ایوان کو جلانے نہیں بچانے آئے ہیں ،شاہ محمود

mahmoodتحریک انصاف کے رہنما شاہ محمود قریشی نے پارلیمنٹ کےمشترکہ اجلا س سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ یہ ایک تاریخی موڑ ہے، ہم بھٹک بھی سکتے ہیں، تاریخ گواہ رہے کہ ہم اس گھر کو جلانے نہیں، بچانے آئے ہیں۔شاہ محمود قریشی نے کہا کہ پارلیمان کا تحفظ ہمارا فرض ہے، سوال یہ ہے کہ یہ کیسا پارلیمان ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں 1970 کے بعد تمام انتخابات متنازعہ رہے۔ شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ اسٹیبلشمنٹ کے منظور نظر بدلتے رہتے ہیں،وہ کبھی نظر میں آتے ہیں اور کبھی نظر سے گر جاتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ یہاں تاثر ہے کہ ایک گرینڈ پلان ہے، کوئی اسکرپٹ ہے،تحریک انصاف کسی ایسے گرینڈ پلان کا حصہ نہیں بنے گی جو جمہوریت کے خلاف ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ آرٹیکل 245 کا استعمال حکومت کا حق ہے لیکن ہمارے ساتھ اپوزیشن کے کئی رہنماؤں نے بھی اس کی مخالفت کی،ہمیں کہا جاتا ہے کہ تیسری قوت کو دعوت دے رہے ہیں، تاریخ بتائے گی کہ ثالثی اور سہولت کاری کی دعوت کس نے دی، آپ کہتے ہیں کہ دھرنا کسی کے اشاروں پر کیا گیا،یہ دھرنا تحریک انصاف کے اشارے پر کیا گیا۔انہوں نے جذباتی انداز میں تقریر کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان میں بہت سے لوگوں کو سنا، تقاریرکا جواب دے سکتا ہوں مگرماحول خراب نہیں کرنا چاہتا۔ ان کا کہنا تھا کہ پاکستان کے غیر معمولی حالات ہیں، ملکی نظام رکا ہوا ہے، ملک میں ایک عجیب کیفیت ہے، معیشت کا پہیہ رکا ہوا ہے، ہم پر امن طور پر آئے، پر امن دھرنے دئیے، ایک گملا بھی نہیں ٹوٹا،اگرمارشل لا لگا توہم اس کی مذمت بھی کریں گے اور مزاحمت بھی کریں گے۔ رہنما تحریک انصاف نے کہا کہ ہمارا شکوہ یہی تھا کہ 2013 کے انتخابات منصفانہ نہیں تھے، عمران خان نے بار بار کہا کہ کہیں انصاف نہ ملا تو سڑکوں پر نکلوں گا اور وہ سڑکوں پر نکلے،ہم یہاں لڑنے نہیں، بات کرنے آئے تھے۔شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ ریڈ زون میں داخل ہوتے ہوئےکارکنوں سے حلف لیا گیا کہ کسی عمارت میں تحریک انصاف کا کارکن نہیں جائے گا۔شاہ محمود نے بتایا کہ عوامی تحریک کے کارکنوں نے پیغام دیا کہ آگے بڑھیں گے،عمران خان نےکہا کہ حالات خراب ہو جائیں گے ،طاہر القادری کو کہا کہ پر امن ماحول ہے، ایسا ہی رہنے دیں، یہ ہماری فتح ہے،طاہر القادری نے کہا کہ یہ مجمع اب نہیں رک سکتا، یہ میری نہیں سنیں گے، میں نے کہا کہ جمہوریت کی بساط لپٹنے والے فائدہ اٹھائیں گے، طاہرالقادری نے اپنے کارکنوں سے بات کرنے کے لیے مجھے بھیجا، ان کے لوگوں نے میری بات سننے سے انکار کر دیا۔شاہ محمود قریشی کی تقریر کے دوران اراکین نے کئی مرتبہ شیم شیم کے نعرے لگائے، قائد حزب اختلاف خورشید شاہ نے ارکان پارلیمنٹ سے ایوان کا تقدس برقرار رکھنے کی درخواست کی ۔ایک موقع پر وزیر خزانہ اسحاق ڈار اور شاہ محمود قریشی کے درمیان جملوں کا تبادلہ بھی ہوا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *