واپسی کا راستہ

Salah ud dinصلاح الدین احمد

چلیں آخرکار ہم سچ بولتے ہیں۔ آئیں ہم یہ ظاہر نہ کریں کہ اسلام آبادکے بحران میں موجود تمام جماعتیں اس بند گلی سے نکلنے کیلئے سنجیدگی سے کام کرنے کی خواہش مند ہیں۔ آئیں ہم یہ ظاہر نہ کریں کہ ہر جانب سے مسئلے کو پر امن مذاکرات کے ذریعے حل کرنے کیلئے آنے والی تجاویز بلآخر بارآور ہوں گی۔۔۔ کیونکہ ہر وہ بات جس پر پرُامن مذاکرات ہو سکتے تھے، وہ پہلے ہی ہو چکے ہیں۔آئیے ہم یہ ظاہر نہ کریں کہ مسائل صرف دھاندلی زدہ انتخابات اور سانحہ ماڈل ٹاؤن ہی ہیں۔ان حیلوں بہانوں کو مسترد کرنے کے بعد ہی ہم حقیقتاً جمہوریت کیلئے ایک مشترکہ دفاع منظم کر سکتے ہیں۔
ہر شخص کمرے میں موجود گمنام ہاتھی سے خوفزدہ ہے۔وہی ہاتھی جس نے جمعہ کے روزیہ حکم دیا تھا کہ یہ معاملہ پرامن مذاکرات کے ذریعے حل کیا جانا چاہیے اور مظاہرین کے خلا ف طاقت کے استعمال سے منع بھی کیا تھا۔ وہی ہاتھی جو ہماری پوری تاریخ کے ان لمحات میں فیصلے دیتا رہا ہے کہ جن میں قومی معاملات اس قدر غیرمستحکم ہوتے ہیں کہ جمہوری نظام کو لپیٹنے کاجواز پیش کیا جا سکتا ہے۔
پیٹ اور پی ٹی آئی کے فوج سے تعلقات نے متعدد لوگوں کو تشویش میں مبتلاکر دیا ہے۔ بہرحال یہ بہت کم ہوتا ہے کہ سماج کے جمود کیخلاف انقلابی مارچ میں شامل ہونے والے فوج کے حق میں نعرے بلند کریں۔بالکل اسی طرح شہری نافرمانی کی تبلیغ کرنے والوں کو نہایت وفادارانہ انداز میں جی ایچ کیو کی طرف دوڑتے دیکھنا بھی ایک نایاب واقعہ ہے۔۔۔۔مسلح افواج کے سربراہ کی جانب سے بلاوا ملنے پر ان کے چہروں پر واضح مسکراہٹ تھی۔۔۔۔
مارچ کرنے والے غضبناک اور ناقابل گرفت مظاہرین پارلیمنٹ اور سرکاری ٹی وی کی عمارات پر قبضہ کرنے کیلئے گئے لیکن فوجی افسران کی درخواست پر خاموشی سے وہاں سے کھسک آئے۔ مارچ کرنے والوں پر اس قدر اثر کے ساتھ اور موجودہ شہری بدنظمی سے متعلق فوج کے تحفظات کے اظہارپر ہر شخص یہ سوچنے لگتا ہے کہ آخر فوج نہایت پیار سے قادری اور عمران سے یہ درخواست کیوں نہیں کرتی کہ وہ چند روز کیلئے دارالحکومت چھوڑ دیں اور حالات کو کچھ ٹھنڈا ہونے دیں؟
لیکن چلیں ہم یہ فرض کر لیتے ہیں کہ فوج ایسا کرنے کے قابل نہیں ہے یا یہ کہ وہ ایسا کرنا ہی نہیں چاہتی۔۔۔تو پھر پارلیمانی پارٹیوں اور باقی سول سوسائیٹی، بشمول بار ایسوسی ایشنز جو جمہوریت کا دفاع کرنا چاہتی ہیں، ان کے پاس کیا تجاویز بچ جاتی ہیں۔۔۔؟
ایک تجویز یہ بھی ہو سکتی ہے کہ وزیر اعظم سے درخواست کی جائے کہ وہ جمہوری نظام کو بچانے کیلئے استعفیٰ سے دیں۔ لیکن کیا ایسی کوئی قربانی حقیقتاً نظام کو بچا سکے گی؟کیا درحقیقت ایسا اقدام پرلیمان کی مذمت نہیں ہو گی کہ وہ غیر جمہوری قوتوں کے آگے جھک گئی؟اس پارلیمان نے وزیر اعظم کو منتخب کیا۔ وہ ابھی تک پر اعتماد ہیں۔ اگر وہ مستعفی ہو جاتے ہیں ۔۔۔۔ چاہے ایک دن کیلئے ہی سہی۔۔۔۔۔۔۔
پوشیدہ قوتوں کے حمایت یافتہ چند ہزار ثابت قدم مظاہرین کے دباؤ میں آکر۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔ تو اس طرح کیسی مثال قائم ہو جائے گی؟
پاکستان میں موجود تمام جمہوریت نواز قوتوں کو اس پارلیمان اور منتخب وزیر اعظم کے دفاع کیلئے اکٹھے ہو جانا چاہئے۔سپریم کورٹ پہلے ہی حکم دے چکا ہے کہ شاہراہ دستور کو خالی کیا جائے۔پارلیمان کی تمام جماعتوں ، بشمول بار ایسوسی ایشنز اور سول سوسائٹی کے دیگر ارکان کو سپریم کورٹ کو اپنے ایسے احکامات پر عملدرآمد کروانے کی ترغیب دینے کیلئے ایک قرارداد منظور کرنی چاہئے۔
اور اگر پی ٹی آئی اور پیٹ نافرمانی جاری رکھتی ہیں اور اگر شہری انتظامیہ تشدد پھوٹ پڑنے کے خدشے کے سبب نظم و ضبط بحال کرنے کے قابل نہیں ہے توسپریم کورٹ کو آئین کے آرٹیکل 190کے تحت لازماً اپنی طاقت استعمال کرنی چاہئے اور فوج کو حکم دینا چاہئے کہ وہ عدالت کے حکم پر عملدرآمد کرانے کیلئے کام کرے۔اس کے ساتھ ساتھ حکومت اور پارلیمان کو پیٹ اور پی ٹی آئی کے دیگر مطالبات، جو پہلے ہی تسلیم کئے جا چکے ہیں پر عملدرآمد کرانے ٹھوس اقدامات اٹھانے چاہیں۔
امید ہے کہ یہ اقدامات مزید انتشار کے بغیر دھرنے ختم کروانے میں معاون ثابت ہوں گے۔ان سے پیٹ اور پی ٹی آئی کی فیس سیوِنگ بھی ہو جائے گی۔ مزید اہم بات یہ ہے کہ ان اقدامات سے فوج اور سپریم کورٹ کو ایک موقع ملے گا کہ وہ جمہوری نظام کے ساتھ اپنے لگاؤ کو ظاہر کریں اور اپنی ساکھ کو بحال کریں جو بدقسمتی سے ۔۔ ایک بار پھر۔۔ مسخ ہو رہی ہے۔ آخر میں، اور کسی بھی معاملے میں، کم از
کم ہر کسی کو یہ ضرور بتا دینا چاہئے کہ اس کا دوٹوک مؤقف کیا ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *