بھارت 5 طریقوں سے پاکستان کے خلاف اقدامات کر سکتا ہے ، انتہائی اہم تین رپورٹ سامنے آگئی

ind

نئی دہلی ۔ مقبوضہ کشمیر کے علاقے اُڑی میں فوجی اڈے پر ہونے والے حملے، جس میں 18 بھارتی فوجی مارے گئے تھے، کے بعد بھارتی وزیراعظم نریندر مودی پر پاکستان کے خلاف کاروائی کے لئے دباؤ ہے۔ بھارتی فوج کی جانب سے جیش محمد گروپ پر حملے کا لازام عائد کیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ عوامی اشتعال کو فوجی لڑائی میں تبدیل نہیں ہونا چاہئیے۔ بھارت کی جانب سے ممکنہ طور پر جن پانچ طرح سے اس حملے کے رد عمل کا اظہار کیا جا سکتا ہے وہ یہ ہیں : بھارتی سیاست دانوں، سابق فوجیوں اور دیگر نے زبردست فوجی کاروائی کا مشورہ دیا ہے جس میں پاکستان کے کشمیر میں موجود تربیتی کیمپوں پر فضائی حملے بھی شامل ہیں۔ تاہم، مبصرین کا کہنا ہے کہ بھارتی فوج کے پاس فوجی لحاظ سے پڑوسی ملک پر چڑھائی جتنی صلاحیت نہیں ہے کیونکہ بھارت نے اس طرح کی کاروائی پہلے کبھی نہیں کی اور بھارت کے اس اقدام کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جنگ چھڑ سکتی ہے۔ انسٹی ٹیوٹ آف کانفلکٹ مینیجمنٹ کے اجئے ساہنی نے میڈیا سے بات چیت کرتے ہوئے بتایا کہ بھارت اور پاکستان جانتے ہیں کہ وہ 15 دن کی لڑائی جاری نہیں رکھ سکتے۔ کچھ کا کہنا ہے کہ بھارت سرحد پر خفیہ کاروائیاں کر سکتا ہے۔ بھارت پاکستان کے کشمیر میں اپنے خصوصی دستے تعینات کرے، دی ویک میگزین کے نمائندے اجیت دوبے کا کہنا تھا کہ بھارت کو اس مرتبہ اپنے خصوصی دستوں کو استعمال کرنا چاہئیے۔ بارڈر سکیورٹی کو مزید مضبوط کرنا، بھارت اس آپشن پر بھی غور کر رہا ہے۔ سفارتی تنہائی، بھارت نے کافی عرصہ سے امریکا اور دیگر اتحادیوں کو رضامند کرنے کی کوشش کی ہے کہ پاکستان کو دہشت گرد ریاست قرار دے کر اسے تنہائی سے دوچار کر دیا جائے تاوقتیکہ وہ اپنی سر زمین سے دہشت گردی کو جڑ سے نہ اکھاڑے پھینکے۔ مقامی میڈیا نے بھارتی حکومت کو تجویز دی ہے کہ وہ پاکستان میں تعینات اپنے ہائی کمشنر کو واپس بلا لے۔ بلوچستان کارڈ، بھارت نے طویل عرصہ سے خفیہ طور پر بلوچستان کے عوام کی حمایت کی ہے لیکن وزیراعظم مودی نے اگست میں کھل کر بلوچستان کی جدوجہد اور کوششوں کا ذکر کیا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ اب وقت آ گیا ہے کہ مودی حکومت پاکستان پر بلوچستان کے ذریعے دباؤ ڈالنے کی کوشش کرے۔

اپنی رائے کا اظہار کریں

Your email address will not be published. Required fields are marked *