اگر انھیں کوئی امریکی نظر آیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے، صدر فلپائن

فلپائنی صدر نے کہا ہے کہ امریکی خصوصی فوجی دستوں کو جنوبی فلپائن سے نکلنا ہو گا، تاہم امریکہ کے مطابق اسے فلپائن کی جانب سے سرکاری طور پر ملک سے فوجی نکالنے کا مطالبہ موصول نہیں ہوا۔ امریکی وزارتِ خارجہ کے ترجمان جان کربی نے ایک اخباری کانفرنس کو بتایا کہ انھوں نے صدر دوتیرتے کے بیان سے متعلق رپورٹیں دیکھی ہیں لیکن انھیں اس سلسلے میں فلپائنی کی حکومت کی جانب سے کسی باضابطہ مطالبے کا علم نہیں ہے۔ انھوں نے مزید کہا کہ امریکہ فلپائن کے ساتھ اتحاد کے عزم پر قائم ہے۔ صدر دوتیرے نے یہ واضح نہیں کیا کہ کتنے امریکی کب نکالے جائیں گے، تاہم انھوں نے کہا کہ مسلمانوں کی جانب سے مسلسل شورش کی وجہ فلپائن کے مغرب کے ساتھ تعلقات ہیں۔ انھوں نے سرکاری ملازمین کے ایک اجتماع سے کہا: ’یہ امریکی فوجی، انھیں منداناؤ سے جانا ہو گا۔ (مسلمان ان کی وجہ سے) اور زیادہ مشتعل ہو جاتے ہیں۔ اگر انھیں کوئی امریکی نظر آیا تو وہ اسے قتل کر دیں گے۔

صدر دوتیرتے کے مطابق جزیرہ منداناؤ میں مسلسل امریکی فوجی موجودگی کی وجہ سے حالات بگڑ سکتے ہیں۔ وہ اس جزیرے میں مسلمان باغیوں اور کمیونسٹوں کے ساتھ امن مذاکرات شروع کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ یاد رہے کہ گذشتہ ہفتے امریکی صدر براک اوباما نے لاؤس میں ایشیا پیسیفک رہنماؤں کے سربراہی اجلاس کے موقعے پر صدر دوتیرتے سے ملنے سے انکار کر دیا تھا۔ اس کی وجہ یہ تھی کہ دوتیرتے نے امریکی صدر کے لیے ’فاحشہ کا بیٹا‘ جیسے الفاظ استعمال کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ ان سے انسانی حقوق کے معاملے پر ڈکٹیشن نہیں لیں گے۔

رودریگو دوتیرے فلپائن کے پہلے صدر ہیں جن کا تعلق جنوبی علاقے سے ہے اور وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ ان کے آبا و اجداد مسلمان تھے۔ وہ ملک کے جنوبی علاقے میں عشروں سے جاری شورش ختم کرنے کے لیے کوشاں ہیں جس کے دوران ڈیڑھ لاکھ سے زائد افراد مارے جا چکے ہیں۔ گذشتہ ہفتے دوتیرتے نے سب سے بڑی مسلم تنظیم مورو اسلامک لبریشن فرنٹ سے بات چیت شروع کی تھی، جو 1970 کے عشرے سے ایک آزاد مسلم مملکت یا پھر خودمختاری کی جنگ لڑ رہی ہے۔ امریکی فوجی اس علاقے میں فلپائنی فوجیوں کو تربیت دے رہے ہیں، تاہم انھیں جنگی کارروائیوں میں حصہ لینے کی اجازت نہیں ہے :-

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *