروں کے مقدر پر جا گرتا ہے. بندوق کی نال سے نکلی گولی یا  قلمکار کے قلم سے نکلا جملہ، جب اھداف کو ضرب لگاتا ھے تو زمیں بوس کرکے چھوڑتا ھے۔ تنقیدی تبصروں اور مبالغہ امیز مضامین، جو حقائق سے متضاد، من گھڑت مواد سے معمور ہوتے ہیں، بڑا منفی اور مضرت رساں کردار  ادا کرتے ہیں. اصل میں کلف لگے لباس، میدہ میں ملے عمامے، قرض قسطوں پہ لی ھوئ ھیوی گاڑیاں اور اکا دکا خدام کا وجود، زمیندار اور کاشتکار کلاس کیلئے نفرت اور حقارت کا مظہر بن جاتے ہیں حالانکہ حسد اور تعصب کی عینک اتار کر دیکھیں تو اس ظاھری رکھ رکھاوء اور وقتی  وضعداری کے عقب میں مفلسی ، مدیونیت اور مضطرب حالی کے دندناتے خوفناک دیو دکھائ دیں گے جو اس سفید پوش اشرافیہ کا سکون تلپٹ کرتے نظر آئیں گے. تاریخی اور نفسیاتی طور پر، مسلم معاشرہ میں بالعموم اور برصغیر کی ثقافت میں بالخصوص امارت، اطاعت، خدمت اور ادب و احترام کے تصور اور  تعمیل کو تہذیبی اقدار میں نمایاں حیثیت حاصل رہی ہے اور یہ سلسلہ صدیوں سے یونہی چلا آ رہا ہے. ہر کہ ھمت بقدر اوست ، جس کو جہاں موقع ملا، اس نے یہی مزاج اپنایا ھے جبکہ بدنامی بے چارے زمیندار کا مقدر ٹھہری! آپ ذرا غور تو فرمائیں کہ جہاں نواب، سردار، چودھری یا راجہ مہا راجہ کی اصطلاح اور اطلاق کا عمل ممکن نہ ہو سکا وہاں مذھب کی آڑ میں "مولانا" اور خانقاہوں کی پناہ میں "خداوندان روحانیت" نے جگہ لے لی، یعنی  پیروں اور مرشدوں  کے بڑے بڑے دربار سج گئے جو جاگیردارانہ یا زمیندارانہ مزاج و مراتب سے کہیں بڑھ کر مضبوط، منظم اور موثر ثابت ہوئے. سماجی تنوعات کا اگر آپ تقابلی جائزہ لیں تو ھمارے ہاں موروثی جاگیرداروں اور زمینداروں سے "پیر" اور "مولانا" کی "جاگیریں" زیادہ مستحکم اور محکم معلوم ہوتی ہیں۔ انکا انداز "فرمانروائ" بھی، بیچارے زمینداروں ںسے کہیں بڑھ کر منفذ اور مروج دکھائ دیتا ہے کیونکہ ان حلقوں میں تحکم و تابعداری، مخدومیت و خدمتگاری اور تسلط و تعمیل کی رسمیں اور قدریں زیادہ عمیق اور وسیع ہیں. غور کیلئے تھوڑا اور آگے بڑھیں، محولہ بالا تمثیلات سے قطعء نظر، ذرا تہذیب اور تربیت یافتہ ماحول کو ملاحظہ فرمایئں، جہاں کی ناگفتہ بہ حالت سے پالا پڑتے ہی پسینے چھوٹ جاتے ہیں. ہماری بیوروکریسی مجموعی طور پر، الا ماشاللہ، مغلیائ مزاج ، چنگیزی اطوار اور قارونی کردار لئے منصہء شہود پر جلوہ فگن ہے. ملنے میں معارکت، رویئے میں رعونت، لہجے میں لکنت اور میل ملاقات میں مداھنت کی پہلی جھلک سے ہی گمان طاری ہو جاتا ہے کہ ریاستی ادارے رعایا کیلئے نہیں، در اصل چھوٹے بڑے "شہنشاھوں" اور "فرمانرواوءں" کے راجواڑے ہیں جو  ان پر مامور اور مسلط حکام کی حاجت روائیوں اور تسکین نفس کیلئے، اپنے اپنے وظائف ادا کر رہے ہیں.کسی ایک ادارہ کی نشاندھی تو کریں جہاں جاتے ہوئے عوام  عافیت محسوس کرتے ہوں یا جو لوگوں کیلئے رغبت اور رجوع کا سماں رکھتا ہو. سوہان روح صداقت یہ ہے کہ لوگ تحصیل، تھانہ اور کچہریوں  کی کسی بھی مجبوری یا ضرورت کے نزول سے خدا کی پناہ مانگتے ہیں اور دفتروں، عدالتوں ، ایوانوں سے دور بھاگتے ہیں. اس لئے کہ گلشن کی شاخ شاخ  کے ہر نشیمن پر انہیں الووں کا راج دکھائ دیتا ہے. کسی تھانے کا ایس ایچ او، کسی تحصیل کا مال افسر، کسی حلقہء پٹوار کا پٹوای، کسی ضلع کا انتظامی سربراہ، کسی محکمہ کا میرمنشی ، کسی ادارے کا حاکم بالا، کسی صوبے کا سیکریٹری کسی ضرورت مند یا داد طلب سائل  سے سیدھا ہاتھ نہیں ملائے گا. کسی پریشان حال شہری کے پھپولوں پر پھاہا رکھنے کے بجا ئے، منہ پھیر لے گا یا نمک پاشی والا سلوک اختیار کرے گا. جو جس مسند پر بیٹھا ہے اور پبلک سروس کیلئے جہاں تعینات کیا گیا ہے، وہاں دائرہء کار اور تفویض شدہ اختیار کو ابا جی کی جاگیر سمجھتا ھے۔ الاماشاللہ، ہر منصب دار کی آکڑفوں اور زعم و زبردستیوں کو دیکھیں گے تو ان کے مقابلے میں زمیندار بےچارے کی شیخیاں، کوہ اور کاہ، یا پر اور پنچھی کے تناسب سے متفرق محسوس ہونگی۔ زراعت و زمینداروں کو رگیدنے اور  ان سے بلاوجہ بیر کا برتاوء اختیار کرنے والے اب ذرا میڈیا مبلغین کیطرف چلتے ہیں جو نہ صرف زراعت اور زراعت پیشہ لوگوں کے مسائل سے ناواقف ھیں بلکہ قوم کے غم میں مبتلا ابلاغ عامہ کے یہ دانشوران، زراعت اور زمینداروں سے متعلق، معاملات پر مبالغہ آرائ اور ملمع کاری میں کوئ کسر باقی نہیں چھوڑتے. میڈیا خود کو جمہوریت کا محافظ اور اظہار رائے کی آذادی کا  علمبردار سمجھتا ہے. اس تصور پر "دور کے ڈھول سہانے"  والا مقولہ صادق آتا ہے. کبھی آپ کسی اخبار یا چینل کے اندرونی ماحول کا مطالعہ کر کے دیکھ لیں، چودہ طبق روشن ہو جائیں گے. ان اداروں کے کارکنان، اپنے مالکان کے ترش و تلخ رویوں ،آمرانہ طور طریقوں اور حقوق زدنیوں کے خلاف پھٹ پڑیں گے، ظلم و زیادتی کے ختم نہ ہو سکنے والے واقعات کے انبار لگا دیں گے ، استحصال اور انتقام کی  پرگھٹن فضا ، قلبی قلق، ذھنی زلزال اور تن تناوء کے تذکروں کی داستانیں سنیں گے تو سر پکڑ کر بیٹھ جا یئں گے اور آپ سوچنے پر مجبور ہوں گے کہ جمہوریت کے چوتھے ستون کے سہانے وجود کے اندر آمریت کا کتنا  فولاد بھرا ہوا ہے. مالکان کے انداز ملوکیت چھوڑیں ، ایک رپورٹر، کالم نگار، مبصر اور تجزیہ نگار کے نازونخروں کو ملاحظہ فرمائیں اور انکی متعصبانہ تحریروں کی تہہ تک پہنچیں تو اپنی ذات میں مالکان  سے بھی وہ چار قدم آگے ہیں۔ ظاھری شرافت اور انا کے خول میں خود غرضی اور مقاصد سے معمور  متعصبانہ بت پال رکھے ہیں۔ ان کے قلم سے نکلنے والا ہر لفظ اور ہر جملہ اپنی قیمت رکھتا ھے اور بلاتاخیر وصول کرتا ھے۔ یہ لوگ بیوروکریسی اور کاروباری اداروں میں ھلچل پیدا کرنے میں طاق ہوتے ہیں بلکہ سماجی اور سرکاری اداروں کا میدان، ایسے بلیک میلرز کیلئے بہترین چراگاہ کا کام دیتا ھے۔ واضح رھے کہ یہاں باغیرت اور زندہ ضمیر صحافیوں کے اس مختصر گروہ کی بات نہیں ھو رھی جن کا دامن آلائشوں اور آلودگیوں سے پاک ھے، جنہوں نے ہر طرح کے مدوجزر میں اپنی زندگیوں کو ھمیشہ صراط مستقیم پر قائم رکھا اور حق سچ بات ڈنکے کی چوٹ پر کہی، ایسے واضح نظر آنے والے قلم قبیلے کا ماضی بےداغ اور حال، حرمت و حلال سے عبارت رھتا ھے ۔ بہرکیف، بحیثیت مجموعی، میڈیا مالکان ہوں یا ملازمین ، انکی آمدنی کا گراف، رھن سہن کا معیار اور دھونس 'دبڑگسنی' کے اطوار، زمیندار طبقہ سے کہیں فزوں تر ہیں۔ دل آزاری ہو تو معاف کردیں کیونکہ چند مذکورہ مثالیں پیش کرنے کا مقصد، کسی شخص یا ادارے کو مطعون کرنا مطلوب نہیں بلکہ "بد سے بدنام برا" کے تفاوت اور حقیقت کو واضح کرنا مقصود ھے۔ افسوس یہ ھے کہ ھمارے سماج میں زراعت کاری سے ناواقف حلقے، اپنی نظریں صرف اس مچھلی پر مرکوز رکھتے ہیں جو سارے تالاب کو گندا کر رھی ھوتی ھے۔ بیس کروڑ نفوس کی ستر فیصد آبادی میں سے، گنتی کے چند مکروہ کرداروں کو، سواداعظم کا پرتو اور نمونہ قرار نہیں دیا جا سکتا تاہم جہاں تک توقیرِ انسانیت، مساوات و معدلت اور سکونِ سماج کا سوال ہے، اس حقیقت میں کوئ کلام نہیں کہ ظلم ، جبر ، بد اخلاقی  اور غیر مہذبانہ رویئے جہاں بھی پائے جائیں، قابل گرفت اور لائق مذمت ہیں. مذموم خصلتیں اور ملعون عادتیں کسی رعایت اور صلہ رحمی کی مستحق نہیں......مگر خیالی مفروضوں اور فرضی داستانوں کو بنیاد بنا کر، صرف زمینداروں اور جاگیرداروں پر قلم کے کلہاڑے چلانا اور تنقید کے تیر برسانا انصاف نہیں، عدوان اور غلو ہے جس سے بہرطور بچنا چاھیئے۔ ظلم تو یہ بے کہ وڈیروں سے وارفتگی اور جاگیرداروں سے جلن کا نزلہ ،انجام کار، زراعت پر جا گرتا ھے اور ستمگری کا یہ سلسلہ سالہا سال سے جاری ھے !!!
ایک اور اھم غلط تاثر کی تصحیح بھی تقاضائے بحث محسوس ہو رہی ھے جو ز میندادہ کلاس کے ظاہری رھن سہن اور وضع قطع سے متعلق ہے۔ زمینداروں اور جاگیرداروں میں، خواہ مالی طور پر وہ کتنے ہی کھوکھلے، کنگال اور خستہ حال  کیوں نہ ہوں، حسِ نزاکت اور ذوقِ لطافت کیطرف میلان زیادہ ہوتا ہے اور یہ ایک موروثی کمزوری  ہے جس کی وجہ تاریخی پس منظر اور خاندانی روایات ہیں. ہم جانتے ہیں، صدیوں تک انسانی معاشرہ کی ساخت پرداخت ایسی رہی کہ طاقت میں تفوق کا حامل طبقہ، ہمیشہ سماج پر حاوی رہا. معاشی طور پر کمزور اور تعلیمی لحاذ سے ناخواندہ معاشرے، خدا کے بعد اپنے سردار کو ہی ان داتا سمجھتے اور فرمانبرداری کرتے رھے، اس طرح قبیلہ یا ریاست کا سردار بھی رعایا سے ہمیشہ حسن سلوک اور شفقت و محبت کا رویہ رکھتا تھا. سردار  کی حیثیت حاکم سے زیادہ، ایک باپ کی طرح ہوا کرتی تھی. ایسے ماحول میں، سردار  بھی ایک خاص رکھ رکھاوء، وضع قطع اور چال ڈھال قائم  رکھتا تھا. خورد و نوش، صحت وصفائ، بود و باش اور ملنے جلنے کے انداز و اطوار، بظاھر نمود و نمائش مگر عملا" تہذیبی اقدار کی شکل اختیار کر چکے تھے. نسل در نسل یہ رسوم و روایات چلتی رہی ہیں بلکہ معاشرے کے بیشتر حصوں میں اب بھی موجود ہیں، بالخصوص دیہی سماج ابھی تک دیرینہ رسم و رواج پر قائم ہیں اور آج بھی ایسی اقدار پر عمل پیرا ہو کر فخر محسوس کرتے ہیں. باھم میل جول، خوشی غمی کے مواقع پر موانست اور قربت، دکھ سکھ یا مشکلات و مسائل میں ایک دوسرے کی والہانہ استعانت، بڑوں بزرگوں کیلئے احترام و تکریم، خواتین کیلئے ادب و تعظیم، چھوٹے بڑے کا لحاظ، میزبانی اور مہمانداری کا ذوق .....اس طرح قوم ، قبیلہ اور قصبہ کے سردار یا چیف کی عزت و توقیر اور تابع فرمانی وغیرہ جیسی اقدار دیہی معاشرہ کا طرہء امتیاز ہیں. بہت سارے تنازعات اور جھگڑے عدالت کیطرف لے جانے کے بجائے سردار کے روبرو پیش ہوتے ہیں اور فیصلے پاتے ہیں. نہ اخراجات، نہ ٹیکس، نہ وکیل، نہ پیشیئوں پہ پیشیاں اور نہ اپیل در اپیل کے تکلفات اور مصارف. اس روایتی یا پنچائتی نظام کا ایک مثبت پہلو بھی ہے، اس طرح کے حتمی فیصلوں کے بعد مخالف اور متنازعہ فیہ افراد یا گروہوں کو باھم گلے ملا.دیا جاتا ہے اور وہ شیروشکر ہو کر زندگی گزارتے اور سکون محسوس کرتے ہیں جبکہ عدالتوں سے صادر ہونے والے فیصلوں سے آپس میں اختلافات ، نفرتیں اور دشمنیاں بڑھتی ہیں . عدالتی جنگ میں جیتنے والا جشن مناتا ہے اور  ہارنے والا رنج کی آگ میں جلتا کڑھتا رھتا ھے. بارہا یوں ہوا کہ مقدمہ بازی میں فریقین کی املاک اور اثاثے بک گئے، قرضوں کے بوجھ تلے سب کچھ برباد ہو گیا.. ایک دوسرے کے خلاف غیض و غضب اور کھینچا تانیوں کا پرنالہ وہیں کا وہیں رہا بلکہ دشمنیاں بڑھ کر کسی ھولناک انجام پر جا کر منتج ہویئں. اس طرح صدیوں سے جاری خاندانی  روایات اور دیہی اقدار ھمیشہ تحسین و آفرین کی مستحق ٹھہرتی رہی ہیں۔ یہی پس منظر ہے جو کسی علاقہ کے زمیندار یا جاگیردار کو اپنے دائرہء کار یا زیرِ اثر علاقہ پر موثر اور غالب رکھتا ہے. عام آدمی اس نظام کے مآلِ کار کا نظارا ملکی یا مقامی انتخابات کے موقع پر بخوبی کر سکتا ہے جب ووٹرز خواتین و حضرات، حق رائے دہی کیلیئے،  اپنے سردار کے ایک اشارہ کا انتظار کر رھے ہوتے ہیں.
رہا یہ سوال کہ سرداروں اور جاگیرداروں کی نمود و نمائش، در اصل انکے پاس دولت کی فراوانی کی چغلی کھاتی ہے اور دولت کی یہ فراونی یا ظاھری اللے تللوں کا ذریعہ، زمینوں کی پیدواریں ہیں، درست نہیں. محض دھوکہ اور فریب نظر ہے. زمیندار کتنے ہی مربعے اراضی کا مالک کیوں نہ ہو، موجودہ سرکار کی زراعت کیلئے تباہ کن پالیسیوں کے باعث ، عزت سے روٹی کی دستیابی بھی بڑی بات ہے ورنہ فصلات اٹھاتے ہی سکھ کا سانس لینے کے بجائے، زمیندار مصائب کی تازہ لہر کا شکار ہو جاتا ہے.  بیج، کھاد، سپرے ، ڈیزل، کھاتوں کی بیباقی اور زرعی کارکنوں کی اجرتیں ادا کرنے کے بعد، ایک زمیندار باقی قرضخواہوں سے منہ چھپاتا پھر رہا ہوتا ہے.  کئیوں کو بنکوں کے اہلکاروں نے آگے لگایا ہوتا ہے، کچھ کسان  قصاب نما سودخوروں سے معیاد بڑھانے کےترلے کر رھے ہوتے ہیں اور بہت سے اپنے اثاثوں کے نیلام عام کرتے نظر آتے ہیں. ان حالات اور حقائق کی روشنی  میں، اگر آپ کسی کو اچھی گاڑی یا بہتر رھن سہن کے حال و جمال اور موج میلوں میں مست مگن دیکھیں تو سمجھ جایئں کہ کہیں اس نے اپنی املاک یا اثاثوں پر کاری ضرب لگا دی ہے. زمیندار اگر اپنی زمین کہیں فروخت کرتا ہے بھی، تو مشتری کی منتیں کرکر کے، کہ معاملے اور لین دین کو مکمل اخفا میں رکھا جائے کیونکہ دیہی سماج میں، زمین کی حفاظت اور خیال، بہن بیٹی کی عزت کے تحفظ اور توقیر کی مانند تصور کیا جاتا ہے.
البتہ "مراعات یافتہ" یا آف شور کمپنیوں کے کاروبار کی مثل، زمینداروں میں بھی، نام نہاد زمینداروں کا ایک مختصر طبقہ ایسا ہے جن کی عیاشیوں اور نت نئے مشاغل یا انکے مکروہ افعال کو دیکھ کر، کوئ  بھی شخص دھوکہ کھا سکتا ہے. گمان کہتا ہے کہ شہروں میں بسنے والے لوگ اور میڈیا سے منسلک دانشور، ایسے ہی لوگوں کو دیکھ کر بہک جاتے ہیں اور سمجھنے لگتے ہیں کہ زراعت پیشہ تمام لوگوں کا طمطراق اور ٹھاٹھ باٹھ، شاید ایسا ہی رھتا ھے اور یہ ساری لن ترانیاں اور لذت سامانیاں، زرعی پیدواروں کی وجہ سے ہی جلوہ آرا ہیں... زراعت کے حال و انجام سے انجان اھل قلم، زمینداروں کے اس گروہ کو، معیار اور پیمانہ بنا کر، لاشعوری طور پر اس پیشہ کو ھدف تنقید بناتے ہیں  اور زرعی ٹیکس کے نفاذ کی تکرار شروع کر دیتے ہیں ، یہ سراسر فریب نظر اور معلومات کا دھوکہ ھے. اس طبقہ کے پاس پائے جانے والے سرمائے اور انکے مشاغل کے مصارف میں، کام آنے والی دولت کا تعلق، زرعی آمدنی سے ہرگز ہرگز ممکن نہیں. ایسی دولت کے ذرائع ممکنہ طور پر حسب ذیل ہو سکتے ہیں
1- براہ راست عوامی عہدوں پر متمکن رہتے ہوئے، مختلف اور متنوع طریقہائے واردات استعمال کرکے، اپنی منصبی حیثیت سے متمتع ہونا اور ناجائز ذرائع کے توسط سے جمع شدہ دولت پر زراعت کا لیبل چسپاں کر دینا،
2- صنعتکاری یا تجارت کی بدولت متمول و خوشحال ہوجانا اور ٹیکس نیٹ ورک سے بچنے کیلئے، زراعت کی اوٹ میں پناہ لئے رکھنا،
3- اجداد میں سے کسی مورث اعلی'  کا قومی خزانہ کی بہتی گنگا میں جی بھر کر اشنان کرنا اور سابقون کیلئے زندگی کا سفر آسان کر جانا.اس طرح "پدرم سلطان بود" دعووں کی آڑ میں، حال و ماضی کے، تمام ناجائز ذرائع اور خفیہ اسباب کو زراعت کا چونا لگا کر، بلیک منی کو وائٹ کرلینا اور ان پر خوب موج میلے کرنا.
زمینداروں کا یہ گروہ اپنے مفادات کے تحفظ ، معاملات کی درستگی اور بروقت اقدامات کیلئے مواقع شناسی میں یدِطولی' رکھتا ہے. نہایت ہوشیار، مکار اور طرار ، یہ طبقہ، تحصیل اور تھانوں پر حاوی رھتا ہے. ناجائز دولت کے بل بوتے پر، بڑی آسانی سے ایوانوں میں پہنچ جاتا ہے، وزارتیں بھی اینٹھ لیتا ہے اور لوٹ مار کے تمام ذرائع کو زراعت کا لبادہ پہنا لیتا ہے.
جیسا کہ شروع میں عرض کیا ہے، پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے، زیادہ تر آبادی کا وسیلہء روزگار بھی زراعت ہے، ہماری صنعت کا کثیر حصہ زراعت پر انحصار کرتا  ہے، کروڑوں کاشتکاروں کی پیشہ ورانہ مصروفیات اور سرگرمیاں زراعت سے وابستہ ہیں، بالواسطہ طور پر بھی، ملک میں لاکھوں ورکشاپیں اور صنعتی کارخانے، رات دن مصروف کار ہیں جو دھڑادھڑ زرعی مشینری اور زرعی اوزار بنا رھے ہیں یا مرمتیوں اور  مینٹینینس کے کام  میں جُتے ہوئے ہیں، بنیادی طور پر ایسی تمام سرگرمیوں کا مرکز و محور زراعت ہی ہے. یہی حال ٹیکسٹائلز اور شوگرملوں کا ہے۔ اسی طرح بیشتر تجارتی سرگرمیوں کا وسیع حصہ بشمول پیدواروں، پھلوں ، سبزیوں کی برآمدات، زرعی ضروریات کی اساس پر چلنے والے کارخانوں کی مصنوعات کی ایکسپورٹ اور بھاری زرمبادلہ کی کمائ کے جملہ ذرائع، زراعت کے محتاج ہیں. زراعت میں ڈیزل کی کھپت، بیجوں اور کھادوں کا استعمال، کرم کش زرعی ادویات کی درآمد اور ڈسٹری بیوشن، اس کاروبار سے وابستہ لاکھوں سٹورز، گودام، شورومز، مصروف کار دکانداران اور زرعی مارکیٹیں، بےشمار پرائیویٹ زرعی ادارے اور کمپنیاں اور پھر ان اداروں کے اندر کام کرنے والی وسیع تعداد میں افرادی قوت، جو مذکورہ بالا  تجارتی گہما گہمیوں میں مصروف کار رھتی ھے، سب سلسلوں کا چشمہ زراعت ہی ہے. پھر آپ لائیوسٹاک سرگرمیوں کی جانب نظر دوڑائیں تو زراعت سے وابستہ یہ شعبہ، بذات خود ایک بہت بڑا فیلڈ ھے جو انسانی زندگی اور سماجی ضروریات کیلئے نہایت ناگزیر ہے. دودھ، دھی، گوشت، گھی، مٹھائیاں، چمڑے کی صنعت ، بیکری مصنوعات اور بے شمار دیگر سہولتوں کا سلسلہ لائیوسٹاک سے مربوط ہے ۔ دیہاتوں میں آج بھی باربرداری کا کام جانوروں سے لیا جاتا ہے....فی الواقع لائیوسٹاک، ایک ایسا وسیع و عریض میدان ہے جو نہ صرف روزگار کا بہت بڑا وسیلہ ہے بلکہ حیات انسانی کے انگنت تقاضوں کی تکمیل کیلئے کلیدی کردار ادا کر رہا ہے. آپ چاھیں بھی تو اس کی وسعت اور دور رس اثرات کا احاطہ نہیں کر سکتے. زراعت سے وابستہ آپ براہ راست پیشہ ور زرعی ورکرز کا شمار چھوڑیں، زراعت کے شعبے سے منسلک ہزاروں اداروں اور کارخانوں، لاکھوں مارکیٹوں اور دکانوں ، ناقابل  شمار زرعی کمپنیوں ، مصروف کار بحری جہازوں اور روڈز پر رینگتے قطار اندر قطار پک اپس، ڈالے، ٹرک، ٹرالیاں، ٹرالے۔۔....اور ان تمام اسباب و عوامل پر تعینات، روٹی روزی کماتے کروڑوں شہریوں کی ضامن، زراعت کو زوال اور تباھی سے دو چار کرنے کا منطقی انجام، حقیقت میں، ملکی معیشت کی تباہی اور معاشرتی انارکی کے روپ میں ظاھر ہو رہا ہے۔
"شریف " شاھی نے زراعت پر پہلا وار گزشتہ ادوار میں تب کیا جب بجلی کے فلیٹ ریٹ ختم کرنے کا اعلان کیا تھا. اس اعلان سے ملک میں لاکھوں ٹیوب ویلز  کا گلا گھونٹ دیا گیا . لاکھوں ایکڑ اراضی دیکھتے ہی دیکھتے بنجر و بیابیان  ہوگئ . ملک کا طول و عرض، جو نہری آب رسانی سے محروم ھے،  بجلی سے چلنے والی ٹربائنوں اور ٹیوب ویلوں سے بھی محروم کر دیا گیا. جس ٹیوب ویل کا بل اوسطا" بیس ہزار روپے ماہانہ آیا کرتا تھا، فلیٹ ریٹ کے خاتمہ کے بعد، جب ایک لاکھ سے ڈیڑھ لاکھ روپے ماہانہ تک پہنچا تو اتنا بڑا بوجھ اور خسارا اٹھانے کا یارا کس میں تھا! ٹیوب ویل بند ہو گئے اور مستعد واپڈا نے ٹیوب ویلوں سے ٹرانسفارمرز اٹھا لیئے.. جہاں ہر طرف ہریالی اور محنت و مشقت کی چہل پہل رھتی تھی، وہ کھیت کھلیان اجڑ گئے، اربوں روپے کی پیدواروں کے ذرائع، بیک  قلم اجاڑ دیئے گئے، ہزاروں خاندانوں کے لاکھوں لوگ بیروز گاری کے اذیتناک چُنگل میں پھنس گئے اور ملک کو آمدنی کے ایک مضبوط منبع سے محروم کر دیا گیا. یہ ایک متعصبانہ اور احمقانہ اقدام تھا جس کا ناقابل تلافی نقصان ہوا۔ یہ نقصان سماجی ناسور بن کر پھوٹا. لاکھوں افراد بے روزگار ہوئے جنہوں نے شہروں کا رخ کیا.  پھر کیا دیہات، کیا شہر.... جس طرح پانی اپنا راستہ خود بناتا اور بہتا چلا جاتا ھے....اس طرح بیروزگاری کا عفریت بھی شکم سیری کی راھیں خود ڈھونڈھ لیتا ھے چنانچہ چوری ڈکیٹی کی وارداتوں کا گراف بڑھنا شروع ہوا اور بڑھتا ہی چلا گیا... ویران کھیتوں اور مایوس ماحول سے بھاگنے والے بیروز گاروں میں سے بہت سوں نے، اپنی مایوسیوں کا مداوا، مجرمانہ سرگرمیوں سے کیا. انحراف، انتقام اور محرومیوں کی سلگتی آگ نے پر امن سماج کا سکون راکھ کر ڈالا.
فلیٹ ریٹس، جو طویل عرصہ سے نافذالعمل تھے، زرعی فیلڈز میں زبردست ثمر بار تھے. مگر نادان و ناہنجار حکمرانوں کی نالائقی کی نذر ہوگئے۔ دنیا بھر میں زراعت افزائ کیلئے پاور سپلائ، یا تو فری ہے یا پھر بہت ہی زیادہ رعائتی ( کنسیشنل). ھمسایہ ملک بھارت کی مثال لے لیں جہاں فری الیکٹرک سپلائ پر زرعی ٹیوب ویلز شب و روز چل رھے ہیں .یہی  وجہ ہے، زرعی اجناس کی پیدواروں میں، انڈیا ھم سے تو بہت زیادہ آگے ھے ہی، دنیا میں بھی سبقت یافتہ ممالک کی صف میں شامل ہو چکا ھے. بہر حال سرکار کا یہ مہلک وار، زراعت پر فالج بن کر کیا گرا، کسان سر کے بل زمیں پر جا گرا. سدھرنا تو دور کی بات ، سنھلنا بھی ممکن نہ رہا.
فلیٹ ریٹ کی منسوخی کے علاوہ ڈیزل کی مہنگائ، کھاد کی گرانی، خالص بیجوں کی عدم دستیابی، زرعی کرم کش ادویات کی گرانی، مشینری مشکلات، نظام آبپاشی میں بد انتظامی، زرعی ورکرز کی بیدلی، زراعت وابستہ اداروں میں کرپشن، کھادوں، بیجوں اور زرعی ادویات میں مہنگائ، بےحدوحساب ملاوٹ، بلیک مارکیٹنگ جیسی تمام قباحتوں کی ذمہ دار حکومت ہے جس نے شروع سے، زراعت کے ساتھ سوتیلا سلوک اور سرد مہری کا رویہ اپنایا ہوا ہے !!!
وقت بڑی سبک رفتاری سے رواں دواں ہے۔ اب بھی موقع ہے، حکمران ہوش کے ناخن لیں، مزید وقت برباد کئے بغیر، زوال پذیر زرعی معیشت کی فکر کریں۔ سہارا دینے اور سنبھالنے کیلئے ھنگامی بنیادوں پر عملی اقدامات کئے جائیں۔ اس طرح ملک کے معاشی اور اپنے سیاسی مستقبل کا خیال رکھیں ۔ خود سنبھلنے اور زراعت کو سنبھالنے کیلئے ابھی پونے دو برس کا عرصہ باقی ہے جو کامیابیوں کے نقوش ثبت کرنے کیلئے بڑی قدر و قیمت کا حامل ثابت ہوسکتا ہے بشرطیکہ خلوصِ نیت، عزمِ صمیم اور مستعدی کے ساتھ استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *