میں تو کبھی بھی بیکینی کی جگہ برقینی پہن سکتی ہوں، دُرین انور

مصنفہ پاکستان کی ایک پیشہ ور کمیونیکیشنسٹ ہیں اور فی الحال یو کے میں رہائش پذیر ہیں۔مقامی حکومت اور یو کے کے ہیلتھ سیکٹر میں کام کر چکی ہیں dureen-2ار اکثر سوچتی ہیں کہ پاکستان ایک ترقی یافتہ ملک کیوں نہیں بن سکتا۔
فرانس کی وزیر برائے حقوقِ نسواں Laurence Rossignolکا ماننا ہے کہ برقینی ایک ایسا مسئلہ نہیں جس پر بات کی جائے۔کون مجھ سے اختلاف کرے گا اگر میں یہ کہوں کہ ان کا حال بھی کسی مذہبی انتہا پسند جیسا ہی ہے جو عورت کے پہننے اوڑھنے کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ یہ عورت کی ذاتی پسند اور ناپسند ہے کہ وہ کیا پہنے۔
میں ایک مسلمان ہوں شائد بہت اچھی مسلمان نہیں ہوں۔ میرے فیصلوں میں مذہب کا خاص عمل دخل نہیں ہوتا اسلیے جو بھی میں کہوں گی وہ ایک لا دین کی حیثیت سے ہی کہوں گی۔ میں بتانا چاہتی ہوں کہ میں برقینی کو بیکینی پر فوقیت کیوں دوں گی۔
کچھ پندرہ مہینے پہلے کی بات ہے کہ میں نے اپنی چھ ماہ کی بیٹی کا داخلہ ایک سوئمنگ کے سکول میں کروایا۔ مجھے بھی اُس کے ساتھ سوئمنگ پول میں اُترنا پڑتا تھا جس کے لیے سوئمنگ سوٹ پہننا لازمی تھا۔میرے سوئمنگ سوٹ کی لمبائی ٹھیک ہی تھی لیکن اُس میں کمر ننگی رہتی تھی۔ میں نے کافی عرصہ اُس کو استعمال کیا مگر تب جب میرے ارد گرد عورتیں موجود ہوں مگر پھر بھی مجھے یہی احساس گھیرے رہتا تھا کہ میں کیسی لگ رہی ہوں۔ مغربی معاشرے میں رہتے ہوے چھوٹے کپڑے پہننا کو ئی بڑی بات نہیں لگتی اور میں بھی وہاں ویسے ہی کپڑے پہنتی تھی لیکن بات یہ کہ جب انسان گیلا ہوتا ہے تو ہر چیز زیادہ نمایاں ہو رہی ہوتی ہے۔
سوئمنگ پر دھیان دینے کے بجائے میرا سارا وقت یہی سوچتے نکل جاتا تھا کہ میں کیسی لگ رہی ہوں مجھے ایسا لگتا تھا کہ سب مجھے ہی دیکھ رہے ہیں اور وہ بھی گندے انداز سے۔ میری ایک چھوٹی بیٹی ہے اوراسکے ساتھ ساتھ میرے جسم پر وہ داغ بھی ہیں جو میری ممتا کامنہ بولتا ثبوت ہیں۔ مجھے اُن نشانات سے نفرت نہیں ہے ہاں مگر میں اُنہیں پسند بھی نہیں کرتی۔ اکثر میں نے سوچا کہ تھوڑے پیسے لگا کر ان نشانات کو ختم کر لوں پھر سوچا کہ کیوں نہ یہی پیسہ اپنی بیٹی کے مستقبل پرلگا دوں۔ اب یہ تو حقیقت ہے کہ بیکینی میں تو یہ داغ چھپائے نہیں جا سکتے۔
اس کے ساتھ ساتھ اب ہر وقت ہمارے چہرے بھی سجے سھائے نہیں رہ سکتے۔ اپنی بیٹی کے ساتھ تو کبھی مجھے صحیح طرح سے کنگھی تک کرنے کا ٹائم نہیں ملتا۔ سوئمنگ میں تو پورا جسم ہی نظر آرہا ہوتا ہے اب ہر وقت میں ویکسنگ بھی نہیں کرسکتی کہ جسم کے تمام بال بھی صاف رہیں۔ اتنا ٹائم کس کے پاس ہوتا ہے۔ یعنی جب بھی چھٹیوں پہ جانے کا سوچا تو پہلے ان سب چیزوں کی پریشانی پڑ جاتی ہے۔مجھے تو یہی خیال رہتا ہے کہ بس ایسا کچھ نہ رہ جائے جس کی میری بچی کو ضرورت ہو۔ ہر کوئی ہر وقت بہترین نہیں لگ سکتا۔
مجھے ایسا لگتا ہے کہ برقینی عورت کے جسمانی عیب چھپا دیتی ہے اور اسے پہن کہ یہ خیال بھی نہیں ستائے گا کہ میں کیسی لگ رہی ہوں۔ میں فرانس کا شکریہ ادا کرتی ہوں کہ اُس نے ہمیں اس خوبصورت انسانی تخلیق سے روشناس کروایا۔ اب تو بس مجھے یہ فیصلہ کرنا ہے کہ میں کون سی برقینی خریدوں۔۔ آپ اس میں میری مدد کریں گے؟

پ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *