جب ایم پی ہوجائیں گے بیکار

faheem-akhtar-uk

حکومت کی طرف سے قائم کی گئی بانڈری کمیشن کی تجویز منظر عام پر آہی گئی جس کے مطابق کئی ممتاز ایم پی کو اگلے عام چناؤ میں نئے بانڈری کی تجویز سے دوبارہ اپنی امیدواری کے لئے نئے حلقے میں نام داخل کرنا ہوگا۔ان میں لیبر پارٹی کے لیڈر جیریمی کوربین اور کنزر ویٹی پارٹی کے سابق چانسلرجورج اوسبرن کے نام اہم ہیں۔اس کے باوجود لیبر لیڈر جیریمی کوربین کا کہنا ہے کہ انہیں اس بات پر اعتماد ہے کہ وہ دوبارہ ایم پی منتخب کر لئے جائینگے۔جیریمی کوربین جو کہ لندن کے شمالی ازلینگٹن سے منتخب ہوتے ہیں نئی تجویز کے تحت اس حلقہ کو فینسبری پارک اور اسٹوک نیو نگٹن میں جوڑ کر ایک نیا حلقہ بنا یا جائے گا۔جبکہ کنزرویٹی پارٹی کے ایم پی جورج اوسبورن کے ٹاٹن حلقہ کو ختم کرنے کی تجویز کی گئی ہے۔
ان میں زیادہ تر وہ حلقے اثر انداز ہوئے ہیں جن کے سائز کو دوسرے حلقوں کے ساتھ یکساں کر دیا گیا ہے ۔ ایسا اندازہ لگایا جارہا ہے کہ اس تجویز سے لیبر پارٹی کے ایم پی کی زیادہ چھٹائی ہوگی جبکہ وہیں لیبر پارٹی نے اسے غیر جمہوری بات بتائی ہے۔لیکن حکومت نے کہا ہے کہ وہ اس کام کو یقینی بنائنگے تا کہ ہر ووٹر کو اپنی بات برابر کہنے کا حق ملے گا۔
اس تجویز سے انگلینڈ میں 533ایم پی کی تعداد گھٹ کر 501ہوجائیگی،ویلس میں 40سے گھٹ کر 29ہوجائیگی ،اسکاٹ لینڈ میں 59سے گھٹ کر 53ہو جائیگی اور ناردین آئیرلینڈ میں 18سے گھٹ کر 17ایم پی ہوجائینگے۔
2015کے عام چناؤ میں کنزرویٹی پارٹی نے اپنے منثور میں اس بات کا وعدہ کیا تھا کہ الیکشن میں جیتنے کے بعد وہ پارلیمنٹری بانڈری کو بانڈری کمیشن کے ذریعہ ٹھیک کروائینگے تا کہ ووٹر کو اپنی رائے اور بات کہنے کاحق ملے۔تاہم اس سے پہلے مشترکہ حکومت میں شامل لیبرل ڈیموکریٹ نے اس کام کو آگے بڑھانے میں رکاوٹ ڈالی تھی۔
اس تجویز کو پایہ تکمیل تک پہونچانے کے لئے بانڈری کمیشن نے عام لوگوں کی رائے جاننے کے لئے درخواست کی ہے ۔اکتوبر 2018
تک لوگوں کو اس کی اصلاحات کے لئے مشاورت کا مشورہ دیا گیا ہے۔اگر یہ تجویز پارلیمنٹ میں طئے پا گیا تو 2020کے عام چناؤ میں اس کو لاگو کر دیا جائے گا۔
اس تجویز سے لیبر پارٹی کے وہ ایم پی جنہوں نے جیریمی کوربین کی مخالفت کی ہے ان کا دوبارہ ایم پی بننا مشکل کام ہوسکتا ہے کیونکہ انہیں دوسری جگہ سے ایم پی کے انتخاب کے لئے اپنے لیڈر کی حمایت ضروری ہوگا۔لیبر رولنگ باڈی کے ڈیرن ولیم نے اشارہ کیا ہے کہ بانڈری کی تبدیلی سے لیبر پارٹی کو ان نئے لوگوں کو انتخاب کرنے میں آسانی ہوگی جو جیریمی کوربین کی حمایت کر رہے ہیں۔ڈیرن ولیم بی بی سی ریڈیو فور پر اس موضو ع پر بولتے ہوئے اپنے رائے کا اظہار کر رہے تھے۔ ان کا کہنا ہے کہ کچھ لیبر پارٹی کے ایم پی کا رویہ چونکا دینے والا ہے اور وہ پارٹی کے لیڈر کے خلاف کام کررہے ہیں جو مستقبل میں ایم پی بنے رہنے کے قابل نہیں ہیں۔انہوں نے مزید یہ بھی کہا کہ یہ تجویز کسی ایم پی کو غیر منتخب کرنے کا نہیں ہے بل کہ ہر ایم پی کو جمہوری طریقے سے پارٹی کا امیدوار منتخب ہونا چاہئے اور اس سے سے عام و خاص کو ایک موقعہ ملے گا جو کہ ایک اچھی بات ہے۔
کنزرویٹی پارٹی کے چیر مین سر پیٹرک میکلاگلین نے کہا کہ ہماری پارٹی ایک پالیسی پر یقین رکھتی ہے اور ہم چاہینگے کہ کوئی بھی ایم پی اس بانڈری کے چکر میں منتخب ہونے سے نہ رہ جائے۔یہ ایک اچھی تجویز ہے اور اس سے اس بات کا پتہ چلتا ہے کہ ہمارے ملک کے پارلیمانی نظام میں تبدیلی ضروری ہے۔ انہوں نے مزید یہ کہا کہ ظاہر سی بات ہے کہ لیبر اس تجویز سے اس لئے بوکھلا ئی ہوئی ہے کیونکہ اگر یہ تجویز پارلیمنٹ میں قبول کر لیا گیا تو زیادہ تر لیبر ایم پی کو سیاسی راستہ چھوڑنا ہوگا یعنی کہ ان کے لئے اور کوئی راستہ نہیں بچے گا۔
حزب اختلاف کی پارٹیوں کا الزام ہے کہ بانڈری تجویز وقت کی بربادی اور ایک سوچی سمجھی سازش ہے جس سے کنزرویٹی پارٹی اپنی اکثریّت کو بڑھائے رکھنا چاہتی ہے جبکہ بانڈری کمیشن کا کہنا ہے کہ ان کے آفیسر نے کئی سالوں سے اس کام کو بہت دھیان اور لوگوں کی اہمیت کو سامنے رکھ کر انجام دیا ہے۔مثلاً برطانیہ کے ہر سیٹ پر 71,031سے لیکر 78,507ووٹ دینے والوں لوگوں تک محدود کرنے کی تجویز کی گئی ہے جو کہ ایک اہم وجہ ہے۔
لیبر پارٹی کے جون ایشورتھ کا کہنا ہے کہ آئین کی تبدیلی میں ہم سب کو ایک ٹھوس اور صاف ستھری بات لوگوں کے سامنے رکھنا چاہئے جس سے ملک اور اس کے لوگوں کا بھلائی ہو اور ہر کسی کو اپنی بات کہنا کا حق ہو۔لیکن بانڈری کمیشن کی تجویز سے ایسی کوئی بات سمجھ میں نہیں آرہی ہے کہ یہ ایک صاف ستھرا عمل ہے۔ایک طرف ہاؤس آف کامن میں ایم پی کی تعداد کو کم کرنے کی بات کہی جارہی ہے تو دوسری طر ف ہاؤس آف لارڈس میں غیر منتخب ممبر کی تعداد بڑھائی جارہی ہے۔جون ایشورتھ کا یہ بھی کہنا ہے کہ بانڈری کمیشن کو اس معاملے میں دوبارہ غور و فکر کرنا چاہئے کیونکہ اس سے عام لوگوں کی بھلائی کم اور کنزرویٹی پارٹی کو فائدہ زیادہ ہوگا۔
آئین کے وزیر کرس اسکیڈمور کا کہنا ہے کہ حکومت اس بات کا عہد کر چکی ہے کہ آئندہ عام انتخاب تک ملک میں منصفانہ اور مساوی ووٹنگ کرانے کا عزم رکھتی ہے اور اسی لئے بانڈری کمیشن کی تجویز ایک اہم بات ہے جسے ہم لوگوں کو قبول کرنا چاہئے۔انہوں نے یہ بھی کہا کہ اس تجویز سے ٹیکس دہندگان کو 16366میلین پونڈ رقم کی بچت ہوگی ۔ بانڈری کمیشن نے اپنی رپورٹ میں لکھا ہے کہ کچھ حلقوں میں ووٹرس دوسرے حلقوں کے مقابلے میں بہت زیادہ ہیں جس کو برابر کرنے کے لئے ایسا کرنا ضروری ہے۔
بانڈری کمیشن کے سیکریٹری سیم ہارٹلی کا کہنا ہے کہ ان کی ٹیم نے یہ پایا کہ چند حلقوں میں ووٹرس کی تعداد دوسروں حلقوں کے مقابلے میں کافی زیادہ تھی اور اس کو برابر کرنے کے لئے سیٹوں کی کمی کرنا ایک ضروری قدم ہے۔ظاہر سی بات ہے جب سیٹ کم ہوگا تو ایم پی تو بیکار ہونگے۔ سیم ہارٹلی کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ تجویز بنا کسی پارٹی پولیٹکس کہ اور آزادنہ طور پر کیا گیا ہے۔ اگلے بارہ ہفتہ ہماری ٹیم ملک کا دورہ کر کے لوگوں سے تبادلہ خیال کریگی اس کے علاوہ آن لائن بھی لوگ اپنی رائے دے سکتے ہیں۔
زیادہ تر ایم پی اس بات کو مانتے ہیں کہ بانڈری کمیشن کی تجویز کئی معنوں میں اہم ہے لیکن وہیں ایم پی اس بات کو بھی مانتے ہیں کہ اس سے خوامخواہ ان پر مزید بوجھ بڑھ جائے گا۔ان ایم پی کا کہنا ہے کہ فی الحال ایم پی پر کام کا بوجھ کافی بڑھا ہوا ہے اور ایم پی کی کمی کرنے سے بچے ہوئے ایم پی پر کام کا بوجھ کافی بڑھ جائے گا جس سے حلقہ کے لوگوں کو ایم پی شاید وقت نہ دے پائے۔
تو کیا وجہ ہے کہ بانڈری کمیشن نے ایسی تجویز دی۔ 2009میں کئی ایم پی کو اس بات سے ذلیل ہونا پڑا تھا جب اخراجات اسکینڈل میں ملوث ایم پی کو قصور وار پایا گیا تھا۔اس کے بعد اس وقت کے وزیر اعظم ڈیوڈ کیمرون نے لوگوں سے وعدہ کیا کہ اگر وہ الیکشن جیتے گیں تو ایم پی کی تعداد کو کم کردینگے جو کہ ایک لازمی ضرورت ہے۔مجموعی طور پر ابھی یہی دیکھا جارہا ہے کہ بانڈری کمیشن کی تجویز سے خاص کر فائدہ کنزر ویٹی پارٹی کو زیادہ پہونچے گا۔
لیکن اس تجویز سے جہاں لیبر پارٹی کے ایم پی کو زیادہ نقصان پہونچ رہا ہے وہیں کنزر ویٹی پارٹی کے ایم پی کو بھی نقصان پہونچے گا۔کیونکہ یہ تجویز کسی پارٹی کو مدّنظر رکھ کر نہیں کیا گیا ہے لیکن ظاہر سی بات ہے کہ لیبر پارٹی کے وہ ایم پی جو جیریمی کوربین کی مخا لفت کر رہے ہیں انہیں اس بات کا خوف ہے کہ اگر جیریمی کوربین ستمبر کے آخر میں دوبارہ لیڈر چن لئے گئے تو ان کی تو خیر نہیں ہے۔ کیونکہ ممکن ہے جیریمی کوربین اپنے مخالفین کو اسی بہانے چھٹیّ بھی کر سکتے ہیں۔
بانڈری کمیشن کی تجویز سے عام آدمی نہ ہی تو حیران ہے اور نہ ہی اسے براہ راست اس پر کوئی اس تبدیلی کا اثر ہوگا۔ لیکن اب تک تو جو بات سامنے آرہی ہے اس سے یہی اندازہ لگ رہا ہے کہ اس تجویز سے سیاسی پارٹیوں کو فائدہ یا نقصان ہونے والا ہے تبھی لیبر اور کنزرویٹی ایک دوسرے پر الزام لگا رہے ہیں ۔ لیکن بانڈری کمیشن کے آفیسر کا ملک بھر میں دورہ کرنا اور رپورٹ کا آن لائن دستیاب ہونا اس بات کی اچھی علامت ہے کہ اس پر عام آدمی اپنی رائے دے سکے گا جو کہ ایک جمہوری اور آزادنہ طور پر اچھا قدم ہے۔
اب دیکھنا یہ ہے کہ جب اس تجویز کو قانون کی شکل میں آئین میں شامل کرنے کے لئے پارلیمنٹ میں لایا جائے گا تو کیا ایم پی اپنی دیانت داری اور عوام کی رائے سے اپنے ووٹ کا استعمال کرینگے یا ایم پی اپنی پارٹی کی پالیسی اور خود غرضی کی بنا پر اپنا ووٹ دینگے۔فی الحال بانڈری کمیشن کی تجویز پر چرچا اور بحث شروع ہوچکی ہے اور آنے والے دنوں میں اس کا نتیجہ بھی منظر عام پر آجا ئے گا۔جس سے ایک بات تو صاف ہو جائیگا کہ کچھ ایم پی سیاست کی دوکان سے بے روزگار ہوجائینگے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *