معروضی صحافت، کینیڈین صوفی اور لال حویلی کاشیر!

photo-nusrat-javed-sb

میں آج تک سمجھ نہیں پایا کہ ”معروضی صحافت“ کیا ہوتی ہے۔ کسی واقعہ کی روئیداد لکھتے ہوئے حقائق کی بعینہ رپورٹنگ تو سمجھ میں آتی ہے۔ مثال کے طورپر قومی اسمبلی کا اجلاس ہورہا ہے۔ وہاں کوئی موضو ع زیر بحث ہے۔ بحث میں حصہ لینے کے لئے ایوان کی دونوں اجناب سے جو مقرر کھڑے ہوتے ہیں۔ان کے خیالات کو ان ہی کے الفاظ میں بیان کرنا رپورٹنگ کہلاتا ہے۔ رپورٹنگ مگر صحافت کا صرف ایک پہلو یا شعبہ ہے۔
قومی اسمبلی کی کارروائی پر تبصرہ کرتے ہوئے صحافی کی ترجیح ہوگی کہ وہ معلوم کرے کہ ایک مخصوص دن صرف اس موضوع پر تقاریر کرنے میں کیوں صرف ہوا۔ اس موضوع کا انتخاب حکومت نے کیا یا حزب مخالف نے۔ اہم ترین بات یہ جاننا اورسمجھانا بھی ہے کہ ایک خاص موضوع کو زیر بحث لاکر حکومت یا حزب اختلاف کونسے سیاسی اہداف حاصل کرنا چاہ رہے تھے۔ اس مخصوص دن کو صرف اپنے مخالفین کو شرمندہ کرنے یا مشکل میں ڈالنے کے لئے کیوں ضروری تھا۔ یہ سب بتاتے ہوئے آپ ”معروضی“ رہ ہی نہیں سکتے۔ اپنی رائے کا اظہار کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔آپ کی رائے مگر غلط بھی ہوسکتی ہے۔ اس سے ہرگز اختلاف کیا جاسکتا ہے۔ اختلاف ہوگا تو زیر بحث موضوع کے مزید کئی پہلو لوگوں کے سامنے اجاگر ہوں گے۔ ذہنوں میں وسعت آئے گی۔ صحت مند مکالمے کی فضاءبنے گی۔
اندھی نفرت اور عقیدت میں تقسیم ہوئے معاشروں میں لیکن صحافی اور لکھاری کے لئے اپنی رائے کے اظہار کی گنجائش ختم ہوجاتی ہے۔ نواز شریف پر تنقیدکروتوآپ جمہوری نظام کو خطرے میں ڈالنے کے خطاوار سمجھے جائیں گے۔ عمران خان کے بارے میں تنقیدی جملے”لفافوں“ کے لالچ میں لکھے جاتے ہیں۔ قومی سلامتی کے ذمہ دار اداروں سے سانحہ کوئٹہ جیسے واقعات کے تناظر میں چند سوالات پوچھ لو تو آپ پر CPECمنصوبے کو ناکام بنانے والی قوتوں کا آلہ کار ہونے کا الزام لگ جائے گا۔
ہر صحافی یا لکھاری،منٹو جیسا دیوانہ نہیں ہوتا۔ وہ رزق کے ساتھ ہی ساتھ اپنی عزت بچانے کا بھی خواہش مند ہوتا ہے۔ بے بنیاد الزامات کی زد میں آئے تو گھبراجاتا ہے۔ ظالم بادشاہوں کی سرپرستی میں پروان چڑھی شاعری کے خالقوں نے اپنا رزق،عزت اور جان بچانے کی خاطر ہی استعاروں کو سہارا لیا۔محبوب کو گل کہا مگر غارت گر بھی۔ اس محبوب کے دربان ہیں جو اس تک رسائی کو ناممکن بنادیتے ہیں۔بڑی محنت سے محبوب تک پیغام پہنچانے کو کوئی نامہ برڈھونڈ لو تو وہ عاشق کی حالتِ زار بیان کرنے کے بجائے خود محبوب کے ساتھ ”تھرو“ ہوجاتا ہے۔
بادشاہوں کو سفاک اور غارت گر محبوب ٹھہراکر شاعروں نے اپنے دل کی بھڑاس نکالی۔ انہیں سننے اور پڑھنے والوں کو مگر یہ سمجھنے میں کافی دِقت پیش آتی کہ غالب،شاہ کا مصاحب بن کر اتراتے ہوئے اپنے معاشرے پر چھائی ہنر ناشناسی کا ماتم کررہا ہے یا دل سے اس حقیقت کا اعتراف کہ وہ حقیقتاََایک بے آبرو شخص ہے جسے شاہ نے اپنے دربار میں جگہ دے کر کچھ عزت بخش دی۔
صحافت کی بدقسمتی مگر یہ ہے کہ اس دھندے میں استعاروں کی گنجائش نہیں۔ آپ کا لکھا اخبار میں چھپ کر قارئین کے گھر پہنچتا ہے۔ یہ ضروری سمجھا جاتا ہے کہ آپ کی تحریر گھر کے ہر اس فرد کو بآسانی سمجھ آجائے جو محض پڑھ سکتا ہے۔ انٹرنیٹ نے قارئین کی تعداد کو اخبارات کے مقابلے میں کہیں زیادہ بڑھادیا ہے۔
اخبار کے قاری کو آپ کے لکھے سے اختلاف ہوتو اسے اپنے خیالات کو قلم بند کرکے ایڈیٹر کے نام خط کی صورت بھیجنا ہوتا تھا۔ اب ای میل،ٹویٹر اور فیس بک آگئے ہیں۔ کسی کی تحریر پڑھ کر جو کچھ ذہن میں آئے فوراََ بیان کردیجئے۔ میں کافی عرصے تک بہت شوق اور خلوص کے ساتھ انٹرنیٹ کی مختلف Appsکی بدولت اپنی تحریروں کے بار ے میں آئے ردعمل کا مطالعہ کرتا رہا۔ بہت طویل مگر ٹھنڈے ذہن کے ساتھ کئے اس مطالعے اور مشاہدے کے بعد اس نتیجے پر پہنچا کہ میں نے کسی کالم میں جو لکھا وہ شاذہی زیر بحث آیا۔ چاہنے والوں نے ہمیشہ سراہا اور نفرت کرنے والوں نے تنقید نہیں مذمتی کلمات سے اپنے غصے کا اظہار کیا۔ جو سوالات میں نے اٹھانے کی کوشش کی ان کے جوابات تو کیا ملتے، ان پر سنجیدہ بحث ہوتی بھی کبھی نظر نہ آئی۔
2002ءسے 24/7چینلز کا فروغ شروع ہوا تو صحافی ہمارے معاشرے کی اکثریت کو حق گو پیغامبروں کی صورت نظر آنا شرو ع ہوگئے۔ ان کی ویسی ہی پذیرائی ہوئی جو کسی زمانے میں Celebrityشاعروں یا اداکاروں کی ہوا کرتی تھی۔ صحافیوں کو خود بھی گمنامی سے نکل کر شہرت کی روشنی میں نمودار ہونا بہت بھایا۔ ان میں سے ذہین لوگوں نے یہ دریافت کرنے میں ذرا دیر نہ لگائی کہ ٹی وی بالآخر Idiot Boxہی ہوتا ہے۔ اس کے ذریعے صحافت کرنا کافی مشکل ہے۔ فیلڈ میں جاکر کسی ایک موضوع کو ٹی وی کے ذریعے قابلِ دیدوشنید بنانا ایک جاں گسل عمل ہے۔ اس کے لئے مناسب Budgetکے ساتھ ہی ساتھ جدید ترین کیمرے، اس کیمرے کو استعمال کرنے کے قابل ایک ہنر مند آنکھ اور پھر ایڈیٹنگ کے سازوسامان اور کاریگروں کی ضرورت ہوتی ہے۔ ان سب تقاضوں سے جان چھڑانے کا آسان ترین نسخہ یہ ہے کہ سرخی پاﺅڈر لگاکر،ڈیزائنرز کے بنائے لباس پہنو اور کیمرے کے سامنے بیٹھ جاﺅ۔کیمرے کی بتی سرخ ہوتے ہی عقلِ کل بن جاﺅ۔ اپنے مہمانوں کی بات نہ سنو۔ انہیں دستاویزات دکھا کر جھوٹا ثابت کرو۔
اپنی عزت بچانے کے لئے سیاستدان اینکر حضرات سے کنی کترانا شروع ہوگئے تو ہم نے ان کی اجتماعی مذمت کے لئے لال حویلی راولپنڈی سے اُٹھے ایک منہ پھٹ کو اپنے ساتھ اکیلے بٹھاکر قربانی سے پہلے قربانی کی گردان شروع کروادی۔ منگل کے دن جب آپ یہ کالم پڑھ رہے ہوں گے تو ایک بار پھر گلی گلی قربانی ہورہی ہوگی۔ نواز شریف مگر اب بھی وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر براجمان ہوں گے۔
سنا ہے کہ اب قربانی کے بعد قربانی کی تیاری ہے۔ لال حویلی کے شیر نے اس قربانی کے لئے کینیڈا سے آئے ایک انقلابی پر انحصار کیا تھا۔ اس انقلابی کے جاں نثار مرید ہیں۔ وہ اس کے منہ سے جھڑے تھوک کے قطروں کو ٹشوپیپرز میں لپیٹ کر تعویز کی صورت اپنی جیبوں میں ڈال لیتے ہیں۔ لال حویلی سے قومی اسمبلی کی واحد نشست تحریکِ انصاف کے صدقے جیتنے والے چی گویرا خود شکار نہیں کرتے۔شکار کو ہانکا لگاکر شکاری کے سامنے لاتے ہیں اور شکاری کو ”شیر بن شیر“ کہتے ہوئے ہلہ شیری دیتے ہیں۔
”رائے ونڈ کے محلات“ کو انقلاب فرانس کی طرح اپنا نشانہ کینیڈا سے آئے بت شکن نے اپنے مریدانِ باصفا کی جانثاری کے ذریعے بنانا تھا۔ موصوف وقتی طورپر پنجابی محاورے والے”بکری“ ہوگئے تو بھی لال حویلی کے شیر ہرگز شرمندہ نہ ہوئے۔ عمران خان تو ہر صورت محرم سے پہلے جاتی امراءپہنچنے کو تیار ہیں۔ ان کے لوگ مگر لوگوں کو یقین دلارہے ہیں کہ ہدف رائے ونڈ میں بیٹھے شریف خاندان کے ”محلات“ کی اینٹ سے اینٹ بجانا نہیں۔ ان کے ”شاہانہ مسکن“ سے تقریباََ 5کلومیٹر دور ایک میدان میں جلسہ ہوگا۔ اس سے گھبرانے کی ضرورت نہیں۔ احتجاج ویسے بھی جمہوریت کا حسن اور شہریوں کا حق ہے۔
جمہوریت کے حسن کو توانا رکھتے اور شہریوں کے حق کو استعمال کرتے ہوئے مگر انقلاب برپا نہیں ہوتے۔ انقلاب کے لئے اینٹ سے اینٹ بجانے والے دیوانے درکار ہوتے ہیں۔ جن کی معقول تعداد فی الوقت صرف کینیڈا سے آئے انقلابی کے پاس ہے۔ اس انقلابی کو یورپ والے ”صوفی“ شمار کرتے ہیں۔ گجرات میں مسلمانوں کا قاتل نریندر مودی بھی جوان دنوں مقبوضہ کشمیر میں 12سے 18سال کے بچوں اور بچیوں کو اپنی قابض افواج کے ذریعے عمر بھر کے لئے اندھا بنارہا ہے”صوفیا“ کی وقتاََ فوقتاََ مداح سرائی کرلیتا ہے۔ مارچ 2016ءمیں اس نے اپنے ملک میں ہوئی صوفیا کی ایک بین الاقوامی کانفرنس سے خطاب بھی کیا۔ امیر خسرو کی عظمت کے گن گائے۔
کینیڈا میں آباد”صوفی“ اس کانفرنس کے خصوصی مہمان تھے۔ موصوف نے اس کانفرنس کے شرکاءکو ڈیڑھ گھنٹے سے لمبا بھاشن دیا۔ بھاشن یوٹیوب پر میسر ہے۔اسے دیکھئے اور جانیئے کہ اس بھاشن کے ذریعے کینیڈا میں بسے”صوفی“ نے کس مہارت سے لاہور کے داتا گنج بخشؒ کو ”گنگا جمنیٰ تہذیب“ کے کھاتے میں ڈال دیا۔”داتا کی نگری“کو ”گنگا جمنیٰ تہذیب“ کا حصہ بنادینے کے باوجود یہ ”صوفی“ ان دنوں ہمیں اطلاع یہ دے رہا ہے کہ شریف خاندان کی شوگر ملوں میں 300سے زیادہ بھارتی ایجنٹ،انجینئروںکے بھیس میں گھناﺅنی تخریب کاری میں مصروف ہیں۔ ایسے حالات میں ”معروضی صحافت“ کیسے ہوسکتی ہے؟

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *