عید پر نیا سیاپا :کیا کپورے حلال ہیں ؟

ابو دانیالkaporey

یہ تحریر عید پر باقاعدہ کالم سے پہلے ایک ’’سٹارٹر ‘‘ طور پرپڑھی جا سکتی ہے ۔ ہوا یہ کہ کسی ’ظالم ‘نے ویٹس اپ پر یہ سوال پر پوچھا کہ کپورے جو اصل میں جانور کے خصیے( Testicles )ہیں ، ان کا حلال ہونا کیسے درست ہے جبکہ ان میں وہ مادہ ہوتا ہے جو کہ حرام ہے۔ سوال کا جواب بعد میں جانیے گا پہلے ایک لطیفہ نما واقعہ سن لیں ۔
کہتے ہیں کہ سپین جانے والے ایک سیاح کو ایک ہوٹل کے بارے میں بتایا گیا کہ اس کی سب سے بہترین ڈش اس سانڈ کے فرائڈ کپوروں کی ہوتی ہے جو فائیٹر کے ہاتھوں مارا جائے ۔ چنانچہ سیاح اگلے دن متذکرہ ہوٹل جا پہنچا اور ’خاص ‘ ڈش کا آرڈر دیا ۔ حکم کی تعمیل کی گئی اور اس کے سامنے پلیٹ میں چھٹانک بھر گوشت نما چیز کی ڈش رکھ دی گئی ۔ سیاح نے ویٹرکو بلایا اور پوچھا کہ کل تو اتنی بڑی ڈش تھی مگر آج اتنی مختصر کیوں ؟ اس نے کہا : حضور ،کل سانڈ مرا تھا اور آج فائیٹر ، اور یہ اسی کے کپورے ہیں ، کیونکہ قاعدہ یہی ہے کہ ہوٹل میں ہارنے والے کے کپورے پکتے ہیں ! لیکن صاحبو ، بات یہ ہے کہ یہ کپورے اگر حلال جانور کے ہوں، تو عام فقہی اصول یہی ہے کہ یہ حرام نہیں، حلال ہیں۔ رہی یہ بات کہ اس میں ناپاک یا حرام چیز بنتی یا ہوتی ہے تو بھئی گردوں کا معاملہ تواس سے بڑھ کر ہے ۔ پھر خون کے بارے میں ہم جانتے ہیں کہ وہ بھی ناپاک اور حرام ہے لیکن ہم گوشت کھاتے ہیں ۔ اس لیے یہ دلیل مناسب نہیں کہ کپوروں میں ناپاک اور حرام مادہ ہوتا ہے۔بیالوجیکلی بھی جان لیجیے کہ متذکرہ مادہ ایک نالی کی شکل میں خارج ہوتا ہے جسے (Spermatic Cod ) کہتے ہیں اور اسے کوئی نہیں کھاتا ۔ یہ ایک آلائش کی شکل میں ہوتی ہے اور اسے چھیچھڑا قرار دے کر پھینک دیا جاتا ہے ۔ یادرہے ماہرین غذایات کپوروں کو بہت مفید غذاقرار دیتے ہیں اور اسے مرادنہ طاقت کا خزانہ کہتے ہیں ۔اور علماء کی ایک کثیر تعداد اسے حلال ہی سمجھتی ہے ۔ لہٰذا اس کا حرام ہونا درست رائے نہیں ، البتہ کوئی طبعی کراہت سے اسے نہ کھائے تو یہ اس کاذاتی فعل ہے ۔ یہاں ہم واضح کرتے چلیں کہ ہمیں بھی ذاتی طور پر اس چیز کو کھانے میں کوئی رغبت نہیں ۔لیکن ذاتی پسند نا پسند ایک چیز ہے اور مذہبی اور غذائی حقائق اپنی جگہ۔

 

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *