دولت،حقیقی رشتے اور دوریاں

khawaja mazhar nawaz

مزمل میرا بچپن کا دوست ہے. وہ ملتان سے تیس برس پہلے سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کراچی کا ہو گیا تھا. ھمارا فون پر کبھی کبھار رابطہ ہو جاتا ہے. مجھے کئی بار کراچی آنا ہوا، تو وقت کی کمی کے باعث میں فون پر ہی اس سے ہیلو ہائے کر لیتا تھا. وہ ہر بار مجھے گھر آنے اور ملاقات کا اصرار کرتا رہتا تھا. اب کی دفعہ میں  پانچ دنوں کے لئے کراچی آیا تو اپنے دیگر دوستوں کے ساتھ پرانے دوست مزمل کو بھی اطلاع دے دی تھی.
کل دوپہر کے وقت مزمل مجھے اور میری اہلیہ کو  ہوٹل سے اپنے گھر واقع ڈیفینس لے گیا. اس قدر وسیع شاندار اور خوبصورت گھر میں نے اپنی زندگی میں پہلے کبھی نہیں دیکھا تھا. مزمل نے بتایا کہ یہ گھر چند ماہ پہلے اس نے سوا دو ارب میں خریدا ہے . اس کا بزنس نیٹ ورک بھی مشرق وسطی کے علاوہ دیگر تین چار ملکوں میں پھیلا ہوا تھا. میرے پوچھنے پر اس کے بتایا کہ تین بچے ہیں.اہلیہ ایک سال سے ناراضی و اختلاف کے سبب اس سے غصہ کر کے اپنے میکے جا بیٹھی ہیں.تینوں بچے ماں کے پاس ہیں.
مزمل کا ایک بھائی بھی تھا جو ملتان سے کاروبار کی خاطر اس کے ساتھ ہی کراچی آگیا تھا. وہ دو سال پہلے تک کاروبار میں اس کے ساتھ ہی تھا.. مگر کسی معاملے  پر اس کا اپنے بھائی سے جھگڑا ہو گیا تھا. اب اس سے بھی کوئی تعلق خاطر نہیں رہا.  اب صورت حال یہ ہے کہ دونوں بھائی ایک دوسرے کا چہرہ تک دیکھنا گوارہ نہیں کرتے. مزمل کا دل اپنے ہی بھائی کی نفرت سے بھرا ہوا تھا. میں نے پوچھا کہ آپ کے والد بھی تو تھے؟. کیونکہ ماں تو ملتان میں ہی انتقال فرما گئی تھیں.  مزمل نے بتایا کہ اس کے ابا جی دو سال سے ناراض بھائی کے گھر رہ رہے ہیں. کیونکہ ابا جی اس بھائی کی حمایت میں تھے اور مجھے غلط کہتے تھے. اس لئے وہ بھی اسی روز سے ناراض چلے آ رہے  ہیں. دو سال سے مزمل نے اپنے ابا جی کا چہرہ تک نہیں دیکھا تھا. مجھے بہت دکھ ہو رہا تھا. کہ جس کا باپ اس سے ناراض ہو. وہ فلاح و نجات کیسے پا سکے گا.  وہ ان دنوں اکیلا اس عالی شان گھر میں چند ملازمین کے ہمراہ رہ رہا تھا. دنیا بھر کی سہولتوں سے مزین گھر، مکینوں کی کمی کے باعث ویران لگ رہا تھا. مزمل دولت کی ریل پیل سے مصنوعی خوشیاں سجائے بظاہر خوش نظر آرہا تھا. اس نے اپنی کاروباری ترقی سے جڑے  کئی واقعات سنائے.
مگر مجھے وہ ایک ناکام شخص لگ رہا تھا. کسی نے سچ کہا تھا کہ دولت سے چیزیں تو خریدی جا سکتی ہیں، مگر خوشیاں نہیں. وہ اپنی زندگی کے قیمتی رشتوں سے ہاتھ دھو بیٹھا تھا. اس نے حقیقی رشتوں کی بجائے دولت کو اہم سمجھا تھا. دولت کے حصول  کی جد و جہد میں اس سے سنگین غلطیاں سرزد ہوتی رہیں مگر وہ احساس سے عاری رہا. دولت کی کثرت نے اس کی رعونت بڑھا دی اور وہ تحمل و برداشت سے محروم ہوتا گیا. کامیابی کے دھوکے نے اس سے اس کے قیمتی رشتے چھین لیے.  بہت شاندار ڈنر کے بعد جب وہ ہمیں ہوٹل چھوڑنے آیا تو میں نے کہا. مزمل مجھے تم سے مل کر کوئی خوشی نہیں ہوئی. تم نے ضرور زندگی سے کچھ نہ کچھ پایا ہے، مگر سچ مانو تو میرے نزدیک تم نے زیادہ تر کھویا ہی ھے. تم نے زندگی کی قیمتی متاع کو ضائع کر دیا. یاد رکھو کہ رشتوں کو توڑنے والوں سے انہیں جوڑنے والے بہترین لوگ ثابت ہوتے ہیں. کوشش کر کے خود سے معمولی معمولی اختلافات کہ بنا پر ناراض اور خفا لوگوں کو مناوء، تبھی زندگی حسین لگے گی، ورنہ تمہارا یہ عالی شان آشیانہ ویران رہے گا... مزمل ! سن رکھو کہ دولت فخر کی چیز نہیں. ناں ہی اچھا اور بیش قیمت گھر تمہیں دائمی سکون دے سکے گا. بلکہ سچی خوشیاں تو حقیقی رشتوں کے ساتھ مل جل کر رہنے سے ملتی ہے. خدار بند آنکھوں اور زنگ آلود دل کو درست کرو. اور آگے بڑھ کر اپنے ہی کھوئے ہوئے رشتوں کو پھر سے پا لو. ابھی زیادہ دیر نہیں ہوئی. اگر تم نے انا اور ضد کا گلا گھونٹ لیا تو تمہارے قدم خود بخود صلح کے لیے آگے بڑھیں گے. ورنہ تم سے بہتر وہ غریب خانہ بدوش ہی بھلے جو ایک ساتھ جیتے اور ایک ساتھ مرتے ہیں.  ایک دوسرے کی خوشی و غم میں پورے دل کے ساتھ شریک ہوتے ہیں. مزمل میں اس معاملے میں تمہاری مدد کے لیے تیار ہوں.
اس کی آنکھوں سے آنسو ٹپکتے ہوئے میں دیکھ رہا تھا. ضبط کے بندھن ٹوٹتے نظر آ رہے تھے. رخصت ہوتے وقت مزمل نے شاید سینے پر پتھر رکھ کر مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ وہ جلد سب سے اپنے کئے پر سب سے معافی مانگے گا. اور اپنے حقیقی رشتوں کو منانے کی کوشش کرے گا. خدا اسے آسانیاں عطا فرمائے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *