پُھول پہ دُھول،ببول پہ شبنم۔۔!

ghulam mustafa mirani

سبک رفتار زمانہ اور زقندیں بھرتی زندگی کی ھمہ ھمی اور غوغا آرائی پر غور کریں تو اپنے ہاں، چہار سمت، بھانت بھانت کی بولیوں، رنگا رنگ رویوں، طرح طرح کی رسموں اور نت نئ قدروں سے مرقع، ایک ایسی تہذیب تشکیل پا رہی ہے جو اعجوبوں اور  بوقلمونیوں کا محیرالعقول مظہر محسوس ہوتی ہے جہاں فضائے بسیط پر طاری تناوء، تنگ ظرفی اور تماشا گری کے سبب، سارا سماج شکست و ریخت سے دو چار نظر آتا ھے۔ مادیت کی معراج مُسلّم، مگر اخلاقیات اور روحانیت کے خشک ہوتے سوتے، سرابوں کا روپ دھار رھے ہیں! نفسانفسی اور آپادھاپی کے اس دور میں، ثقافتوں اور قدروں کا سمبندھ، قدرت کے ودیعت کردہ اوصاف سے مختلف ہی نہیں، مکمل طور پر متضاد ھے۔ الاماشاللہ، جو جہاں دھرنازن ہے، دست بہ دھونکنی ہے اور نفرتوں کے بھانبڑ کو، دم بدم دھونکنے میں مصروف ۔ عجب عالٙم ھے، تعصبات ، ھٹ دھرمی ، بدتمیزی، خودغرضی اور خودنمائ ایسے رویے غالب آ رھے ہیں۔ راست گوئ ، اعلی'ظرفی، وسعتِ قلبی، عجز و احترام اور ریت پریت کا تصور معدوم ہوتا جا رہا ہے ۔ کڑوا سچ  یہ ہے کہ مروتوں کا مزاج مر چکا اور شدتوں کا زمانہ آ گیا۔ امتیاز و تخصیص کے پیمانے ٹوٹ چکے ہیں. معیار و مراتب کا لحاظ جاتا رہا ہے. احسن واحقر کی تفریق باقی نہیں رہی، خالص و خراب کی پہچان مشکل ہو گئ ہے. محاسن و معایب کے اختلاط اور کھرے کھوٹے کے امتزاج نے ایسا رواج پکڑا ہے کہ !
زباں بدلی سو بدلی تھی، خبر لیجے دٙھن بدلا ....!
قدریں بڑی تیزی سے بدل رہی ہیں۔ سارقین سماج، سٙعدائے وقت ہیں۔ دروغ گو، دانا کہلواتا ہے۔ فریب کار، فقیہِ زماں ہے۔ تماشاگر، ترجمانِ عوام اور زاغ وزغن، شاھین و شٙہپر ہونے کے دعویدار ہیں۔ خدمتگذاری کے ظاھری خول میں آدمیت نہیں، خودغرضی، خواہشات اور خناسیت کے عفریت خیمہ زن ہیں۔ غم زمانہ کے اظہار میں، ذاتی مفادات، عصبیتی تعصبات اور مطلبی محرکات کا وجود کارفرما نظر آتا ہے۔ مادی منفعتوں کی طلب میں بےچین انسان نے مدتوں سے مروجہ افکار، نظریات اور نظائر کو پس پشت ڈال کر ، ذاتی ضرورتوں کے سانچے میں ڈھلنے والے اطوار و انداز اور پسند و ناپسند کو ہی مثالی اور معیاری قرار دینا شروع کر دیا ہے، بڑی ڈھٹائی کے ساتھ، نہ صرف، خود ساختہ خیالات کو آفاقی افکار ،الوہی اٙسرار اور اصولی اذکار کا نام دے کر، بالواسطہ طور پر اپنی آرزوءں کا اظہار اور پرچار کر رہا ہے بلکہ دوسروں سے بھی داد اور دوہائ کا طلبگار ہے ! المیہ یہ ہے کہ فرد سے سماج تک اور ایک ادارہ سے ریاست کے تمام کل پرزوں تک، ھم سب، الاماشاللہ، اس نووارد تہذیب کی تاثیر اور ترویج کا حصہ ہیں اور حسبِ بساط اپنا اپنا کردار ادا کر ھے ہیں۔
طوالت کے اندیشے اور خوفِ فسادِ خلق کے پیش نظر، انسانی اور عمرانی گوشوں کے دیگر پہلوں سے صٙرفِ نظر کرتے ہوئے،  فقط رواں سیاست کے بارے میں چند معروضات شئر کرنا مقصود ھے۔
نوابزادہ نصراللہ خان اپنی تقریروں کے دوران، قومی سیاست کے احوال پر، کبھی کبھی یوں لب کشا ہوا کرتے تھے کہ " گِھری ہوئ ھے طوائف تماش بینوں میں"۔۔۔۔۔برسوں پہ برس بیت چلے اور دہائیوں پہ دہائیاں گزر گئیں مگر ہم سیکھ نہیں پائے، آج بھی، حالات حاضرہ،  آغا شورش کاشمیری کا مذکورہ تخیل اور نوابزادہ صاحب کا طرزِ بیاں یاد دلاتے ہیں کیونکہ
وہی ھے چال بے ڈھنگی جو پہلے تھی، سو، اب بھی ھے !
کیا یہ حیران کن جسارت نہیں کہ ملک کے وزیر اعظم کو غدار اور دشمن کا ایجنٹ قرار دیا جا رہا ہے اور مسمی محمد نواز شریف ولد محمد شریف، سکنہ حال پتہ وزیراعظم ہاؤس اسلام آباد، کا نام ای سی ایل پر ڈالنے کا مطالبہ داغنے کے لئے غور جاری ہے !!! دیدہ دلیری اور سینہ زوری ملاحظہ فرمائیں، اس مضحکہ خیز تماشہ گری کے بیان باز، چسکے لے لے کر، محظوظ بھی ہو رھے ہیں! جبکہ مجبور وزیراعظم ! جی ہاں مجبور اور محزون وزیر اعظم، زبان دراز عناصر پر ہاتھ ڈالنے سے قاصر ہیں کہ کہیں "طاقت دراز" دنیا، دست درازی کا بہانہ پا کر، دھڑن تختہ نہ کر دے۔ سربراہِ حکومت ہونے کے باوجود، وہ مجبوریوں کے حصار میں ملول و مقید، ایک مسلوب الاختیار وزیر اعظم نظر آتے ہیں ! بیزار اور دل شکستہ ! مایوس و مذبذب !! مضطرب و مضمحل !!! حالانکہ حق اور انصاف کا اقتضا یہ ہے کہ منصہء جمہوریت پر جنم لینے والی حکومت کو اطمینان سے کام کرنے دیا جائے۔ اگر تعاون نہیں تو کم از کم، مساعی و مقدرت کی راہیں مسدود نہ کی جائیں۔ کیا طرفہ تماشا ھے کہ پانچ برس کیلئے منتخب شدہ حکومت کو، سال اول سے مزاحمتوں کا سامنا ھے۔ قدم بہ قدم جھٹکے اور دن بدن بوجھل، آغازِ اقتدار سے ہی مفلوج کرنے کی کوششیں جاری ہیں۔ مان لیا کہ بعض حلقوں سے منتخب ارکان کے انتخاب کا معاملہ مشکوک ھے، ایسا مگر پاکستان میں پہلی بار نہیں ہوا، ھمارے جملہ قومی انتخابات کی تاریخ کا دامن، اس طرح کی تمثیلوں اور آلائشوں سے تر ھے۔ نیم خواندہ اور طبقاتی معاشروں کے ماحول کو، آپ لاکھ چاھیں بھی تو، بدل نہیں سکتے۔ آئیڈیل اور فئر انتخاب کیلئے لازمی ھے کہ سو فیصد تعلیم، غیرطبقاتی معاشرہ، لگاتار جمہوریت، قانون کی بالادستی اور بلا امتیاز و لحاظ سب کیلئے یکساں اطلاق کا ماحول میسر ہو۔ جو کہ، باوجوہ ، ابھی ممکن نہیں۔ ایسے حقائق کا ادراک رکھتے ہوئے بھی ' ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا ضرب المثل کردار کی ادائیگی سے ہم باز نہیں آ رھے۔ نقصان، میاں صاحبان سے زیادہ ملک کا ہو رہا ہے۔
قومی زندگی کے ستر سالہ سفر میں، جسدِ جمہوریت پر جب بھی دبڑگھسڑ ہوئ ہے، "اھل دبدبہ" سے زیادہ ذمہ داری، علمبردارانِ جمہوریت پر عائد ہوتی ہے۔ فوج ملک کی محافظ اور امن کی امین ہے۔ ان کے راتوں کے جگراتے اور دنوں کے مجاھدے، ملک و ملت کے دفاع اور سلامتی کیلئے مختص رھتے ہیں۔  انہیں ارتکاب تجاوز کا طعنہ اور دراندازی کا دوش نہیں دیا جا سکتا۔ ترش و تلخ حقائق یہ ہیں کہ سیاسی زعما جب باھم دست بگریبان ہوتے ہیں۔ اتھل پتھل اور دھینگا مشتی کے ساتھ ساتھ جب مارو ماری کا ماحول مسلط کر دیا جاتا ہے، اکھاڑ بچھاڑ کی گرد آلود ہوائیں جب زور پکڑتی ہیں، انتشار، انارکی اور خلفشار  سے جب امن تاراج ہونے لگتا ہے، ملک بھر کی فضا جب "حیرت ہے بھی حیرت ہے، ضیا بڑا بے غیرت ہے" یا " مٹ جائے گی مخلوق تو انصاف کرو گے" جیسے فلک شگاف نعروں سے گونج رہی ہوتی ہے یا کھمبوں پہ لٹکتے بینرز اور دیواروں پر مرتسم تحریریں، جب تازیانے برسا رہی ہوتی ہیں تو فوجی انقلاب سے پہلے، ایسے مذموم محرکات اور مسموم مساعی کا ذمہ دار کون ہوتا ہے ؟ پھر شیرینی کی تقسیم اور شکرانے کے نوافل ادا کرنے والے لوگ کون ہوتے ہیں ؟ فوج یا اھل سیاست ؟ فطرت کا ابدی دستور ہے، ہر عمل کا ایک ردِ عمل ہوتا ہے۔ ریاست میں جمہوریت کے نام پر، جاری جبر کو آخر کب تک برداشت کیا جا سکتا ہے ؟
حالات اور حقائق کا تقاضا ھے کہ ہم تاریخ اور تجربات سے درس حاصل کریں۔ ملک اور معاشرہ کو ذاتی  اور جماعتی مفادات کی بھینٹ نہ چڑھائیں۔ افراتفری، شور شرابہ، شورش یورش اور ھٙلے گُلے کی بےتکی اور بےموقع فضا پیدا کرنا  ملک کی خدمت نہیں، جمہوریت کا جنازہ اٹھانے کے مترادف ہے۔ وزیراعظم اور حواری، سراپا خطاکار سہی، طرز حکمرانی تہی از معقولات سہی، کارکردگی اور کارگزاری محض مفاخرات ہی سہی۔۔۔۔آپ دل کھول کر تنقید کریں، جی بھر کر خطابات فرمائیں، رہ رہ کے رگیدیں اور ہاتھ اٹھا اٹھا کر ڈگڈگی بجائیں۔۔۔۔احتجاج اور احتساب ایک سرگرم اور صحتمند اپوزیشن کا استحقاق ہے مگر تعمیری تنقید اور جائز جراحت کا یہ عمل، اخلاقی حدود اور آئینی حصار کے اندر رہنا چاہیئے، نہ  کہ وقت سے پہلے واھی تباھی ، ھیجان اور ھڑبونگ پیدا کر کے، سماجی سکون اور سیاسی نظام کی بساط لپیٹ دی جائے۔ خود کو زندہ رکھنے کے لئے ضروری نہیں کہ دوسروں کو عضوِ معطل بنا دیا جائے اور نہ ہی کسی کی کارکردگی یا استعدادکار سے حسد یا تعصب کا شکار ہو کر، ناک بھوں چڑھانا  مناسب ہے۔ دھرنے، دھما چوکڑیوں اور دھینگا مشتی سے سوائے اپنا اور قوم کا قیمتی وقت برباد کرنے کے آپ نے کیا حاصل کیا ھے ؟ محب و مخلصین کی اعانت اور چندوں کا اس سے بڑا بھدا، بیکار اور بیجا مٙصرف کیا ہو سکتا ھے۔ اب رائےونڈ جانے کا کیا جواز بنتا ھے ؟ رائیونڈ وفاقی دارالحکومت ہے اور  نہ صوبائ صدر مقام، ایک خاندان کی نجی رہائش گاہ کے سامنے، اپنے کارکنوں کو اکٹھا کر کے غل غپاڑہ اور شور شرابا مچانا کہاں کی عقلمندی ھے ماسوائے تضیعءاوقات اور تصرفاتِ رقوم کے، یا پھر غیر جمہوری ماحول کے تسلط کی فضا ہموار کرنے کے ، کاش کے مسٹر خان اور مولانا محترم، احتجاج کے ایسے فیصلوں اور طریقوں پر نظر ثانی فرما سکیں۔
قصاص اور احتساب کی تحریکوں کے علاوہ بھی، نیم دروں، نیم بیروں کردار قسم کی ایک اپوزیش ہے جسکی اٹھک بیٹھک میں آجکل کچھ حرارت اور تمازت سی محسوس ہو رھی ھے۔ اپنا دُھرا کردار ادا کرتے ہوئے نفسیاتی الجھن کا شکار ھے۔ پائے رفتن نہ جائے ماندن، حکومتی بقا کی صورت میں، ترقیاتی منصوبوں کے دوش پر اگلے پانچ سال بھی نون لیگ سٙر کرتے نظر آ رھی ھے اور چُھٹکارے کا خوف، اس سے بھی بڑھ کر ڈسنے لگتا ھے کہ "متبادل" کی میزان میں سب سے پہلے ان کے گزشتہ پانچ سالہ دور کی ناپ تول ہوگی اور احتساب کا ریلہ " ھم تو ڈوبے ہیں صنم، تجھ کو بھی لے ڈوبیں گے" جیسے حالات اور نتائج پر منتج ہو گا لہذا وہ مصلحت اور حکمت کی حدود پھلانگنے سے گریز کرے گی، زندگی اور زندہ رھنے کی " کھاد خوراک" پر صاد اور تشکر سے کام لیتی رھے گی۔
سی پیک کے منطقی عواقب کیا سامنے آئیں گے ؟ یہ تو وقت ہی بتائے گا، مگر ھلچل کی بدولت دلی سے نیویارک کے ایوانوں تک پائے جانے والے اضطراب سے کہیں زیادہ، اقتدار سے باھر اپنے ملک کی سیاسی جماعتیں، پیٹ میں پیدا ہونے والی مروڑ  کے باعث کمر خمیدہ ہو رہی ہیں کہ سی پیک کا ماحصل، کہیں انکے سیاسی مستقبل کا بستر بوریا پیک نہ کر دے۔ یہ تنگ نظری اور خود غرضی کی انتہا ھے کہ ملکی اور ملی مفاد پر ، ذاتی اور جماعتی ھوا وھوس حاوی ھو رہی ہے۔ عجب وتیرہ ہے کہ افراد، سماج کیلئے سوہانِ روح اور لمحات، صدیوں کے در پئے آزار ہیں۔
"شہر کے لوگ" ظالم ہیں یا نہیں،  نون لیگ کی سرکار نے اپنے لئے طوق بہ گردن فضا پیدا کرنے میں، خود ہی کوئ کسر باقی نہیں چھوڑ رکھی۔ انصاف، اختیار اور اعتدال کی فضا پر تامل، تجاوز اور تغافل کا رنگ غالب ھے۔ اسی طرح مالی معاملات کے بارے میں تغلب، تغابن اور تصرفات کے تذکرے زبان زدِ عام ہیں۔  عوام کے کندھوں اور قوت کے سہارے پر کام کرنے والی حکومت، اگر ایسے الزامات سے مبرا ھے، تو پھر کسی مضبوط اور مسلّم فورم پر تصریحات اور محاسبہ کا سامنا کرنے سے خوفزدہ کیوں ھے؟ معانی و مفہوم متعین کرنے میں زمانہ بہت جلدباز واقع ہوا ھے۔ اغماض اور لیت ولال ایسے رویوں کو، "دال میں کچھ کالا کالا" کی دلالت پر محمول کرنے لگ جاتا ھے۔ حالات اور حکمت کا تقاضا ھے، جو فیصلے اور اقدامات، آج کئے جانے کے مکلف ہیں، کر گزریں۔ کل پر موقوف مت کریں کیونکہ ' حال' کی باگ ڈور آپ کے ہاتھ میں ھے اور ' مستقبل ' پر پابرکاب کوئی اور ہو سکتا ھے جو بےلگام، بےانصاف اور بے رحم بھی ہو سکتا ھے۔۔۔آپ جانتے ہیں کہ نوشتہء دیوار کیا ھے اور پٙسِ دیوار کیا ہو رہا ہے ! آپ مسند نشینِ اقتدار ہیں اور اصحابِ قصاص انصاف مانگتے ہیں۔ آپ محافظ بیت المال ہیں اور مدعیانِ  احتساب، حساب کتاب کا مطالبہ کر رھے ہیں۔ آپ جمہوریت کے دعویدار ہیں جبکہ بلدیات والے استحقاق استحقاق کا ورد کرتے نظر آتے ہیں !!! مسائل کو معلق اور مخلوقِ خدا کو مضطرب رکھنا، نہ صرف دستورِ فطرت کے سراسر منافی ھے بلکہ منشائے معدلت کی صریحاً تنکیر کے مترادف ہے ۔ ماڈل ٹاون المیہ معمولی واقعہ نہیں کہ وقت کے ساتھ ماند پڑ جائے گا۔ طوالت اور تاخیر سے طرح طرح کی چہ مگوئیوں کے علاوہ، وقتا"فوقتا" افراتفری کا سماں بدنامی اور سماجی بےچینی کا سبب بن رہا ھے۔ آنکھیں بند رکھیں تو آپ کی مرضی ورنہ سیاست کی دیوار پر چسپاں یہ ایک مستقل اشتہار ھے جو آپکی شہرت کو دھندلا رہا ھے۔ مقتولوں کے ورثا، انصاب یابی کیلئے جسطرح مطمئن ہو سکتے ہیں، ان کا اطمینان کریں۔ انہیں چوائس دیں کہ وہ اپنی مرضی سے، عدالت عالیہ کے تین جج تجویز کریں جو اس واقعہ کی تحقیقات کریں۔ اُن کے وکلا کے مقابلہ میں آپ بھی اپنے قانونی مشیروں کا پینل کھڑا کر دیں تاکہ کھلی بحث اور منصفانہ سماعت سے، دودھ کا دودھ اور پانی کا پانی واضح ہو سکے ورنہ تاریخ کا سبق مت بھولیں کہ خدانخواستہ، نظام کسی "ناگہاں حادثے" کا شکار ہوا تو آپ کو اولین در پیش مسلہ ماڈل ٹاون کے مقتولوں کا ہوگا۔ اُس وقت خاندان اور چند ساتھیوں کے ساتھ کے علاوہ، ہر زباں ہرزہ سرا ہوگی کہ "اس طرح تو ہوتا ہے، اس طرح کے کاموں میں"۔ اپنے سر سے بوجھ اتارنے، جان بخشی کرانے اور وعدہ معاف گواہ بننے کیلئے کئی کردار سامنے آ جائیں گے۔۔۔۔۔بصورت دیگر بھی، اگلے عام انتخابات میں ہر مخالف سٹیج سے " قاتلو جواب دو، خون کا حساب دو" "قاتل ہیں قاتل ہیں۔۔۔۔۔" جیسے نعروں کی مسلسل گونج، ووٹروں کو بدزن اور آپ کو پریشان کرے گی۔
دوسرا معاملہ جو نسبتا" زیادہ گنجلک اور گمبھیر ھے، پانامہ پیپرز لیکس کا ھے جو شاید"چور کی داڑھی میں تنکا" نہیں، شہتیر کے شواھد کی چغلی کھا رہا ہے مگر بکرے کی ماں کب تک خیر منائے گی؟ آج نہیں تو کل، حقائق نے بالآخر طشت از بام ہونا ھے۔ آپ کو اپنی سچائ اور بے گناہی کا یقین محکم ھے تو ٹی او آرز کا تعین کرنے میں تامل اور تاخیر کیوں؟ آج کی فروگزاشت، فردا کی فرد جرم بن سکتی ھے جب رستگاری کا راستہ بھی نہیں مل پائے گا۔ مصلحت مقتضی ہے کہ مخمصے کو مزید نہ لٹکایا جائے۔
رہا مسئلہ بلدیاتی اداروں کے مخولیہ مستقبل کا، عیاں را چہ بیاں!  پنجاب کے ہزاروں قصبوں کے بلدیاتی کارکنان، جو اپنے اپنے قریے کوچے اور بستی محلوں کے منتخب قائدین ہیں، آنکھیں لال پیلی کئے اور لوگوں سے منہہ چھپائے، اپنی قیادت کو کوستے پھر رھے ہیں۔ " کوستے" ایک مہذب لفظ ہے جو میں نے متبادل کے طور پر استعمال کیا ہے ورنہ جناب کے متوالوں کی صدائے بازگشت کا متن کچھ اور ہے۔ آپ کہنہ مشق مشاھیرِ سیاست ہیں اور بخوبی جانتے ہیں کہ مجبور اور مضمحل کارکنان، قیادت اور  سیادت کے خلاف ' عدم اعتماد ' کا چلتا پھرتا اشتہار ہوتے ہیں۔ آپ کے پاس بلدیاتی نظام کو پابہ زنجیر کرنے کا کیا جواز ھے ؟ اگر آپ اختیارات منتقل نہیں کر سکتے تو کم از کم ایک ایک کلوگرام کالک ھی، اپنے ہر منتخب بلدیاتی نمائندے کے نام پارسل کر دیں، جو منہہ پہ نہیں تو اپنی بلدیہ کی چوکھٹ پر مٙل دے گا جو استعارہ ہو گا استصواب رائے عامہ کے انجام کا۔۔۔۔۔شرم تم کو مگر نہیں آتی ! ارجاع دولت کی لت گھت کے احساس لوامہ سے تہی دامن تو آپ مشہور ہیں ہی، ارتکازِ اختیارات میں بھی آپ کی حرص و آز ، اب ساتویں آسمان کو چُھو رہی ہے۔ اس حوالہ سے التوا اور استدراج کی آپ نے ایسی بھونڈی ریت ڈالی ھے کہ جس کے اظہار سے جمہوریت کی تاریخ ہمیشہ شرماتی رھے گی۔
اِسراف اور اللے تللوں کے تذکرے، تکلف اور حجاب سے آزاد، اب روٹین روایت بن گئے ہیں! اسطرح صوبائی دارالحکومتوں سے لے کر،  نیچے ضلعی انتظامیہ تک، ٹینڈروں اور ٹھیکوں کا نیلام بازار، شرمناک حد تک، قانونی تقاضے کراس کر چکا ہے !! بادشاہ سلامت پھول توڑنے کا مرتکب ہو گا تو رعایا پیڑ پتے بھی صاف کر جائے گی۔۔۔۔یہ ایک کہاوت ہے مگر یہی حال ہر مقام پر، سکہ رائج الوقت کی طرح،  راسخ و نافذ نظر آ رہا ہے! وزرائے اعلیٰ سے اراکین اسمبلیوں تک، الاماشاللہ، ہر کوئی گنگا اشنان کرنے اور من مرادیں پانے میں مصروف و مگن ہے !! قانون کی تسخیر اور تضحیک کی کوئی حد یا ٹھکانہ نہیں رہا۔ دفتروں میں بیٹھ کر جعلی کاروائیاں کرنا ، فائلوں کے پیٹ بھرنا اور پھر کسی نامزد ٹھیکیدار کو " فیضیاب " کر دینے کا مکروہ کھیل، قانونی تقاضوں کی تکمیل کہلوانے لگا ہے !!!  چوری اور سینہ زوری کا یہ شرمناک تماشا، لک چھپ کر نہیں، دن دہاڑے برسرعام جاری ہے۔ ملک کے وجود کو جونکوں کی طرح چوسنے اور دیمک کی مانند چاٹنے کا چاوء اور چلن بڑھتا جا رہا ہے، اس بدرٙو اور بہیمانہ چیرہ دستی اور راہزنی کے خلاف، کسی روز "میرے عزیز ہموطنو !" والوں نے " ارتکابِ گستاخی " کر لیا تو ذمہ دار کون ہو گا ؟
خارجہ محاذ اور بیرونی معاملات کے بارے میں، مفکرینِ وطن، دلگرفتہ ہیں کہ حریف حاوی ہو رہا ہے ۔ یہاں تک کہ برادر ممالک میں بھی مودی کی منہ ماری، بھارت کیلئے بہت بارآور ثابت ہوئی ! ہماری وزارت خارجہ، خانہ پُری سے چل رہی ہے !! نون لیگ اتنی بھی بانجھ نہیں ہو گئی کہ فُل ٹائم وزیر خارجہ مہیا نہ کر سکے !!! وزیراعظم کیلئے اندرونِ ملک درد سری کافی ہے، ملک کی شرقی غربی سرحدوں، کارزارِ کشمیر، بڑھتی ہوئی بین الاقوامی ھلچل اور بنتے بگڑتے نئے اتحادوں کی صورتِ احوال متقاضی ہے کہ باقاعدہ وزیرخارجہ کی سربراہی میں، وزارت خارجہ کو متحرک اور سرگرم کیا جائے۔ ملک اور وزیراعظم کی صحت ، ہر دو پہلو ، گزارشِ احوال کیطرف توجہ مبذول کرنے کے خواستگار ہیں۔
بات بدلتی تہذیب کے بھونچکے بھنور سے شروع ہوئ تھی کہ کج رویوں کا حامل ہر کج رو، کس طرح تیس مار خان بنا پھرتا ھے اور اپنی کجکلاہی پہ اتراتا نظر آتا ھے اور سمجھتا ہے کہ "مستند ہے میرا فرمایا ہوا " حالانکہ اس طرح کی ضد اور " ضحاک " کا انجام احسن نہیں ہوا کرتا !!!  ملک کے شمال و جنوب، ہر دو اطراف سے، فوج چشم آشنا ھے۔ بڑا کچھ ہو چکا اور بہت کچھ ہونا باقی ھے۔ ملکی سلامتی اور قومی دفاع کے حوالہ سے شمال کا وبال ہو یا جنوب کے ذُنوب، ہر مقام اور ہر چیلنج پر فوج، قوم کی توقعات پر پوری اتری ھے۔ کراچی، سوات اور وزیرستان میں ھماری افواج کی کارکردگی کسی وضاحت کی محتاج نہیں مگر فوج کیطرف سے نیشنل ایکشن پروگرام پر زیرلب تحفظات بار بار سامنے آ رھے ہیں اور بہت سے سوالات پیدا کرتے ہیں۔ یہ صورتحال تشویشناک ہے۔ ملی مفادات کا مقتضا یہی ھے کہ سیاسی اور عسکری قیادت ایک ہی صفحے پر رھیں نہ کہ الگ الگ مسابقت و برتری کا تاثر قائم ہونے دیں یا متوازی حکومتوں کی داغ بیل اور ریت روایت پڑتی نظر آئے ۔ غلط فہمیوں کا بروقت اظہار اور برملا ازالہ نہایت ضروری ھے۔ افواج پاکستان، ملک کی سیاسی حکومت کے ماتحت اور تابع فرمان ھیں اور اس کے برعکس قولا" فعلا" ، براہ راست یا بالواسطہ کوئ تاثر یا اشارہ ملنا بھی نہیں چاھیئے مگر یہ حقیقت بھی اپنی جگہ مسلّم ھے کہ محاذِ مبارزت سرحدوں پر گرم ہو یا اندرونِ ملک، عسکری معلومات اور معاملات پر مکمل دسترس صرف فوج کو حاصل ھے۔ فوج ہی اندرونی اور بیرونی خلفشار سے نمٹنے کے فنی اور تکنیکی پہلووں کو بہتر سمجھ سکتی ھے، سول گورنمنٹ کو در پیش کسی بھی قانون شکنی کے سنگین بحران سے نبرد آزما ہونے کا فریضہ فوج نے ادا کرنا ہوتا ہے، اس لئے کہ اس طرح کا کردار ادا کرنا فوج کے فرائض میں شامل ھے لہذا کسی بھی آپریشن یا کارروائ کے ضمن میں، عسکری قیادت کے تحفظات اور مطالبات پر مساھلت برتنا ھرگز موزوں نہیں.
کراچی میں وقوع پذیر تازہ واقعات سے نئ صورتحال پیدا ہو گئی ہے۔ الطاف حسین کی ہرزہ سرائی سے جو ارتعاش اور اشتعال پیدا ہوا ہے ، بہت وسیع اور گہرے اثرات کا حامل ہے۔ خطاب سے پوری قوم کی دل آزاری ہوئی ہے۔ خود ایم کیو ایم کو ناقابل تلافی دھچکا لگا ہے۔ تحریک کی تین دہائیوں سے زیادہ عرصے کی محنت اور کمائی لٹ گئی ہے۔ مہاجر معمارِ وطن اور محبِ وطن ہیں، غدارِ وطن نے بڑا طویل عرصہ انکی غلط اور گمراہ کن برینواشنگ کی، کراچی جیسے معیشت خیز ، پرامن اور خوبصورت شہر کی ساری رعنائیاں روند ڈالی گئیں اور انسانوں کو کیڑے مکوڑوں کی طرح مٙسلا جاتا رہا۔ یاد تو کریں، کتنے مشاہیر مارے گئے اور کس قدر بوری بند کُشتوں کے پُشتے لگائے گئے۔ نفسیاتی طور پر کراچی کو ملک کے دیگر حصوں سے الگ تھلگ رکھنے کی کوشش کی گئی کیونکہ ذھن کے نہان خانے اور قلبِِ  کریہہ میں خباثت اور بدنیتی کارفرما تھی۔ ان تمام جرائم پر مستزاد معاملہ، دشمن ملک سے خفیہ روابط اور مالی مفادات کا منکشف ہونا ہے۔ ایسا بےرحم اور خودغرض کردار، جو  ذاتی اغراض کے پیش نظر ، اپنے نہایت قریبی ساتھیوں کو بھی تہہِ تیغ کرنے سے باز نہیں آیا ، اب وقت آ گیا ہے کہ اس سے نہ صرف سارے حساب چکائے جائیں بلکہ سازشوں کے منصوبے بھی اگلوائے جائیں۔
دنوں کا ھیرپھیر نظامِ فطرت ہے اور یہ مظہر، محض اتفاقیہ نہیں بلکہ اعجازِ قدرت ہے کہ صیاد اپنے دام میں، آپ ہی آ گیا ہے اور اپنے منہہ سے من باطن مکروہ عزائم آشکار کر بیٹھا ہے ! لہذا مخلوقِ خدا بجا طور پر متمنی ہے کہ مصلحتوں اور مفادات سے ماورا ہو کر، اس شخص کو قانون کے شکنجے میں لانا چاہئے۔ ہمیں اس حقیقت سے اغماض اختیار نہیں کرنا چاہئے کہ الطاف حسین ابھی تنہا نہیں، طویل عرصہ کی وابستگیاں، تمام عریاں قباحتوں کے باوجود ، پل بھر یا دنوں میں ختم نہیں ہو سکتیں اور نہ  ہی فاروق ستار کے اعلانات اور اقدامات پر، کوئی یقین کرنے کیلئے امادہ ہے۔ اہلِ دانش اور دیدہ ور لوگ ، فاروق ستار اور ہمخیال حلقہ کے موجودہ " انتظام " کو عوامی گردباد کے سامنے ایک وقتی اور مصنوعی کارروائی سے زیادہ وقعت نہیں دیتے ۔ اے آر وائ کو انٹرویو دیتے ہوئے مصطفیٰ کمال نے تو برملا اور واضح طور پر ، فاروق ستار کی زیر قیادت، ایم کیو ایم  کی موجودہ تنظیم کو ڈرامہ قرار دیا ہے۔ ملک کی دو بڑی جماعتوں، نون لیگ اور پیپلز پارٹی کا ردعمل مبہم ہے ۔ ظاہر وباطن میں تفاوت لگتا ہے ۔ دونوں جماعتیں ، الطاف حسین سے نفرت اور کینہ پروری کے باوجود ، موجودہ حالات میں، اس کیلئے بظاہر نرم گوشہ رکھتی ہیں، اس کی وجہ شاید مابعد خدشات کا خوف ہے کیونکہ ایم کیو ایم کے تتربتر ہونے کی صورت میں، زیادہ مستفید ہونے والی جماعت تحریک انصاف ہو سکتی ہے ۔ اگر ایسا ہے تو یہ سوچ اور اپروچ مناسب نہیں، اس دلگرفتگی سے باہر نکلنا ہو گا۔بہتر ہے کہ آل پارٹیز کانفرنس بلائیں اور اجتماعی فیصلہ کریں، الطاف حسین کی باغیانہ روش پر گرفت ضرور کریں ۔ کارروائی کیلئے اوچھے اور ڈھیلے ڈھالے انداز کا مطلب وقت گزارنا اور پہلوتہی کرنا ہے ورنہ واضح اور ٹھوس اقدامات سے کیا ممکن نہیں ۔ حکومتِ برطانیہ سے صاف صاف مطالبہ کریں، سفارتی دباوٴ بڑھائیں ، اپنا سفیر واپس بلا لیں، دیگر ممالک سے رابطہ کر کے پریشر بڑھائیں، جیسے اور جس طرح ممکن ہے، ملک اور قوم کے اس غدارکو پکڑ کر، بہرحال، قانون کٹہرے میں لا کھڑا کریں۔ سنگین اور سنجیدہ معاملہ ہے، محض کن اکھیوں سے دیکھنے اور چشمِ نیم باز رویہ روا رکھنے کا واضح مطلب دانستہ تساھل اور تعرض برتنے کے ماسوا، اور کیا ہو سکتا ہے !
محمود خان اچکزئی کے بیانات پر بہت کچھ کہا گیا، حقیقت کم، مبالغہ اور ملمع کاری زیادہ ہوئی۔ سوشل میڈیا نے تو طوفان برپا کئے رکھا۔ گزشتہ جمعہ کے روز اپنے جنگ کالم میں، جناب الطاف حسن قریشی نے بڑے محتاط مگر مدلل پیرائے میں، بےمہار سوشل میڈیا کی زہرناکیوں پر اظہارِ دلگرفتگی کیا۔ " ملاقاتیں کیا کیا " کی شاھکار تصنیف کے مصنف نے اپنے زیرِ حوالہ کالم میں، چند چیدہ تماثیل کا تذکرہ کرتے ہوئے، سوشل میڈیا کی کارستانیوں پر تنقد کی اور بجا طور پر اظہارِ ناپسندیدگی فرمایا  کیونکہ تہذیبی اقدار کو تہ و بالا کرنے اور اخلاقی حدود پھلانگنے میں، ابلاغ عامہ کا یہ منبع بسرعت کردارِ سٙیِّہءٙ ادا کر رہا  ہے۔ اچکزئی صاحب نے افغانستان میں جو کچھ کہا ، بعد میں اُنکی طرف سے وضاحت آ گئی جسے تسلیم کر لینا چاہئے کہ اُن کا مطلب، بقول اچکزئی، ہرگز ایسا نہیں تھا جو میڈیا میں مشتہر ہوا۔ جہاں تک ایجنسیوں پر تنقید کا سوال ہے تو منتخب ایوان میں اظہارِ خیال کے دوران، یہ استفسار کہ کوئٹہ میں بم دھماکے جیسی المناک واردات کی بروقت ٹوہ لگانے میں ایجنسیاں کیوں ناکام ہوئیں، بےمحل یا بےجا نہیں تھا ، بلوچستان کی نمائندگی کرنے والوں کا اتنے بڑے سانحہ کے بعد، ایسا سوال، صبر اور حوصلہ بخش جواب کا متقاضی ہے نہ کہ تیر و تبرا بازی کی چین ماری کا مستحق ۔ مفادپرست تخریب کاروں نے آگ لگائی اور میڈیا نے دھونکنا شروع کر دیا۔ اصلاحِ احوال اور امن و ارتقا کیلئے ابھی بلوچستان میں بہت کچھ کرنا باقی ہے۔ گزشتہ چند برسوں کے دوران، امن اور تعمیر و ترقی کی سمت سیاسی اور عسکری حلقوں کا سفر، ستائش اور سراہے جانے کا مستحق ہے۔ معاون اور مثبت خیال عمائدینِ بلوچستان کی مناسب انداز سے پذیرائی اور حوصلہ افزائی کی جانی چاہئے۔ ملک دشمنی کے اسناد کی تقسیم اور غداری کے فتاوی جاری کرنےوالی خودکار مشینوں کو بریک لگانی چاہئے ۔ نفرت انگیز اور دل آزار بیانات سے اجتناب برتنا بہتر ہے ۔ " تُو برائے وصل کردن آمدی، نٙے برائے فصل کردن آمدی " کے مصداق دلوں کو جوڑنا چاہئے، نہ کہ توڑنے کے طور طریقے اختیار کرنے چاہئیں۔
تہذیبی تکدر میں دیگر عوامل کی یلغار سے زیادہ، میڈیا منابع کا گھناؤنا کردار ہے جو اقدار اور روایات کو تہس نہس کر رہا ہے۔ سوشل میڈیا ہو یا پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا، بلا شبہ شترِ بے مہار کی مانند بلبلاتا اور دندناتا ہوا سب کچھ زیر و زبر کرتا نظر آتا ہے۔ سوشل میڈیا تو اندھے کے ہاتھ میں بٹیر کیا لگا ہے کہ کمال بیباکی سے اقدار کی بیخ کنی اور اخلاقیات کی پامالی شروع ہو گئ ۔ تسلیم کہ اس کا مثبت اور مفید استعمال بھی کم نہیں، ابلاغ کی دنیا میں یہ ایجاد، بلاشبہ نعمتِ غیرمترقبہ ہے مگر بدقسمتی سے، ہمارے ہاں اس کے استعمال پر، مخرب و مخذول فضا اور مبالغے اور معاندانہ رویے زیادہ غالب ہیں ۔ کچھ ایسی ہی افسوس ناک صورتحال پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا کی ہے۔ گنتی کی چند سنجیدہ اور سالخوردہ شخصیات کو چھوڑ کر، صحافت کا سمندر گدلاٙ مچلٙاٙ  چکا ہے۔ صحتمند صحافت کی جگہ سود، سیِآت اور سوداگری نے لے لی ہے ۔ من پسندی، خودنمائ خواہش پروری کا جنون جوار بھاٹے کی طرح ارتعاش پذیر ہے۔ جھوٹ اور سچائی ، معصیت اور مطٙہٙرُ ، مبالغے اور مُوسّلی کی تفریق اور پہچان باقی نہیں رہی۔ توازن کا تصور، تزلزل کا شکار ہے اور عصبیتیں اوج پر ہیں۔ غنیمت ہیں وہ لوگ جو ایسے اذیتناک ماحول میں اپنی انا اور اصول پسندی کی حفاظت کر رہے ہیں، حق گوئی اور بیباکی کی علامت ہیں، ہوائے زمانہ کی تندی اور تیزی کے باوجود، چراغِ حق فروزاں کئے ہوئے ہیں۔
پس تحریر :-
رفتہ صدی کے سال چونسٹھ کا تذکرہ ہے، سرمائی موسم تھا۔ سکول کی کلاسیں ہو رہی تھیں ۔ زمین پر پڑا کاغذ کا ٹکڑا ہاتھ لگا، اس پر ایک شعر پڑھا اور تفہیم کیلئے استاد صاحب کے حضور جا حاضر ہوا۔ اُن کے سامنے ایستادہ، گوش بر جواب تھا کہ استادِ محترم نے  سامنے کیکر کے پیڑ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا، اسکی ایسی شاخ کاٹ کے لے آوء جس پر ببول (کانٹے) لگے ہوئے ہوں۔ تعمیل کی۔ پھر انہوں نے کہا کہ سامنے پھولوں کی کیاری ہے، وہاں سے ایک پھول توڑ لاوء ۔ حکم مانا مگر میرا تجسس بڑھتا جا رہا  تھا۔ انہوں نے ببول کے کانٹوں پر چُلُو بھر پانی ڈالا اور پھول کی پتیوں پر مٹی مٙل دی !! اس عمل کے بعد، استاد صاحب نے وہ شعر گنگنانا شروع کر دیا۔۔۔۔۔
پُھول پہ دُھول، ببول پہ شبنم، دیکھنے والے دیکھتا جا
اب  ہے  یہی انصاف کا عالٙم،  دیکھنے  والے  دیکھتا جا
بچپن کے دن، سادہ سا شعر اور استاد مرحوم کا اس طرح سمجھانا۔۔۔۔۔۔۔واقعہ اور آموختہ یاد آیا تو امتدادِ زمانہ اور احوالِ حاضرہ پر مرکوز سوچوں نے آ لیا اور میں بکھرے خیالات اور منتشر معروضات کو قلمبند کرنے بیٹھ گیا  ۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *