مسٹر نواز شریف !آپ وزیر خارجہ نہیں بن سکتے

شاکر لاکھانی

shakir-lakhani

چونکہ ایک وزیر خارجہ کا کام بین الاقوامی کانفرینس میں اپنے ملک کی نمائندگی کرنا ہوتا ہے اس لیے ضروری ہے کہ وہ بہت تعلیم یافتہ ہو۔ کبھی کبھار ایک بہت تجربہ کار ڈپلومیٹ کو وزیر خارجہ بیایا جاتا ہے اور کبھی کبھار کوئی مشہور سیاستدان یہ عہدہ لیتا ہے۔ پاکستان ایک ایٹمی ملک ہے اور اس کے اپنے بہت سے مسائل ہیں، اس لیے اسے فوری طور پر وزیر خارجہ کی ضرورت ہے۔ لیکن فی الحال وزیر اعظم نواز شریف ہی یہ عہدہ قبضے میں لیے ہوئے ہیں۔ اس سے قبل ہمارے ملک میں کچھ بہت اچھے وزرائے خارجہ گذرے ہیں جن میں سے ایک صاحب زادہ یعقوب خان تھے جنہوں نے سب سے زیادہ عرصہ یہ عہدہ سمنبھالے رکھا ہے۔ ریٹائرڈ جنرل ہونے کے علاوہ وہ بہت سی زبانیں بھی جانتے تھے اور امریکہ میں ملک کے سفارتکار بھی رہ چکے تھے۔ اس کے علاوہ مشہور وزیر خارجہ ذوالفقار علی بھٹو اور شریف الدین پیر زادہ بھی تھے۔ جنرل یحیی خان کا خیال تھا کہ وہ ایک اچھے وزیر خارجہ بن سکتے ہیں جب وہ صدر کے عہدے پر براجمان تھے۔ ہم سب جانتے ہیں کہ ان کے دور میں ہی ملک دو لخت ہو گیا تھا۔ جہاں تک میں جانتا ہوں، نواز شریف وزیر خارجہ کے عہدے کے لیے موزوں نہیں ہیں۔ وہ صرف ایک زبان میں مہارت رکھتے ہیں اور ہر موقع پر انہیں پیپر سے پڑھ کر تقریر کرنا ہوتی ہے۔ ان کی شخصیت بھی ایک وزیر خارجہ کے لیے موزوں نہیں ہے جیسے ہیلری کلنٹن اور جون کیری  اور خاص طور پر صاحبزادہ یعقوب خان وغیرہ اس عہدے کے لیے موزوں ہیں۔ لیکن یہ ہماری بدقسمتی ہے کہ وہ ہمارے ملک کے لیے ایسی اہم چیزوں کا فیصلہ کرنے پر اڑے ہوئے ہیں اس لیے ہمیں بہت صبر سے کام لینا ہوگا جس طرح فارین آفس میں لوگ صبر کا دامن تھامے بیٹھے ہیں۔ میں نواز شریف کو تصورات میں دفتر خارجہ میں افغانستان کے تازہ ترین مسائل پر ایک میٹنگ کی صدارت کرتے میں دیکھتا ہوں۔

نواز شریف: کیوں نہ ہم نیوی بھیج کر کابل پر قبضہ کر لیں۔

افسر: سر کابل ایک سمندری بندرگاہ نہیں ہے۔ نیوی وہاں نہیں جا سکتی۔

نواز شریف۔ مجھے معلوم ہے وہاں کابل کے پاس بہت سا پانی ہے۔ اس لیے یہ دریائی بندرگاہ تو ہے۔

افسر: دریا بہت کم گہرا ہے اور بہت چوڑا بھی نہیں ہے۔

نواز۔ تو افغانستان کے کسی اور علاقے میں نیوی بھیج دیتے ہیں۔

افسر: افغانستان خشک زمین کا ملک ہے آپ وہاں نیوی نہیں بھیج سکتے۔

نواز شریف۔ کیوں نہ کابل پر ایٹم بم گرا دیں؟

افسر: ایسا کرنے سے ایٹم بم کے بادل پشاور اور اسلام آباد تک پہنچ جائیں گے۔ لاکھوں پاکستانی بھی مریں گے۔

نواز شریف: اگر ہم ایٹم بم استعمال نہیں کر سکتے تو اس کا فائدہ کیا ہے؟

افسر: فائدہ یہ ہے کہ انڈیا کو ہم اس کے ذریعے اپنے ملک پر قبضہ کرنے سے روکتے ہیں۔

نواز شریف: انڈیا؟ بھارت پاکستان پر حملے کا سوچ بھی کیسے سکتی ہے؟

افسر: انہوں نے 1965 اور 71 میں بھی تو ایسا کیا ہے؟

نواز شریف: تب میں بہت چھوٹا تھا۔ مجھے تو یاد بھی نہیں ہے۔ تو کیوں نہ بوتسوانا پر ایٹم بم گرا دیں؟

افسر: اس ملک سے ہمارا کوئی تنازعہ نہیں ہے۔ آجکل ہمیں صرف بھارت اور افغانستان کی طرف سے مسائل کا سامنا ہے۔

نواز شریف: لیکن دنیا کو دکھانے کے لیے کہ ہم ایک ایٹمی ملک ہیں ہمیں اپنا ہتھیار استعمال کرنا ہو گا۔

افسر: ہر کوئی جانتا ہے۔ ہمیں مزید دھماکے کرنے کی ضرورت نہیں ہے۔

نواز شریف: تو افغانستان کے ساتھ کیا کریں؟

افسر: آپ وزیر خارجہ ہیں۔ آپ جائیں اور ان کو بتائیں کہ جو وہ کر رہے ہیں کو کرکٹ نہیں ہے۔

نواز شریف: کرکٹ؟ مجھے نہیں معلوم کہ افغانی کرکٹ بھی کھیلتے ہیں۔

افسر: جی وہ کرکٹ کھیلتے ہیں۔ وہاں سے کچھ مہاجرین نے پاکستان میں کرکٹ سیکھی اور ایک ٹیم بنا لی۔ وہ واپس افغانستان گئے اور اب وہ بہت اچھا کھیلتے ہیں۔

نواز شریف: مجھے افغانستان نہیں جانا۔ مجھے انکے  نہاری پائے پسند نہیں ہیں۔ سرتاج عزیز کو بھیج دو۔

افسر: وہ وزیر خارجہ نہیں ہے۔ وہ اس کی بات کو سیریس نہیں لیتے۔ آپ کسی اور کو وزیر خارجہ کیوں نہیں بنا دیتے؟

نواز شریف: تمہاری ہمت کیسے ہوئی ایسی بات کرنے کی؟ صرف میں وزیر اعظم بھی بن سکتا ہوں اور وزیر خارجہ بھی۔

افسر: جی سر آپ ٹھیک کہہ رہے ہیں۔ ملک میں 2 کروڑ لوگ موجود ہیں لیکن وزیر خارجہ صرف آپ بن سکتے ہیں۔ میں اسے اپنی یادداشت میں لکھ لیتا ہوں۔ میں یہ ہر اس شخص کو بتاونگا جو مجھے جانتا ہے ۔ میں یہ اپنے پوتوں اور نواسوں کو بھی بتاونگا۔ ایسٹ آر ویسٹ، نواز شریف از دی بیسٹ۔

بشکریہ: ٹریبیون

مترجم: عابدمحمود

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *