عاقبت کی خبر خدا جانے!

photo-attaul-haq-qasmi-sb

بڑی عید واقعی بڑی عید ہے کیونکہ اس میں مصروفیات بھی بڑی بڑی ہوتی ہیں۔ آپ قصائی تلاش کرتے ہیں اور تازہ تازہ بنے ہوئے قصائی آپ کو تلاش کررہے ہوتے ہیں ۔ دونوں میں سے جو خوش قسمت ہوتا ہے وہ من کی مرادیں پالیتا ہے۔ ویسے بکرے کی تلاش اپنی جگہ ایک بڑی مصروفیت ہے، مگر میں اس موضوع پر زیادہ لکھنا تو چاہتا ہوں مگرزیادہ نہیں کم لکھوں گا کیونکہ بکروں پر جتنا میں نے لکھا ہے اتنا شاید کسی نے نہیں لکھا۔ صرف بکرے نہیں میں تمام’’جانوروں‘‘ کو گاہے گاہے موضوع بناتا رہتا ہوں ،چنانچہ میرے دوست جعفر بلوچ مرحوم نے ایک بار اپنے مضمون میں لکھا کہ عطاء الحق قاسمی کی کتابیں بعض اوقات چڑیا گھر لگتی ہیں جن میں ہر نوع کے’’جانوروں‘‘ کا تذکرہ موجود ہے۔ ان جانوروں میں سے بھی بکرے خصوصاً میری دلچسپی کا محور رہے ہیں۔ مجھے اس مخلوق میں طرح طرح کے رنگ نظر آتے ہیں چنانچہ عید سے دو چار دن پہلے میں انہیں ٹٹولنا شروع کردیتا ہوں۔ راہ چلتے ہوئے بھی اگر کسی بکرے پر نظر پڑتی ہے تو میں وہاں رک جاتا ہوں، پہلے بکرے سے آنکھوں آنکھوں میں بات ہوتی ہے، میں اس کے ارادے بھانپ رہا ہوتا ہوں۔ میں نے کئی بار محسوس کیا کہ بکرا مجھے لجاجت بھری نظروں سے دیکھ رہا ہے اور گزارش کررہا ہوتا ہے کہ اس کی جان اس ظالم سے چھڑائی جائے جو صبح سے جھلسا دینے والی دھوپ میں اس کی گردن میں رسی ڈالے سڑکوں پر کھینچتا پھرتا ہے تاکہ کوئی خریدار مل جائے۔ یہ وہ نادان بکرے ہوتے ہیں جو ایک ظالم سے جان چھڑانے کے لئے اس سے کہیں زیادہ ظالم کے ہتھے چڑھنے والے ہیں جو انہیں اپنے ساتھ لے جائے گا، دو ایک دن اس کے بچے اس سے کھیلیں گے اسے سیر کرائی جائے گی، عمدہ کھانا کھلایا جائے گا اور ٹھیک عید والے دن قصائی آجائے گا اور اسے پکے یا کچے فرش پر لٹا کر اس کی گردن پر چھری پھیر دی جائے گی، پھر اس کی کھال اتاری جائے گی، اس کی تکا بوٹی کی جائے گی اور پھر اس کے جسم کے مختلف حصوں سے طرح طرح کے پکوان پکیں گے۔ مجھے ان بے وقوفوں کی کم فہمی پر ترس تو آتا ہے مگر کیا کیا جائے جب انہیں اپنے آپ پر ترس نہیں آتا۔ یہ ڈرامہ گزشتہ 70برسوں سے تو میں بھی دیکھا رہا ہوں۔
اور ہاں بکرا خریدنے کے لئے مجھے بکر منڈی جانے کی ضرورت کم ہی محسوس ہوتی ہے۔ میں گھر سے نکلتا ہوں تو جگہ جگہ بکرے نظر آتے ہیں، سچی بات یہ ہے کہ مجھے کبھی کبھی اپنی دماغی صحت پر شک ہونے لگتا ہے کیونکہ مجھے لگتا ہے بس اسٹاپ پر بس کے انتظار میں کھڑے لوگ بھی بکرے ہیں ، میں ان بکروں کو سائیکل پر اپنی فیکٹریوں میں جاتے ہوئے بھی دیکھتا ہوں یہ بکرے موٹر سائیکلوں پر اپنے دفتروں کی طرف رواں دواں ہوتے ہیں۔ ان میں سے کچھ بکرے قسطوں پر لی ہوئی کاروں میں بھی سوار دکھائی دیتے ہیں۔ صرف بکرے ہی نہیں بلکہ قصائی بھی مجھے مختلف شکلوں میں دکھائی دیتے ہیں، مختلف پروڈکٹس کے بڑے بڑے ایڈورٹائزرز جو لوگوں کی خواہشات جگاتے ہیں انہیں وہ چیزیں خریدنے کی طرف راغب کرتے ہیں جن کے بغیر بھی ان کی زندگی سہولت سے گزر سکتی ہے۔ انسان میں موجود اس کی حرص کی جبلت کو ایکسپائٹ کرکے آہستہ آہستہ اسے اس مقتل میں لے جاتے ہیں جہاں انسان سسک سسک کر جان دیتا ہے۔ مجھے وہ ڈرامہ رائٹر بھی قصائیوں کے بھائی بند لگتے ہیں جو اس ملک کے ایک فیصد طبقے کی شان و شوکت دکھاتے ہیں اور غریبوں کے بچوں بچیوں کو حسرت میں مبتلا کرکے انہیں ٹی بی لگادیتے ہیں۔ میں کیا کروں مجھے سب کچھ ایسا ہی دکھائی دیتا ہے۔
دیکھا وہی ہوا نا جس کا مجھے خدشہ تھا،میں اس لئے بکروں پر لکھنے سے اب گریز کرنے لگا ہوں کہ قلم ادھر ادھر بھٹکنے لگتا ہے۔ مجھے تو شام کے سات بجے سے رات کے بارہ بجے تک مختلف چینلوں پر نظر آنے والے تین چار اینکر بھی یاد آرہے ہیں، جو نہ جانے کس کے سیلز مین ہیں۔ کوئی لولی لنگڑی جمہوریت کی دہائی دے کر اچھی جمہوریت کے ارتقاء کا راستہ بھی روکنے کی کوشش کرتے ہیں۔ یہ خود بھی قربانی کے بکرے ہیں، انہیں صرف اچھا کھانے اور’’پینے‘‘ کو ملتا ہے مگر وہ بھی جانتے ہیں کہ ان کی آئندہ نسل کا انجام بھی بالآخر وہی ہوناہے جو بکروں کی نسل کا ہوتا ہے مگر ان سے ملیں تو وہ یہ شعر گنگناتے نظر آئیں گے؎
اب تو آرام سے گزرتی ہے
عاقبت کی خبر خدا جانے
میرے خیال میں مجھے اپنے قلم کو یہیں روک لینا چاہئے کہ اس کے آگے’’حد ادب‘‘ والا معاملہ ہے، وماعلینا الا البلاغ

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *