حقیقی جنگ

زاہد حسین

یوں لگتا ہے کہ اسلام آباد میں ایک مکمل طور پر پتلی تماشے جیسا سیاسی مظاہرہ آشکار ہوتا جا رہا ہے۔ابھی اس کا حتمی نتیجہ آنا باقی ہے۔ شاید ابھی کوئی اختتام دکھائی نہیں دے رہا۔پہلے ریڈ زون پر دھاوے اورپھر وزیر اعظم ہاؤس کی جانب پیش قدمی سے لگتا تھا کہ اب یہ کھیل ختم ہو جائے گا۔ لیکن نئے پیچ و خم نے اس سازش کو مزید گہرا کر دیا ہے اور قوم شاہراہِ دستور پر آپے سے باہر ہوتے ہوئے ایک متشدد ہجوم کے نظارے کی گرفت میں ہے۔
نئے کردار سٹیج پر آتے جارہے ہیں اور تجسس بڑھاتے جا رہے ہیں۔۔ پہلے، پارلیمان،پھر فوج اب عدالتِ عالیہ، منصف کے کردارمیں نظر آ رہی ہے۔ لیکن کیا وہ کوئی فیصلہ مسلط کر سکتے ہیں اوراس جمود کو توڑ سکتے ہیں؟یقیناً یہ آسان نہیں ہو گا کہ بات چیت کے ذریعے ایک سیاسی حل پر پہنچا جائے کیونکہ صورتحال مزید سے مزید پیچیدہ ہوتی جا رہی ہے جب کہ وزیر اعظم کی جانب سے مدد کی اپنی درخواست سے پھر جانے کے بعد فوج کی کوششیں بھی رک گئی ہیں جبکہ سپریم کورٹ کی کوششیں تاحال تنازعے کے فریقین کی اجازت کی منتظر ہیں۔
اب اس بارے میں ایک شدید غیر یقینی صورت حال پائی جاتی ہے کہ فوج ایک ایماندار ثالث کا کردار ادا کر سکتی ہے یا یہ خود اس تنازعے کا ایک فریق ہے؟ اس تعطل کا تجزیہ کرتے ہوئے ، ہمیں تنازعے کی جڑ کو نظرانداز نہیں کرنا چاہئے۔ سول اور فوجی قیادت کے درمیان تنازعہ یقیناًحالیہ تعطل کی ایک بڑی وجہ ہے۔ سیاسی تناؤ اور بے یقینی وزیراعظم اور فوج کے تعلقات درست ہوئے بغیر ختم نہیں ہو سکتی۔
اگرچہ عمران /قادری اور فوج کے باہمی تعلقات کو ثابت کیا جانا ابھی باقی ہے تاہم تحریک انصاف کے صدر جاوید ہاشمی کا انکشاف ، ان دونوں احتجاجی رہنماؤں اور فوج کے چند عناصر کے مابین خاموش تعاون کے شبہے کو کچھ نہ کچھ ثبوت ضرور فراہم کرتی ہے۔
یہ بات بھی نہایت خوشگوار معلوم ہوتی ہے کہ اسلام آباد مارچ اور وزیر اعظم کے استعفیٰ کا مطالبہ شاید سول اور فوجی قیادت کے مابین تناؤ میں اضافے کی خبروں سے تحریک پا کر کیا گیا ہے۔اور پھر ان کے کیمپ میں مسلح افواج کی تابعداری کے وعدوں سے بھرپور بڑے بڑے بینر بھی ان سازشی تھیوریوں کو ہوا دیتے ہیں۔
قادری اور عمران کی جنرل راحیل سے ملاقات کے وقت دکھائی دینے والا جوش اور ان کی ثالثی کو تسلیم کرنا ، یہ ظاہر کرتا ہے کہ وہ یہ توقع کرتے ہیں کہ فوج ان کی مدد کو آئے گی۔ یہ بالکل واضح ہے کہ وزیر اعظم ہاؤس پر حملے اور شدید تباہی پھیلانے کی کوشش کا مقصد ہی یہ تھا کہ فوج مداخلت کرے۔ احتجاجیوں کی جانب سے فوجی جوانوں کو خوش آمدید کہنا یقیناً کوئی اضطراری عمل نہیں تھا۔
ماضی کی تلخ یادوں کو دیکھیں تو یہ معلوم ہوتا ہے کہ بلاشبہ وزیر اعظم اور فوج کے مابین محبت کچھ اس قدر گہری بھی نہیں۔ جرنیلوں نے کچھ تحفظات کے ساتھ نواز شریف کا اقتدار میں آنا قبول کیا تھا۔ اور اس مشکل سے قائم ہونے والے رشتے کو ایک بار پھر بھڑکنے میں کچھ زیادہ دیر بھی نہیں لگی۔ وزیر اعظم کے ریٹائرڈ جنرل مشرف کو بغاوت کے مقدمے کا شکار کرنے کے فیصلہ نے پہلی چنگاری کا کام کیا۔اعتماد کی یہ کمی اس وقت دوچند ہو گئی جب وزیر اعظم نے مشرف پر فرد جرم لگنے کے بعد اسے ملک سے فرار ہونے کی اجازت دینے پر راضی ہونے سے انکارکر دیا۔
کچھ مزید مسائل بھی تھے جنہوں نے اس تنازعے کو شدید تر کر دیا۔طالبان کے خلاف جنگ پر وزیر اعظم کا تذبذب اورکچھ وزراء کی فوج مخالف خطابت نے اس تناؤ کو مزید ایندھن فراہم کیا۔لیکن جیو کا واقعہ تو ان تعلقات کو نقطۂ کھولاؤ پر لے گیا۔جیو انتظامیہ کے حامد میر پر حملے کی سازش کا الزام آئی ایس آئی چیف پر لگانے کے بعد وزیر اعظم کی جیو کیخلاف کارروائی کرنے میں ہچکچاہٹ کو فوج نے حکومت کی جیو کیلئے خاموش معاونت سمجھا۔وزراء کی جانب سے جیو کے حق میں دئیے ہوئے بیانات میں سے کچھ نے بھی اس آگ کو مزید بھڑکایا۔
جیسے جیسے دشمنیاں بڑھیں، وزیر اعظم نے مبینہ طور پر آئی ایس آئی چیف لیفٹننٹ جنرل ظہیر الاسلام کو نکالنے کاسوچاکیونکہ ان کا خیال تھا کہ وہ سول حکومت کو غیر مستحکم کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔یہی وہ نقطہ تھا کہ جو اس تنازعے کو عروج پر لے گیا۔ وزیراعظم کو پسپا ہونے پر مجبور کر دیا گیا۔ لیکن اس وقت تک ہم آہنگی کی فضاء کو شدیدنقصان پہنچ چکا تھا۔
بلا تعجب، کئی سینئر وزراء نے ساری سازش کو بھانپ لیا جب عمران اور قادری نے مل کر اسلام آباد پر چڑھائی کی۔
بلاشبہ حکومت نے اس ساری صورتحال کو گھمبیرتر کرنے میں کافی حصہ ملا یا ہے۔ یہ حکومت کی غلط حکمت عملیوں اور جمود کا نتیجہ ہے کہ اسلام آباد اس قدر طویل مدت کیلئے عمران اور قادری کے قبضے میں چلا گیا ہے۔ وزیر اعظم کی جانب سے مارچ کے آغاز سے ذرا پہلے اسلام آباد میں آئین کا آرٹیکل 245نافذ کرکے سول انتظامیہ کی مدد کیلئے فوج کو بلانا بھی حکومت کی کوئی خاص مدد نہیں کر سکا۔بلکہ سچ تو یہ ہے کہ اس نے فوج کو مزید بااختیار بنا دیا ہے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *