جس کھیت سے دہقاں کومیسرنہ ہو روزی(دوسری اور آخری قسط)

ghulam mustafa mirani

اس کالم کی پہلی قسط پڑھنے کے لیے یہاں کلک کریں

اس مضمون کے ذریعے، زراعت کے ضمن میں، طویل تمہید اور کثیر تفصیل کا مقصد، ماضی کی لغزشوں، حال کے المیوں اور مستقبل کے خدشوں کو شرح صدر کے ساتھ مترشح کرنا مطلوب ہے۔ اگر حکومت اور فیصلے ساز ادارے، ملک کو مضبوط اور قومی معیشت کو مستحکم کرنے میں مخلص ہیں اور زراعت کو زوال سے نکال کر، ارتقائ سفر پر رواں دیکھنا چاھتے ہیں تو پھر بلا تاخیر ٹھوس، جامع ، موثر اور دوررس اقدامات اٹھانے ہونگے۔ فوری توجہ اور اہم اصلاحات کے متقاضی، درج ذیل ، چند چیدہ چیدہ نکات پیش نظر رہنے چاھئیں۔
1- زراعت کی ترقی کیلئے ایک مضبوط،بااختیار اور طاقتور بورڈ ، کمیشن یا کونسل کا قیام، جس کے ممبران ماھرین زراعت، زرعی سائینسدان، پروگریسو زمیندار، زراعت کے صوبائی اور وفاقی وزارا، وفاق اور صوبوں سے متعلقہ سیکریٹریز، جس کا چئرمین خود وزیر اعظم کو ہونا چاھیئے جبکہ ڈپٹی چئرمین کیلئے ایک باصلاحیت ، بااختیار اور زرعی امور پر کامل دسترس رکھنے والی شخصیت کو مقرر کیا جائے جو مجوزہ بورڈ کو مستعدی سے چلانے اور مطلوبہ ثمرات حاصل کرنے کی پوری صلاحیت رکھتی ہو۔ اگر کسی صوبے نے اپنا نظام الگ وضع کرنا ہے یا مرکز کے ساتھ ساتھ صوبوں میں بھی صوبائ زرعی کمیشن تشکیل دینے ہیں تو وفاق کی طرز اور مجوزہ خطوط پر، صوبائی سیٹ اپ بھی تشکیل دیئے جا سکتے ہیں۔
2- نصب العین اور لائحہ عمل کا کلئیر تعین....یعنی زراعت کی فوری بحالی، تیز ترقی اور دنیا کےشانہ بہ شانہ پیش رفت کرنے کے لئے، ایک مستقل منشور اور ایجنڈا ترتیب دیا جائے کہ>>>
ا..کیا کرنا ھے ؟
ب-کیسے کرنا ھے ؟  اور
ج۔۔کب تک کرنا ہے ؟
* طےکر لیا جائے کہ موجودہ حکومت نے، اپنے اگلے پونے دو برس کے بقیہ عرصہء اقتدار کے اندر اندر، زرعی شعبہ کو کسطرح سنبھالنا ہے اور عوام کا اعتماد بحال کرنے کیلئے کیا کیا موثر اقدامات اٹھانے ہیں؟ یہ کام ٹھوس منصوبہ بندی اور مستعد ٹیم کا تقاضا کرتاہے۔ مشن کو ہنگامی بنیادوں پر  مکمل کرنا ہوگا یہ ملحوظ خاطر رکھتے ہوئے کہ ،
** ملک میں زراعت کی سو فیصد کامیابی کا مرحلہ وار حصول تب ہی ممکن ہو سکتا ہے جب آپ محب الوطنی کا ثبوت دیتے ہوئے، ایک طویل المعیاد اور قابل عمل منصوبہ تیار کر کے، کام شروع کر دیں گے۔ بہتر ہے کہ کام کو دو پانچ سالہ منصوبوں میں تقسیم کر لیا جائے۔
(ا) پہلے پانچ برس کے دوران زرعی وسائل، پیدوار اور ترقیاتی اہداف دوگنا کرنے ہیں۔ یعنی موجودہ سے سو فیصد زیادہ بڑھانے ہیں۔ اس مدت کے اختتام پر ہماری ہر فصل کی پیداوار دوگنی ہونی چاہئے ۔
(ب) اگلے پانچ سال کے دوران ملک بھر میں تمام بنجراور غیر آباد رقبے کو آباد کرنے کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔ اجناس کی کاشت ، باغبانی، جنگلات اور لائیو سٹاک کے ذریعے ملک کا چپہ چپہ مصرف میں لانے کا عزم بالجزم پیدا کرنا ہو گا۔ جہاں ہم کاشت نہیں کر سکتے وہاں شجرکاری اور لائیوسٹاک سرگرمیاں بخوبی اختیار کی جا سکتی ہیں۔ تمام بنجر میدانوں اور سنسان صحراوءں کو جنگلات اور لائیو سٹاک فارمنگ میں تبدیل کرنے کے فیصلے اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں، جس سے نہ صرف ملک میں سرسبز انقلاب برپا ہوگا بلکہ زبردست آمدنی کے ساتھ ساتھ، بیروزگاری کا بھی ٹھوس مداوا ہو سکے گا ۔
3- آبی قلت اور توانائ کے بحران سے نبرد آزما ہونے کیلئے ھنگامی طور پر کالا باغ ڈیم کی تعمیر اور تکمیل کا اٹل فیصلہ کرنا ہوگا۔ زیادہ سے زیادہ غیر آباد زمینوں کی آبپاشی اور بجلی کی مطلوبہ پیداوار کے حصول کیلئے اس منصوبے کا آغاز کرنے میں مزید تاخیر کرنا، قومی مفاد کے سراسر خلاف ہے ۔ بایں ضمن، قوم کو مسلسل باخبر رکھا جائے ۔ کالا باغ ڈیم کے علاوہ بھی، مختلف مقامات پر دیگر مجوزہ ڈیموں کی تعمیر اور تکمیل کیلئے کارگر منصوبہ بندی اور فوری عملی اقدامات کئے جائیں۔ نیز موجودہ آبی ذخائر کی اپ گریڈیشن ، بحالی اور نئے تقاضوں سے ھم آھنگ کرنے کیلئے ممکنہ حد تک فوری منصوبہ بندی اور اقدامات کرنے کی طرف توجہ دی جائے۔
ملک میں بےشمار رودکوھیوں کے پانی کی ایک بہت بڑی مقدار، ہر سال دریاوءں کی نذر اور بالآخر سمندر برد ہو جاتی ہے۔ چھوٹے چھوٹے ڈیموں یا آبی ذخائر کی شکل میں رودکوہیوں کا پانی محفوظ کر کے، باقاعدہ مصرف کا اھتمام کیا جائے. یہ ایک بڑا قیمتی اور کار آمد آبی ذریعہ ھے جو محض عدم توجہ اور غوروفکر سے تعرض کے باعث برباد ہو رہا ہے. پہاڑوں سے گرنے والے اس پانی کی رفتار اور مقدار اس قدر زود رفتار  اور کثیر ہوتی ہے جس سے نہ صرف وسیع وعریض چٹیل میدانوں کو، کھیت کھلیانوں اور سبزہ زاروں میں بدلا جا سکتا ہے بلکہ برقی پیدوار کے ذرائع کے طور پر بھی متعدد منصوبے بنائے جا سکتے ہیں. اپنے زمانہء صدارت میں سردار فاروق احمد خان لغاری نے اس پر بہت ہوم ورک کرایا تھا. قومی پیدوار میں اضافہ کے اس موثر منبع پر عملاً کام شروع ہونے والا تھا کہ حکومت ٹوٹ گئی، اس طرح عرق ریزی سے تیار شدہ ایک گرانقدر منصوبہ دھرے کا دھرا رہ گیا ۔ نیا سروے اور تازہ منصوبہ بندی کرتے ہوئے، ان رپورٹوں سے بھر پور استفادہ کیا جا سکتا ھے. ماہرین کی ایک کمیٹی تشکیل دے کر اُس کام کو بہ آسانی اپ ڈیٹ کیا جا سکتا ہے ۔
کالا باغ اور زیرغور دیگر ڈیموں جیسے منصوبوں سے لے کر، رود کوہیوں کے پانی کی ترتیب اور استعمال تک، تمام منصوبے ھنگامی اور میٹرو مشن طرز پر تعمیر اور تکمیل کے متقاضی ہیں. اس سلسلہ میں تساھل یا چشم پوشی مجرمانہ غفلت کے مترادف ھوگی جو کسی بھی صورت میں قابل معافی نہیں ہونی چاھیئے. موجودہ حکومت میں اس کام کا بیڑہ اٹھانے کی پوری صلاحیت موجود ہے بشرطیکہ نیک نیتی اور مخلصانہ کوشش سے کام لیا جائے ۔
ملک کا وسیع رقبہ پانی سے محرومی کے باعث ویران پڑا ہوا ہے، حکومت کو چاہئے کہ ایسے رقبے کی آبادی اور آبپاشی کا انتظام کرے، ٹیوب ویلوں کی تنصیبات کا جال بچھا دیا جائے ۔ سبسڈی کے طور پر، پچاس فیصد اخراجات حکومت برداشت کرے اور بقیہ پچاس فیصد بنکوں سے محض شخصی ضمانت پر قرضوں کی صورت میں ادائیگی کرائی جائے۔ پچاس فیصد قرض شدہ رقم کی ادائیگی، ایک سال چھوڑ کر، دوسرے سال سے آسان ششماہی قسطوں میں شروع کرائ جائے۔ قرضہ پانچ برس میں واجب الادا ہونا چاہیئے ۔ اولاً تو ایسا قرض بلاسود ہونا چاہئے یا پھر برائے نام سود پر جاری کیا جانا چاہئے ۔
پانی کے صحیح استعمال اور ضیاع سے بچاؤ کیلئے بھی مضبوط اور پائیدار پلاننگ کی ضرورت ہے کیونکہ ناقص منصوبہ بندی اور غیر ذمہ دارانہ رویوں کی بدولت پانی کا بہت بڑا ضیاع ہو رہا ہے۔ ستم بالائے ستم، تضیعء آب کا یہ عمل، زرخیز زمینوں کی بدترین تباہی کا سبب بن رہا ہے۔ دستیاب نہری پانی اور ٹیوب ویلوں کے ذریعے میسر آبی وسائل کے درست استعمال کیلئے، درج ذیل اقدامات نہایت ناگز ہیں
(ا) زیادہ سے زیادہ کھالا جات پختہ کئے جائیں۔ کسانوں پر بوجھ کم سے کم ڈالا جائے ۔ شئرنگ کنٹری بیوشن کے بجائے کھالا جات کے جملہ اخراجات، حکومت کو برداشت کرنے چاھئیں۔ بہت سے کاشتکار مالی دشواریوں اور بہت سی زمین ضرورت طلب ہونے کے باوجود اس اہم سہولت سے محروم ہیں، چنانچہ پانی کے ضائع ہو جانے کے علاوہ دیگر نقصانات بھی بہت زیادہ ہیں مثلاً جہاں پانی کی مقدار زیادہ چلی جائے ، فصل شدید متاثر ہوتی ہے ، رقبے سیم زدہ ہو جاتے ہیں، ایک طرف پانی کے غیر متناسب یا زیادہ  استعمال کے نتیجہ میں ، دوسری جانب، وسیع رقبہ سیراب ہونے سے محروم رہ جاتا ہے ۔
(ب) پانی کا اندھادھند استعمال، ایک طرف فصلات کی اوسط پیداوار کو متاثر کررہا ہے، دوسرا زمینوں کو بُری طرح سیم آلود کرنے کا سبب بنتا جا رہا ہے، اس لئے تفصیلی سروے کے بعد، ایک موثر اور مضبوط ڈرینج پروگرام کی پائیدار پلاننگ کی جائے کیونکہ سیم کے باعث روزبروز رقبوں کی تباہی میں اضافہ ہو رہا ہے، ایوب خان کے دور میں یہ کام بڑے احسن طریقے سے ہوا تھا، اُس کے بعد صحیح توجہ نہیں دی گئی ۔ بدقسمتی سے ہر عوامی دور کے راج دلاروں اور انکی تقلید میں سول بیوروکریسی نے، زرعی اراضی کے اس ناسور کا مداوا کرنے میں، مساھلت سے کام لیا یا پھر ایسے منصوبوں کے نام پر شکم پروری کی۔ اب بھی، بلا توقف و تردد، باقاعدہ ایک مہم کی صورت میں سیم توڑ سکیمیں شروع کردی جائیں ۔
ج- پانی کا صحیح استعمال اور زمین کا مکمل ہموار ہونا، دونوں لازم وملزوم صورتیں ہیں۔ بصورت دیگر خسارا ہی خسارا ہے۔ کھیت جس قدر ناہموار ہو گا، اسی تناسب سے  زیادہ پانی درکار ہو گا اور اس سے کئ گنا زیادہ بربادی بڑھتی نظر آئے گی کیونکہ ناہموار کھیت کی اوسط پیدوار مایوس کن ہوتی ہے۔ پانی اپنی سطح ہموار رکھتا ہے لہذا ایک اونچے نیچے کھیت کو، مکمل سیراب کرنے کے بعد، اسکی سطح مرتفع بمشکل گیلی ہو پاتی ہے کہ کھیت کا نشیبی حصہ، سمندر یا سیلاب کا منظر پیش کر رہا ہوتا ہے جو کئ کئ ایام تک خشک نہیں ہو پاتا۔ واضح رھے کہ بیشتر فصلیں ایسی ہیں جو کھڑے پانی کی صورت میں،  دو دن کے بعد مر جاتی ہیں یا کمزور ہوکر، برائے نام اور وہ بھی مری سڑی پیدوار دیتی ہیں جبکہ دوسری طرف، اسی کھیت میں زمین کا اونچا حصہ، پانی کی  طلب میں  ہوتا ہے۔  پانی دیں گے تو نشیبی حصہ برداشت نہیں کر سکتا، نہیں دیں گے تو بالائ اور مرتفعائ پورشن کملا مرجھا کر سوکھ جائے گا۔ ایسے کھیتوں کیلئے درکار سخت مشقت کے باعث، کسان الگ ذلیل و خوار ہو رہا ہوتا ہے۔ ھمارے ملک کے بیشتر زرعی رقبہ جات اسی نوعیت کے ہیں۔اس کا حل ڈرپ سسٹم یا سپرنکلنگ طریقہء آبپاشی ہے، جو اکثر ترقی یافتہ ممالک میں نافذالعمل ھے۔ مگر بہت مہنگا ہونے کے باعث، ابھی پاکستان  میں زیادہ متعارف نہیں ہوا، ماسوائے کہیں کہیں کے، جہاں محکمہ واٹر منیجمنٹ والے، مریل مرغی کو کند چھری کی طرح ذبح کرنے کی طرح، بادل نخواستہ متحرک نظر آتے ہیں۔ ہمارے ملک میں اس کا فوری علاج رقبوں کو ھموار کرنے میں مضمر ہے۔ لیزر مشین کی قیمت تقریبا" چھ سات لاکھ روپے ہے۔ کمزور کسان خریدنے کی سکت نہیں رکھتا بلکہ بڑے بڑے زمینداروں کو بھی اس ناگزیر ضرورت پر خرچ کرنے میں اکثر، گریزپا ہی پایا ھے۔ پنجاب حکومت کبھی کبھی، قارون کی قبر پر چھترول کی سعادت حاصل کر کے، کسانوں کو ففٹی پرسنٹ سبسڈی گرانٹ کرتی رھتی ہے ۔ اس طرح قرعہ اندازی کے ذریعے، آٹے میں نمک برابر تعداد میں، وقتا" فوقتا" لینڈلیزر عنایت کئے جاتے ہیں۔ سنا ہے، بہت سارے کاشتکار آدھی قیمت کی فراھمی بھی افورڈ نہیں کر پاتے، انکے نام پر، جعلی کارائیوں کے ذریعے، کمپنیوں والے خود ہی نصف رقم جمع کرا کر لینڈلیزر لے جاتے ہیں۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ حکومت میگا پروجیکٹ کے طور پر، ملک یا صوبے کے کم از کم ہر چوتھے کاشتکار کے لئے لینڈ لیزرز کی فری فراھمی کا فوری انتظام  کرے۔ یہ ایک بہت بڑی قومی خدمت ہوگی۔ پانی کی وافر بچت سے، محروم شدہ اراضی کا بہت بڑا حصہ سیراب ہو سکے گا۔ ناہموار کھیتوں میں زیادہ پانی کے چلے جانے سے فصلیں بھی تباہی اور سیم زدنی سے بچ جائیں گی۔ کسان کو پانی لگانے میں محنت کم کرنی پڑے گی جبکہ پیدوار میں بھی ناقابل تصور حد تک اضافہ ہو جائے گا۔
4- ملک میں زرعی تعلیم و تربیت کا فقدان ہے. اس ضمن میں موثر اور کار آمد منصوبہ بندی کی ضرورت ہے جو کسی مجبوری یا تساھل کی متحمل نہیں ہو سکتی. ملک کے ہر ضلعی ہیڈکوارٹر پر، زرعی کالج کا قیام اور ملک بھر میں موزوں جگہوں پر کم از کم مزید چار زرعی یونیورسٹیاں وجود میں لائ جائیں. ان کالجوں اور یونیورسٹیوں کے پہلو بہ پہلو، دنیا کے جدید ترین زرعی تحقیقاتی اداروں کے ھم پلہ ایگریکلچرل ریسرچ سنٹرز قائم کیئے جائیں. جہاں نئی نئی تحقیقات اور دریافتوں کی بدولت، نہ صرف اپنی زراعت کو چار چاند لگا سکتے ہیں، بلکہ اپنے قومی امیج کے نکھار اور تجارتی طورطریقوں سے خاطر خواہ زر مبادلہ کما سکتےہیں.اس ضمن میں، ان ممالک سے فائدہ اٹھانا چاہئے جو زراعت کے علوم اور تجربات میں اپنا لوہا منوا چکے ہیں۔
علاوہ ازیں زمینداروں، کاشتکاروں، زرعی ٹیکنیشنز، زرعی ورکرز اور زراعت سے وابستہ افرادی قوت اور کاروبای افراد کیلئے جدید طرز کی تربیت گاھوں کا قیام عمل میں لایا جائے جہاں عصری علوم اور جدید تحقیق و تجربات کے مطابق زمینداروں اور زرعی کارکنوں کی تربیت بذریعہ کورسز، لیکچرز اور سیمینارز سال بھر جاری رکھی جائے۔
زراعت کے پیشہ سے وابستہ، کاشتکاروں کی تربیت کے ساتھ ساتھ، اُن تمام افراد کی تربیت بھی لازمی قرار دی جائے جو زراعت سے منسلک کاروبار کرتے ہیں۔.کیا یہ عجب تضاد نہیں کہ آپ بغیر ڈپلومہ یا ڈگری کے میڈیکل سٹورز کے قیام اور پریکٹس کی اجازت نہیں دیتے اور زراعت جیسے حساس شعبہ کیلئے ہر ایرے غیرے شخص نے دکان کھول رکھی ھے جو اپنا سودا بیچنے کیلئے، ان پڑھ کاشتکاروں کے سامنے، مختلف مصنوعات کی تعریفوں کے پل باندھ کر، غیر معیاری اشیاء بیچ رہا ہے جس سے پیدواروں میں افزودگی کے بجائے، خسارے ہی خسارے مقدر بن رھے ہیں. زمینوں کی خوراک، نمکیات اور منرلز کی کمی بیشی اور کما حقہہ تشخیص کے بغیر، اندھا دھند کھادوں اور زرعی ادویات کا استعمال یا علاج سراسر نقصان دہ ہے ، یہی وجہ ہے کہ دنیا کے مقابلہ میں ہماری اوسط پیداوار بہت کم ہے ۔
علاج اور احتیاط کے بارے میں انسان یا ایک مریض اپنے بارے میں سوچ بھی سکتا ھے اور برے بھلے کی تمیز کا فہم بھی رکھتا ھے مگر پھر بھی حکومتی کارندے آئے روز عطائ ڈاکٹروں کی پکڑ دھکڑ میں مصروف نظر آتے ہیں جبکہ زراعت کو تباہ کرنے  والے " عطایئوں " نے قدم قدم پر "زراعت کش" دکانیں سجا رکھی ہیں . یہ چرب زبان اور طرب بیاں بہروپئے زمینوں کو ناکارہ بنانے، فصلات کو برباد کرنے  اور کسانوں کی جیب کاٹنے کیلئے ہر حربہ مباح اور ہر داوء درست سمجھتے ہیں، یہ سارا کاروبار اندھا راجا چوپٹ نگری کا منظر ھے. اس سلسلہ میں انسداد، تدارک ، تربیت اور پریکٹس کیلیئے ٹھوس قانون سازی اور موثر اقدامات کرنے کی فوری ضرورت ھے، ماسوائے پروفشنل اور سند یافتہ افراد کے اور کسی کو بھی ماہرانہ مشورے دینے اور زراعت منسلک مصنوعات فروخت کرنے کی اجازت نہیں ہونی چاھیئے. اس لئے ہر قسم کی زرعی افرادی قوت کی تربیت کیلئے تربیتی اداروں کا مربوط اور مضبوط نظام وجود میں لانا بہت ضروری ہے.
5-اگر ہر یونین کونسل میں ممکن نہیں تو ملک کے ہر تحصیل ھیڈ کوارٹر پر ٹیسٹنگ لیبارٹریز کا قیام عمل میں لایا جائے جو ماھر اور تجربہ کار عملہ کے ساتھ ساتھ جدید ترین آلات اور مشینوں سے آراستہ  ہوں تاکہ کھاد، بیج، پسٹیسائڈ ، زمین کی ھئیت و نوعیت اور زرخیزی کی ٹیسٹنگ کیلیئے کسان جب چاھیں، خاطرخواہ مستفید ہو سکیں. وقتاً فوقتاً زمینوں کی ٹیسٹنگ بہت ضروری ہے تاکہ زرخیزی اور معدنی اجزا کی کمی کے بارے میں آگہی حاصل کی جا سکے ۔ کسان کاشت کے عمل سے پہلے، اپنی زمین کی ٹیسٹنگ کے بعد، اجزا کی کمی بیشی کے تناسب سے کھادیں استعمال کر سکیں گے۔ جب بھی شک لاحق ہو گا، کھادوں اور زرعی ادویات کا تجزیہ کروا لیں گے۔
6- کاشتکاروں کو فرسودہ طریقہء کاشتکاری سے نجات دلا کر پیدوار آور اسباب، وسائل اور مشینری کی فراھمی کا اھتمام کیا جائے. اس مقصد کیلئے ہر یونین کونسل کی سطح پر ہر قسم کی جدید مشینری پوزیشن کی جائے. دھقانوں کو خود خریدنے کیلئے کم ازکم پچاس فیصد سبسڈی کا قانون بنایا جائے ناکہ کسی خاص دور یا کسی حاکم اعلی' کی حاتم طائیت سے منسوب کر کے، زرعی مشینری یا آلات پر اپنے نام کندہ کرائے جائیں جبکہ بقیہ پچاس فیصد رقم کی ادائیگی، بینکوں کی معرفت، قرضوں کی صورت میں کی جائے جو قسطوں کے ذریعے ایک سال کے وقفے کے بعد، پانچ سال تک واجب الادا ہونی چاہئے ۔
7- ملاوٹ کو سنگین جرم  قرار دے کر سنگین ترین سزایئں نافذ اور لاگو کی جایئں. اس وقت کھادوں، زرعی ادویات اور دیگر اسباب کاشتکاری میں، ملاوٹ کا دھندہ زوروں پر ھے. افراد سے لے کر کمپنیوں تک اور سرکاری اھلکاروں سے لے کر کاروباری فراڈیئوں تک ،الا ماشاللہ، آوے کا آوا ہی چٹ ھے. عبرتناک  سزاوءں کے بغیر اصلاح ممکن ہی نہیں. ملاوٹ کی سزا دس سال سے پھانسی تک مقرر کی جائے اور بھاری جرمانے تجویز کیئے جائیں کاشتکار کیطرف سے شکایت اور ثبوت کی صورت میں، عدالت اسکے نقصان کی پوری تلافی کے ساتھ ساتھ، جرمانہ کی نصف رقم بھی، متعلقہ کاشتکار کو دلوائے۔اس جرم کا ارتکاب ہر لحاظ سے ناقابل ضمانت قرار دیا جائے.
8- ہماری بہت سی فصلیں کھادوں اور پیسٹیسائڈ میں ملاوٹ کے باعث برباد ہو رہی ہیں۔ موجودہ عدالتی نظام کے تحت رھتے ہوئے، دس برس کیلئے، زرعی عدالتوں کا قیام عمل میں لایا جائے جو سپیڈی ٹرائلز کرکے تین ماہ کے اندر اندر فیصلے دیا کریں. اپیل کا اختیار صرف ہائ کورٹس تک محدود رکھا جائے ۔ بے شک جھوٹے مقدمات بنانے اور من گھڑت کیس تیار کرنے والوں کیلئے بھی کڑی سزایئں تجویز کی جائیں لیکن ملاوٹ  مافیا سے آھنی ہاتھوں نمٹے بغیر آپ ملک کو زرعی بحران سے نہیں نکا ل سکتے.
یاد رھے کہ زراعت کے شعبے میں ملاوٹ کا ناسور کینسر سے بھی بڑھ کر ، زراعت کی موت کا سبب بن رہا ھے. اس کاروبار میں مگر مچھ مخلوق ملوث ھے. ایسے طاقتور مافیا پر ہاتھ ڈالنا نہایت دشوار سہی، مگر یہ کار خیر صرف سپیڈی ٹرائلز اور سنگین سزاوءں کی بدولت ممکن بنایا جا سکتا ھے اور یہ کارنامہ سر انجام دینے والا یقینا" قوم کا عظیم محسن ثابت ہو گا.
مجوزہ زرعی عدالتوں کا دائرہ کار حسب ذیل ہونا چاہئے
(ا) زراعت سے وابستہ ملاوٹ کے تمام مقدمات اور اس ضمن میں جعلسازی کی کوئی بھی شکل ،
(ب) بینکوں سے قرضوں کے اجرا میں دانستہ تاخیر یا بد عنوانی کی کوئی بھی صورت۔ اسی طرح قرضوں کی رقوم کا غلط استعمال یا واپسی میں تاخیر ،
(ج)  آبی وسائل یا حقوق آبپاشی کے سلسلہ میں تنازعات،
(د) آبیانہ کی کمی بیشی اور نادھندگی کے مقدمات اور تنازعات ،
(ر) ملز مالکان ، گورنمنٹ ، آڑھتیوں ، تاجروں، یا بیوپاریوں کیطرف سے کسانوں کو عدم ادائیگیاں یا ادائیگیوں میں تاخیر، جس طرح کہ موجودہ دور میں، شوگرملز کے مالکان نے، کسانوں کو خوار کرنے کی مستقل خو بنالی ھے۔
(ط)زراعت سے متعلق کسانوں کے حقوق یا کسی بھی نوعیت کی شکایات ،
9- زراعت کی تباھی میں حکومتوں کی غلط پالیسیوں پر مستزاد مکروہ کردار، زراعت کے شعبہ سے وابستہ محکموں اور سرکاری اھلکاروں کا ھے. کرپشن کے مہیب سائے اور اندھیروں نے زراعت کو بری طرح اپنی لپیٹ  میں لے رکھا ہے۔ سرکاری اھلکار من مانیاں کر رہے ہیں.کرپشن اس شعبے میں اس قدر رچ بس گئی ہے کہ لوٹ مار میں مصروف محکمہٴ ملازمین، اسے اپنا حق سمجھ کر کھلا موج میلہ کر رہے ہیں۔ چند سال پہلے کی بات ہے، ایک سب ڈویژن میں خفیہ سروے کیا اور کچھ قابل اعتماد دوستوں کے توسط سے معلومات حاصل کیں تو پتہ چلا کہ ضلع کا ڈپٹی ڈائریکٹر زراعت ہر کھاد فروش، زرعی ادویات کی ہر دکان اور بیجوں کے ہر بیوپاری سے منتھلی وصول کرتا ھے. عدم تعمیل کی صورت میں چالان در چالان کا قہر نازل ہوتا ہے اور گستاخِ تعمیل کا کاروبار مفلوج کر دیا جاتا ھے. حیرت انگیز بات تو یہ منکشف ہوئی کہ آئے روز چیکنگ کے نام پر جتنا چاھیں کھاد اور بیجوں کے تھیلے اور پسٹیسائڈ کی مہنگی بوتلیں اٹھا لی جاتی ہیں. اس طرح ایک ضلع کی ہزاروں دکانوں سے چیکنگ کے نام پر یہ "مہذبانہ" ڈاکہ زنی سال بھر چلتی رھتی ھے. حکام اور خردمندانِ حشمت غور فرمائیں کہ منتھلیاں اور زرعی مصنوعات کی چوری سینہ زوری کی تلافی کا ازالہ، کاروباری لوگ کہاں سے کریں گے ماسوائے ملاوٹ اور مہنگائ کے...!
زراعت سے وابستہ سرکار کے بے شمار محکمے کام کرتے ہیں ، محکمہ مال ، زراعت افیسران، نہری محکمے، واٹر منیجمنٹ (اصلاح آبپاشی)، فوڈ ڈیپارٹمنٹ، سیڈ کارپوریشن، شوگر کین سے متعلقہ ادارے، کھادوں سے منسلک کارخانے ، کاروبار ہینڈل کرنے والے شعبے اور نام نہاد تحقیقاتی ادارے......ایک وسیع سلسلہء گنجلک ھے جو زراعت سدھار سے زیادہ، فیملی سدھار اور لوٹ مار میں مصروف ھے. بلاشبہ ان اداروں میں اچھے کردار اور دیانتدار لوگ بھی ہو سکتے ہیں مگر آٹے میں نمک کے برابر....زراعت کیلیئے مختص بجٹ کا بھاری حصہ زراعت کی ترقی کے بجائے باھم بندر بانٹ کا شکار ھو جاتا ھے.
ایک منظر کا عینی شاھد ھوتے ہوئے تذکرہ نہ کروں تو تاسف رہے گا، حکومت پنجاب نے زمینوں کی اصلاح اور درستی کیلئے، تحصیل ھیڈکورٹرز پر زرعی مشینری متعین کر رکھی ہوتی ہے۔ ایک تحصیل کے صدرمقام پر تقریبا" پندرہ بلڈوزر رکھے ہوئے تھے، سارے کے سارے تحصیل کے مختلف مقامات پر رات دن چل رھے تھے مگر کمائ اھلکاروں کی ذاتی جیبوں کی خوراک بن رھی تھی. میٹر بند کر دینا یا پیچھے لوٹا دینا بایئں ہاتھ کا کھیل.....میں نے ڈرایئوروں کو اعتماد میں لے کر جو لرزہ خیز معلومات حاصل کیں تو سن کر عقل دنگ رہ گئی. پتہ چلا یہ سب کچھ ڈسٹرک لیول کے افسران کے ساتھ مل کر ہو رہا ھے. دھقانوں کو دغا اور حکومت کو فریب دے کر اس طرح کی وارداتوں کا وقوع، مدت سے معمول کا حصہ ہیں.
اب کرنے کا اول کام تو یہ ھے کہ ملک کی گردن پر مسلط اتنے محکموں کا کڑا احتساب کیا جانا چاھئے کہ ان کے بھاری بھرکم وجود کے ھوتے ہوئے اور اربوں کھربوں  کے سالانہ مصارف کے باوجود زراعت پر جاں کنی کیوں طاری ہے.اس مہلک نقصان کا کون کون ذمہ دار ھے، کس حد تک اور کب سے؟ تحقیقات نچلے لیول سے شروع کریں اور ٹاپ تک چلے جائیں ، کسی با اختیار ادارے کی دیانتدار ٹیم کے ذریعے، سب کے سب سرکاری اھلکاروں اور اس دوران سیاسی منصبداروں کا بے رحم احتساب کرائیں . انکے اثاثوں اور جائیدادو ں کے کھوج لگائیں . مجوزہ سپیڈی ٹرائل زرعی عدالتوں کے ذریعے دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح اور ممیز کریں. زرعی منصوبوں کے نام پر طویل لوٹ مار کی تحقیق اور انسدادی اقدامات نہ کرنے سے آج زراعت زبوں حال، دھقان کنگال اور ملکی معیشت پامال ہو چکی ھے. مستقبل کیلئے  ایک نہایت ہی طاقتور اور نتیجہ خیز انسدادی اور احتسابی نظام لاگو کیا جانا چاھیئے جس میں بد خصلت اور ڈاکو فطرت اھلکاروں کو نشانہء عبرت بنانے میں کوئ دقت اور رکاوٹ حائل نہ ہو. نیز بادشاہانہ مزاج کے اھلکاران یا افسران جو کسان کیمونیٹی کی خدمت کے بجائے انتہائ رعونت اور کم امیزی کی عادتیں اختیار کر چکے ہیں ، کسانوں کی شکایات یا تکالیف کا ازالہ کرنے کی بجائے فرعونی اطوارِ قبیحہ کا شکار ہیں، سخت گردن زدنی اور  اصلاح کے متقاضی ہیں. اعلی' اخلاق، عمدہ اوصاف اور دیانتدارانہ کردار کے ساتھ گاوءں گاوءں جا کر کاشتکاروں کی تکالیف سننا ، صحیح سمت رھنمائ کرنا ، برموقع اور بروقت دشواریاں دور کرنا انکا وتیرہ اور اظہارعمل ہونا چاھئے.
10- ملک میں لاکھوں ایکڑ اراضی، ویران اور غیر آباد پڑی ھے، جہاں نہریں ناپید اور آبپاشی نظام نہایت ناقص ہے یا سرے سے ھے ہی نہیں، فوری توجہ اور تدابیر کی متقاضی ہے، زیر نظر مضمون میں، زراعت کی ترقی کےلئے، دس سالہ پروگریس پلان کے خاکہ پر مشتمل، گزارشات پیش کی ہیں، بار دگر عرض ہے کہ اس مقصد کیلئے جہاں تک گنجائش  ممکن ہے، نہروں میں توسیع، برانچوں کی تعمیر اور لفٹ کینالز سسٹم کا قیام عمل میں لایا جائے. بصورت دیگر بجلی کی پیدوار میں توسیع اور ٹیوب ویلز کی تنصیبات کی مہم چلائ جائے. اوپر سرسری سا تذکرہ کیا ہے کہ دہانیوں پیشتر، جب ملک پر قحط و قلتوں کا تسلط تھا، کسان کسطرح حکومتی اعانت سے فیضیاب ہوا کرتا تھا،  پچھلی صدی، ستر کی دہائ میں جب ملک کی معیشت بہت ہی پسماندہ تھی، عوامی حکومت کاشتکاروں کو بڑی فراخدلی کے ساتھ ٹیوب ویلوں کی بھاری سبسڈی دیتی تھی یا بالکل فری ٹیوب ویلز ملا کرتے تھے. زراعت کی ترقی کیلیئے کسانوں کو کم سود اور آسان شرائط پر قرضے ملتے تھے. اس سے پہلے بھی جب کاشتکاری کنووں اور بیلوں پر منحصر تھی. آبپاشی کیلئے کنووں پر چلنے والے لوھے کے راھٹ، حکومت مفت فراھم کیا کرتی تھی ۔ فصلات کی کاشت کے موسم میں تقاوی اور زرعی قرضوں کے  ذریعے، زراعت کاری میں بھر پور تعاون کیا جاتا تھا. اس طرح اب بھی آپ ملک کے وسیع و عریض بنجر اور غیر آباد زمینوں کے باسیوں یا مالکان کو فری ٹیوب ویلز مہیا کریں اور چلانے  کیلئے بجلی فری کردیں یا برائے نام فلیٹ ریٹ فکس کر دیں تو ملک میں زرعی انقلاب آ سکتا ھے جو نہ صرف لاکھوں بیروزگاروں کے روزگار کا ضامن ہوگا بلکہ ملک کی معیشت کو چار چاند لگا دے گا.
11- دنیا بھر میں سولر سسٹم کا استعمال، توانائ کی قلت کا انتہائ ارزاں متبادل ذریعہ ثابت ہو رہا ھے مگر اس حوالے سے بھی ہم کچھوا چال چل رھے ہیں. یہ غالبا" 2012 کا تذکرہ ھے، وزیر اعظم سید یوسف رضا گیلانی کے ساتھ لاھور کے سرکٹ ہاوس میں ظہرانہ کے دوران، میں نے ملک میں بالعموم اور جنوبی پنجاب میں بالخصوص، انکی توجہ زراعت کے زوال اور غیر آباد زمینوں کی طرف دلائ تو انہوں نے کہا کہ اس منصوبہ پر ھماری حکومت بہت کام کر چکی ھے اور اگلے بجٹ سے، ملک بھر میں ہم سولر پر چلنے والے ٹیوب ویلوں کا جال بچھا رھے ہیں اور ہماری حکومت کی طرف سے یہ اقدام، ملک میں زرعی انقلاب کیلئے سنگ میل ثابت ہوگا، اس کی کامیابی اور بار آوری تک میں خود اس منصوبہ کی نگرانی اور پشتبانی کرونگا.....مگر زھے نصیب! کچھ ہی ایام بعد جناب گیلانی صاحب کا مقدر گہنا گیا ، ایک عدالتی فیصلے سے وہ سبکدوش کر دئیے گئےاور ساتھ ہی مبینہ منصوبہ بھی مدفون ہو گیا. ہر کہ آمد عمارت نو ساخت، راجہ پرویز اشرف اپنی نئ ترجیحات کے ساتھ سریر آرائے سلطنت ھوئے اور پھر جو کچھ ہوا....اقتدار کی تفصیلات کا " بقیہ " آپ قرطاس نیب پہ ملاحظہ فرماتے رھتے ہیں. بہرکیف گزشت آنچہ گزشت، اب ہمیں مستقبل کی فکر کرنی چاھئے اور سولر انرجی پر بھرپور کام کرنا چاھئے. سولر سسٹم کے ذریعے نہ صرف ہم ٹیوب ویلوں کا جال بچھا سکتے ہیں بلکہ ملک کی منتشر بےشمار آبادیوں کو بھی روشن کر سکتے ہیں ۔
12- بد قسمتی سے موجودہ حکومت، بجلی کے بحران پر ابھی تک قابو نہیں پا سکی اگر ھنگامی بنیادوں پر، مختلف جہتوں سے تلافی کی جوت نہ جگائ گئ تو اگلے انتخابات میں حکمران جماعت بد ترین عوامی رد عمل کا سامنا کرے گی بالخصوص ملک کے دیہات، جنہیں زراعت کے متواتر زوال نے پہلے ہی شدید آزردہ کر رکھا ھے ، اوپر رہی سہی کسر دیہی زندگی پر غالب، غیر مساویانہ طور پر لوڈشیڈنگ کا قہر ہے اور اس پر بھی مستزاد واپڈا اور حکومت کے نااھل منیجروں کی کار ستانیاں ہیں جنکی بدولت موجودہ دورِ حکومت میں زراعت بجلی کے استفادے سے یکسر محروم ہو چکی ہے. ہر گھنٹہ یا دو گھنٹوں کے توقف سے لوڈ شیڈنگ سے ٹیوب ویلز نہیں چل سکتے. اولا" تو وولٹیج دانستہ طور پر اتنی کم رکھی جاتی ہے کہ بار بار موٹر کا بٹن آن کرنے کے باوجود ٹیوب ویلوں کی موٹریں چلتی ہی نہیں، کسانوں کیلئے یہ ایک بڑی قلق انگیز کیفیت ہوتی ہے. اگر کبھی "شرم" "حیا" اور " غیرت" کی کوئ چنگاری جاگ بھی اٹھی اور وولٹیج میں اتنا سا اضافہ کر دیا کہ موٹریں چل پڑیں اور جلنے سے بھی بچ گئیں تو پھر اگلا بھیانک منظر بھی ملاحظہ فرما لیں، ٹیوب ویلوں سے نکلنے والا پانی، کھال سے گزرتے ہوئے، کھیت تک ابھی پہنچتا نہیں ہے کہ لوڈشیڈنگ کا دورانیہ، دفعتا" پھر وارد ہو جاتا ہے ، دو تین گھنٹوں کا جھٹکا، ٹیوب ویل بند کرا دیتا ھے. پانی راستے میں کھالے کے اندر ہی مر جاتا ھے اور عملا" کھیت آبپاشی سے محروم رہ جاتا ھے. مجرا برباد گناہ باقی، یعنی کھیت آبپاشی سے محروم اور واپڈا کا بھاری بل کاشتکار کی گردن پر....اے کاش ! ایسے مواقع پر واپڈا حکام اور حکومت، اپنے خلاف دھقانوں کی تبرہ بازی اور قافیہ ردیف کے ساتھ ، مقفی' مسجع " خراج عقیدت" سماعت فرما سکتے. لہذا لازم ہے کہ فلیٹ ریٹ پالیسی فوراً بحال کی جائے ۔ جب تک بجلی کا بحران ختم نہیں ہو جاتا، رات کے اوقات میں، اسکی منیجمنٹ درست کر لیں۔ زیادہ نہیں تو کم ازکم رات  کے وقت دس گھنٹوں کیلئے پوری وولٹیج دے کر، بغیر تعطل کے بجلی کی ترسیل یقینی بنا دیں تاکہ نہری علاقوں میں نہروں کی بندش کے دوران اور غیر نہری یا بنجر ایریا میں، ٹیوب ویلوں کے ذریعے، بے آب و گیاہ رقبے آباد کر سکیں. یہ کام  مشکل نہیں، حالیہ سابقہ ادوار حکومت کے دوران، یہی پریکٹس رو بہ عمل رہی ہے.
13- ایک زرعی ملک ہونے کے ناتے، جس قدر جلد ممکن ہو سکے، زراعت سے وابستہ، تمام عوامل اور  اسباب کی دستیابی کیلئے، ھمیں خود کفالت کیطرف موثر پیش قدمی کرنی چاھیئے. مختلف نوعیت کی کھادیں ، پسٹیسائڈز، زرعی مشینری(ٹریکٹرز، ہارویسٹرز اور دیگر آلات) تیار کرنے کیلئے اپنی صنعت کو مضبوط اور پیدوار آور بنانا چاھئے. ٹریکٹرز زراعت کی بنیادی ضرورت ہیں. یہ کوئ لیگژری گاڑی نہیں جو سیرسپاٹے میں استعمال کی جائے جبکہ اس اھم زراعتی ذریعہ کے بغیر ، زراعت کاری ناممکن ہے. ھل چلانا، زمینیں ھموار کرنا، کھال کھودنا، تھریشر اور بار برداری میں کام آنا، غرض زراعت کے شعبے میں بیسیوں کام ایسے ہیں جو ٹریکٹر سر انجام دیتا ہے. لہذا ٹریکٹروں کی قیمتیں ممکن حد تک سستی رکھی جائیں. شخصی ضمانت پر بلا تاخیر قرضوں کا اجرا یقینی بنایا جائے. کسی بھی کاشتکار کیطرف سے ٹریکٹر خریدتے وقت آدھی قیمت گورنمنٹ ادا کرے. یا پھر پانچ برس کے عرصہ کیلئے حکومت آسان قسطوں پرٹریکٹرز فراھمی کے اقدامات کرے. پہلا ایک سال کچھ وصول نہ کیا جائے. خریدنے کے دوسرے برس سے وصولی شروع  کی جائے. یہی طریقہء کار، دیگر تمام زرعی آلات کی فراھمی کے بارے میں اختیار کیا جائے.
14- کھادوں کی اھمیت، ضرورت اور افادیت پر تکنیکی اور سائنسی نقطہء نظر سے تو زرعی محقیقین یا زراعت کے ماھرین صحیح روشنی ڈال سکتے ہیں مگر سادہ لفظوں میں عام قاری کو، ایک بات  ذھن نشین کر لینی چاھیئےکہ کھاد کے بغیر پیدوار کا حصول زیرو ھے. مصارف برابر پیداوار بھی نہیں ملتی۔ آج کے زمانہ میں کھادوں ہی کی بدولت زرعی ممالک مثالی پیدواریں سمیٹ رھے ہیں. پاکستان کا کاشتکار یا زمیندار، مطلوبہ مقدار میں زمینوں کو کھاد فراھم نہیں کر پا رہا . اس کی وجہ مالی دشواریاں ہیں۔ حکومت نے حالیہ بجٹ پیش کرتے ہوئے کھاد کی قیمتوں میں کچھ ریلیف دیا ہے جو کہ ایک مستحسن اقدام ہے مگر سالہا سال سے، متواتر اضافے کے تناسب سے بہت کم ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ڈی اے پی اور پوٹاش کی تمام اقسام میں فی بوری  1500روپے اور یوریا 700 روپے فی بیگ تک قیمتوں کا تعین اور اطلاق کیا جائے ورنہ موجودہ قیمتوں سے کسان کھیت کو کھاد سُنگھا تو سکتا ہے، مطلوبہ مقدار میں بہم نہیں پہنچا سکتا۔ مسلسل کاشتوں سے زمین اپنی زرخیزی بُری طرح کھو رہی ہے جس کا مداوا صرف اور صرف کھاد ہی ہے اور وہ بھی ضرورت طلب مقدار کے مطابق ، ورنہ کھاد کے کم استعمال کی بدولت، پیداوار سے آمدنی اور بچت تو کجا ، کئے گئے اخراجات بھی پورے نہیں ہو سکتے ۔ یہی وجہ ہے کہ آج کا دھقان، زمیندار ہے یا مزارعہ، بدترین بحران اور بدحالی کا شکار ہے اور یہ بےچینی، عملاً زراعت کو چھوڑنے اور روزی روٹی کیلئے دیگر راہیں تلاش کرنے پر مجبور کر رہی ہے ، جن میں سماجی برائیوں کا ارتکاب بھی شامل ہے۔ حکومت کو ہنگامی بنیادوں پر پہل کرنی ہو گی۔ بولتے حقائق کی روشنی میں ٹھوس اور پائیدار فیصلے کرنے ہونگے وگرنہ موجودہ پیش منظر آپ کے سامنے ہے۔ غلط پالیسیوں کے باعث مفلوج ہوتا شعبہءزراعت مزید مرجھا رہا ہے. دریں حالات ،فصلات کی کاشت کیلئے ناگزیر امدادی اسباب اور اجزائے لاینفک کی بروقت اور بر موقع موجودگی کو یقینی بنانا کسان کی کاوشوں سے باھر ھے. آپ ریکارڈ چیک کر لیں، پچھلے چند برسوں کے دوران حکومت کی عدم توجہ اور سستی کے باعث، کھاد کمپنیوں کی زورآوری عروج پر رھی۔ بے لگام ڈیلروں نے کھاد کی گرانی اور من مانی کے ریکارڈ توڑ دیئے. بلیک مارکیٹنگ اور بلیک میلنگ کے خونخوار درندوں نے زرعت کے وجود کو گِدھوں کی طرح نوچا اور بھیڑیوں کیطرح تارتار کیا. بتدریج کوالٹی کمزور اور قیمتیں بڑھتی چلی گئیں یہاں تک کہ کسان کا کچومر نکل گیا. موجودہ بجٹ میں اگرچہ معمولی ریلیف دیا گیا لیکن مسلسل خسارے اور بوجھ کے باعث، زراعت بیزار کسان، حکومت کی اس "کرمفرمائ" اور اعانت سے ھرگز مطمئن نہیں، نادانوں نے بے اعتنائ اور مروجہ معمولات سے زراعت کو نہیں، قومی معیشت کو تباہ اور ملک کے اقتصادی مستقبل کو مجروح کر ڈالا ہے۔
15- وطن عزیز میں کاشتکاری کے جملہ مراحل کو جدید خطوط پر استوار کرنے کی ضرورت ھے۔ ھم ابھی تک دقیانوسی طور طریقوں پر مصروف کار ہیں۔ کاشت سے کٹائ تک اور اگانے سے اٹھانے تک، روائتی اندازِ کاشتکاری سے وقت اور وسائل برباد کر رہے ہیں ۔ ترقی یافتہ ممالک سے مستفید ہونے کی ضرورت ہے جہاں نئی نئی ایجادات کی بدولت کاشکاری کو سُہل اور سودمند بنا دیا گیا ہے مثلاً بیجائ اور کٹائ کے عمل میں جہاں ہم روایتی چال سے ہفتے مہینے لگا دیتے ہیں وہاں یہی کام وہ گھنٹوں اور دنوں میں کر لیتے ہیں ، کاٹن کی چنائی ، گنے کی کٹائی یا سیم متاثرہ رقبوں پر منجی کی ہارویسٹنگ اور اس طرح کے بہت سے کٹھن کاموں کیلئے زبردست مشینیں وجود میں آ چکی ہیں۔ گراں قیمت ہونے کے باعث کاشتکار درآمد نہیں کر سکتے لہذا یہ کام سرکاری سطح پر بلاتاخیر سرانجام دیا جائے ۔ زرعی ارتقا کیلئے یہ اقدام نہایت ناگزیر ہے۔ ہر یونین کونسل یا تحصیل ھیڈکوارٹر پر اس طرح کی مشینری آسان کرائے پر دستیاب ہونی چاہئے ۔
16- ھمارے ہاں مارکیٹنگ کا نظام نہایت ناقص ہے۔ بلیک میلنگ اور چوربازاری کا اندھا راج ہے، بےلگام صورتحال سے کسان بیچارہ مارا جاتا ہے۔ خرید و فروخت کیلئے شفاف اور منضبط ماحول مہیا کرنے کی ضرورت ہے جس سے کسان اپنی محنت کا مستقبل محفوظ محسوس کرے۔ پیدوارواں کی بروقت فروخت اور بروقت ادائیگی کے بغیر، یہ پیشہ پسماندگی کا شکار رہے گا۔
موجودہ حکومت کی گندم خرید پالیسی نہایت حد تک ناقص ہے۔ واضح رہے کہ حکومت کے کھاتے میں کریڈٹ کے بجائے بدنامی اور نفرت بڑھ رہی ہے۔ مروجہ طریقہ کار سے آڑھتی ، مڈل مین اور کرپٹ بیوروکریسی مستفید ہو رہی ہے جبکہ کاشتکار کے حصہ میں سوائے دھکے کھانے ، کڑھتے رہنے اور خسارہ اٹھانے کے کوئی دیگر سبیل سامنے نہیں بچ رہتی۔ سیزن بھر کی مشقت ، مصارف اور منتظر رہنے کا ماحصل یا معاوضہ، ماسوائے مایوسی اور مذلت کے مقدر ٹھہرنے کے، اور کچھ نہیں ملتا۔ حکومت جہاں سے بھی فنانس کا اہتمام کرے، کاشتکاروں سے ساری گندم اٹھانے کا فیصلہ کرے اور اس پر سختی سے عمل درآمد کرائے ورنہ بہتر ہے کہ نیم دلانہ اور ادھورپن پالیسی ترک کر دی جائے۔ سرکار کے انتظار میں، کھیتوں میں پڑی پڑی گیہوں کی ڈھریاں، کہیں بادوباراں اور کہیں سیلاب کی نذر ہو جاتی ہیں، باردانہ بروقت مہیا نہیں کیا جاتا، جو ملتا ہے وہ بھی بوری بوری کر کے اور طرفہ طریقہ ایسا لغو کہ اگر کسان نے ایک سو بوری بیچنی ہے تو اس سے زیادہ سے زیادہ تیس بوریاں گندم اٹھائ جائے گی، باقی گندم کھلی مارکیٹ میں، وہ پچیس فیصد سے بھی کم قیمت پر، نیلام کرنے پر مجبور ہو گا یا پھر آڑھتی کے ہاتھوں سستے داموں پر بیچ دے گا۔ آڑھتیوں نے بیوروکریسی سے مل کر، یا کمال ہاتھ کی صفائی سے، بہت سا باردانہ اٹھا رکھا ہوتا ہے، یہ ایک بیہودہ اور اذیتناک طرزعمل ہے جس سے کسان آزادی چاہتا ہے۔ اگر حکومت، کاشتکاروں سے ساری گندم اٹھانے سے قاصر ہے تو پھر پیچھے ہٹ جائے اور مارکیٹ میں کھلے مقابلے کی فضا قائم رہنے دے۔ اس سے کم ازکم احساسِ مرحومی اور بوجھِ بےبسی تو نہیں اٹھانا پڑے گا حکومت کو بلاتاخیر اس اہم مسئلہ پر غور اور عملی اقدامات کرنے چاہئیں  ۔
17- ایک بہت بڑا مسلہ پیداوار کی قیمتوں کے تعین کا ہے۔ موجود کارپردازان اقتدار، اس اھم مسئلہ کی اھمیت اور اقتضا سے مسلسل لاپراہی برت رہے ہیں، کاشتکار کو موجودہ حکمرانوں سے بجا شکایات ہیں کہ زراعت سے سوتیلا سلوک ، پیدواوں کی فروخت کے وقت چشم پوشی اور قیمتوں کا کماحقہ متعین نہ کرنا ۔ بعض اوقات ملکی پیدواروں کی قیمتوں کا موازنہ بین الاقوامی مارکیٹ سے کیا جاتا ہے جو کہ سراسر زیادتی ہے۔ اگر اس طرح موازنہ کرنا ہے تو اُن مملک کی طرف سے فراہم کردہ سبسڈیز  اور میسر شدہ تمام سہولتوں سے تقابل بھی کریں۔ وہاں ڈیزل کا ریٹ کیا ہے، کھادیں اور پسٹیسائڈز کس بھاوٴ بکتی ہیں ، بجلی کیسے فری یا نہایت ارزاں قیمت پر، کسطرح چوبیس گھنٹے دستیاب ہے، نت نئ تحقیقات کے نتیجہ میں پیدوارآور بیجوں کی فراہمی کیسے کی جاتی ہے ، زرعی مشینری کتنی سستی ہے ، نظامِ آبپاشی کتنا جدید ہے ، موسمی حالات کیسے سازگار رھتے ہیں اور سب سے بڑھ کر وہاں کا کسان ہمارے کاشتکار کے مقابلے میں کس قدر اسودہ اور خوشحال ہے۔۔۔۔۔۔۔۔ہمارے حکمران اور بعض دانشور حضرات معاملات کا موازنہ کئے بغیر، رائے زنی شروع کر دیتے ۔ زراعت کی ترقی کیلئے کسان کا خوشحال ہونا ممکن نہیں تو مطمئن ہونا بہت ضروری ہے ۔ اجناس کے موجودہ ریٹس، کسان کی کمائ کا صحیح نعم البدل نہیں ۔ نظر ثانی کرنا حالات اور حقائق کا تقاضا ہے۔ مصارف کی موجودہ حالت کے پیش نظر، گندم کم ازکم 1600روپے من، چاول سپر 2800روپے من ، چاول موٹا 1500روپے من, گنا 300روپے اور کپاس یعنی پھٹی 4000روپے من مقرر کی جائے ۔ ان بڑی اجناس کے علاوہ بھی دیگر فصلات کے موزوں اور معقول نرخ طے کئے جائیں
18-کتنے افسوس اور شرم کی بات ھے کہ زرعی ملک ہونے کے باوصف، ھم سبزیاں باہر سے منگواتے ہیں جبکہ سونا اگلتی، ہماری اپنی زمین، زرخیزی اور پیدوار کے لحاظ سے بےنظیر صلاحیت کی حامل ہے  بشرطیکہ ضرورت طلب اجزا اور اسباب کی بہم رسانی میں بخالت نہ برتی جائے۔ حالات اور احتیاج کا تقاضا ہے کہ باقاعدہ منصوبہ بندی اور مہماتی انداز سے سبزیوں کی کاشت کو فروغ دیا جائے۔ زیادہ سے زیادہ رقبہ پر، ہر طرح کی موسمی سبزیوں کی کاشت  کے بے شمار فائدے ہیں۔ حفظان صحت کیلئے انگنت فوائد، کسی حاذق حکیم کے بھاشن کے محتاج نہیں اور نہ ہی ملکی مصرف میں اس کی طلب کا طویل گراف، کسی ماہر معاشیات کی وضاحت کا متقاضی ھے۔ سادہ سی بات ہے کہ سبزیوں کی پیدوار میں اضافہ سے نہ صرف ہماری اپنی معاشی طلب و رسد کا مسلہ متوازن ہو سکتا ہے بلکہ خود کفیل ہونے کے ساتھ ساتھ، بڑی مقدار میں باھر بھی ایکسپورٹ کر سکتےہیں۔ حکومت سرپرستی اور حوصلہ افزائ کرے تو سبزیوں کی وسیع پیمانے پر کھیتی باڑی سے دیہی معیشت میں بہت بڑا انقلاب لایا جا سکتا ہے جو لاکھوں خاندانوں کیلئے معقول روزگار اور قومی پیدوار میں نمایاں اضافہ کا گرانقدر ذریعہ ثابت ہو گا  ۔
19- باغات کے معاملہ میں بھی بدیہی طور پر، ھم بدحالی کا شکار ہیں۔ دلچسپی اور تگ و دو، صرف نجی حد تک قائم اور کارفرما نظر آتی ھے۔ حکومتی وتیرہ ہر دور میں لاتعلقی کا رہا ہے، حالانکہ موسم، ماحول اور موافقت کے لحاظ سے، ہمارا ملک، قدرت کے لامحدود اسباب سے بہرہ مند ہے۔ افسوس تو یہ ہے کہ اس میدان میں بھی، ہمارا معاشی راہرو پیش رفتگی کے بجائے، معکوسیت کیطرف گامزن ہے۔ لوگ مایوس اور پریشان ہیں۔ باغات بڑھانے کے بجائے، برباد کئے جارہے ہیں۔ کٹائ اور صفائ کا سلسلہ سرعت سے جاری ہے۔ وقوع پذیر  صورتحال، در اصل منطقی رد عمل ہے کیونکہ دھقان، کھیت سے روزی نہیں کما پائے گا تو اور کیا کرے گا ؟ ماسوائے خوشہ سوختنی اور باغات کی بیخ کنی کے۔ اب بھی وقت ہے، ڈوبتی نیا کو بچایا جائے اور مسخ ہوتے منبعوں کا سنبھال لیا جائے۔ بہتر ھے کہ اب تک کی لغزشوں اور کوتاہیوں کا ازالہ کرتے ہوئے حکومت فوری پیش رفت کرے۔ باغبانی کے فروغ اور بڑھوتری کیلئے ٹھوس اور کارگر اقدامات کئے جائیں جن میں ریسرچ سنٹرز کا قیام، باغبانوں کی تربیت، نئ نئ اقسام کی دریافت، قرضوں کا اجرا، سبسڈیز کی فراھمی، متواتر مشورے، آلات اور مشینوں کی دستیابی، مارکیٹنگ اور ایکسپورٹ میں معاونت جیسے امور شامل ہیں۔
20- بائیوگیس، توانائ کا ایک اہم اور ارزاں ذریعہ ہے مگر عملا" اس کا استعمال، خال خال دکھائ دیتا ہے۔ بنیادی وجہ اسکے پروسیجر اور پریکٹس سے نامانوس ہونا یا اسکی بناوٹ میں در پیش مالی مشکلات ہیں حالانکہ تھوڑی سی توجہ اور استعانت سے یہ معرکہ بھی بخوبی سر کیا جا سکتا ہے۔
ھم جانتے ہیں، ھماری آبادی بہت تیزی سے بڑھ رہی ہے۔ شہروں اور قصبات میں پھیلاوء کا عمل بسرعت جاری ہے۔ جگہوں کے سکڑنے سے، بہت سے لوگ، نئ نئ بستیاں بسا رہے ہیں۔ بہت سوں کو دور ویرانوں پر آباد ہوتے پایا ہے۔ بے شمار خاندان ایسے ہیں جو تنگ و تحدید زدہ، پرگھٹن فضا میں محبوس رہنے کے بجائے، اپنے اپنے زرعی رقبوں پر آشیاں بندی کو ترجیح دیتے ہیں۔۔۔۔مگر یہ سب لوگ بجلی کے بغیر، کلفت کا شکار ہیں۔ یہ مطالبہ لئے، اکثر اپنے منتخب نمائندوں کے سر پر سوار ہیں جبکہ اس وقت ملک پر مسلط سب سے بڑا بحران بھی بجلی کی قلت کا ہے۔ کیا یہ بہتر نہیں ہو گا کہ حکومت ایک تشہیری اور تربیتی مہم کے ذریعے، اس طرح کی سب چھوٹی چھوٹی آبادیوں میں بالخصوص اور متوسط سائز کے دیہات میں بالعموم، بائیوگیس پلانٹس بنانے اور استعمال کرنے کی ترغیب دے جس سے چولہا جلنے کے علاوہ، بجلی بھی پیدا کی جا سکتی ہے۔ حتی' کہ اس توانائ سے پیٹر انجن چلا کر، سبزیوں کی کاشت کے ساتھ ساتھ؛ مختصر رقبوں کے مالکان، اپنے اپنے کھیت بھی سیراب کر سکتے ہیں۔ بائیوگیس کا ایندھن جانوروں کا گوبر ہوتا ہے جو کہ ہر جگہ عام ہے اور ایک بائیوگیس پلانٹ کی تعمیر پر اخراجات بھی زیادہ نہیں آتے، پھر بھی، اگر حکومت بائیو گیس پلانٹ خود بنا کر دے تو زیادہ مستحسن ہوگا ورنہ اس سلسلہ میں، ساخت اور سائز کے حساب سے ہر درخوست دھندہ کیلئے سبسڈی اور بنکوں کے ذریعے قرض کا اھتمام کیا جائے۔ اس منصوبے کے نفاذ اور تفویض و ترویج کا اھتمام ترجیحاتی بنیادوں پر کیا جائے۔
21-دیہات، خصوصا" پہاڑی اور صحرائی آبادیوں کے روزگار کا بہت بڑا ذریعہ لائیو سٹاک ھے جو زرعی شعبے کا بہت اھم اور وسیع حصہ ھے۔ ضرورتوں، تقاضوں اور توجہ کے حوالوں سے شدید لاپرواہی کا شکار ھے۔ ازمنہء قدیم کی طرح، روائتی انداز سے چل رہا ھے۔ ھمارے ہاں جانوروں کی زیادہ تر نسلیں لوکل ہیں جو بےکار اور غیر منافع بخش ہیں۔ مصارف اور محنت بہت زیادہ، فائدے اور فیوض نہایت کم ۔فارمنگ کا نظام فرسودہ ہے۔ ارتقائ پیش رفت نہ ہونے کے برابر ہےاور تحقیقاتی مراکز مایوس کن۔ مویشی ھسپتال بہت تھوڑے اور سہولتوں سے محروم ہیں۔ اگر کہیں ہیں بھی تو، کسان کی رھنمائ اور مدد سے مکمل ماورا۔ چند ضروری تجاویز پیش کر نا مناسب محسوس ہو رہا ہے۔
ا- مجوزہ زرعی ترقیاتی کمیش کے تحت، ایک بااختیار اور ذرائع یافتہ (Resourceful) علیحدہ ادارہ بنایا جائے جسکی حدود، مقاصد اور اھداف واضح طور پر متعین ہونے چاھئیں۔ صوبائ سطح پر قائم، موجودہ وزارتیں یا محکمے،
مایوس کن کردار ادا کر رھے ہیں۔ لائیو سٹاک سروس کی فوج ظفر موج گھر بیٹھی تنخواہیں وصول کر رہی ہے اور ساتھ ساتھ اسی فیلڈ میں اپنے اپنے کاروبار میں مصروف ہے۔ یہ رویئے قابل گرفت اور اقتضائے اصلاح ہیں۔ اس شعبے کی اصلاح، ارتقا اور موثر منافع مندی کیلئے، متعینہ اھداف پر عمل پیرائ ناگزیر ہے۔
ب- لائیوسٹاک تعلیم کے فروغ اور عملی تجربہ گاہوں میں توسیعی اقدامات کئے جائیں۔ ہر ڈویژنل ھیڈکوارٹر پر کالج اور ریسرچ سنٹرز کا قیام عمل میں لایا جائے۔ بلوچستان، تھر، چولستان، جنوبی پنجاب اور سون سکیسر جیسے سارے علاقوں میں تجربہ گاہیں، مشاورتی مراکز اور شعبہ سے متعلق تدریسی توسیع کیلئے کالجز اور جامعات قائم کی جائیں۔ کچھ عرصہ کیلئے ترقی یافتہ ممالک سے فیکلٹی ہائر کر لی جائے تاکہ علم وھنر کا زیادہ سے زیادہ اکتساب ممکن ہو  سکے۔
ج- ھمارے ملک کا دھقان مالی وسائل اور سرمایہ کاری کے حوالہ سے بےسروسامان ہے۔ حکومت شیڈز تعمیر کرنے میں فراخ دلی سے مدد کرے۔ پنجاب میں مشرف دور میں اس سلسلہ میں کافی کام ہوا۔ نجانے بعد میں کیوں بند کر دیا گیا۔ اس سکیم کو دوبارہ فوری طور پر بحال کیا جائے۔ اولا" تو مناسب ہے کہ حکومت منجملہ مجموعی مصارف خود برداشت کرے۔ سبسڈی ریلیف کی صورت میں، کسان کے حصہ کی انوسٹمنٹ بینکوں سے عندالطلب بنیاد پر کرائ جائے جسکی واپسی کا عمل، ششماہی قسطوں کی شکل میں، ایک سال کے وقفہ کے بعد شروع ہو۔ شیڈز کی قلت، اس پیشہ کی توسیع اور کامیابی میں بری طرح سدراہ ہے۔ ایسے شیڈز کو متعینہ اور متعلقہ مقاصد کے علاوہ استعمال کرنا قابل تعزیر جرم ٹھہرایا جائے۔
د- جانوروں کی نسل کشی کیلئے ٹھوس اور دور رس اقدمات کئے جائیں۔ نئ نئ تحقیقات سے استفادہ کیا جائے۔ آسٹریلیا، افریقہ، بلجئم اور اس فیلڈ میں ممتاز دیگر ممالک سے بھر پور فائدہ اٹھایا جا سکتا ہے۔ کراس اور عمدہ نسل کے تازہ بریڈز منگوا کر، مفت یا بہت بارعایت مہیا کئے جائیں۔ اپنے ملک میں بھی ساہیوال اور بعض دیگر علاقوں میں گائے بیل کی نسلیں، اور ڈیرہ غازی خان، فیصل آباد میں بھیڑ بکریوں کی اعلی' قسمیں دستیاب ہیں ، ایسی منافع بخش نسلوں کو پروان چڑھایا جائے۔ اس طرح بھینسوں میں راوی، نیلی نسل، نسبتا" زیادہ مقبول ہیں۔ جستجو اور دریافت کا یہ عمل، مسلسل مساعی کا متقاضی ھے۔
ر- مویشی پال علاقوں میں ہر یونین کونسل کی سطح پر، دو بڑے بڑے  قصبوں کا انتخاب کر کے، وہاں  کوالیفائڈ ڈاکٹرز، عملہ، اور جدید آلات و اسباب کی مستقل دستیابی  کے ساتھ مویشی ہسپتال قائم کئے جائیں۔ سٹاف کو موٹر سائکلیں دی جائیں تاکہ کسی بھی مویشی پال، فارم یا مریض جانور کے مالک سے بلاوا آئےتو ایمرجنسی بنیادوں پر عملہ کو موقع پر پہنچنا چاھیئے۔ اس مقصد کے لئے ایک رجسٹر برائے اندراج تفصیلات، ھمہ وقت ہسپتال میں موجود اور اپ ڈیٹڈ رھنا چاھئے۔ ایک وزٹ پرفارما بھی استعمال میں لایا جائے۔ دوران وزٹ، ڈاکٹر یا عملہ یہ فارم اپنے ساتھ رکھے اور فارمر سے بروقت پہنچنے ، چیک اپ کرنے ، صحیح علاج اور تسلی بخش تعاون کے دستخط کرائے جائیں۔
ژ- مویشیوں میں پھوٹنے والی وباوءں اور مہلک امراض پر کںٹرول کیلئے، ششماہی یا سالانہ ویکسینیشن بہت ضروری ھے تاکہ متعدی وباوءں اور موسمی بیماریوں سے جانوروں کی حفاظت کو یقینی بنایا جا سکے۔ اگرچہ حکومت پہلے بھی کسی حد تک، ویکسینیشن پر اخراجات کر رہی ہے مگر المیہ یہ ہے کہ اس کا عملی فائدہ متاثرہ کسان کم، سرکار ملازم زیادہ اٹھا رہے ہیں۔ حکومت کی یہ مہم، کہیں محکمہ کے ملازمین کےتساھل اور تن آسانی کے باعث اکارت ہو رہی ہے تو کہیں کرپشن کی جونکیں اس کا خون چوس رہی ہیں۔
س- لائیو سٹاک مارکیٹنگ، مادر پدر آزاد ہے۔ حکومت کو کامیاب اور منافع بخش مارکیٹنگ کیلئے قوانین وضع کرنے چاھئیں۔ کاروبار یا سودابازی میں جھوٹ، فراڈ، دغابازی اور معیار و منزلت میں ھیراپھیری سے متعلق جامع قانون سازی کرنی چاھیئے۔ دیہی لیول پر منڈیاں بڑھائ جائیں اور انہیں آزاد چھوڑ دینے کے بجائے، کسی نظم و ضبط کے تحت چلایا جائے۔ منڈی ماحول، صحتمند فضا اور نشاط آور ماحول کا تقاضا کرتا ھے۔ کاروبار کے علاوہ، سودےوٹے اور میلے ٹھیلے کا یہ سماں، دیہی آبادیوں کیلئے بڑا پرکشش اور راحت آفریں منظر کا حامل ہوتا ہے لہذا انتظامیہ کو چاھیئے کہ اس مرجعء مفرحات کو، خوب سے خوب تر بنانے کی کوشیں بروئے کار لائے۔
منڈیوں میں مویشیوں کی خرید و فروخت پر حکومت پنجاب نے ٹیکس ختم کر دیا۔ یہ ایک صالحمندانہ اور مستحسن فیصلہ ھوا جس کی زبردست پذیرائ کی گئ کیونکہ کسان بے چارے ٹھیکیداروں کی غنڈہ گریوں سے بہت تنگ آئے ہوئے تھے۔
ضروری ھے کہ لائیوسٹاک کو بھرپور ترقی دینے کے ساتھ ساتھ، مویشیوں کی ایکسپورٹ کا اھتمام بھی کیا جائے۔ اس طرح نہ صرف مویشی پال دھقانوں کو معقول معاوضہ ملے گا بلکہ یہ شعبہ زرمبادلہ کی کمائ کا ایک موثر ذریعہ ثابت ہو گا۔
ط- لائیوسٹاک کیلئے چارے اور چراگاہوں کی اھمیت، کسی وضاحت کی محتاج نہیں۔ ضرورت اسے، سائنسی اور تکنیکی بنیادوں پر استوار کرنے کی ہے۔ موجودہ طرز کہن، کثیر مصارف اور کم مفاد کا موجب بن رہا ہے۔ گاڑھی محنت اور مالی بوجھ کا منطقی ماحصل اور نفسیاتی نتیجہ، نحوست اور بیزاری کی شکل میں برآمد ہوتا ھے۔ چنانچہ تھکاماندہ، بیدل بندہ، فرار کی راہیں اختیار کرنے میں عافیت محسوس کرنے لگتا ھے۔ ھمارے دیہی سماج میں اس طرح کی نفسیاتی نزاکتیں اور کمزوریاں بدرجہء اتم پائ جاتی ہیں جنہیں معمول پر لانا بڑا ضروری ھے۔ المیہ یہ ھے کہ مال مویشیوں کو پالنے اور سدھارنے کیلئے نہ تو زمینداروں اور کسانوں کی متواتر تربیت کا کوئ نظام ھے اور نہ ہی ورکرز کی گرومنگ کہیں ہوتی نظر آتی ھے۔ پہلی بات تو یہ ھے تعلیم یافتہ اور تجربہ کار زرعی کارکنوں کے ذریعے دھقانوں کے شعور اور سوچ کو سائنسی اور فنی سانچوں میں ڈھالا جائے۔ پھر اسباب اور ذرائع کے استعمال میں 'کم خرچ بالانشین' کے جدید اصولوں پر تربیت اور تعمل کا اھتمام کیا جائے۔  حکومت اعلی' کوالیٹی کے مختلف بیج مہیا کرے جو سدا بہار ھونے کے ساتھ ساتھ غذائیت سے لبریز ہوں۔ مارکیٹ میں دستیاب ہائبریڈ سیڈز بھی طرح طرح کے ہیں۔ خالص اور زیادہ کٹائیوں کا حامل بیج فراھم کرنے کی ذمہ داری سیڈ کارپوریشن کو سونپی جائے۔ گھاس کو سائلج کی صورت میں محفوظ کرنے سے وقت اور محنت کی کافی بچت ہے مگر ہمارا فارمر اس پروسز سے نابلد ہے یا پھر اسباب سے محروم۔ اگرچہ یہ عمل زیادہ مصارف کا متقاضی نہیں مگر بیشتر کسانوں کی استطاعت سے باھر ھے۔ حکومت سبسڈی یا آسان اقساط کے ذریعے قرضوں کی اسکیموں کا اعلان اور اجرا کرے۔  گھاس کی کٹائ ابھی تک درانتیوں کے ذریعےاکڑوں بیٹھے کی جاتی ہے جو بڑا کٹھن، وقت طلب اور تھکا دینے والا کام ہے، پھر  گھاس کی جو مقدار ایک گھنٹے میں تیس افراد کاٹتے ہیں، مشین کے استعمال سے وہی کام ایک فرد ایک گھنٹے سے بھی پہلے سر انجام دے سکتا ھے جبکہ ٹریکٹر کے ذریعہ تو گھاس کی کٹائ کا عمل منٹوں میں مکل ہو جاتا ہے۔ انداز اور طریقے بدلنے کی ضرورت ھے۔ کسانوں کو اس طرح کی مشینیں وسیع پیمانے پر فراھم کی جائیں اور بڑے فارموں کیلئے ٹریکٹر معہ مشینوں کی کرید کیلئے سبسڈیز اور قرضے دیئے جائیں
22- وسطی پیراگرافوں میں، پانچ سالہ منصوبہ کے تحت، صحراوں، بیابانوں اور غیرآباد پڑے سرکاری رقبوں کو لائیوسٹاک مصرف میں لانے کیلئے مفصل بات ہوئ۔ چراگاھوں کیلئے اس طرح کی زمین بہت موزوں اور منافع افروز ہے۔ ان وسیع و عریض رقبوں پر بڑے بڑے لائیوسٹاک فارم بنائے جائیں، جہاں مختلف جنسوں اور نسلوں کے، ایک ایک لاکھ جانور، ایک ایک فارم پر رکھے جا سکتے ہیں۔ ملک میں ویران پڑے اس طرح کے رقبہ جات کا استعمال لاکھوں افراد کے لئے بہترین اور باعزت روزگار کا وسیلہ بننے کے علاوہ زبردست زرمبادلہ کا ذریعہ بھی ثابت ہو سکتا ہے کیونکہ آپ مویشیوں سے بھرے بیڑوں پہ بیڑے ایکسپورٹ کرنے کی پوزیشن حاصل کر لیں گے۔ حکومت کے زیر انصرام، ان مویشی فارموں کو باقاعدہ منضبط اور منظم اداروں کے انداز میں بنایا اور چلایا جائے۔ یہ منصوبہ، جدوجہد، وسعت، تاثیر اور مقاصد یابی کے لحاظ سے ایک انقلاب کیطرح بارآور ثابت ہو گا۔
23- اختتام سے پہلے، بصد احترام،  ایک تکلیف دہ بات کی شکایت کا اندراج کرنا، اپنی اخلاقی اور قومی ذمہ داری محسوس کر رہا ہوں جس کیلئے جناب شہباز شریف صاحب کی خصوصی توجہ کا خواستگار ہوں۔ کچھ عرصہ پہلے کا ذکر ہے، انہوں نے بطور وزیراعلی' غیرمنقولہ قومی املاک کی گریجویٹس میں بندر بانٹ شروع کر دی تھی۔ عمران خان کے ردعمل میں، نوجوان نسل کے قلوب مسخر کرنے کے لئے اور بھی بہت سے گر استعمال کئے جا سکتے ہیں، آپ انہیں نوکریاں دے دیں۔ زیر نظر مجوزہ اسکیموں اور اداروں کا قیام عمل میں لا کر، بے شمار ملازمتوں کے راستے کھول دیں  یا بیروزگار وظائف کے نام پر نقد گرانٹس کی سبیلیں بہا دیں، مگر ملک کی دائم وقائم پراپرٹی پر نہ تو کسی ایک دور کا اختیار ہے اور نہ ہی کسی ایک نسل کا استحقاق۔ یہ ملک اللہ کی دین ہے اور اسے ابدالآباد تک قائم رھنا ہے۔ یہ ہر دور کی حکومت کے پاس امانت ہے اور ہر دور کی نسل کا اس کے فیوض و برکات پر یکساں حق ہے۔ اس کی پڑی ہوئ املاک کو اجتماعی اور ابدی ثمرات کے لئے استعمال تو کیا جا سکتا ہے جس سے ہر دور کی نسل، آئینی قوانین و قواعد کے تحت مستفید ہوتی رھے مگر ایک دور یا ایک زمانہ کیلئے ہرگز نہیں ۔ آپ نے جسسطرح تقسیم اور حوالگی کا عمل متعارف کرایا، سراسر خیانت اور بددیانتی کے مترادف ہے۔ انتقال شدہ رقبہ جات قومی اور ابدی امانت ہیں۔ براہ کرم وہ تمام رقبے آپ واپس لیں اور لوٹا کر قومی اثاثوں میں شامل کر دیں جو حلوائ کی دکان پر دادا جی کے فاتحہ کی نذر ہوئے ہیں۔ اس طرح کی زمین کا کارآمد اور فلاحی استعمال، عوام کیلئے، آج اور آنے والے کل کیلئے مذکورہ بالا مجوزہ منصوبوں کے تحت ہی زیادہ جچتا ہے۔ یوں صدقہء جاریہ سے ہر دور فیضیاب ہوتا رھے گا۔
مکرم قارئین! معذرت خواہ ہوں کہ طوالت اور کہیں کہیں تکرار کا مرتکب ہوا۔ مقصود، زوال پزیر زراعت کی گمبھیر صورتحال کو اجاگر اور اصحاب اقتدار کو خبردار کرنا تھا اور مطلوب، زراعت کے شعبہ سے متعلق پائ جانے والی کچھ غلط فہمیوں کی وضاحت بھی تھی۔۔۔۔۔ کیونکہ عدم توجہ، چشم پوشی، نمائشی رولے لپے اور  بےمعنی قیل و قال کا نتیجہ ہے کہ کسان کبیدہ خاطر اور حکمران اعتماد کھو رہے ہیں۔ ستر فیصد آبادی مالی مسائل میں جکڑی، تلاش روزگار کے تفکرات میں سرگرداں ہے۔ سست رو اقتدار کا پنڈولم، جمہوریت کی سوئیوں کو جھٹکے دے رہا ہے۔ مضطرب ماحول میں، ہرسمت بےچین سی خاموشی ہے، مگر گہرائیوں میں سلگتی آگ سے اٹھتا ہوا دھواں بےرحم موسموں کی غمازی کر رہا ہے۔ علامہ اقبال نے شاید ایسے ہی کسی بوجھل اور بیقرار منظر کے پیش نظر کہا تھا کہ
جس کھیت سے دھقاں کو میسر نہ ہو روزی
اس کھیت کے  ہر خوشہء گندم کو  جلا  دو

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *