پاکستانی انجینئیر نے سستا وینٹی لیٹر تیار کرلیا

— فوٹو بشکریہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان

ڈاکٹر مجیب الرحمان حال ہی میں معروف امریکی ادارے کیلفورنیا انسٹی ٹیوٹ آف ٹیکنالوجی سے انجینئرنگ میں پی ایچ ڈی کی ڈگری لے کر واپس آئے اور اب وہ ملک میں خود کو بے بس محسوس کرنے لگے۔

ان کا کہنا تھا 'ایک انجینئر کے طور پر سرکاری ہسپتال کے وارڈز میں صورتحال کا قریب سے مشاہدہ کرنا میرے لیے نہایت تکلیف دہ امر تھا کہ ہم 21 ویں صدی میں ہونے کے باوجود کس صورتحال کا شکار ہیں اور میرے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا کہ میں یا تو خاموش تماشائی کی طرح سمجھوتہ کر کے بیٹھ جاؤں یا مسئلے کے حل کے لیے اپنی صلاحیتوں سے فائدہ اٹھاؤں'۔

ڈاکٹر مجیب الرحمان نے دوسرے راستے کا انتخاب کیا۔ ڈاکٹر مجیب ایجاد شدہ چیز کو دوبارہ ایجاد کرنے کے خواہاں نہیں تھے بلکہ ان کا خیال تھا کہ ایسی پراڈکٹ تیار کی جائے جو انسانی نقائص سے پاک ہو اور اسے Ambu bag کے متبادل کے طور مریضوں کے سانسوں کی روانی کو برقرار رکھنے کے لیے استعمال میں لایا جا سکے۔ لہذا انہوں نے Ambu Bag کے خودکار استعمال کے طریقوں پر غور کرنا شروع کیا۔ ڈاکٹر رحمان کا کہنا تھا 'کسی جانی پہچانی چیز کو قبول کرنا آسان ہوتا ہے، اگر ہم کچھ بالکل مختلف تیار کرتے ہیں تو اسے قبول کرانا بھی چیلنج سے کم نہیں ہوتا'۔

انہوں نے یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی (UET) کے مکینیکل انجیئنر کی مدد سے اس کام کا آغاز کیا ، سب سے پہلے منصوبے پر کاغذی کارروائی کا آغاز ہوا اور پھر مشین کے ڈیزائن پر توجہ دی گئی۔فوٹو بشکریہ ایم آئی ٹی ٹیکنالوجی ریویو پاکستان

مشین کا ڈیزائن مکمل ہونے کے بعد اصل کام کا آغاز کیا گیا۔ کام کے اس مرحلے پر ڈاکٹر رحمان کو ایک کُل وقتی ساتھی کی ضرورت محسوس ہوئی اور اس طرح آئی ٹی یونیورسٹی سے تعلق رکھنے والے سعد پاشا اس منصوبے کا حصہ بنے۔ دونوں نے باہمی تعاون سے کم قیمت ایمبو بیگ وینٹی لیٹر سسٹم کا ورژن 0.1 تیار کیا۔

اس حوالے سے ڈاکٹر رحمان کا کہنا تھا 'اس سسٹم کے لیے ضروری تھا کہ یہ لاگت، وزن اور حجم میں کم ہو، دوسری چیز طبی نکتہ نظر سے درکار خدمات فراہم کرسکے، اس مشین کی تیاری کے بعد یہ دیکھنا تھا کہ یہ مشین تجرباتی بنیاد پر کس طرح کام کرتی ہے'۔ اس ایجاد کا دل ایک موٹر ہے جو ایمبو بیگ کے فلو ریٹ اور والیوم کو مانیٹر کرتی ہے۔ ان دونوں کو ایمبو بیگ اور موٹر پر نصب سنسرز کے ذریعے مانیٹر کیا جاتا ہے۔

یہ سنسرز نہ صرف درست پیرامیٹرز کو برقرار رکھتے ہیں بلکہ کسی بھی خرابی کی فوری نشاندہی کرتے ہیں۔ اس ڈیوائس کو چلانے کے لیے 12 وولٹ کی بیٹری نصب کی گئی ہے۔ ڈاکٹر رحمان کے بقول 'اس مرحلے پر ہم ڈیوائس کو فعال شکل دینا چاہتے تھے'۔ اس ڈیوائس کے نمونے کی تیاری کے لیے رقم آئی ٹی یونیورسٹی کے ریسرچ فنڈ سے جاری کی گئی۔ ڈاکٹر رحمان کا کہنا ہے کہ اس ڈیوائس کے حوالے سے 2 اہم چیلنجز درپیش ہیں، ایک اس ڈیوائس کی آزمائش اور دوسرا چیلنج اس ڈیوائس کی کمرشل بنیادوں پر تیاری کے لیے پرزہ جات کی تیاری وغیرہ ہے۔

ڈاکٹر رحمان کے مطابق ابتدائی طور پر اس ڈیوائس کے کلینیکل تجربات جانوروں پر کیے جائیں گے اور کامیابی کی صورت میں اس ڈیوائس کو انسانوں پر آزمایا جائے گا۔ دوسری جانب اس ڈیوائس کا پروٹو ٹائپ ہاتھ سے تیار کیا گیا ہے اور ڈیوائس کے تجربات کی کامیابی کی صورت میں اسے وسیع پیمانے پر تیار کرنے کے لیے ضروری ہے کہ اس کے لیے پرزہ جات کی تیاری اور درست انداز میں اسمبلنگ ہو تاکہ اس وینٹی لیٹنگ سسٹم کی کمرشل بنیادوں پر تیاری ممکن ہو سکے۔

ڈاکٹر رحمان کے مطابق ابتدائی طور پر وہ اور ان کی ٹیم دس وینٹی لیٹر تیار کر سکتی ہے جنہیں کسی بھی ہسپتال میں لگایا جا سکتا ہے جہاں وہ اور ڈاکٹرز کی ٹیم مشترکہ طور پر اس وینٹی لیٹنگ سسٹم کے افعال و کردار کا جائزہ لے کر اس کی افادیت کا تعین کر سکتے ہیں اور اگر ڈیوائس میں نقائص پائے گئے تو وہ بھی دور کیے جا سکتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ساتھ سب سے اہم مسئلہ یہ ہے کہ ہم کوئی چیز تیار کرتے ہیں تو اس سے فائدہ نہیں اٹھاتے بلکہ اسے ایک کونے میں رکھ دیتے ہیں جہاں وہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ گردوغبار میں اَٹ جاتی ہے لیکن ان کا کہنا تھا کہ 'میں اپنی تیار کردہ ڈیوائس کے ساتھ ایسا نہیں ہونے دوں گا' :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *