بوئنگ طیاروں میں کون سی حیرت انگیز تبدیلیاں لائی جارہی ہیں، آپ جان کر خوش ہوجائیں گے

bi

787 ڈریم لائنر بناتے وقت بوئنگ میں بہت سے انجینئرنگ مسائل پیدا ہوئے۔ ان میں سے ایک یہ تھا کہ جہاز کا زیادہ تر حصہ کاربن فائبر پلاسٹک اور دوسرے میٹریل سے بنایا جاتا تھا جب کہ باقی ائیر لائنز اپنے جہاز بنانے کے لیے المونیم استعمال کرتی تھیں۔ جہاں کمپوزٹ ائیر فریم کو بنانا ایک بڑا چیلنج تھا وہاں یہ فیصلہ بوئنگ میں بہت سی اہم تبدیلیوں کا باعث بنا۔بلیک ایمری، جو بوئنگ ائیر کمرشل ائیر لائنز کے ڈائیریکٹر آف ڈیفیرنشی ایشن سٹریٹجی ہیں نے ایک انٹرویو میں بتایا:  ڈریم لائنر کی باڈی کمپوزٹ میٹیریل سے بنی ہے جس کی وجہ سے ہم اسے کسی بھی بلندی پر لے جا سکتے ہیں کیوں کہ اس کا میٹیریل بہت جلد خراب نہیں ہوتا۔ آج کل زیادہ تر ائیر لائنرز کا ائیر پریشر 8000 فٹ بلندی تک محدود ہے۔ ڈریم لائنر میں یہ حد 6000 فٹ تک محدود کر دی گئی۔ کیبن کی بلندی کو کم کرنے کے لیے ہم نے کیبن کے اندر کا ائیر پریشر بڑھا دیا۔ ایمری نے مزید بتایا: یہ زیادہ تر لوگوں کی سمجھ سے بالاتر ہے۔

مسافروں کے لیے ائیر پریشر کی اہمیت

زیادہ تر مسافروں کی لمبی فلائٹ کے کچھ اہم علامات دیکھنے میں ملتے ہیں جن میں سر درد، بھوک نہ لگنا، انرجی کی کمی، طبیعت کی خرابی اور نیند کا نہ آنا شامل ہے۔ یہ سب مسائل اکٹھے کر کے ایک ہی اندرون جسم میں منتقل کر دیے گئے ہیں جسے جیٹ لیگ کہا جاتا ہے۔ لیکن حقیقت یہ ہے کہ جیٹ لیگ اس سے کہیں زیادہ سیریس مسئلہ ہے۔ جو علامات ہم نے جیٹ لیگ سے منسوب کیے ہیں وہی مائونٹین سِک نیس سے بھی منسوب کیے جا سکتے ہیں جو 6500 فٹ سے زیادہ بلندی پر پنچنے پر ایک انسان پر طاری ہو جاتے ہیں۔

tab

اوکلوہاما یونیورسٹی میں مکمل کیے گئے ایک مطالعہ میں محققین لکھتے ہیں:کچھ مسافر پہاڑوں پر چڑھنے جیسی بیماریاں اور بے چینی فلائیٹ کے دوران بھی محسوس کرتے ہیں۔ان بیماریوں کی جیٹ لیگ، زیادہ دیر بیٹھے رہنا، پانی کی کمی،  اور کیبن ائیر جیسے مسائل کی کارستانی قرار دیا جاتا ہے۔ البتہ ائیر کرافٹ کیبن میں پائے جانے والے بیرومیٹرک پریشر کی وجہ سے ہونے والی بیماریاں بھی پہاڑوں کی بلندی پر موجودگی سے واقع ہونے والی بیماریوں کے جیسی ہی ہوتی ہیں۔ ممکن ہے کہ کچھ علامات آکسیجن کے پریشر کی کمی سے متعلق ہو سکتی ہیں اور یہ بھی مائونٹین  سِک نیس کی بیماری کی طرح ہی ہوتی ہیں۔ تحقیق کے مطابق جو لوگ سمندری سطح سے 8000 فٹ کی بلندی پر جاتے ہیں ان کی خون میں آکسیجن 4 فیصد تک کم ہو جاتی ہے۔ اگرچہ پہاڑوں پر یہ مسئلہ درپیش نہیں ہوتا لیکن اس میں 3 سے 9 گھنٹے ٹھہرنے کی صورت میں ایسا ممکن ہے۔ ریسیرچ کے مطابق مسافروں کے اجسام 6000 فٹ کی بلندی پر ری ایکٹ کرنا شروع کرتے ہیں۔ اسی لیے ہم نے ڈریم لائنر کو صرف 6000 فٹ کی بلندی تک محدود کیا۔ 6000 فٹ کی بلندی پر کیبن ائیر میں بہت حبس ہو جاتی ہے اور آکسیجن کا لیول کم ہو جاتا ہے۔ نتیجتا جسم کو اتنا سخت کام نہیں کرنا پڑا کہ خون کو آکسیجن پہنچائی جائے۔ ایمری کے مطابق چونکہ بلندی اور جیٹ لیگ کے بیچ ڈائریکٹ تعلق نہیں ہوتا اس لیے بوئنگ نے اضافی تبدیلیوں کے ذریعے ان بیماریوں کی وجوہات کوکم کرنے کی کوشش کی ہے۔ ان تبدیلیوں میں کیبن میں حبس میں اضافہ اور نیا ائیر فلٹریشن سسٹم شامل ہے۔

ڈریم لائنر ایسا پہلا جیٹ نہیں ہو گا جس کے کیبن کی بلندی کم کی جائیگی۔ اس سے اگلا ماڈل 777 ایک کو بھی 6000 فٹ کی بلندی پر محدود کیا جائے گا۔ لیکن کمپوزٹ ڈریم لائنر کے بر عکس 777 ایکس کو المونیم سے بنایا جائیے گا۔ المونیم ائیر کرافٹ کو 6000 کی بلندی تک محدود کیا جا سکتا ہے۔ زیادہ تر بزنس جیٹ طیاروں کو 6000 فٹ کی بلندی تک محدود کر دیا گیا ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ ائر بس بھی کیبن کی بلندی کو کم کرنے کی کوشش میں ہے۔ اس سے قبل کے طیاروں میں اس سہولت کی کمی کی وجہ یہ تھی کہ ائیر پریشر کا اضافہ المونیم ائیر فریم پر بہت دباو ڈالتا تھا۔ جس سے جہاز کی سروس لائف پر بہت منفی اثر پڑتا تھا۔  لیکن بوئنگ کو یقین ہے کہ یہ کیبن کی بلندی  کی حد کو محدود کرنے کے باوجود 777 ایکس میں کمپوزٹ باڈی کا استعمال نہیں کریں گے۔ ہم 777 کی باڈی، اس کی تعمیر کی خاصیت، اور اس کے فٹیگ لیول کو بہت اچھی طرح جانتے ہیں۔ ہمیں کم بلندی کے کیبن کی ضروریات کا بھی علم ہے۔ اس وجہ سے ہم اس کی کم بلندی والے کیبن کی تمام سہولیات اور ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے اس میں اہم تبدیلیاں کر سکتے ہیں۔ بوئنگ 777 ایکس 2019 سے خدمات کے لیے پیش کیا جائے گا۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *