کالم

“آئین” اور ہماری عملی زندگی!

Share

یہ سوال شعبہ ابلاغیات میں ماسٹر ز کی کلاس کے ایک طالب علم نے پوچھا۔میں نے اسے بتایا کہ ایسی بات نہیں۔ آئین کسی بھی قوم کی سب سے بڑی مقدس دستاویز ہوتی ہے۔ اسے بہت سوچ سمجھ کر تیار کیا جاتا ہے۔ یہ ملک کے سماجی، نظریاتی، تہذیبی، معاشرتی اور تاریخی تصورات پر مبنی ایک “نصابی کتاب” ہے جس پر عمل کرنا ہر شہری، ہر ادارے، ہر حکومت اور ریاست کے تمام انتظام کاروں کے لئے لازم ہو تا ہے۔

وہ ذہین طالب علم تھا۔ غالبا جمہوریت پسند بھی۔ اس کے پاس بے شمار مثالیں تھیں کہ آٓئین کیا کہتا ہے اور عملا ہمارے ملک میں کیا ہو رہا ہے۔ یہ ایک دلچسپ موضوع تھا۔ لہذا فیصلہ ہوا کہ کلاس کے تمام طالب علم اس میں شریک ہوں۔ کچھ دن اس کے لئے وقف کر لئے گئے اور گھنٹوں اس موضوع پر بات ہوتی رہی۔ تمام بحث و مباحثے کے بعد نتیجہ یہ نکلا کہ آئین اپنی جگہ اور ہمارے معمولات زندگی اپنی جگہ۔ آئین ہی سے جنم لینے والے قوانین اور قواعد و ضوابط کی بھی بہت بڑی تعداد ہمارے ہاں موجود ہے ۔ بلکہ کہا جاتا ہے کہ پاکستان سب سے ذیادہ قوانین رکھنے والا (highly legislated)ملک ہے لیکن ہماری عملی زندگی کا نقشہ کچھ اور ہی ہے۔

ہمارے موجودہ آئین کی خاص بات یہ ہے کہ اس کا پس منظر بڑا ہی افسوسناک ہے۔ قیام پاکستان کے نو سال بعد ایک آئین 1956میں تشکیل پایا۔ فیصلہ ہوا کہ اس کے تحت پہلے عام انتخابات ہوں گے اور اقتدار عوام کے منتخب نمائندوں کو منتقل ہو جائے گا۔ ان انتخابات کی تیاریاں عروج پر تھیں کہ صدر اسکندر مرزا نے مارشل لاءنافذ کر دیا۔ بیس دن بعد جنرل ایوب خان نے سکندر مرزا کو فارغ کر کے اقتدار پر مکمل قبضہ کر لیا۔ 1962 میں ایوب خان نے اپنے نام کیساتھ قوم کو ایک آئین عطا کیا جو 1969 میں موصوف کی معزولی کے ساتھ ہی رخصت ہو گیا۔ یحیٰ خان نے ایک ایل۔ایف۔ او کے تحت الیکشن کرائے۔ طے یہ ہوا کہ منتخب ہونے والی نئی قومی اسمبلی پہلے دستور تیار کرئے گی اور پھر قانون ساز پارلیمنٹ بن جائے گی۔شیخ مجیب الرحمن جیت گیا تو یحیٰ خان اور اس کے حواریوں نے اقتدار منتقل کرنے سے انکار کر دیا۔ فوجی طاقت سے عوام کو اور ان کی رائے کو کچلنے کی کوشش ناکام رہی۔ ملک ٹوٹ گیا۔ باقی ماندہ پاکستان میں ذولفقار علی بھٹو نے باگ ڈور سنبھالی۔ 1973 میں بڑی مشکلوں کے ساتھ ایک متفقہ آئین تیار ہوا جس کے لئے بھٹو کی شدید مخالف سیاسی جماعتوں نے بھی بڑا اہم اور مثبت کردار ادا کیا۔ اس تاریخ سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ آئین سازی کس ماحول میں ہوئی اور ہمارے آئین سازوں کے ذہن میں پاکستان کے دولخت ہونے کا صدمہ کس شدت سے موجود تھا۔ اسی پس منظر میں آرٹیکل 6 بھی دستور پاکستان میں شامل کیا گیا۔ تاکہ آئیندہ اگر کسی نے دستور توڑا اور اقتدار پر قابض ہونے کے لئے مہم جوئی کی تو وہ سنگین غداری کا مجرم قرار پائے گا اور اسے کڑی سزا دی جائے گی۔ اس طرح کی سفارش حمود الرحمن کمیشن کی بھی آئی تھی جس نے کہا تھا کہ ایسے سانحات سے بچنے کے لئے سیاسی عمل کو فوجی مداخلت سے پاک رکھنا چاہیے۔

کلاس روم بحث مباحثے میں بھی اس شق یعنی آرٹیکل 6 کا ذکر آیا۔ ایک طالب علم نے نشاندہی کی کہ یہ آئین 1977 میں بھی موجود تھا جب جنرل ضیا الحق نے آئین شکنی کی اور اقتدار پر قبضہ کیا۔ یہ آرٹیکل 1999 میں بھی موجود تھا جب جنرل پرویز مشرف نے منتخب جمہوری حکومت کا تختہ الٹ کر حکومت اپنے ہاتھ میں لے لی۔ دونوں نے مل کر تقریبا بیس سال تک حکمرانی کی۔ یہیں سے بحث کا رخ عدلیہ کی طرف مڑ گیا کہ جب آئین کا آرٹیکل 6 آئین توڑنے والوں کے لئے اتنی سخت سزا تجویز کرتا ہے تو عدالتیں کیوں حرکت میں نہیں آتیں؟ جج کیوں آئین کے تحفظ کیلئے اپنا کردار ادا نہیں کرتے؟ یہاں تک کہ وہ اپنے آئینی حلف سے بھی منہ موڑ کر آئین توڑنے والے سے وفاداری کا حلف اٹھا لیتے ہیں۔ آج تک ہمیشہ یہی ہوتا رہا کہ ہر آئین شکن کو کسی نہ کسی بہانے جائز قرار دیا جاتا رہا بلکہ آئین توڑنے والوں کو یہ اجازت بھی دے دی گئی کہ وہ اپنی مرضی سے آئین میں ترامیم کر لیں۔

ایک طالبہ کا کہنا تھا کہ آرٹیکل 6 کو جانے دیں۔ آئین تو شہریوں کو اور بہت سی ضمانتیں دیتا ہے۔ مثلا “آزادی اظہار رائے”۔ کیا یہاں واقعی اپنی بات کہنے کی پوری آزادی ہے؟ مہذب دنیا میں اسے سب سے ذیادہ اہمیت حاصل ہے۔ اسے ہر شہری کا سب سے محترم بنیادی حق قرار دیا جاتا ہے۔ آپ اختلاف کر سکتے ہیں لیکن کسی کو اپنی بات کہنے سے روک نہیں سکتے۔ کیا یہاں پر اس بنیادی حق کا احترام کیا جا رہا ہے؟ آج کل بھی ہم ایسی سنسر شپ سے گزر رہے ہیں جس کی مثال مارشل لاوں میں بھی نہیں ملتی۔ اس طالبہ کا رخ سیاسی معاملات کی طرف مڑگیا اور بحث میں تلخی آنے لگی تو میں نے کہا کہ بلا شبہ آزادی اظہار رائے ایک بنیادی حق ہے۔ حضرت عمرؓ کا وہ بے مثال قوم مجھے یاد آیا جو انہوں نے مصر کے گورنر حضرت عمرو بن العاص ؓ سے کہا تھا ۔۔۔ “تم نے لوگوں کو کب سے غلام بناناشروع کر دیا جب کہ ان کی ماوں نے انہیں آزاد جنا تھا”۔۔ یہ قول ہر دور میں آزادی کے لئے جدوجہد کرنے والوں کا نعرہ رہا ہے۔

ابلاغیات کے طلبا و طالبات کے لئے “آزادی اظہار رائے” ایک اہم موضوع تھا۔ سو بات اسی کے گرد گھومتی رہی لیکن دیکھا جائے تو ہمارے آئین میں دئیے گئے حقوق بس آئین تک ہی محدود ہیں۔ ہماری عملی زندگی میں ان کا نفاذ نظر نہیں آتا۔ تعلیم کی فراہمی ریاست پر لازم ہے لیکن کروڑوں بچے تعلیم سے محروم ہیں۔ جان و مال کا تحفظ ریاست کا فرض ہے لیکن نہ کسی کی جان محفوظ ہے ہ مال۔ بلکہ عزتیں اور عصمتیںبھی محفوظ نہیں اور سر عام لٹ رہی ہیں۔ نقل و حمل کی آزادی ہے لیکن عملا اس پر قدغنیں ہیں۔ کسی کو آزادی سے محروم کرنے کی ممانعت ہے لیکن بغیر کسی جرم کے جب جی چاہے کسی کو بھی ہتھکڑیاں لگا کر جیل میں ڈال دیا جاتا ہے۔ سستا اور فوری انصاف آئین کا تقاضا ہے لیکن عمریں انصاف کے حصول میں بھٹکتے گزر جاتی ہیں۔ ساری جمع پونجی خرچ ہو جاتی ہے اور انصاف نہیں ملتا۔ سب کے ساتھ قانون کے یکساں برتاو کی ضمانت ہے لیکن یہاں ہر شخص کے لئے الگ قانون ہے۔

انسانی حقوق کی ایک طویل فہرست ہے جو ہمارے آئین کی زینت ہے۔ کہا گیا کہ کسی شہری کے یہ حقوق غصب ہوں تو عدالت خود 184/3 کے تحت نوٹس لے سکتی ہے لیکن عملا اس طالب علم کی بات خاصی وزنی لگتی ہے کہ ہمارے ہاں لکھے ہوئے آئین اور عملی زندگی میں کوئی ذیادہ مطابقت نظر نہیں آتی۔ اور جب قوموں کی زندگی، ان کے طے شدہ تحریری دستور سے ہٹ جاتی ہے تو پھر وہی کچھ ہوتا ہے جس کا نقشہ ہم سات دہائیوں سے دیکھ رہے ہیں۔