استادپریشان خیالوی کی’’شہادت‘‘!

ata ulhaq qasmi

آج صبح سے میں نہ اخبار پڑھ سکا تھا اور نہ ٹی وی کا کوئی نیوز بلیٹن دیکھ سکا تھا، چنانچہ طبیعت بہت ہشاش بشاش تھی، مگر کچھ دیر پہلے استاد پریشان خیالی نے گھر پر دستک دی۔ میں باہر آیا تو ان کہ چہرے پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ شدید پریشانی کے عالم میں بولے ’’جلدی سے دروازہ بند کرو، اندر سے کنڈی لگائو تالا بھی لگادو‘‘، پھر اس کے بعد انہوں نے مجھے پیچھے دھکیلا اور اندر داخل ہو کر دروازے کو خود ہی کنڈی لگادی..... میں انہیں ڈرائنگ روم میں لے آیا ان کیلئے چائے کا آرڈر دیا۔ استاد کا رنگ پیلا پڑا ہوا تھا اور وہ لمبے لمبے سانس لے رہے تھے۔ میں ڈر گیا، میں نے پوچھا’’استاد خیریت تو ہے، اتنے پریشان کیوں نظر آرہے ہو؟‘‘ بولے’’بس اللہ نے جان بچالی ہے، ورنہ کل میرے قل ہوتے‘‘ میں نے عرض کی ’’استاد اب آپ زیادہ سپنس پیدا نہ کریں، یہ بتائیں ہوا کیا ؟‘‘ اس پر انہوں نے بتایا کہ جب وہ گھر سے نکلے تو انہوں نے دیکھا کہ ایک لمبی داڑھی اور گردن تک گھنے بالوں والا شخص ان کے آگے موٹر سائیکل پرجارہا ہے، جب وہ اس کے آگے نکلے تو دیکھا کہ وہ پیچھے آرہا تھا۔ انہیں ایک سگنل پر رکنا پڑا مگر وہ سرخ بتی کراس کرکے نکل گیا، چنانچہ اب وہ آگے تھا اور استاد پیچھے رہ گئے تھے۔ اس کے بعد بھی اس طرح ہوتا رہا، کبھی وہ آگے ہوتا، کبھی استاد پیچھے رہ جاتے، جس پر استاد گھبرا گئے اور پناہ لینے کیلئے میرے گھر کی کنڈی کھڑکا دی۔ یہ داستان بیان کرتے ہوئے شدید پریشانی کی وجہ سے ان کا سانس مزید پھولنے لگا تھا۔ اس ساری کہانی سے استاد نے نتیجہ یہ نکالا کہ وہ یقیناً کوئی دہشت گرد تھا جو کبھی ان کے آگے آجاتا اور کبھی پیچھے چلا آتا.....کہانی کے اس اختتامی نتیجے پرمیں کوشش کے باوجود اپنی ہنسی نہ روک سکا۔ میں نے عرض کی’’استاد وہ دہشت گرد بھی آپ کو دہشت گرد ہی سمجھ رہا ہوگا کیونکہ آپ خود بھی کبھی اس سے آگے اور کبھی پیچھے رہ جاتے تھے۔ ویسے دہشت گرد آگے آگے بھاگ کر پیچھا نہیں کیا کرتے ‘‘۔ ظاہر ہے استاد نے اس بات پر مجھ سے ناراض ہونا ہی تھا، سو وہ ہوگئے۔
دراصل استاد پریشان خیالوی ان لوگوں میں سے ہیں جن کی زندگی میں خوش باشی کے تمام لوازم موجود ہیں، چنانچہ وہ پریشانی کو بہت مس کرتے ہیں اور یوں اس کی تلاش میں رہتے ہیں، ایک بہت بڑے ادیب جن کا سب سے بڑا فین میں خود ہوں، اپنی بے پناہ عزت سے اکتا گئے تھے۔ وہ ہر ایک کی توہین نہیں کرتے ان کے دل میں حسرت تھی کہ اس دنیا میں کوئی تو ایسا شخص ہو جو کبھی ان کی بے عزتی کرے اور یوں انہیں عزت کی یکسانیت سے نکالے، چنانچہ ایک دن میں نے ان کے نخوت آمیز رویے سے تنگ آکر اور اپنے دل پر پتھر رکھ ان کی خاصی ’’بیستی‘‘ کردی جس کے نتیجے میں وہ مجھ سے آج تک بے حد خوش ہیں اور میں ان کے حلقے میں واحد شخص ہوں جس کی عزت وہ دل کی گہرائیوں سے کرتے ہیں۔ استاد پریشان خیالوی بھی آسودگی کی یکسانیت سے اکتائے ہوئے ہیں ، چنانچہ جب آتے ہیں، کوئی پریشانی اپنے ساتھ لاتے ہیں۔ انہیں ہر دم یہ پریشانی بھی لاحق رہتی ہے کہ کیا فائدہ اس زندگی کا کہ ایک دن تو مرجانا ہے۔ اس کے جواب میں، میں ایک نہایت بے ہودہ بات کہتا ہوں(قارئین سے معذرت کے ساتھ) کہ استاد تم صبح ناشتہ کرتے ہو، دوپہر کو کھانا کھاتے ہو، رات کو بھی کھانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑتے، کبھی سوچا کہ اس کھانے کا کیا فائدہ، صبح کو تو یہ سب نکل جانا ہے۔
موصوف کی زندگی سے بیزاری کا یہ عالم ہے کہ انہیں بس اپنے والد محترم کی تاریخ پیدائش محض اس لئے یاد ہے کہ اس روز کوئٹہ میں شدید زلزلے کے نتیجے میں ہزاروں افراد ہلاک ہوگئے تھے، ان کے پردادا اس روز پیدا ہوئے تھے جب مملکت میں طاعون پھیلا تھا۔ اس طرح اپنے چچائوں اور دیگر عزیز و اقارب کی تاریخ پیدائش بھی انہیں ہلاکتوں کے حوالے ہی سے یاد ہے۔ ایک دن میں نے کہا’’استاد آپ زندگی سے بہت تنگ آئے ہوئے ہیں، کیا خیال ہے آپ کی شہادت کا کوئی معقول انتظام کیا جائے؟‘‘ یہ سن کر بہت ناراض ہوئے اور بولے’’ تمہیں یہ سب کچھ کرنے کی کیا ضرورت ہے، میں نے کسی نہ کسی دن کسی دہشت گرد کے ہاتھوں یا کسی موذی بیماری کے ہاتھوں اور یا کسی حادثے میں مرنا ہی مرنا ہے، مجھے روزانہ اس کے آثار نظر آتے ہیں، اللہ جانے ابھی تک کیسے زندہ ہوں‘‘۔ اس کے بعد اللہ جانے انہیں کیا سوجھی کے مجھ سے مخاطب ہوئے اور بولے ’’تمہارا خیال ہے میں واقعی مرجائوں گا، یاد رکھو میں لوگوں کوپریشان دیکھ سکتا ہوں، خوش نہیں دیکھ سکتا، تم کان کھول کر سن لو، میں نے کوئی نہیں مرنا ورنا‘‘

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *