سازشوں کا بیڑا غرق کرنے کی سازش!

yasir pirzada

مجھے لگتا ہے جیسے میرے حاسدین کی تعداد میں روز بروز اضافہ ہوتا جا رہا ہے ، یوں تو لوگ میری پیدائش کے دن سے ہی مجھ سے حسد کرنا شروع ہو گئے تھے مگر میں نے اُن کی کبھی پروا نہیں کہ ’’یہ تو چلتی ہے تجھے اونچا اڑانے کے لئے‘‘۔ تاہم کچھ عرصے سے اُن کا یہ حسد آسمان کی بلندنائن الیون یاں کو چھو رہا ہے اور اس کا ثبوت وہ سازشیں ہیں جو یہ حاسدین دن رات میرے خلاف بُننے میں لگے ہیں۔ دو دن پہلے کی بات سُن لیں، جس روز شہر میں موسلادھار بارش ہو رہی تھی عین اسی دن ہماری بجلی ٹرپ کرگئی اور مجھے تقریباً چھ گھنٹے بغیر روشنی کے گزارنے پڑے، ممکن ہے آپ لوگوں کے نزدیک یہ معمول کی بات ہو مگر میں نے اُس روز آل پاکستان انجمن مویشیاں کے اجلاس کے لئے تقریر لکھنا تھی اور حاسدین کو میری اس کمزوری کا بخوبی علم تھا کہ میں بجلی کے بغیر نہیں چل سکتا سو انہوں نے لائن مین سے ملی بھگت کرکے میری بجلی ہی بند کروا دی، نقصان اس کا یہ ہوا کہ تقریب میں میری جگہ اُس اینکر کو بطور مہمان خصوصی مدعو کر لیا جو گزشتہ تین برس سے حکومت جانے کی پیش گوئیاں کرنے میں لگا ہے، اب سنا ہے کہ اسے انجمن مویشیاں کا تاحیات اعزازی صدر منتخب کر لیا گیا ہے۔
ان سازشو ں کا البتہ ایک فائدہ ہوا ہے کہ میں اب نہ صرف اپنے ملک کے خلاف ہونے والی سازش کی بھی بُو سونگھ لیتا ہوں بلکہ امت مسلمہ کے خلاف ہونے والی سازشوں کو بھی وقت سے پہلے بھانپ لیتا ہوں۔ تازہ مثال ملاحظہ ہو، آج ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر حملے کی 15ویں برسی ہے، کہتے ہیں کہ آج کے دن دو جہاز امریکہ کی اِس بلند ترین عمارت سے ٹکرائے تھے جس کے بعد یہ ٹوئن ٹاور زمین بوس ہوگئے تھے، اس کے علاوہ ہمیں یہ بھی بتایا گیا کہ ایک جہاز پینٹاگون سے ٹکرایا تھا اور ہم نے اس کہانی پر بھی من و عن یقین کر لیا۔ سچائی کیا ہے، یہ میں پندرہ برس سے لکھ رہا ہوں اور آج ایک مرتبہ پھر نائن الیون کی برسی کے موقع پر میں اس سازش کا پردہ چاک کئے دیتا ہوں تاکہ سند رہے اور بوقت ضرورت کام آوے۔ یہ صیہونی سازش دراصل امریکہ میں بُنی گئی تھی، سی آئی اے نے اس کا ماسٹر پلان بنایا تھا جس کا علم صدر بش کو بھی نہیں تھا، منصوبے کے مطابق دو جہاز ورلڈ ٹریڈ سینٹر سے ٹکرائے گئے جس کی تمام منزلوں میں پہلے سے ہی بم نصب تھے، سو جہاز کے ٹکراتے ہی وہ بم پھٹ گئے اور آن ہی آن میں پوری عمارت دھڑام سے زمین پر گر گئی جبکہ یہ ناممکن تھا، اس تباہی میں ایک بھی یہودی ہلاک نہیں ہوا حالانکہ ورلڈ ٹریڈ سینٹر میں چار ہزار یہودی کام کرتے تھے، انہیں اس واقعہ سے پہلے ہی خبردار کر دیا گیا تھا، اس کا ثبوت وہ فون کال بھی ہے جو اسرائیلی وزیراعظم نے غلطی سے واقعہ سے پہلے ہی صدر بش کو اظہار افسوس کے لئے کر دی، چونکہ نیویارک اور تل ابیب میں سات گھنٹے کا فرق ہے اس لئے بھانڈا پھوٹ گیا مگر سی آئی اے نے نہایت چالاکی سے صدر بش کو بیوقوف بنا کر اسے ’’کوراپ‘‘ کرلیا اور صدر کو سمجھا دیا کہ یہ منصوبہ مسلمان ممالک کو تباہ کرنے کے لئے امریکی مفاد میں بنایا گیا ہے۔ ادھر پینٹاگون میں بھی ایک نام نہاد حملہ کیا گیا جس سے یہ تاثر دینا مقصود تھا گویا پورے امریکہ پر حملہ کر دیا گیا ہے۔ آپ کے خادم نے یہ سازش پندرہ برس پہلے ہی بے نقاب کر دی تھی، اسی لئے امریکہ نے اب تک مجھے کوئی آسکر دیا ہے اور نہ ہی پلٹزر انعام کے قابل سمجھا ہے، ویسے بھی میں لعنت بھیجتا ہوں، میرے لئے وہ اعزاز ہی کافی ہے جو گزشتہ برس سادھوکی ایسوسی ایشن آف دی کالمسٹس نے مجھے نوازا جس میں مجھے ایشیا کا سب سے بڑا کالم نگار قرار دیا گیا۔ مجھ سے یہ اعزاز واپس لینے کی سازشیں ہو رہی ہیں مگر انشا ءاللہ میں ان تمام سازشوں کو ناکام بناؤں گا۔
کالم کے شروع میں جن حاسدین کا میں نے تذکرہ کیا تھا اُن میں سے ایک میرا دوست بھی ہے، یاد رکھیں کہ دوستوں سے زیادہ حسد کوئی نہیں کرتا، میرا یہ حاسد دوست ہر وقت مجھے زچ کرنے پر تلا رہتا ہے، اس کا کہنا ہے کہ نائن الیون سے متعلق میں نے جن سازشوں کا کریڈٹ لینے کی کوشش کی ہے اس سے انٹرنیٹ کی دنیا بھری پڑی ہے، 9/11- Conspiracy Theoriesلکھ کر ٹائپ کرو تو وہ تمام باتیں سامنے آجائیں گی جو میں نے کی ہیں۔ اُس کا یہ بھی کہنا ہے کہ ان سازشی تھیوریوں کا جواب نائن الیون بھی انٹرنیٹ پر ہی موجود ہے، مثلا ًورلڈ ٹریڈ حملے میں کم از کم دو سو ستّر یہودی ہلاک ہوئے اور ان تمام ہلاک شدگان کی مکمل فہرست مع ان کی ملازمت کی تفصیل کے انٹرنیٹ پر دستیاب ہے، اسی طرح نائن الیون کے حملوں میں استعمال ہونے والے جہازوں کے بلیک بکس کی ریکارڈنگ بھی موجود ہے، پینٹاگون پر ہونے والے حملے میں ہلاک شدگان کی مکمل فہرست آج بھی پینٹاگون میں موجود ہے اور لوگ وہاں پھول اور تہنیتی کارڈ رکھنے آتے ہیں، جہاز ٹکرانے کے بعد ٹوئن ٹاور اگر زمین بوس نہ ہوتے تو کیا آسمان میں اُڑ جاتے، ان میں کہیں بھی بموں کی موجودگی کی تصدیق نہیں ہو سکی، اور رہی بات اسرائیلی وزیراعظم اور صدر بش کے فون کی تو یہ لطیفہ بھی انٹرنیٹ پر موجود ہے، اس سے صرف محظوظ ہوا جا سکتا ہے۔ مجھے اپنے اس دوست کی ذہنی حالت پر ترس آتا ہے، دراصل یہ بیچارہ میری مقبولیت سے جلتا ہے، میں چونکہ انسانی نفسیات کو سمجھتا ہوں (یونیورسٹی آف سینٹرل چیچہ وطنی نے مجھے نفسیات میں اعزازی ڈاکٹریٹ کی ڈگری دے رکھی ہے) اس لئے مجھے اپنے اس دوست پر رحم آنے لگا ہے، مجھے ڈر ہے کسی دن یہ بیچارہ حسد میں پاگل ہو کر خودکشی نہ کرلے سو میں عنقریب اسے دم کروانے کسی پیر فقیر کے پاس لے جاؤں گا۔
نائن الیون کی سازش کو بے نقاب کرنے کے بعد سے اب تک مجھے اس قدر پذیرائی مل چکی ہے کہ مجھے حاسدین کی پروا نہیں رہی، بلکہ اگر کوئی شخص مجھ سے حسد کرتا ہے تو مجھے خوشی ہوتی ہے کہ کسی سیانے کے بقول یہ حاسدین درحقیقت آپ کے پرستار ہوتے ہیں جنہیں تعریف کرنےکا سلیقہ نہیں آتا۔ بہرکیف اب میں سوچ رہا ہوں کہ نائن الیون سے متعلق ایک تحقیقاتی مقالہ شائع کروں ۔
جن میں اُن تمام سازشوں کا احاطہ کیا جائے جو نائن الیون کے نتیجے میں بُنی گئیں، یہ مقالہ جب کتابی شکل میں شائع ہوگا تو یقیناً تہلکہ مچا دے گا، اس ضمن میں ایک پبلشر سے میری بات ہو چکی ہے، اس مردِ عاقل نے یہ مشورہ بھی دیا ہے کہ کتاب میں مغربی سازشوں کا پردہ چاک کرنے کے ساتھ ساتھ کچھ آئندہ کی پیش گوئیاں بھی کردی جائیں تو کتاب ہاتھوں ہاتھ بکے گی۔ مثلا ً اُس کا کہنا تھا کہ میں بلاکھٹکے امریکہ کی تباہی سے لے کر یورپ کی بربادی تک اور پاکستان میں برے اعمال کے نتیجے میں زلزلے اور سیلاب آنے سے لے کر افغانستان میں انقلاب تک تمام پیش گوئیاں لکھ دوں تو کتاب بلامبالغہ پہلے ہی ہفتے کوٹ رادھاکشن ٹائمز کی بیسٹ سیلر فہرست میں شامل ہو جائے گی۔ اگے تیرے بھاگ لچھئے!
پس تحریر:کل رات میں نے خواب میں دیکھاکہ نائن الیون دراصل ہوا ہی نہیں، جہازوں کا ٹکرانا اور ورلڈ ٹریڈ سینٹر کا گرنا سب فریب نظر تھا، ٹوئن ٹاور اب بھی اسی جگہ قائم ہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ اب وہ زیر زمین ہیں۔ باقی تفصیلات میری کتاب میں ملاحظہ ہوں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *