کشمیر۔۔۔ آزادی دور نہیں

فاطمہ خان

fatima-khan

کشمیری مسلمانوں کی حمایت میں نکالے جانے والا وہ پہلا جلوس نہیں تھا. اس طرح کے اکثر جلوس اور ریلیاں آے روز ہمارے ملک کی سڑکوں کی زینت بنتی رہتی ہیں. مگر اس جلوس کی خاص بات اس میں چھوٹے بچوں کی شمولیت تھی جو مختلف بینرز اور پلے کارڈز ہاتھوں میں آٹھاے کشمیری مسلمانوں کے ساتھ اظہار یکجہتی کر رہے تھے. انہی بچوں میں سے ایک بچہ جو بمشکل پانچ یا چھے برس کا ہو گا نہایت پرجوش انداز میں نعرے لگاتا ہوا جا رہا تھا. اپنی معصومیت کے باعث وہ میری ساری توجہ کا مرکز بن گیا اور میں نہایت دلچسپی سے اْسے نعرے لگاتے ہوے دیکھنے لگی. میں جو اپنے کسی کام سے جا رہی تھی. مگر اس جلوس کی وجہ سے رْک گئی تھی. بچے کے ہاتھ میں برہان الدین وانی کی تصویر والا پوسٹر تھا.جلوس کے اختتام پر میں نے بچے کو اپنے پاس بْلایا اور اْس سے پوچھا کہ وہ اس تصویر والے نوجوان کو جانتا ہے. بچے نے مجھے انتہائی فخریہ انداز میں بتایا کہ یہ برہان الدین وانی ہے اور وہ بڑا ہو کر اس کی طرح مجاہد بنے گا. میں نے اس لمحے بچے کی آنکھوں میں جو چمک دیکھی تھی اْس نے مجھے حیران کر دیا تھا اور بے اختیار میرے منہ سے نکلا کہ اب کشمیریوں کو آزادی ملنے سے کوئی نہیں روک سکتا.
دنیا میں بہت سے ممالک ہیں جہاں آزادی کی تحریکیں چل رہی ہیں مگر جتنا ظلم کشمیر میں ہو رہا ہے اس کی مثال تاریخ میں شائد آپ کو مشکل سے ہی ملے. کشمیر کے موضوع پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے اور لکھا جا رہا ہے مگر نجانے وہ صبح کب طلوع ہو گی جب ہم مقبوضہ کشمیر میں بیٹھ کر امن و محبت کے گیت لکھیں گے. جب بہتے جھرنوں کے کنارے ہم لہو داستانیں نہیں بلکہ وفا اور چاہت کے قصے دہرائیں گے. جب مورخ صرف مسکراہٹوں کی بات کرے گا. جب اس کے پاس کوئی ظلم و بربریت کی داستان نہیں ہو گی. جب وادی کا تمام سبزہ گنگناتا ہوا نظر آے گا. جب کشمیری آنسوؤں کی زبان میں نہیں بلکہ مسکراہٹوں کے ساتھ اپنا مدعا بیان کریں گے.کب وہ دن آے گا میں نہیں جانتی مگر مجھے یقین ہے کہ بہت جلد وہ محبتوں بھرا دن ضرور آے گا.
کشمیر جنت نظیر کو بھارتی غاصبوں کی قید میں جانے کتنے برس بیت گئے ہیں. شہادتوں کی گنتی تو کسی حساب میں ہی نہیں ہے. برہان الدین وانی کی شہادت نے آزادی کے بھڑکتے ہوے الاؤ میں مزید شدت پیدا کر دی ہے. قیام پاکستان کے ساتھ ہی ریاست جموں و کشمیر میں ظلم و, بربریت کے سیاہ دور کا آغاز ہو گیا تھا جو موجودہ دور میں اپنے عروج پر, پہنچ گیا ہے. میں اکثر سوچتی ہوں کہ کشمیری ابھی تک آزادی کی نعمت سے کیوں محروم ہیں حالانکہ جزبہ آزادی کی تو کوئی کمی نہیں ہے. مجاہدین دن رات اپنی جانوں کے نزرانے پیش کر رہے ہیں مگر مجھے اپنے اس سوال کا جواب کہیں سے نہیں ملتا. بھارتی حکومت مسلسل اپنی ہٹ دھرمی پر قائم ہے. قیام پاکستان کے بعد سے لے کر اب تک کتنی ہی بھارتی حکومتیں آئیں مگر سب نے ہی کشمیریوں کے جزبہ آزادی اور حق خودارادیت کو بزور شمشیر کچلنے کی کوشش کی ہے. کہنے کو اقوام متحدہ کی قراردادیں موجود ہیں مگر ان پر ایماندرانہ طریقے سے عمل کرنے کی توفیق کسی حکومت کو نہیں ہوئی اور ہوتی بھی کیسے۔۔۔ کشمیر جیسی سونے کی چڑیا کو بھارت کبھی بھی اپنے ہاتھوں سے جانے نہیں دے سکتا. ایک طرف تو بھارتی حکومت کشمیر میں امن کا راگ الاپتی ہے اور دوسری طرف کشمیر میں تعینات افواج کی تعداد میں مسلسل اضافہ کیا جا رہا ہے. بھارتی حکومت ہزاروں کی تعداد میں فوجی دستے کشمیریوں کو کچلنے کے لئے بھیج چکی ہے. بھارتی افواج کشمیری مجاہدین کے ہاتھوں ذلت آمیز شکست کے بعد شدید ذہنی دباؤ, کا, شکار ہیں ایک رپورٹ کے مطابق, مقبوضہ وادی میں تعینات بھارتی افواج میں خودکشی کا رحجان بڑھتا جا رہا ہے. آخر کیا وجہ ہے کہ اتنے برسوں میں بزور شمشیر بھارت کشمیر جیسی ایک چھوٹی سی ریاست پر قبضہ نہیں کر سکا اور کشمیریوں کے دل میں موجود اپنے لئے نفرت کو کم نہیں کر سکا. اس کی صرف اور صرف ایک وجہ ہے اور وہ وجہ آزادی کی تڑپ ہے جو ہر کشمیری کے دل میں سلگ رہی ہے. پاکستان سے محبت کشمیریوں کی رگوں میں لہو, بن کر دوڑ رہی ہے. کشمیر ہماری شہہ رگ ہے اور ہم اپنے جسم کے اس حصے کو کسی قیمت پر خود سے الگ نہیں کر سکتے. یہی حال کشمیریوں کا ہے. پاکستان کا, جھنڈا آج بھی ان کے لئے آزادی کی علامت ہے.کہنے کو, کشمیر میں انتخابات بھی ہوتے ہیں اور ایک کٹھ پتلی حکومت بھی قائم ہے جو کشمیری مجاہدین کے عتاب کا, نشانہ بنتی رہتی ہے اور کسی طور وہ کشمیریوں کی نمائندگی نہیں کرتی وہ صرف اور صرف بھارتی حکومت کے ہرکارے ہیں جو اپنے آقا کو خوش کرنے کے لئے کشمیر میں خون کی ہولی کھیل رہے ہیں. بھارتی یوم جمہوریہ ہر سال کشمیر میں یوم سیاہ کے طور پر منایا جاتا ہے. حالیہ چند برسوں میں بھارتی حکومت نے کشمیر میں بربریت اور وحشیانہ تشدد کی انتہا کر دی ہے. خاص, طور پر بریان الدین وانی کی شہادت کے بعد اس میں اور تیزی آ گئی ہے. برہان الدین وانی ایک نوجوان کشمیری تھا اور اس کے دل میں آزادی کی تڑپ نے اسے بندوق اٹھانے پر مجبور کر دیا. یہ عمر تو خوشبوؤں جیسے خواب دیکھنے کی ہوتی ہے مگر وانی نے تو آزادی کے خوابوں کو پانے کے لئے مجاہد بننے کا, فیصلہ کر, لیا اور پھر ایک روز وہ بھارتی افواج کیہاتھوِں شہادت کا درجہ پا گیا. وہ دن اور آج کا, دن برہان وانی یر کشمیری کا ہیرو, ہے بلکہ ہر اس شخص کا, ہیرو ہے جو آزادی کے راستے پر چلنے کا خواہشمند ہے. ہماری حکومت بھی ہر فورم پر یہ مسلہ اٹھاتی ہے مگر ان سب کے باوجود ہم بھارتی حکومت کو کشمیریوں پر ڈھاے جانے والے اس وحشیانہ تشدد سے باز نہیں رکھ سکتے. جس, میں وقت کیساتھ ساتھ شدت آتی جا رہی ہے. پاکستانی عوام اپنے کشمیری بھائیوں سے بہت محبت رکھتے ہیں اور آے روز ہمارے ہاں ہونے والے پرامن مظاہرے اس بات کی علامت ہیں کہ ہم اپنے کشمیری بھائیوں کی آزادی کے معاملے میں پرجوش ہیں اور دل سے چاہتے ہیں کہ کشمیریوں کو حق آزادی ملے اور وہ غلامی کے دور سے نجات حاصل کریں. کشمیر کی آزادی اب دور نہیں ہے آزادی کا سورج بس طلوع ہوا ہی چاہتا ہے.

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *