آواز دے کہاں ہے!

photo-ayaz-amir-sb

انیل بسواس ( بھارتی موسیقار) اپنے دور میں موسیقی کی دنیا کا ایک بڑا نام تھا، لیکن آج پرانی موسیقی سے لگائو رکھنے والوں کو تو وہ یاد ہوں گے لیکن میرا خیال ہے کہ بہت سے لوگ انہیں بھول چکے ہیں۔ 1940 اور 1950 کی دہائیو ں میں بننے والی فلموں کی موسیقی کی تاریخ( اور وہ سنہرا دور اب کبھی لوٹ کر نہیں آئے گا) بسواس کے ذکر کے بغیر ادھوری رہے گی ۔
انیل بسواس کتنے بڑے موسیقار تھے ، یہ جاننے کے لئے اُن کے کمپوز کیے ہوئے صرف دوگانے سننا ہی کافی ہے۔۔۔’’بالما جا جا جا، اب کون تجھے سمجھائے‘‘(لتا منگیشکر)، اور’’ اے جان ِ جگر دل میں سمانے آجا‘‘(مکیش)۔ یہ گیت بوریت سے بھرپور شاموں کو بھی پرکیف بنا دیتے ہیں۔ میں شرطیہ طور پر کہہ سکتا ہوں کہ ایک مرتبہ سننے کے بعد آپ بار بار سنے بغیر نہیں رہ سکیں گے ۔ یہ دونوں گیت راگوں کی بنیاد پر ہیں، جیسا کہ اُس دور کے بہترین نغمے کلاسیکی راگوں کا سرگم رکھتے تھے ، لیکن افسوس، ان راگوں کا نام بتاتے ہوئے میری علم ِ موسیقی سے لاعملی آڑے آرہی ہے ۔ مجھے موسیقی کے اسکول میں جانا چاہئے تھا، یا کسی استاد کے سامنے زانوئے ادب تلمیذ کرنے چاہئے تھے ، لیکن افسوس، اس کا وقت ہی نہ مل سکا، یاروایتی سستی غالب رہی ۔ چنانچہ علم ِ موسیقی سے جہالت کا اعتراف، لیکن کوئی بات نہیں، جب ارغوانی کرنیں بکھیرتا سورج شفق سے اوجھل ہوتا ہے تو، اگر آپ مالی مسائل کا شکار نہیں، آپ کے سامنے میز پر رنگین گلاس سے اٹھنے والی مہک کو مدھر موسیقی سہ آتشہ بنا سکتی ہے ۔
یہ ایسے ہی ہے جیسے جولیا رابرٹس، فلم ’’Pretty Woman‘‘ میں پہلی مرتبہ اوپیر ا میں جارہی ہو۔ اُس نے اس سے پہلے کبھی اوپیرا نہیں سنا، لیکن موسیقی سنتے ہوئے اُس کی آنکھیں بھیگ جاتی ہیں، اور جب رچرڈ گیئر یہ دیکھتا ہے تواُس کے لبوں پر مسکراہٹ کھیلنے لگتی ہے ۔ اُسے احساس ہوتا ہے کہ یہ کال گرل (جولیا کا فلم میں کردار) بہرحال موسیقی کا ذوق رکھتی ہے ۔ ’’بلما جا جا جا ‘‘ ایک ڈانس سانگ ہے ، اور اس گانے پر فلم میں رقص کرنے والی نے ( میں نے نام جاننے کی کوشش کی لیکن بے سود)بھی کمال کردیا ہے ۔ یہ گیت اصل میں تو موسیقی کی الف لیلیٰ ہے، لیکن رقاصہ نے بھی موسیقی کے ساتھ بدنی تال میل نبھایاہے۔ اور جب تان اپنے عروج کی طرف بڑھتی ہے ، اور گانے میں ایسا دومرتبہ ہوتا ہے، تو اس حشرساماں کے بازوئو ں کی حرکت اورمسکراہٹ دیکھنے کے لائق ہے ۔ یہ تمام گیت ایک ’’گاہک ‘‘ سے مخاطب ہے، جو بہت احمق دکھائی دینے والا شخص ہے (ایک مرتبہ پھر نام نہ بتاپانے پر معذرت)۔ رقاصہ اُسے تنگ کرتی ہے لیکن وہ کسی اور دنیا میں کھویا ہوا ہے ، اس کے ذہن پر تفکرات نے ڈیرے جمائے ہوئے ہیں۔ اس کے ساتھ ایک دوست بیٹھا ہوا ہے جوایک گھاگ تماش بین ہے ۔ اُس کی آنکھوں سے چھلکنے والے بازاری پن سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ اس بستی کے ہر کوچے سے اچھی طرح واقف ہے ۔ رقص، خیالوں میں کھویا ہوا اجنبی اور اس نگری کے سرد و گرم چشیدہ مسافر کو اپنے دامن میں سمونے والا منظر تمام فلم کی جان ہے ۔ یہی ٹکٹ کے پیسے پورے کردیتا ہے ۔ آج یہ تماش بین کہاں ہوگا؟ یہ منظر 1951 کی فلم ’’آرام ‘‘ کا ہے ۔ اُس وقت لتا نوجوان تھیں، انیل بسواس کی تخلیقی صلاحیتیں اپنے عروج پر ۔ زندگی کے اسٹیج پر یہ تمام کلاکار اپنا اپنا کردار ادا کرکے لاکھوں کو سحر زدہ کرچکے ۔ لتا جی حیات ہیں، اور خدا کرے وہ طویل عمر پائیں،لیکن وہ لافانیت حاصل کرچکی ہیں۔ آج سے ایک سوسال بعد، دوسوسال بعد، طویل عرصے تک، لوگ اُن کے گیت سنتے رہیں گے ۔ نورجہاں بھی لافانیت حاصل کرچکیں، اُن کے بہترین نغمے ہمیشہ زندہ رہیںگے ۔ کے ایل سہگل تو دیوتائوں کے ساتھ مسند نشین ہیں۔ اُن کے لافانی گیتوں میں ایک بھی ایسا نہیں جسے دوسرے درجے کا قراردیا جاسکے ۔ اُن کی آواز کا جادواُن کے نغموں کو کبھی مرنے نہیں دے گا۔ آج سے ہزار سال بعد بھی لوگ اُنہیں سنیں گے ۔
جہاں تک عام انسانوں کا تعلق ہے تو وہ فراموشی کی دھند میں غائب ہوجاتے ہیں، گرد اُنہیں ڈھانپ لیتی ہے ، وہ یاد داشت سے اترجاتے ہیں۔ میں نے ابھی ایک تماش بین کی مثال دی ہے۔ وہ کتنے انہاک سے رقص دیکھ رہا تھا۔ اگر میرے بس میں ہوتا تو میں اُسے کچھ پیسے دیتا تاکہ وہ بھی اپنا حلق تر یا شام رنگین کرلے۔ آج مجھے اُس کا نام یاد نہیں آرہا۔ عظیم لکھاری، شیکسپیئر کا کہنا ہے ۔۔۔’’زندگی ایک ڈھلتا سایہ ہے ، ایک بے چارہ اداکار، جوا سٹیج پرتھوڑی دیر کے لئے آتا ہے تو پھر تاریکی میں کھوجاتا ہے ۔ ‘‘کسی نے بھی اس مشہور تقریر پر آئن میکلن سے بہتر اداکاری نہیں کی۔ اُنھوں نے الفاظ اور مفہوم کا تمام کرب اداکاری کے لمحے میں سمو دیا ہے ، اُن کی آنکھیں دل میں اتر جانے والی اور آواز روح کو چھو لینے والی ہے ۔ بہرحال حقیقی زندگی میں آئن میکلن ایک ہم جنس پرست ہیں۔ اُنھوں نے اس وقت کھلے عام اپنی شخصیت کی اس جہت کا اعتراف کیا جب عموماً ایسا نہیں کیا جاتا تھا۔
شیکسپئر کے ڈراموں کے دوران آنے والی معرکتہ الآرا تقریروں پر بات کرتے ہوئے ، میں ہنری فورتھ کے اختتامی منظر پر فالسٹف کی تقریر ناقابل ِ فراموش قرار دیتا ہوں۔ فالسٹف کھیت میں کھڑا ہے ، اور پرنس جان آف لنکاسٹر سے مخاطب ہے ۔ یہ ایک طرح کی خود کلامی ہے ، اور وہ اس میں مشروب ، خاص طور پر شیری کی خوبیاں اشتہا انگیز پیرائے میں بیان کرتا ہے ۔ کسی اداکار نے اس تقریر پر اورسن ویلز سے بہتراداکاری نہیں کی ہے ۔ یہ لاس ویگاس میں ایک شو کے دوران کی گئی ۔ ویلز پہلے میک اپ کرتا ہے ، اور یہ قابل ِ دید ہے ۔اس تقریر کے اختتامی الفاظ کچھ اس طرح ہیں ۔۔۔’’اگر میرے ہزار بیٹے ہوتے تو میں اُنہیں پہلا اصول یہ سکھاتا کہ وہ ہلکے مشروب سے اجتناب کریں اور طاقتور مشروب کی عادت ڈالیں۔ ‘‘
ہر کوئی جانتاہے کہ ویلز نہ صرف ایک عظیم اداکار تھے بلکہ بہت بڑے فلم سازبھی تھے۔ اُنھوں نے فالسٹف کے کردار پر مبنی 'Chimes at Midnight' بنائی ہے۔ اُنھوں نے اس فلم میں فالسٹف کا کردار خود ادا کیا ہے ۔ فلم کے ابتدائی منظر میں وہ برف پر ماسٹر رابرٹ شیلو کے ساتھ چلتے ہوئے ایک ہال میں داخل ہوتے ہیں۔ اس کی چھت لکڑی کی بنی ہوئی ہے اور آگ جل رہی ہے ۔ شیلو گئے وقتوں کو یا د کرتا ہے ۔۔۔’’کیا دن تھے جو ہم نے دیکھے ہیں۔‘‘اور فالسٹف مدہم سی آواز میں جواب دیتا ہے ۔۔۔’’ ہم نے آدھی رات کو گھنٹیوں کی آواز سنی تھی‘‘ اور شیلو اُن عورتوں کے نام بیان کرتا ہے جن سے وہ کبھی آشنا تھے ۔ دراصل فالسٹف جانتا تھا کہ شیلو صرف گفتار کا غازی ہے ، اور فالسٹف کہتا ہے ۔۔۔’’بوڑھے ، بہت بوڑھے ہوگئے ہیں‘‘، اور یہی سب سے بڑا سانحہ ہے ۔ یہ ایک لفظ تمام زندگی کو اپنے حصار میں لئے ہوئے ہے ۔
میرا خیال ہے کہ شیکسپئر کو پڑھایا جاتا ہے ، لیکن اس کے ڈراموں کو کم از کم انگلش میڈیم اسکولوں میں پیش بھی کیا جانا چاہئے ۔ اس کے علاوہ موسیقی کی زیادہ دکانوں کی ضرورت ہے ۔ میں نے عمر بھر ثریا کو سنا ، لیکن ابھی حال ہی میں مجھے اس کی آواز کا حقیقی سحر ’’راتوں کی نیند چھین لی ‘‘ میںملا۔ یہ بھی 1951 کی فلم ’’شوخیاں ‘‘ ہے ، اور اس کی موسیقی جمال سن نے ترتیب دی جبکہ گانے کے بول کیدار شرما نے لکھے ۔ دودن پہلے اسلام آباد جاتے ہوئے میں تمام راستہ یہ گیت سنتا رہا۔ کیا ثریا ٹوٹا ہوا دل رکھتی تھی؟ اُسے دیوآنند سے محبت تھی، اور وہ شادی کرنا چاہتے تھے، لیکن ثریا کی نانی اماں نے اُسے ایک ہندو سے شادی نہ کرنے دی۔ لیکن پھر ثریا نے بھی کبھی شادی نہیں کی۔ جب اُس کا گیتوں اور فلموں کا دور تمام ہوا تو وہ عوامی زندگی سے اوجھل ہوگئی۔ تاہم اُس کے گیت ہمیشہ زندہ رہیں گے، اور ’’یہ زندگی کے میلے، دنیا میں کم نہ ہوں گے، افسوس ہم نہ ہوں گے ۔‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *