حج اور قربانی

asghar khan askari

پوری اسلامی دنیا میں بالعموم اور پا کستان میں با لخصوص بڑی عید یعنی عیدالاضحی بخیر و عافیت گز ر گئی۔عیدالاضحی کے اس تہوار کو پوری دنیا میں مسلمانوں نے مذہبی عقیدت اور جوش و جذبے کے ساتھ منا یا ۔ عیدالاضحی کے مو قع پر دو عبات حج اور قر بانی کو اہمیت حا صل ہے۔یہ دونوں عبادت اسلام میں صاحب استطاعت افراد پر فر ض ہے۔حج جو کہ مالی اور بدنی عبادت ہے ہر اس مسلمان پر فرض ہے کہ جس کے پا س بیت اللہ شریف جانے اور وہاں پر قیام کے لئے ما لی استطا عت رکھتا ہو۔ساتھ ان کے لئے یہ بھی ضروری ہے کہ وہ اپنے اہل وعیال کی کفالت کو بھی پو را کر سکتا ہو۔اب گر کسی مسلمان کے پا س یہ استطاعت تو مو جود ہے کہ وہ بیت اللہ جا کر حج ادا کر سکے ،لیکن یہ قدرت نہیں رکھتا کہ وہ دوران حج اپنے خاندان والوں کی کفالت کر سکیں توپھر اس پر حج فرض نہیں ہے۔ اسی طر ح وہ فرد کہ جس کے پا س اپنے اہل و عیال کی کفالت کے لئے مالی استطا عت مو جو د ہے ،لیکن بیت اللہ جا نے کے لئے ان کے پا س وسا ئل نہیں ہے ان پربھی حج فرض نہیں ہے۔ہاں جو صا حب استطاعت ہے ان پر حج فرض ہے۔ جس کے بارے میں ان سے با لکل اسی طر ح باز پر س کی جا ئے گی جس طر ح اسلام کے دوسرے ارکان کے بارے میں ان سے پو چھا جا ئے گا۔اسی طر ح عیدالا ضحی پر قر بانی کا معا ملہ بھی ہے۔حج کی طرح یہ بھی مالی اور بدنی دونوں طر ح کی عبادت ہے۔یہ بھی صاحب استطاعت افراد پر فرض ہے۔جو مسلمان قربانی کر نے پر قدرت نہیں رکھتا ۔ان کو قربانی کر نے کی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن جو صاحب قدرت ہے ان پر واجب ہے کہ وہ سنت ابراہیمی کی پیروی کر تے ہو ئے جا نور کی قر با نی کر یں۔اب بد قسمتی یہ ہے کہ گز شتہ چند سالوں سے ان دونو ں عبادت کو متنا زعہ بنا نے کی کو شش کی جا رہی ہے۔ چند نام نہاد لوگوں سے غریبوں کا دکھ نہیں دیکھاجا سکتا ، اس لئے وہ پوری عمر میں ایک مر تبہ صاحب ثروت مسلمان کا لا کھوں روپے خرچ کر کے سعودی عرب میں طواف اور سعیٰ کے لئے جا نے کو ان غریبوں کے ساتھ زیا دتی سے تعبیر کر تے ہیں۔لیکن یہ نام نہاد یہ اعتراض صرف مسلمانوں کے تہواروں کے بارے میں اٹھا تے ہیں۔ غیر مسلموں کے تہواروں کے بارے میں یہ کو ئی اعتراض نہیں کر تے، بلکہ ان تہواروں میں شرکت اپنے لئے اعزاز سمجھتے ہیں۔ وہ عیسا ئیوں کی کرسمس ہو یا ایسٹر۔ہندوں کی ہو لی ہو ،دیوالی ہویا دوسرے تہوار ۔ان تہواروں میں پیسوں کا جو ضیا ع ہو تا ہے ان کو یہ نظر نہیں آتا۔گز شتہ سال دوران حج منیٰ میں رمی جمرات کے دوران بھگدڑ کا واقعہ پیش آیا تھا۔ اس حا دثے میں1000 سے زائد حا جی وفات پا گئے تھے جبکہ سینکڑوں زخمی بھی ہو ئے تھے۔ جس کے بعد ان نام نہاد افراد نے خوب واویلا کیا تھا۔اب بھی سوشل میڈیا پر شعا ئر اسلام کا مذاق اڑایا جا رہاہے۔خا ص کر شیطان کو کنکر ما رنے کے بارے میں سوشل میڈ یا پرلطا ئف کا ایک طوفان بد تمیزی بر پا کیا گیا ہے۔حا لا نکہ یہی لوگ سوشل میڈیاپر دوسرے لو گوں کو مذہبی روادری کا درس دیتے ہیں۔ ہر وقت اس نظریے کا پر چار کر تے ہیں کہ کسی پر زبر دستی اپنا نظریہ مسلط نہیں کر نا چا ہئے، لیکن اسلام اور اس کے شعا ئر کے بارے میں ان کا طر ز عمل اپنے اقوال سے مختلف ہے۔اسی طر ح عیدالا ضحی کے دن جا نوروں کی قربا نی پر بھی یہی لوگ اعتراض کر تے ہیں۔ جواز یہ پیش کر تے ہیں کہ ان کو بھی زندہ رہنے کا حق حا صل ہے یا جو پیسے قربانی کے جانورں کو خریدنے پر خرچ کئے جا تے ہیں انہی پیسوں کو مفلس اور نادار لو گو ں میں تقسیم کر نا چا ہئے۔جواز ان کا عقلی لحا ظ سے درست ہے، لیکن اس میں ایک سقم ہے جس کا یہ لوگ ادراک نہیں رکھتے۔اسلام نے نادار اور مفلس مسلمانوں کے ساتھ مدد کر نے کے لئے زکوٰۃکا ایک منظم اور مر بو ط نظام دیا ہے۔اسی طرح اسلام نے خیرات اور صدقات کا ایک جا مع تصور امت کے سامنے پیش کیا ہے۔ کہ جس کے تحت چند ایام میں نہیں بلکہ سارا سال آپ مستحق لو گوں کی مدد کر سکتے ہیں۔ جس طرح حج اور قربانی اللہ کی طر ف سے عبادت ہے اسی طر ح زکوٰۃ، خیرات اور صدقات بھی عبادات ہی ہے۔لہذا ہمیں چا ہئے کہ عیدالا ضحی کی قربانی کو متنازعہ نہ بنا ئیں اور نہ ہی حج جیسی اہم عبادت کو متنا زعہ بنا نے کی کو شش کر یں۔یہ بات بھی واضح ہو نی چا ہئے کہ حج زندگی میں ایک با ر فرض ہے۔ اب اگر کو ئی مسلمان با قا عدگی کے ساتھ زکوٰۃ دیتا ہے۔خیرات اور صدقات بھی کر تا ہے، تو پھراس پر یہ اعتراض ہر گز جا ئز نہیں کہ وہ ہر دو سال بعد حج پرکیوں جا تا ہے۔اسی طر حقربانی بھی سال میں ایک مر تبہ واجب ہے۔ اب اگر کو ئی مسلمان زکوٰۃ نہیں دیتا یا خیرات اور صدقات نہیں کر تا تو اس کا حل تو یہ نہیں کہ وہ قربا نی کے پیسوں کو خیرات کریں یا زکوٰۃ میں دیں۔حل اس کا یہ ہے کہ ان کو اسلام کے نظام زکوٰۃ سے آگا ہ کیا جا ئے۔ ان کو بتا یا جا ئے کہ حج اور قربانی کی طر ح اسلام میں خیرات اور صدقات کا بھی ایک مر بو ط نظام ہے۔اگر پوری اسلا می دنیا میں اسلام کے نظام زکوٰۃ کو فعال کیا جائے تو وہ دن دور نہیں کہ اسلامی دنیا میں وہ دور پھر سے واپس آجا ئیں کہ زکوٰۃ لینے والا کو ئی نہیں ہو گا۔مگر افسو س کہ نہ تو اسلام کے نظام زکوٰۃ ،خیرات اور صدقات کو نفاذ کر نے کے لئے کوئی اجتما عی یا انفرادی کو شش کی جا رہی ہے اور نہ ہی ان ممالک کے خلاف کوئی حکمت عملی بنا ئی جارہی جو مسلما نوں کو مفلس بنا نے کے لئے اکھٹے ہو ئے ہے۔ غیر مما لک پوری اسلامی دنیا کو مہا جر بنانے میں لگی ہو ئی ہے ،جبکہ مسلمان دانشور شعا ئر اسلام کو متنا زعہ بنا نے میں لگے ہو ئے ہے۔اس وقت امت کو ہر سطح پر اتحاد کی ضرورت ہے انتشا ر کی نہیں ۔جبکہ بد قسمتی سے مسلمان اور مسلمان مما لک دونوں اتحاد کی بجا ئے انتشار کی طر ف جا رہے ہیں۔ہمیں چا ہئے کہ مفلس اور نا دار لو گوں کی مدد کے لئے بہت سارے راستے کھول دیں نہ کہ غریبوں سے اظہار ہمدردی کے لئے شعا ئر اسلام کے مذاق کو اپنا شعا ر بنا دیں۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *