ظفراقبال کی شاعری کے ساتھ چند لمحے!

ata ulhaq qasmi

ظفر اقبال ایک ایسا شاعر ہے جس کی شاعری مجھے ’’ہانٹ‘‘ کرتی ہے اگر کوئی جاننا چاہے کہ کیا چیز ہے جو عام سے لفظوں کو بھی شاعری میں تبدیل کر سکتی ہے تو وہ یہ ہنر ظفر اقبال سے سیکھے۔شاعری لفظوں کے انتخاب اور انہیں ان کے صحیح مقام پر رکھنے کا نام ہے کوئی لفظ شاعرانہ یا غیر شاعرانہ نہیں ہوتا ، منیرنیازی جب کہتا ہے؎
بیٹھی ہوئی ہے دھوپ میں سمٹی یہ ایک چیل
گلیاں اجڑگئی ہیں مگر پاسباں تو ہے
تو یہاں ’’سمٹی ‘‘ اور ’’چیل‘‘ جیسے لفظوں نے بھی شعر کے قدوقامت میں کوئی کمی نہیں ہونے دی۔ ظفر کی شاعری میں بھی آپ کو ایسے کئی نامانوس لفظ مل جائیں گے مگر ان کا استعمال ایسا ہے کہ آپ ان سے ہمیشہ کے لئے مانوس ہو جاتے ہیں، ظفر کا ایک کمال جو میرے نزدیک اچھے شعر کے لئے ناگزیر ہے، وہ دوسرے مصرع میں پہلے مصرع سے انحراف کرتا ہے اور ظفر کو اس میں ملکہ حاصل ہے چھوٹا شاعر جب اپنی غزل کا پہلا مصرع پڑھتا ہے تو وہ اتنا سامنے کا مضمون ہوتا ہے کہ اس سے پہلے سامعین اس کا دوسرا مصرع پڑھ دیتے ہیں،کچھ سادہ دل لوگ اسے شاعر کا کمال فن قرار دیتے ہوئے کہتے تھے ’’واہ صاحب، کیسابولتا ہوا مصرع ہے ‘‘ جبکہ ظفر کو پڑھتے ہوئے اس کے اگلے مصرع کے بارے میں آپ کوئی ’’پیش گوئی‘‘ نہیں کر سکتے ۔جب اس کے پہلے مصرع کے ساتھ اس کا دوسرا مصرعہ سامنے آئے گا تو ایک نئے جہان کا منظرنامہ آپ کے سامنے کھلا ہو گا!
بڑی شاعری کے بارے میں میری ایک رائے ہے جو غلط بھی ہو سکتی ہے اور وہ یہ کہ بڑی شاعری کے لئے معیار ہی نہیں اس کی مقدار بھی ’’میٹر‘‘کرتی ہے آپ کو اس سمندر میں غوطہ لگانا پڑتا ہے اور پھر سینکڑوں گوہر نایاب آپ کے ہاتھ لگتے ہیں مولانا روم، شیخ سعدی ،اقبال ،میر، شیکسپیئر ان کےکلام کی مقدار دوسرے شاعروں سے کہیں زیادہ ہے۔ ظفر بھی شاعری کرنے پر آتا ہے تو آپ کے سامنے اشعار کے انبار لگا دیتا ہے ۔ حال ہی میں ظفر کی کلیات غزل کی پانچویں جلد شائع ہوئی ہے اور باقی چار جلدوں کی طرح یہ بھی بہت ضخیم ہے ۔ ظفر کی اب تک شائع ہونے والی کلیات تقریباً پانچ ہزار صفحات پر مشتمل ہیں، اور سچی بات ہے کہ آج کے دور میں اس سے بڑا شعر اور کوئی نہیں ۔ اس کی شاعری دل اور دماغ دونوں کو ساتھ لیکر چلتی ہے اور قاری اس کی آباد کی ہوئی دنیائوں میں گم ہو کر رہ جاتا ہے اور ہاں ایک ضروری وضاحت کرتا جائوں اور وہ یہ کہ اعلیٰ شاعری کے لئے یہ کوئی لازمی شرط نہیں کہ اس کی مقدار بہت زیادہ ہو، ہمارے ہاں بہت کمال کے شاعر ایسے ہیں جنہوں نے بہت کم لکھا، مگر جاوداں لکھا۔zafar

ظفر اقبال کی شاعری کا ایک کمال یہ بھی دیکھیں کہ میں اس وقت کراچی کے دورے پر ہوں اور میرے لئے ان کی شاعری کی نئی جلد میں سے انتخاب اور پھر اسے نقل کرنے کیلئے وقت نہیں تھا ،چنانچہ میں نے ایک دوست سے کہا کہ یہ کتاب پکڑو اور اس کے کوئی بھی چار صفحات فوٹو اسٹیٹ کروا لائو، سو آخر میں بغیر کسی انتخاب کے ظفر کی شاعری پڑھیں ،آپ کو یہ شاعری انتخاب ہی لگے گی:
مجھے یوں تو پختہ یقیں ہے میرے گمان میں نہیں آئے گا
اگر آ گیا تو کبھی وہ میرے بیان میں نہیں آئے گا
ہے اگرچہ بات جمی ہوئی، مجھے یاد آتا ہے آ ج بھی
وہی اکھڑا اکھڑا سا ذائقہ جو زبان میں نہیں آئے گا
کوئی نقش ہے، کوئی نام ہے، نہ وہ خاص ہے، نہ وہ عام ہے
میری دھڑکنوں پہ دھرا ہوا مرے دھیان میں نہیں آئے گا
کہیں بودو باش دل گرفتہ میں ہے بھی اور نہیں بھی ہے
کہ یہ وہ مکیں ہے جو پوری طرح مکان میں نہیں آئے گا
ابھی پاس ہے تو شباہت اس کی نظر میں رکھیے سنبھال کر
جو چلا گیا تو دوبارہ جان پہچان میں نہیں آئے گا
مجھے سب خبر ہے کہ جس کے پیچھے یہ عمر میں نے گزار دی
وہی نقش پا مری جستجو کے جہان میں نہیں آئے گا
یہ جو بات بات میں احتیاط کا عکس ہے تو اسی لئے
کہ نکل گیا تو پلٹ کے تیر کمان میں نہیں آئے گا
جو ابھی سے گردوغبار ہونے لگا ہے سلسلہ سخن
یہ وہ ماجرا ہے کہ میرے نام ونشان میں نہیں آئے گا
کسی درپہ آپ چلے ہی آئے ہیں بن بلائے اگر ظفر
تو سوال وصل سے فرق آپ کی شان میں نہیں آئےگا
نہیں دائو کوئی بھی کارگر، کسی چال میں نہیں آ رہا
مرے پانیوں میں تو ہے مگر، مرے جال میں نہیں آ رہا
یہ جو طرفہ طرز و طلسم سا، کوئی ٹوٹتا ہوا جسم سا
مرے بازوئوں میں سمٹ رہا ہے، خیال میں نہیں آ رہا
اسے جاکے پوچھئے تو سہی کہ زمانہ ہو گیا اور وہ
کسی رنگ سے نہیں مل رہا، کسی حال میں نہیں آ رہا
کسی آنے والے کی اس بہار میں ہوں گی اور نشانیاں
کہ وہ پہلے کی طرح اب ترے خدوخال میں نہیں آرہا
مرے آس پاس جو رونقیں سی لگائے رکھتا ہے رات دن
کوئی ہے ضرور، مگر وہ میری سنبھال میں نہیں آ رہا
کوئی خاص بات اگر ہے اس میں کہیں نظر نہیں آئے گی
وہی عام سا ہے، مگر کسی بھی مثال میں نہیں آ رہا
ابھی کتنی اور نئی نویلی فضائیں ہیں مری منتظر
مگر آج کل تو وہ اور ہی پر وبال میں نہیں آرہا
کہیں زور سیل سخن میں چاہئے اور ہی کسی ڈھنگ سے
یہ وہ چشمہ ہے جو کئی دنوں سے ابال میں نہیں آرہا
کسی دن، ظفرؔ یہاں کوئی تازہ تنازعہ ہی اٹھائیے
کوئی گفتگو ہو، مزہ جواب و سوال میں نہیں آ رہا
٭ ٭ ٭ ٭
نئے کے ساتھ پرانے ملا دیئے گئے ہیں
کہ اگلے پچھلے زمانے ملا دیئے گئے ہیں
اب اور طرح کی دانش ملا کرے گی یہاں
کہ پاگل اور سیانے ملا دیئے گئے ہیں
جو رہنا چاہتے تھے ایک دوسرے سے الگ
وہی بہانے بہانے ملا دیئے گئے ہیں
اب اور طرح کا انصاف ہی ملے گا یہاں
عدالتوں سے جو تھانے ملا دیئے گئے ہیں
ہے اب تو سب کے لئے ایک سنگ ہی کافی
کہ سارے آئینہ خانے ملا دیئے گئے ہیں
کوئی پتا نہیں چلتا کسی کا آپس میں
یہاں پہ سارے گھرانے ملا دیئے گئے ہیں
جو کوئی دیکھتا سنتا نہیں توجہ سے
تو گفتگوئوں میں گانے ملا دیئے گئے ہیں
کسی کی ٹھیک سمجھ میں ہی کچھ نہیں آتا
کہ تیرے میرے فسانے ملا دیئے گئے ہیں
٭ ٭ ٭ ٭
خوشی غمی کا مزہ ایک ساتھ اٹھائو، ظفرؔ
کہ نوحے اور ترانے ملا دیئے گئے ہیں
ملا دیئے ہیں تو سارے ملا دیئے گئے ہیں
سبھی جو خواب ہمارے ملا دیئے گئے ہیں
تلاش کر لیا دریا نے راستہ کوئی اور
یہاں پہ جب سے کنارے ملا دیئے گئے ہیں
کچھ اس طرح سے کہ آپس میں بات نہ کر سکیں
برائے نام پکارے ملا دیئے گئے ہیں
الگ الگ بھی رکھے تھے کہیں ہمارے لئے
کبھی کبھی یہ اشارے ملا دیئے گئے ہیں
یہی بہت ہے کسی اور کے ستاروں میں
اگر ہمارے ستارے ملا دیئے گئے ہیں
ہم اپنے خواب الگ دیکھتے رہے تھے، مگر
اب ان میں خواب تمہارے ملا دیئے گئے ہیں
وہ ایک بار کا ملنا بھی کوئی ملنا تھا
اس لئے تو دوبارہ ملا دیئے گئے ہیں
حساب عمر کی اس اونچ نیچ میں ہم نے
جو دن نہیں تھے گزارے ملا دیئے گئے ہیں
یہ کاروبار اکٹھا جو کر لیا ہے، ظفرؔ
منافعوں میں خسارے ملا دیئے گئے ہیں

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *