نریندر 'موذی'

ali raza ahmed

بھارتی وزیر اعظم مودی کی دلچاسپی بچپن ہی سے ’’ب‘‘ والے ناموں پرہی اٹکتی ہے اور وہاں وہ بالکل ’’ب لگام ‘‘نظر آتے ہیں جیسے بنگلہ دیش میں اس نے سینہ بجا کر کہا تھا کہ بنگلہ دیش کی علیحدگی میں اس کا بھی ’’بازو‘‘ تھا۔آج کل اس کی بلوچستان، بلتستان بارہ مولااور بگٹی کے بارے بیان بازی آ رہی ہے مگر اس کے اپنے ملک میں جو ’’بھنگڑا دیش‘‘ بننے جا رہے ہیں اس کا ڈھول بھی یہ خود بجا رہا ہے۔مودی کے بارے میں بین الاقوامی طور پر مشہور ہے کہ یہ جس ملک جاتے ہیں وہاں صورت حال بھیانک ہو جاتی ہے۔ان کے ایک غیر سیاسی آرٹ کو تسلیم کرنا پڑے گاوہ یہ کہ دنیا کے تمام لیڈران کو ہاف سیٹ چائے پیش کر کے پورا سیٹ کرنے کو شش میں کامیاب رہتے ہیں۔امریکی صدر کے ساتھ بھی کچھ ایسا ہی کیا تھاحالانکہ وہ فرسٹ لیڈی کو پہلے پیش کرتے تو Ladies First والی فراست سمجھ آتی۔ اسی لئے مودی کے پوچھنے پرکہ How was the Tea Sir?تو یقیناًیہی جواب ملتا ہے "Tastety Tea-ser Man" ۔اگر اسی بات پر ان کاآپس میں جھگڑا ہو جاتا تو درمیان میں کون آتا؟ صرف بان کی مون بطور تھرڈ ایمپائر ... مودی ذاتی مقصد کے لئے کبھی چائے پیش نہیں کرتے اس کے پاس سب کچھ ہے اورنہ ہی وہ Tea Bagger""ہے مگر اپنی عوام کے لئے ا مریکہ و یورپ کا ویزہ ضرور چاہتے ہیں... بھلے مغربی لیڈر چائے کے جتنے مرضی شوقین ہیں مگروہ یورپ سے باہر چائے سے ایسے ہی کتراتے ہیں جیسے مودی بھارت سے باہر لسی پینے سے ... لیکن شاید انہیں گن پوانٹ کی بجائے مودی ٹی پوائنٹ سے پوائنٹ سکور کرنا ہوتا ہے ۔ اس نے اوبامہ کودورہء انڈیا کے دوران اس لئے’’ سٹرونگ‘‘ چائے پیش نہیں کی تھی کہ اس روز کشمیر میں مکمل بلیک ڈے تھاورنہ چائے پانی سے کام چلانا بھی اسے بھرپور آتا ہے۔بچپن میں اس کا اپنا تعلیم کی طرف اتنا رجحان نہیں تھا جتنا اب ہے ۔اس کا تویہ حال تھا جب بچے سکول جا رہے ہوتے یہ واپس آرہا ہوتاتھاکہ چائے کی طلب ہورہی ہے چنانچہ کچھ بچے پروان چڑھ گئے اور کچھ بھینٹ ....یہ ان دنوں کی بات ہے جب’’ لوگ کار لیتے تھے اور یہ ڈکار لیتے تھے‘‘ اس کے ماتا پیتا نے اسے سب سے پہلے درزی کے ہاں لگوایا مگر ہر روزوہاں سے قینچی ہاتھ پر لگوانے کی خبر ملتی اور استاد سے گز علیحدہ کھانا پڑتے بالآخر وہاں سے اپنا’’ بٹوارا‘‘کر لیا...جیسے آڑہٹ ہوتی ہے بادل نخواستہ اس کے گھر والوں نے اسے ایک ’’اُستراہٹ ‘‘ یعنی حجامت سازی کے کام پر ڈال دیا ۔ایک دن ایک سردار جی کے کانوں سے بال تراشتے ہوئے ان پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش کی حالانکہ سردار جی کی طرف سے ایک مختصر آرڈر کانوں کی بیرونی دیواروں کی صفائی کا تھا۔سردار غصے میںیہ کہتا ہواوہاں سے اٹھا کہ پتر ہم ساری دنیا کے کان مروڑتے ہیں اور تو میرے کان کتر نے کی کوشش میں ہے ۔گھر والوں کوجب اس واقعہ کی کانوں کان خبر ہوئی تو انہوں نے اسے یہاں سے نکال کر مالیوں کے کام میں لگا دیا جہاں اس کے ہاتھ میں ایک بڑی قینچی دیکھ کرگھر والوں کے کان پھر کھڑے ہوئے۔ بس یہ قینچیوں سے چھٹکارے کا آخری دن تھا اور گھر والوں نے اسے دوبارہ’’ اپنی چائے‘‘ پر بلا لیا۔سکول کے زمانے میں جب اس نے اپنا نا م N.D. Modi لکھنا شروع کیا تو بچے اسے Non Drinker Modi کہا کرتے تھے کیونکہ اس وقت یہ پیتے نہیں تھے اور اب چھوڑتے نہیں۔ایک وقت تھا جب انہوں نے کنٹین میں یہ لکھ کر لگایا ہوتا تھا ’’چائے جتنی بھی لذیز ہوتی ہے ... اس میں اتنی diseaseہوتی ہے ‘‘ اب انہیں چائے بنانے اورپینے کا اتنا تجربہ ہو چکا ہے کہ ٹھنڈی چائے پی کر زور سے ہاتھ مَل لیتے ہیں اور خود کو گرم کر لیتے ہیں۔ اپنے ساٹھویں جنم دن کے بعد ہر سال چائے کی سالگرہ بھی مناتے ہیں اور ان کی کوشش ہوتی ہے کہ اس دن sixteaکپ پیئے جائیں اورجس کپ میں یہ چائے پیتے ہیں ایسا لگتا ہے اسے کسی کمپنی نے نہیں کنٹریکٹر نے بنایا ہے پھر بھی ان کی نظر کپ سے زیادہ چائے پر ہوتی ہے اوراسی فن کی بدولت سیاست دانوں سے راہ و رسم بڑھانے کی کوشش کی اور چھوٹے سیاست دانوں سے لے کر اٹل بہاری واجپائی کو چائے پیش کرنے کا موقع ملا ۔عام طور پر لوگ سیاست میں قدم رکھتے ہیں مگر ان کو’’ کپ‘‘ رکھنا پڑا ۔چنانچہ چائے بنانے کے فن میں ڈھنگ سے ڈھونگ رچانے میں کامیاب رہے...دریں اثنا ان کا اصول یہ بن گیا ’’بکرا نہیں تو اک بوٹی صحیح... بھاگتے چور کی لنگوٹی صحیح‘‘ اب تومذہبی آڑھ میں بنائی گئی بھارتیہ جنتا پارٹی کا پالیسی نعرہ کی تبدیل ہو کر بھارتیہ ٹی پارٹی بن گیا ہے بلکہ اب اس کے سیاسی حلقوں میں نئے محاورے فروغ پا چکے ہیں:
Where there's Tea, threre's Modi اور’’ گائے وہ جو چلائے... چائے وہ جو نچائے ‘‘دنیا میں سب سے زیادہ استعمال ہونے والی چیزیں وہ ہیں جن کا نام بھی مختصرہوتا ہے یعنی چائے ...گورے تو صرف Tسے کام بھی چلا لیتے ہیں ...
آج کل رادھانی کی کیبنٹ ڈویژن میں کسی سیکریٹری کا چناؤ یا برخواستگی کی وجہ بھی کچھ اسی بنا پر ہوتی ہے کہ اس نے مجھے چائے نہیں پوچھی ۔ شجھاتہ سنگھ کو برخاست کر کے سبرامنیم جے شینکر کو سیکریٹری فارن افیئرز لگانے میں بھی ایسے ہی الزامات محسوس ہو رہے ہیں۔اپنے ایک سیکریٹری کو اس بنا پر تبدیل کر دیا کہ وہ ٹی ٹائم میں کافی پی رہا تھا۔سیکرٹری خارجہ امورشجھاتہ کو بدلنے کی ایک وجہ یہ بھی ہو سکتی ہے کہ مودی نے پوچھا ہو گا کہ فلاں خط کتنی دیر میں تیار ہوگا اس نے صرف اتنا کہا ہو گا کہ Sirآ پ کے دو کپوں کی مار ہے ! اثنائے حال اس کا یقین اس حد تک پختہ ہو گیا ہے کہ یہ چائے کے انکاری کو’’ دلت‘‘ قرا ر دے دیتے ہیں بلکہ کپ میں کم پتی کم ڈالنے والی ناری کو’’ کپتی‘‘ کہنے سے بھی نہیں گھبراتے۔ دنیا میں ہر جگہ خاص سیاسی کچن کیبنٹ ہوتی ہے لیکن اس نے اپنی ہائی ٹی سٹال کیبنٹ بنا کر رکھی ہے جہاں گفتگو کی بجائے ’’جگتجو‘‘ سے کام چلایا جاتا ہے ۔جب سے اسے پتا چلا ہے کہ چائے کا آغاز چین سے ہوا تھا تو اس نے فوری طور پر چین کے دورے کو ہی مقدم رکھا۔کسی نے پوچھا چائے میں چینی کیوں نہیں ڈالتے ؟ کہنے لگے مجھے اس سے الرجی ہے بعد میں پتا چلا انہیں شوگر ہے۔ایک اور مداح نے پوچھاکرکٹ سے کیوں لگاؤ نہیں؟ تو الٹا اس سے پوچھنے لگے کہ کیا اس میں penal-teaہوتی ہے ؟پوچھا گیا بھارت کا کون سا شہر پسند ہے کہنے لگا Goha-teaپھر ان سے یہ بھی پوچھا گیا مودی صاحب آپ نے ہر"commoditea" پرعوام کو ٹیکس کا’’ Teaka ‘‘ لگایا ہے لیکن چائے پر الٹا کم کر دیا تو کہنے لگے ایک گھر تو ڈائن بھی چھوڑ دیتی ہے ۔دریں اثناء پوچھا گیا کہ اکٹھے سات گھر ہی کیوں چھوڑ نہیں دیتے؟ کہنے لگے کہ کیا میں خود کو ڈائن منوا لوں ؟ کبھی بھولے سے ان کے منہ سے یہ بھی نکل جاتا ہے گاڑی سے میرا ٹی بیگ نکال لاؤ۔کئی لوگ منوں وزن اٹھا کر اپنا وزن بڑھا لیتے ہیں اور کئی صرف شرمندگی اٹھا کر اخلاقی وزن کم لیتے ہیں۔یہ اپنے ہی کپ کے ٹی بیگ پر اتنا پریشر ڈالتے ہیں کہ وہ چمچے سے بے لگام ہونے کی یوں شکایت کر رہا ہوتا ہے کہ مودی صاحب آپ میرا’’ بھرکس‘‘ کیوں نکال رہے ہیں ؟ٹی sheکامعاملہ تو قدم بہ قدم اس کے ساتھ جڑا ہے اس نے اپنی ’’شی ‘‘کو ایک عرصہ قبل حجلہ عروسی میں چھوڑ کر راہ فرار اختیار کر لی تھی۔اس سے کوئی بیوی بچوں کے بارے پوچھے تو پیالی میں طوفان برپا کرنے کی بجائے کپ ،ٹی پاٹ.... ٹرے سمیت اس کے سامنے رکھ دیتے ہیں اورموقع پاتے ہی چائے کی چینک شرما کر اپنے سر پر ٹی کوزی اوڑھ لیتی ہے ۔اگر یہ سیاست دان نہ ہوتے توہوٹل پرTea-cherضرور ہوتے مگر دوسری طرف ان کی سابقہ بیوی جشودا بین کہتی ہے کہ جب میں گاؤں میں باہر نکلتی ہوں تو لوگ کہتے ہیں کہ دیکھو مودی کی بارات جا رہی ہے مگر میں یہ دیکھنا چاہتی ہوں کہ چائے کتنی دیرتک مودی کی Better halfثابت ہو سکتی ہے ...چائے سے ایک عجیب بات یاد آئی چرچل ، سٹالن اور روز ویلٹ تینوں تمباکو نوش مشہور تھے مگر نازیوں نے تمباکو نوشی کے خلاف شدید مہم چلائی کہ نسلوں کو کمزور کرتی ہے کیونکہ اتفاق سے میسولینی ،فرانکو اور ہٹلر تمباکو نوش نہ تھے۔بدقسمتی سے بی جی پی کا جو بھی وزیر اعظم آیا وہ اپنے ساتھ گھٹنوں کے درد کا تحفہ ضرور لایامگر مودی کے گھٹنوں کے قریب ایک بھی سردار نظر نہیں آتااوراپوزیشن مودی کو صرف teaسے teasکرنا چاہتی ہے ۔ایک دفعہ ایک محفل میں رات کے کھانے کے بعد یہ اونچی آواز میں میوزک سے لطف اندوز ہو رہے تھے مگرکھانا زیادہ کھانے کی وجہ سے پیٹ میں ریح محسوس ہوئی اس نے سوچا کہ شور بہت ہے اور یہیں فراغت حاصل کر لیتے ہیں...یکدم لوگ حیران ہو کر ان کے اردگرد اکھٹے ہو گئے اور یہ اپنے کانوں پہ لگے ہیڈفون اتار کر شرمندہ ...ہا ۔ہا۔ ہا مودی صاحب! مگر پاکستانیوں آپ کے لئے یہ Teaser تفریح فراہم کرتا رہے گا !!!

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *