نیا منقسم گروہ

خادم حسینkhadim

تحریک طالبان پاکستان کے سابق کمانڈروں نے حال ہی میں جماعت الاحرارنامی ایک نیامنقسم گروہ تشکیل دیا ہے۔ ان میں سے زیادہ تر مہمند اور بجرقبائل سے تعلق رکھتے ہیں۔ تاہم اورکزئی، سوات، چارسدہ اور پشاور سے تعلق رکھنے والے کچھ کمانڈروں نے بھی اس نئے گروہ میں شمولیت اختیار کی ہے۔
یہ خبر عمر خالد خراسانی کی جانب سے ٹویٹر پر نشر کی گئی اور جماعت الاحرار کے ترجمان احسان اللہ احسان کی جانب سے مختلف چینلز کو دی گئی۔
جنگجو گروہوں میں ٹوٹنے اور نئے گروہ بنانے کا عمل دلچسپ ہے۔جنگجوؤں کے حالات کا باریک بینی سے جائزہ لے کر ہم ان گروہوں کے ٹوٹنے کے موجودہ اندازمیں امتیاز کر سکتے ہیں۔
پہلاطریقہ جس کا مشاہدہ ساری دنیا میں کیا جاتا ہے ، وہ یہ ہے کہ یہ ٹوٹ پھوٹ مرکزی جنگجو گروہ سٹریٹجک اورشاطرانہ پسپائی کے بعد ایک نیا گروہ بنانے کیلئے ظاہر کرتا ہے کیونکہ ریاست کی سکیورٹی فورسز پرانے گروہ کے گرد گھیرا تنگ کر لیتی ہیں۔ چنانچہ یہ پہلے کئی چھوٹے گروہوں میں ٹوٹ جاتا ہے اور ریاستی دباؤ کم ہوتے ہی از سر نو یکجاء ہو جاتا ہے۔
ہم پاکستان سمیت اس حکمت عملی کوخطے کے کئی ممالک میں عمل پذیر دیکھ چکے ہیں۔گزشتہ کئی برس کے دوران القاعدہ کئی سرگرم گروہوں اور کئی زیر زمین گروہوں میں تقسیم ہوتی رہی ہے۔ یہ حکمت عملی نہ صرف جنگجو گروہوں کے عرصۂ حیات کو بڑھا دیتی ہے بلکہ منقسم گروہوں کو مشترکہ مقاصد کیلئے ہم خیال مقامی جنگجوؤں اور فرقہ ورانہ گروہوں کے ساتھ اشتراک قائم کرنے کا موقع بھی ملتا ہے۔
ہو سکتا ہے کہ جماعت الاحرار کا قیام، شمالی وزیرستان میں آپریشن کے دوران فوج کی جانب سے تحریک طالبان پاکستان کو بری طرح تباہ کر دئیے جانے کے سبب طالبان کی اعلیٰ قیادت کی ایک حکمت عملی ہو۔یہ مفروضہ اس وقت معتبر معلوم ہوتا ہے جب ہم یہ بات مد نظر رکھتے ہیں کہ موجودہ آپریشن کے دوران اب تک کوئی طاقتور کمانڈر نہ گرفتار ہوا ہے اور نہ ہی ہلاک ہواہے۔
دوسرا طریقہ نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہے۔ مخصوص مقاصد کیلئے مخصوص حالات میں جہاد کا ترجمہ اس تقسیم کو تیز کرنے کا باعث بن سکتا ہے۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ زیادہ تر منقسم گروہ یہی کہتے ہیں کہ وہ نظریاتی بنیادوں پر تقسیم ہوئے ہیں۔
جماعت الاحرار نے تحریک طالبان پاکستان پر الزام لگایا ہے کہ انہوں نے ملک میں اپنی پسند کی شریعت نافذ کرنے کے اپنے بنیادی مقصد سے انحراف کیا ہے۔ جماعت نے حلف اٹھایا ہے کہ وہ ملاعمر کے افغانستان کے نمونے پر پاکستان کو امارتِ اسلامی میں بدلنے کیلئے جدوجہد جاری رکھے گا۔
تحریک طالبان پاکستان کے اندرونی ذرائع رپورٹ کرتے ہیں کہ حکیم اللہ محسودکے ایک ڈرون حملے میں مارے جانے کے بعد متعدد کمانڈروں کی نگاہ جنگ کی معیشت کے ذریعے جمع ہونے والے مالِ غنیمت پر تھی اور یہ تحریک طالبان پاکستان کے نئے امیر کے انتخاب پر ٹی ٹی پی کی شوریٰ میں اختلاف نظر کی بنیادی وجوہات میں سے ایک تھی۔
یہ بھی ممکن ہے کہ حکیم اللہ محسود کی ہلاکت کے بعدجنگی معیشت کی مشین کے ذریعے جمع کردہ ذرائع کو تحریک طالبان پاکستان کی نئی قیادت کے حوالے نہ کیا گیاہو۔ اس نے شاید طاقتور کمانڈروں کو یہ موقع فراہم کیاہو کہ وہ اپنی انفرادی جنگجو سرگرمیاں شروع کریں ، جیسا کہ عمر خراسانی کے معاملے میں ہوا۔پھر، شاید ایسا بھی ہے کہ یکساں سوچ کے حامل کمانڈر اپنا علیحدہ گروہ بنانے میں سہولت محسوس کرتے ہیں۔
مزید یہ کہ اہم بات یہ ہے کہ علیحدہ ہونے والے گروہ کے کمانڈر افغانستان سے نیٹوکے کسی قدر اخراج کے بعد اب تک کی صورتحال کا بغور جائزہ لے چکے ہیں۔ شاید، ان کے مطالعے کے مطابق، اس انخلاء کے نتیجے میں ملاء عمر کچھ معقول فوائد حاصل کر لے ۔اور شاید اسی خیال کی روشنی میں انہوں نے ملا عمر کو پاکستان میں اماراتِ اسلامی کا قائد کہا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *